مغربی پابندیوں کے باوجود ایران کی معیشت کو سہارا دینے والے خلیجی ممالک کون سے ہیں؟

تجارتی جہاز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
    • مصنف, محمد خالد
    • عہدہ, بی بی سی کے نامہ نگار برائے مشرق وسطیٰ
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں اور ایران کی جوابی کارروائیوں کے بعد خطے میں جاری کشیدگی کے باعث ایران کے اُس کے خلیجی ہمسایہ ممالک کے ساتھ معاشی تعلقات ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔

ایران کے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے تمام چھ ممالک کے ساتھ معاشی روابط ہیں، تاہم اُن کی نوعیت اور حجم ایک دوسرے سے مختلف ہے۔

متحدہ عرب امارات ایران کا خطے میں سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، جبکہ عمان، قطر، کویت، بحرین اور سعودی عرب کے ساتھ تجارت اور اقتصادی تعاون نسبتاً محدود ہے۔

خلیجی ممالک ایران کے لیے صرف تجارت کے حوالے سے ہی اہم نہیں ہیں۔ کئی برسوں سے یہ خطہ ایرانی کاروبار اور مالیاتی نیٹ ورکس کے لیے بھی ایک اہم مرکز رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران مغربی پابندیوں کے اثرات سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات، خلیج میں ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار

متحدہ عرب امارات خلیجی ممالک کے ساتھ ساتھ ایران کا بھی سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق ایران کی خلیجی ریاستوں کے ساتھ ہونے والی تجارت کا 90 فیصد امارات کے ذریعے ہی ہوتی ہے۔

ایرانی کسٹمز حکام کے مطابق سنہ 2025 میں ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تجارت کا حجم 29.1 ارب ڈالر تھا، جو ایران کی مجموعی بیرونی تجارت کا 23 فیصد بنتا ہے۔ اس میں ایران کی برآمدات 7.2 ارب ڈالر جبکہ امارات سے درآمدات 21.9 ارب ڈالر سے زیادہ تھیں۔

عالمی تجارتی تنظیم کے 2024 کے اعداد و شمار بھی یہی رجحان ظاہر کرتے ہیں۔

امارات ایران کو سب سے زیادہ اشیا برآمد کرنے والا ملک تھا، جبکہ چین اور عراق کے بعد ایرانی برآمدات کی تیسری بڑی منڈی بھی تھا۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

تاہم امارات کے سرکاری اعداد و شمار اس سے کم حجم دکھاتے ہیں۔ اُن کے مطابق سنہ 2024 میں دونوں ممالک کے درمیان تیل کے علاوہ دیگر شعبوں کی تجارت 6.62 ارب ڈالر تھی اور 2025 میں یہ 5.73 ارب ڈالر رہی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اعداد و شمار میں فرق کی ایک وجہ ری ایکسپورٹ کا نظام ہے۔ یعنی ایسی اشیا جو کسی تیسرے ملک میں تیار ہوں لیکن امارات کے راستے آگے بھیجی جائیں، انھیں مختلف ممالک میں مختلف طریقوں سے شمار کیا جا سکتا ہے۔

قطر یونیورسٹی کے شعبۂ اقتصادیات کے پروفیسر جلال قناص کے مطابق امارات کو جانے والی ایرانی برآمدات کا ایک بڑا حصہ بعد میں چین کو دوبارہ برآمد کر دیا جاتا ہے۔

سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی درست اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔ بعض اندازوں کے مطابق متحدہ عرب امارات میں ایرانی سرمایہ کاری 200 ارب ڈالر سے زیادہ ہے، تاہم ایران میں اماراتی سرمایہ کاری کا کوئی قابلِ اعتماد حالیہ تخمینہ موجود نہیں۔

فروری 2026 میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع شروع ہونے اور اس کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھنے سے ایران اور امارات کے اقتصادی تعلقات متاثر ہوئے ہیں۔

امارات نے اگست میں اعلان کیا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ تجارتی سرگرمیاں، تجارت اور مالی لین دین اگلے حکم تک معطل کر رہا ہے۔ امارات کا کہنا تھا کہ خطے کی کشیدہ صورتحال نے علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کو متاثر کیا ہے۔

دیگر خلیجی ممالک

جی سی سی کے دیگر پانچ رکن ممالک کے ساتھ ایران کے معاشی تعلقات نسبتاً محدود ہیں، تاہم ان تعلقات کا حجم اور نوعیت ہر ملک میں مختلف ہے۔

عمان، قطر، کویت، بحرین اور سعودی عرب کے ساتھ ایران کے تجارتی اور اقتصادی روابط ایک جیسے نہیں ہیں اور ہر ملک کے ساتھ تعلقات اپنی الگ خصوصیات رکھتے ہیں۔

عمان

باقی پانچ خلیجی ممالک میں عمان کے ایران کے ساتھ سب سے مضبوط تجارتی تعلقات ہیں۔

عمانی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2024 میں عمان اور ایران کے درمیان تجارت کا حجم 512.1 ملین عمانی ریال (1.33 ارب ڈالر) تک تھا، جو 2023 میں 335.8 ملین عمانی ریال (873.2 ملین ڈالر) تھا۔ اس طرح ایک سال میں اس میں 52 فیصد اضافہ ہوا۔

سنہ 2024 میں عمان کی ایران کو برآمدات اور ری ایکسپورٹس 361.2 ملین عمانی ریال (939.6 ملین ڈالر) رہیں، جبکہ ایران سے درآمدات 150.9 ملین عمانی ریال (392.4 ملین ڈالر) تھیں۔

دونوں ممالک نے حالیہ برسوں میں اقتصادی تعاون بڑھانے کی بھی کوشش کی ہے۔ اس سلسلے میں 2025 میں ایک ترجیحی تجارتی معاہدے اور سرمایہ کاری کے فروغ اور تحفظ کے معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے۔

یہ معاہدے تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔

سعودی عرب

سفارتی تعلقات کی بحالی کے باوجود سعودی عرب اور ایران کے درمیان تجارتی روابط حالیہ کشیدگی سے قبل بھی محدود تھے۔

ایران کی تجارتی ترقیاتی تنظیم کے مغربی ایشیا دفتر کے سربراہ عبدلامیر ربیحاوی کے مطابق 20 مارچ سے 21 دسمبر 2024 کے درمیان دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 2 کروڑ 30 لاکھ ڈالر رہا۔ اس کے مقابلے میں ایک سال پہلے اسی مدت کے دوران یہ حجم صرف دو لاکھ ڈالر تھا۔

عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں سعودی عرب کی ایران کو برآمدات 33 ہزار 843 ڈالر رہیں، جبکہ ایران سے درآمدات کی مالیت 2 کروڑ 34 لاکھ 60 ہزار ڈالر تھی۔

تاہم سعودی عرب کے جنرل اتھارٹی برائے شماریات اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) نے حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان مجموعی دوطرفہ تجارت کے بارے میں کوئی جامع سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے ہیں۔

 بندرگاہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجبل علی اور دبئی، ابوظہبی، فجیرہ اور شارجہ کی بندرگاہوں نے ایرانی منڈی کو ضروری اشیا کی فراہمی میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔

قطر

قطر اور ایران کے درمیان براہِ راست تجارتی حجم نسبتاً محدود ہے، تاہم دونوں ممالک کے تعلقات کو اس وجہ سے خاص اہمیت حاصل ہے کہ وہ دنیا کے سب سے بڑے گیس ذخیرے میں شریک ہیں۔ اس ذخیرے کو قطر میں نارتھ فیلڈ اور ایران میں ساؤتھ پارس کہا جاتا ہے۔

قطر کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں قطر اور ایران کے درمیان تجارت کا حجم 652.34 ملین قطری ریال (179.21 ملین ڈالر) رہا، جو 2024 کے 569.57 ملین قطری ریال (156.48 ملین ڈالر) کے مقابلے میں 14.5 فیصد زیادہ تھا۔

2025 میں قطر نے ایران سے 633.85 ملین قطری ریال (174.14 ملین ڈالر) مالیت کی اشیا درآمد کیں، جبکہ ایران کو اس کی برآمدات 18.5 ملین قطری ریال (5.08 ملین ڈالر) رہیں۔

اسی عرصے میں قطر کی ری ایکسپورٹس کا حجم 15.33 ملین قطری ریال (4.21 ملین ڈالر) تھا۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں ایران سے قطر کی درآمدات کا حصہ نمایاں طور پر زیادہ ہے، جبکہ قطری برآمدات نسبتاً محدود ہیں۔

کویت اور بحرین

کویت اور بحرین کے ساتھ ایران کی تجارت اس سے بھی کم ہے۔

عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کے اعداد و شمار کے مطابق، 2024 میں کویت نے ایران کو 1 کروڑ 67 لاکھ ڈالر مالیت کی اشیا برآمد کیں، جبکہ ایران سے 22 کروڑ 82 لاکھ ڈالر مالیت کی اشیا درآمد کیں۔

الرائے اخبار کے حوالے سے جاری کویتی اعداد و شمار کے مطابق، 2025 کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت 8 کروڑ 74 لاکھ کویتی دینار (تقریباً 2 کروڑ 68 لاکھ ڈالر) رہی، جو 2024 کی اسی مدت کے مقابلے میں 4.7 فیصد زیادہ ہے۔

اس عرصے میں کویت کی ایران کو برآمدات 1 کروڑ 16 لاکھ کویتی دینار (35 لاکھ 90 ہزار ڈالر) رہیں، جبکہ ایران کی کویت کو برآمدات 7 کروڑ 57 لاکھ کویتی دینار (2 کروڑ 32 لاکھ ڈالر) تک پہنچ گئیں۔

ڈبلیو ٹی او کے مطابق، 2024 میں بحرین نے ایران کو 9 لاکھ 57 ہزار 868 ڈالر مالیت کی اشیا برآمد کیں، جبکہ ایران سے 1 کروڑ 50 لاکھ ڈالر مالیت کی درآمدات کیں۔

پابندیوں سے بچاؤ کا ایک راستہ

ایران کے خلیجی ممالک کے ساتھ معاشی تعلقات صرف روایتی تجارت تک محدود نہیں ہیں۔ کئی برسوں سے یہ خطہ ایران کی مالی اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے ایک اہم ذریعہ رہا ہے، جس کے ذریعے وہ مغربی پابندیوں کے اثرات کم کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔

ایران سے منسلک ڈالر کی لین دین کے راستوں پر امریکی نگرانی بڑھنے کے بعد خلیجی ممالک نے بھی ان سرگرمیوں کے خلاف اقدامات کیے ہیں جنھیں حکام ایران سے جڑے ’غیر رسمی مالیاتی راستے‘ قرار دیتے ہیں۔

اگست میں متحدہ عرب امارات نے کرپٹو کرنسی ایکسچینج پلیٹ فارم بائنانس کے خلاف تحقیقات شروع کیں۔ یہ تحقیقات ان الزامات کے بعد شروع کی گئیں کہ اس پلیٹ فارم کو امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والے ایرانی اداروں کو رقوم منتقل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔

علاقائی مبصرین بھی ایرانی تجارت اور مالیاتی سرگرمیوں میں متحدہ عرب امارات کے کردار کی نشاندہی کرتے رہے ہیں۔

العربی الجدید کے اقتصادی امور کے سربراہ مصطفیٰ عبدالسلام نے اگست میں لکھا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات کئی دہائیوں سے ایرانی معیشت کے لیے ایک اہم سہارا اور رقوم کی ترسیل کا راستہ رہا ہے۔ یہ ایران کے لیے ڈالر میں آمدنی اور ضروری اشیا، جن میں ادویات، خوراک، ایندھن سے متعلق مصنوعات اور خام مال شامل ہیں، کا بھی ایک بڑا ذریعہ ہے۔‘

عبدالسلام کے مطابق جبل علی اور دبئی، ابوظہبی، فجیرہ اور شارجہ کی بندرگاہوں نے ایرانی منڈی کو ضروری اشیا کی فراہمی میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایران کے ساتھ اقتصادی روابط ختم کرنے کے فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ خلیجی ممالک نے مغربی پابندیوں کے اثرات کم کرنے میں تہران کی مدد کی، جبکہ وہ ایرانی اشیا کی دوبارہ برآمد کے اہم مراکز بھی رہے ہیں۔

مئی میں العربی الجدید کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ خلیجی ممالک کے مرکزی بینک ان ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف مزید اقدامات کر رہے ہیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ انھیں ایران پر عائد بین الاقوامی مالیاتی پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔