کشمیر کا 120 سال پرانا مکان ماضی میں جھانکنے کی کھڑکی کیسے بنا؟

کشمیر کا 120 سال پرانا مکان ماضی میں جھانکنے کی کھڑکی کیسے بنا؟
وقت اشاعت

انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے دارالحکومت سرینگر کے پرانے شہر میں ایک خوبصورت عمارت چند برس تک کھنڈر تھی۔ سب سے پرانے بازار مہاراج گنج میں واقع یہ مکان اب ایک ثقافتی مرکز ہے جو قدیم کشمیر کی ایک زندہ تصویر بن گیا ہے۔

دن بھراسی مکان میں کلاسیکی موسیقی، روایتی پکوانوں اور داستان گوئی سے لطف اندوز ہونے والی 23 سالہ طالبہ جویریہ کہتی ہیں، ’پرانے زمانے میں کشمیر میں زندگی کیسی تھی یہ سب ابھی میں نے ٹی وی پر دیکھا یا کتابوں میں پڑھا تھا۔ یہاں آکر مجھے لگا میں اٹھارویں صدی کے کشمیر میں ہوں۔‘

اس عمارت کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی تعمیر میں کچھ بھی نیا استعمال نہیں کیا گیا۔ عمارت کو بحال کرنے والے ثقافتی کارکن محبوب اقبال شاہ کہتے ہیں،’اس کام میں ہمیں دو سال لگے۔ ہمارے لیے چیلنج یہ تھا کہ دو سو سال قدیم فن تعمیر الگ تھا، اور اس مکان کو ویسے ہی بحال کرنے کے لئے ہمیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر کاریگروں کو لانا پڑا۔ اس مکان میں جو بھی لکڑی یا مٹی تھی ہم نے اُسی کو استعمال کرکے اس کو یہ شکل دی ہے۔‘

مکان کے صرف درودیوار ہی پرانے نہیں ہیں، یہاں کی سبھی سرگرمیاں اور استعمال کی سبھی چیزیں وہی ہیں جو سو ڈیڑھ سو سال پہلے استعمال کی جاتی تھیں۔

محبوب کہتے ہیں، ’مکان کے چھوٹے سے صحن میں داستان گوئی کی محفلیں منعقد ہوتی ہیں، پہلی منزل پر دو کارخانے ہیں جہاں شال بافی ہوتی ہے اور دستکان سفید عمامہ اور کشمیری پوشاک پھِرن پہنے ہوتے ہیں۔ دوسری منزل پر دیوان خانہ ہے، جہاں روایتی پکوانوں کے ساتھ ساتھ نوجوان لڑکیاں صوفیانہ موسیقی پیش کرتی ہیں۔ آخری منزل پر ہم خطاطی اور ڈیزائننگ کے ورک شاپ منعقد کرتے ہیں۔‘

اس منصوبے سے جُڑے ایک آرکٹیکٹ اویس خان کہتے ہیں کہ اس مکان کو بحال کرتے ہوئے انہیں قدیم فن تعمیر سے متعلق حیران کن انکشافات ہوئے۔ ’جدید طرز تعمیر میں عمارت جتنا اوپر جاتی ہے ، چھت پر وزن اتنا ہی کم کیا جاتا ہے، لیکن ہم نے دیکھا کہ قدیم کشمیر میں بالکل اس کے برعکس تھا، اس عمارت کی نچلی منزل کی چھت پر جتنا وزن ہے، اس سے تین گنا زیادہ آخری منزل کی چھت پر ہے۔‘