اسرائیل کے خلاف حملوں سے ایران کیا حاصل کرنا چاہتا تھا؟

    • مصنف, ٹام بیٹمین
    • عہدہ, نامہ نگار امریکی محکمہ خارجہ
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف عسکری کارروائی نے مشرق وسطی میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک نئے اور براہ راست تنازع کا خطرہ پیدا کر دیا تھا باوجود اس بات کے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو فون کیا اور انھیں ایرانی حملوں کا جواب نہ دینے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی۔

اسرائیل نے ایران کی جانب سے میزائل حملوں کے جواب میں اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی بار ایران میں مختلف مقامات کو نشانہ بنایا۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائی اسرائیل کی جانب سے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر بمباری کے جواب میں کی گئی تھی۔

خطے میں موجود اتحادوں کے جال اور عارضی جنگ بندی سے یہ واضح ہے کہ اب بھی یہ خطرناک حد تک غیر مستحکم ہے۔ لیکن حالیہ جھڑپوں سے اس جنگ کی سمت کے حوالے سے تین نکات واضح ہوتے ہیں۔

پہلا یہ کہ ٹرمپ اپنے اسرائیلی اتحادی کو بیانات کے باوجود روک نہیں سکتے یا روکنا نہیں چاہتے اور تہران یہ بات جان چکا ہے جس کا ایک مقصد امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اختلافات کو مذید ہوا دینا بھی ہے۔

دوسرا نکتہ یہ ہے کہ تہران اپنی سرزمین پر حملوں کے لیے تیار ہے لیکن امریکہ سے جنگ کو اسرائیل اور حزب اللہ کے تنازع سے الگ نہیں رکھنا چاہتا۔

تیسرا اہم نکتہ یہ واضح ہوتا ہے کہ جوہری معاملے پر ٹرمپ کی خواہش کے باوجود معاہدہ جلد نہیں ہونے والا کیوں کہ ایران کو محسوس ہو رہا ہے کہ امریکی صدر اس وقت مذید خطرات مول نہیں لینا چاہتے اور اسی لیے تہران کی کوشش ہے کہ مذاکرات کی میز پر واشنگٹن سے زیادہ سے زیادہ شرائط منوا لے۔

اتوار کے دن ایران کی جانب سے اسرائیل پر ہونے والے میزائل حملوں کے بعد ٹرمپ نے متعدد صحافیوں سے بات کی اور ایک صحافی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ نیتن یاہو کو فون کریں گے اور ان سے کہیں گے کہ جوابی کارروائی نہ کریں۔

اس سے یہ واضح ہوا کہ ٹرمپ کی نظر میں اسرائیل کی جوابی کارروائی تہران سے ہونے والی سفارت کاری کو متاثر کر سکتی ہے۔ چند گھنٹوں کے بعد اسرائیل ایران پر حملے کر رہا تھا۔ ٹرمپ نے بی بی سی سے سوموار کو بات کرتے ہوئے کہا کہ جب ان کی نیتن یاہو سے بات ہوئی تو اسرائیلی طیارے بمباری کے لیے روانہ ہو چکے تھے۔

فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے اس بات کی تردید کی کہ نیتن یاہو نے ان کی بات نہیں مانی اور کہا کہ ’میں جب کچھ کرنے کے لیے اسے کہتا ہوں تو وہ کرتا ہے۔‘

لیکن بظاہر ٹرمپ نیتن یاہو کو روکنے میں ناکام رہے۔ گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے نیتن یاہو کے لیے غیر مناسب الفاظ استعمال کیے تھے اور بیروت پر اسرائیلی حملے کی خواہش کی وجہ سے انھیں ’پاگل‘ قرار دیا تھا۔ نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ شمالی اسرائیل کے خلاف حزب اللہ کے خطرے سے نمٹنے کے لیے بیروت پر حملے ضروری تھے۔

لیکن ٹرمپ کو لگا کہ نیتن یاہو کا رویہ تہران کے ساتھ معاہدے کی کوششوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے جس کے تحت وہ آبنائے ہرمز کھلوانا چاہتے ہیں اور جوہری پروگرام پر ایران سے یقین دہانی لینا چاہتے ہیں۔

گزشتہ ہفتے کے دوران ہی نیو یارک پوسٹ کو دیے جانے والے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ لبنان سے مسلسل جنگ کی وجہ سے وہ نیتن یاہو سے ’پریشان‘ ہیں۔

تو کیا نیتن یاہو نے ایران پر حملہ کر کے ٹرمپ کو انکار کیا؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔

اسرائیلی کارروائی سے عندیہ ملتا ہے کہ امریکہ نے کسی حد تک ان حملوں کے لیے رضامندی کا اظہار کیا تھا لیکن امریکی صدر شاید چاہتے تھے کہ یہ کام محتاط طریقے سے اور صرف ایک بار کیا جائے۔

سابق امریکی سفارت کار ایرون ڈیوڈ ملر نے بی بی سی کو سوموار کے دن بتایا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو اجازت دی۔ اور اسرائیل امریکہ کی رضامندی کے بغیر ایران پر حملہ نہیں کر سکتا تھا۔

اس وقت عراق جنگ کے بعد خطے میں امریکی فوج سب سے بڑی تعداد میں موجود ہے۔ اسرائیلی فوج کے ساتھ سینکڑوں امریکی فوجی ہر وقت رابطے میں ہیں اور اسرائیل میں موجود بھی ہیں۔

اس حملے کے لیے اسرائیلی فوج کے لیے ضروری تھا کہ وہ فضائی راستوں کے استعمال کے لیے امریکی فوج سے رابطے میں رہیں۔ اسرائیلی فوج نے بعد میں مقامی صحافیوں کو بتایا کہ ان حملوں کے دوران وہ امریکی سینٹرل کمانڈ سے مکمل رابطے میں تھے اور امریکی فوج نے اسرائیل کی جانب داغے جانے والے ایرانی میزائلوں کو روکنے میں بھی مدد کی۔

سوموار کی دوپہر تک اسرائیل اور ایران دونوں نے ہی عندیہ دیا کہ لڑائی کا یہ دور ختم ہو چکا ہے۔ اور یہی ٹرمپ بھی چاہتے تھے۔ اتوار کو جب ان کی جانب سے کہا گیا کہ وہ نیتن یاہو کو روکیں گے تو وہ ایران کو دکھانا چاہتے تھے کہ امریکی اسرائیلی حملوں میں شامل نہیں ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ واقعی چاہتے ہوں کہ اسرائیل حملے کا جواب نہ دے لیکن نیتن یاہو نے انھیں قائل کر لیا ہو۔

عین ممکن ہے کہ اسرائیل نے سوچا ہو کہ اسے ایران کے خلاف جوابی کارروائی ضرور کرنی ہو گی لیکن اس معاملے میں زیادہ اہمیت اس بات کی ہے کہ ایران نے کیا سوچ کر اسرائیل پر میزائل داغے۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ایران نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کا خود جواب دیا ہے جبکہ اس سے پہلے صرف ایران کے خلاف براہ راست اسرائیلی کارروائی کے بعد ہی تہران نے اسرائیل پر حملہ کیا۔

ایران نے امریکہ کے ساتھ جنگ بندی کو اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان برائے نام جنگ بندی کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ تہران ٹرمپ کا ردعمل بھی دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ ایران کے خلاف اسرائیلی جوابی کارروائی کا کس حد تک ساتھ دیں گے۔ کیا امریکہ خود شامل ہو گا؟

تہران جس حد تک ممکن ہو امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اس جنگ کی سمت کے حوالے سے دراڑ ڈالنا چاہتا ہے۔ ٹرمپ نے خود کو جوابی کارروائی سے دور رکھا کم از کم عوامی سطح پر اور سفارت کاری کی جانب لوٹنے کی بات کی۔

اتوار کے دن این بی سی سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’معاہدہ ہونے والا ہے‘۔ لیکن ان حملوں کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایران کی قیادت کا حوصلہ بڑھا ہے۔

ایرانی صدر نے کہا ہے کہ ایرانی کارروائی نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات پر اس کی پوزیشن مضبوط کی ہے۔ انھوں نے سفارت کاری اور دفاع کو ملکی طاقت کے دو بازو قرار دیا۔ سوشل میڈیا پر ایرانی صدر نے لکھا کہ ’ہم نے میدان نہیں چھوڑا اور نہ ہی مذاکرات کی میز سے اٹھے ہیں۔‘

واضح رہے کہ ایران کی معیشت امریکی بحری ناکہ بندی کی وجہ سے کمزور ہوئی ہے اور ملک کی قیادت اب امریکی سے مذاکرات میں دو خواہشات منوانا چاہتی ہے۔ ان میں سے ایک پیسہ ہے جو پابندیوں میں نرمی سے جڑا ہے تاکہ تیل کی فروخت سے کمائے جانے والے اربوں ڈالر کے منجمند اثاثے حاصل ہو سکیں۔ دوسرا مقصد لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائی کو محدود کرنا ہے کیوں کہ تہران کے نزدیک حزب اللہ ایران کے خلاف اسرائیلی کارروائی کو روکنے میں مددگار ہے۔

دوسری جانب اس جنگ کے باعث تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے امریکی معیشت بھی دباؤ میں ہے۔ مڈٹرم الیکشن کے سال میں تہران شاید یہ اندازہ لگا چکا ہے کہ ٹرمپ نیا خطرہ نہیں مول لیں گے۔

صدر ٹرمپ سے حال ہی میں ایک انٹرویو میں سوال ہوا تھا کہ کیا وہ ایران سے پابندیاں اٹھائیں گے یا منجمند پیسے جاری کریں گے تو انھوں نے کہا تھا کہ ایسا نہیں ہو گا۔ اور شاید یہ بھی ایک وجہ ہے کہ اب تک معاہدہ نہیں ہو سکا۔

اس وجہ سے خطے میں عدم استحکام بڑھنے اور امریکہ اور ایران کے درمیان لڑائی کے ایک اور دور کا خطرہ کافی حد تک موجود ہے۔