افغانستان کا روس کے ساتھ ’تکنیکی فوجی‘ معاہدہ: ’پاکستان دوبارہ حملہ کرنے کی جرات نہ کرے‘، طالبان وزیر دفاع

ملا یعقوب

،تصویر کا ذریعہMOD Afghanistan

    • مصنف, یما بارز
    • عہدہ, بی بی سی پشتو، کابل
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

روس کے دارالحکومت ماسکو کے دورے کے بعد طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعقوب مجاہد نے کہا ہے کہ ان کی کوشش ہے کہ پاکستان کو مستقبل میں افغان سرزمین پر فضائی حملے کرنے سے باز رکھا جائے۔

ملا یعقوب نے ماسکو سے واپسی پر کابل ایئرپورٹ پر نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’آپ نے دیکھا کہ چند ماہ قبل وہ (پاکستان) افغانستان کے ہر حصے میں بمباری کرنے کی جرات رکھتے تھے۔ ہم اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ مستقبل قریب میں دوبارہ ایسا کرنے کی جرات نہ کرے۔‘

واضح رہے کہ ملا یعقوب رواں ہفتے منگل کے روز ایک بین الاقوامی سکیورٹی فورم میں شرکت کے لیے ماسکو پہنچے تھے، جس میں تقریباً 100 ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔

ایک معتبر ذریعے نے اس وقت بی بی سی کو بتایا تھا کہ ملا محمد یعقوب مجاہد روس کو اس بات پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ وہ ان کی حکومت کو جدید فضائی دفاعی نظام فراہم کرے۔

ذریعے کے مطابق یہ معاملہ پہلے ہی ماسکو کے ساتھ زیرِ بحث تھا اور وزیر دفاع کے حالیہ دورے کے دوران روس کی جانب سے کرائی گئی یقین دہانیوں پر عملی پیش رفت ہوئی۔ ذرائع نے بی بی سی کو یہ بھی بتایا تھا کہ فریقوں کے درمیان ایک ایسا معاہدہ طے پایا جس میں فضائی دفاعی آلات کے علاوہ زمینی فوجی ساز و سامان اور طالبان حکومت کی افواج کی تربیت بھی شامل ہے۔

تاہم افغانستان واپسی پر ملا یعقوب نے روس کے ساتھ سکیورٹی معاہدے کے بارے میں واضح کیا کہ یہ صرف روسی فوجی سازوسامان اور ہتھیاروں کی دیکھ بھال کا معاہدہ ہے جو اس وقت افغانستان کے پاس ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ فوجی تکنیکی معاہدہ ہے جس کو ان معاملات کے ماہرین سمجھتے ہیں۔ یہ کوئی دفاعی یا سکیورٹی معاہدہ نہیں، جس سے کسی کو تشویش ہونی چاہیے۔ یہ صرف اور صرف افغانستان کے فائدے کے لیے ہو گا۔‘

طالبان حکومت کے وزیر دفاع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’فوجی شعبے میں زیادہ تر روسی ٹیکنالوجی موجود ہے۔ ہیلی کاپٹروں، آلات اور ہتھیاروں کی مختلف شعبوں میں مرمت اور ترقی کی ضرورت ہے۔ ہم اس شعبے میں ان ممالک کے ساتھ معاہدے کرنے پر مجبور ہیں جن کی اپنی پیداواری سہولیات ہیں۔ ساتھ ہی ہم نے روس کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے تاکہ ہم یہاں موجود ہتھیاروں کا بہتر استعمال کر سکیں۔‘

افغانستان کے فضائی دفاعی نظام کے ڈھانچے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اس پر بعد میں بات کی جائے گی کہ ہمارے پاس کون سا دفاعی نظام ہونا چاہیے اور ہمیں اسے کن ممالک سے درآمد کرنا چاہیے۔ شاید اس پر مزید بات چیت کی ضرورت ہو گی۔‘

واضح رہے کہ افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان حکومت کے روس کے ساتھ قریبی تعلقات رہے ہیں اور اس دوران متعدد اعلیٰ سطحی وفود نے روس کے دورے کیے۔

ملا محمد یعقوب مجاہد جب منگل کے روز بین الاقوامی سکیورٹی فورم میں شرکت کے لیے ماسکو پہنچے تو اس وقت طالبان حکومت کے ایک ذریعے نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اس دورے کی تیاریاں پہلے سے جاری تھیں اور ایک وفد پیشگی طور پر ماسکو بھی روانہ کیا گیا تھا۔

ملا یعقوب مجاہد نے روسی سلامتی کونسل کے مشیر سرگئی شوئیگو سے ملاقات کے دوران کہا کہ ’روس خطے اور دنیا میں ایک اہم ملک ہے اور ہمارے کے لیے روس کے ساتھ تعلقات خاص اہمیت رکھتے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ یہ تعلقات مزید مضبوط اور وسیع ہوں۔‘

طالبان حکومت اور روس کے سکیورٹی حکام کا اجلاس

،تصویر کا ذریعہTaliban MOD

،تصویر کا کیپشنطالبان حکومت اور روس کے سکیورٹی حکام کا اجلاس

روس ان چند ممالک میں شامل ہے جنھوں نے 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے اور امریکی فوج کے انخلا کے بعد بھی کابل میں اپنا سفارت خانہ بند نہیں کیا۔ اس کے علاوہ 2022 میں افغانستان کو تیل، گیس اور گندم فراہم کرنے کے لیے روس نے طالبان حکومت کے ساتھ ایک اہم اقتصادی معاہدہ بھی کیا تھا۔

روس اور وسطی ایشیا کے ممالک نے افغانستان میں شدت پسند گروہوں کی موجودگی پر بارہا تشویش ظاہر کی ہے تاہم ملا یعقوب مجاہد نے ایسے گروہوں کے خلاف اپنی حکومت کی کارروائیوں کی نشاندہی کی۔

انھوں نے کہا کہ ان کی حکومت کسی کو بھی افغانستان کی سر زمین دوسروں کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی، تاہم یہ یقین دہانیاں اب بھی تمام خدشات کو مکمل طور پر دور نہیں کر سکیں۔

افغانستان، پاکستان، ایران سمیت کئی ممالک کے جھنڈے

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

،تصویر کا کیپشنروس واحد ملک ہے جس نے طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے گذشتہ سال کے آخر میں کہا تھا کہ افغانستان کی بدلتی صورتحال سے نمٹنے کے لیے طالبان حکومت کے ساتھ روابط رکھنا ضروری ہے اور کوئی بھی ملک موجودہ قیادت سے رابطے کے بغیر افغانستان پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔

روسی سلامتی کونسل کے مشیر سرگئی شوئیگو نے کہا کہ ان کا ملک طالبان حکومت کے ساتھ ’مکمل شراکت داری‘ قائم کرنے کی جانب بڑھ رہا ہے اور خطے کے دیگر ممالک کو بھی کابل کے ساتھ تعاون بڑھانے کی ترغیب دے رہا ہے۔

پاکستان کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے بعد جب افغانستان کی فضائی دفاعی کمزوری نمایاں ہوئی، تو یہ پہلا موقع ہے کہ وزیرِ دفاع ملا محمد یعقوب نے کسی علاقائی ملک کے ساتھ فوجی اور تکنیکی تعاون کا معاہدہ کیا۔

ملا یعقوب مجاہد نے ماسکو میں مقیم بعض افغان شہریوں سے بھی ملاقات کی

،تصویر کا ذریعہTaliban MOD

،تصویر کا کیپشنملا یعقوب مجاہد نے ماسکو میں مقیم بعض افغان شہریوں سے بھی ملاقات کی
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

واضح رہے کہ افغان طالبان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی گذشتہ کئی مہینوں سے جاری ہے لیکن یہ کشیدگی باقاعدہ جنگ میں اس وقت بدلی جب فروری میں اسلام آباد کی ایک امام بارگاہ میں خودکش دھماکے کے سبب دو درجن سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

پاکستان کا دعویٰ ہے کہ کالعدم تنظیم تحریک طالبانِ پاکستان (ٹی ٹی پی) ملک میں حملوں کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال کر رہی ہے اور اسے افغان طالبان کی پشت پناہی حاصل ہے۔

افغان طالبان پاکستان کے اس دعوے کی تردید کرتے رہے ہیں۔

تاہم فروری میں امام بارگاہ پر ہونے والے حملے اور شدت پسندوں کی دیگر کارروائیوں کے بعد پاکستان نے 27 فروری کو افغانستان میں 22 عسکری اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔

پاکستانی فوج کے ترجمان نے اسی دن افغان طالبان کے ساتھ جھڑپوں میں اپنے 12 سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی اور اس کے بعد کے ہفتوں میں فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کا بھاری جانی و مالی نقصان کرنے کے مسلسل دعوے کیے گئے۔

پاکستان نے افغانستان کے خلاف اپنی عسکری کارروائیوں کو آپریشن ’غضب للحق‘ کا نام دیا اور افغانستان طالبان کی چوکیاں تباہ کرنے اور افغانستان میں میں شدت پسندوں کے کئی ٹھکانوں کو فضائی حملوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔

افغانستان کی جانب سے بھی ایسے دعوے تواتر سے سامنے آئے اور طالبان حکام کی جانب سے پاکستان کے متعدد مقامات پر ڈرون حملے کرنے کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں۔

مارچ میں عید الفطر کی آمد سے پہلے فریقوں نے ایک دوسرے کے خلاف جاری آپریشنز میں ’عارضی وقفے‘ کا اعلان کیا تھا اور اس کے بعد سے کسی بڑی جھڑپ کی اطلاع نہیں آئی۔