واخان راہداری: بیجنگ میں افغانستان کو چین سے جوڑنے کے دعووں پر کیا سوال اٹھائے جا رہے ہیں؟

افغانستان میں سوشل میڈیا پر طالبان نواز میڈیا میں چین کی سرحد پر مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار تصاویر بھی پیش کی گئیں
،تصویر کا کیپشنافغانستان میں سوشل میڈیا پر طالبان نواز میڈیا میں چین کی سرحد پر مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار تصاویر بھی پیش کی گئیں
    • مصنف, بی بی سی مانیٹرنگ
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

افغانستان میں طالبان حکام سمیت مقامی میڈیا نے چار اکتوبر کو واخان راہداری سڑک کو ایک تاریخی کامیابی کے طور پر دکھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 121 کلومیٹر طویل سڑک نے ملک کو چین سے براہ راست جوڑ دیا ہے۔

تاہم چین کے سرکاری چینل چین گلوبل ٹیلی ویژن نیٹ ورک (سی جی ٹی این) کی فارسی سروس نے اس دعوے پر سوال اٹھایا ہے کہ اس سڑک کے افتتاح کے بعد چین اور افغانستان کے درمیان زمینی رابطہ قائم ہو چکا ہے۔

یاد رہے کہ افغان طالبان حکومت کے ترجمان حمد اللہ فطرت نے افتتاح کے بعد کہا تھا کہ یہ سڑک بدخشاں صوبے میں بروغل کے علاقے سے چینی سرحد تک جاتی ہے جسے طالبان نواز میڈیا نے ایک اہم اور سٹریٹیجک کامیابی کے طور پر پیش کیا۔

سی جی ٹی این کے تجزیے میں سرحد تک پہنچنے والی ایک سڑک اور ایک فعال بین الاقوامی ٹرانسپورٹ راستے کے تفریق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کچی سڑک افغانستان کے زیرو پوائنٹ تک جاتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ سرحد پر ایک کراسنگ پوائنٹ کھل چکا ہے۔

سی جی ٹی این کا کہنا ہے کہ چین کے سرکاری ذرائع کی جانب سے سرحد پر باضابطہ کراسنگ پوائنٹ کھلنے اور تجارت کے بارے میں کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔ اس کا کہنا ہے کہ تجارتی راہداری کے طور پر فعال ہونے کے لیے اس مقام پر سکیورٹی انتظامات سمیت کسٹمز اور سرحدی انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان ایک باقاعدہ معاہدے کی بھی ضرورت ہو گی جس کی اب تک کوئی اطلاع نہیں ہے۔

افغان طالبان کی جانب سے اس سڑک کی افتتاحی تقریب میں کوئی چینی عہدیدار شامل نہیں تھا جو بیجنگ کے اس محتاط رویے کی نشان دہی کرتا ہے جو اس منصوبے سے جڑا ہے۔

واخان راہداری ایک دور دراز پہاڑی علاقے میں تقریبا 350 کلومیٹر طویل ہے جہاں بعض مقامات پر بلندی پانچ ہزار میٹر تک جا پہنچتی ہے اور شدید سردی رہتی ہے۔ اس لیے یہاں کسی قسم کا انفراسٹرکچر تعمیر کرنا تکنیکی اعتبار سے مشکل اور مہنگا ہو گا جبکہ اس راستے کی تجارتی اہمیت چین کے لیے محدود نظر آتی ہے۔

تصویر - فائل فوٹو: واخان سڑک کی تعمیر کا کام
،تصویر کا کیپشن فائل فوٹو: واخان سڑک کی تعمیر کا کام

سکیورٹی خدشات بھی ایک رکاوٹ ہیں۔ چین نے بارہا افغانستان میں شدت پسند مسلح گروہوں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے، خصوصی طور پر مشرقی ترکمانستان اسلامی تحریک کے بارے میں، اور اس امکان کا اظہار کیا ہے کہ شنکیانگ تک براہ راست رسائی دینے والا راستہ کھلنے سے شدت پسندوں اور اسلحہ کی آمدورفت ممکن ہو سکتی ہے۔

چین نے افغانستان کے ساتھ 90 کلومیٹر طویل سرحد کو آہنی باڑوں اور جدید سرویلنس نظام کی مدد سے محفوظ بنانے کی کوشش کی ہے اور یہ عندیہ دیا ہے کہ اس کے سکیورٹی خدشات حل کرنے کے بعد ہی سرحدی راستہ کھولنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔

افغان طالبان کے دعوے

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

افغانستان میں برسر اقتدار طالبان نے واخان منصوبے کے بارے میں جولائی 2023 میں کہا تھا کہ اس پر کام تقریبا مکمل ہو چکا ہے جس کے بعد جنوری 2025 میں ایک اور حکام نے دعوی کیا تھا کہ پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور سڑک کو وسیع کرنے پر کام شروع ہو گا۔ مئی 2026 میں ایک اور اعلان کیا گیا کہ کچی سڑک مکمل ہو چکی ہے اور چین سے ملک کو جوڑ دیا گیا ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان اور ان کے حامی میڈیا نے معاشی ترقی، تعمیراتی منصوبوں اور افغانستان کی جغرافیائی اہمیت کے بارے میں کیسے بارہا بلند و بانگ دعوے کیے۔

طالبان حکومت کی وزارت دیہی بحالی و ترقی کے مطابق بدخشان کے بروغل علاقے سے چین کی سرحد تک 121 کلومیٹر طویل اس کچی (بجری والی) سڑک کے ساتھ چار بڑے جبکہ 66 چھوٹے پل اور تقریباً 3,100 میٹر حفاظتی دیوار تعمیر کی گئی ہے۔

بروغل بدخشان کے واخان علاقے میں واقع ہے اور ڈیورنڈ لائن پر خیبر پختونخوا کے ضلع چترال سے متصل علاقہ ہے۔

طالبان حکومت کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ افغانستان کے لیے سیاسی، اقتصادی اور ٹرانزٹ کے لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے، اور اس کی تعمیر پر سرکاری بجٹ سے 36 کروڑ 50 لاکھ افغانی خرچ کیے گئے ہیں۔

اس منصوبے کی افتتاحی تقریب میں طالبان حکومت کے وزیر دیہی بحالی و ترقی عبداللطیف منصور اور بدخشان کے گورنر رحمت اللہ نجیب سمیت متعدد حکام نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عبداللطیف منصور نے کہا کہ اس سڑک کی تعمیر سے نہ صرف واخان ضلع کے رہائشیوں، خصوصاً پامیر کے لوگوں، کے لیے آمد و رفت میں بڑی سہولت پیدا ہوئی ہے بلکہ مستقبل میں یہ افغانستان اور چین کے درمیان ایک اہم اور بڑی تجارتی و ٹرانزٹ راہداری بھی بن سکتی ہے۔

د دې پروژې مراسمو ته ګڼ شمېر چارواکي ورغلي وو

انھوں نے مزید کہا کہ ان کی حکومت بڑے عوامی فلاحی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو ترجیح دیتی ہے اور یہ کہ ایسے منصوبے غیر ملکی مشیروں اور انجینیئروں کی موجودگی کے بغیر اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر مکمل کیے جا رہے ہیں۔

انھوں نے اس سلسلے میں قوش ٹیپہ نہر اور سالنگ شاہراہ کی بحالی کے منصوبوں کا بھی ذکر کیا، جن پر ان کے بقول اربوں افغانی خرچ کیے گئے ہیں۔

واخان سڑک منصوبے پر کام کرنے والی کمپنی کے ذمہ دار محمد اسماعیل نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’اب ہم براہِ راست چین سے منسلک ہو گئے ہیں۔ کسی بھی قسم کی گاڑی، چاہے بڑی ہو یا چھوٹی، اب وہاں تک پہنچ سکتی ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ ’خاص تاریخی، تزویراتی اور اقتصادی‘ اہمیت کا حامل ہے۔

طالبان حکومت زمینی راستے کے ذریعے چین سے رابطے کو اپنی اہم ترجیحات میں شمار کرتی ہے اور اس حوالے سے متعدد مواقع پر چینی حکام کے ساتھ بات چیت بھی کر چکی ہے۔

اسی سلسلے میں جولائی 2024 میں طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی اور نائب وزیر اعظم عبدالسلام حنفی نے کابل میں چین کی وزارت ثقافت و سیاحت کے نائب وزیر لی چون کی قیادت میں آنے والے وفد سے الگ الگ ملاقاتوں میں امید ظاہر کی تھی کہ یہ منصوبہ افغانستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔

عبدالسلام حنفی نے جولائی 2024 میں چین کی وزارتِ ثقافت و سیاحت کے نائب وزیر لی چون سے ملاقات کی۔
،تصویر کا کیپشنعبدالسلام حنفی نے جولائی 2024 میں چین کی وزارتِ ثقافت و سیاحت کے نائب وزیر لی چون سے ملاقات کی

سیاحت کے فروغ کی امید

واخان راہداری بدخشان ولایت کے مشرق میں بلند پہاڑوں کے درمیان واقع ایک تنگ وادی ہے۔ اس علاقے کی آب و ہوا سرد رہتی ہے اور یہاں کی پہاڑی چوٹیاں تقریباً پورا سال برف سے ڈھکی رہتی ہیں۔

اس کی سٹریٹیجک اہمیت کے علاوہ، قدرتی حسن اور بلند برف پوش چوٹیوں نے اس علاقے کو سیاحوں کے لیے ایک پسندیدہ مقام بنا دیا ہے۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ واخان کو افغانستان کے دوسرے قومی پارک کے طور پر رجسٹر کیا گیا تھا۔

اس علاقے کو دنیا کے نایاب اور نسبتاً غیر متاثرہ خطوں میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں قدرتی خوبصورتی بڑی حد تک محفوظ رہی ہے۔

یہاں بعض نایاب اور کم یاب جنگلی جانور بھی پائے جاتے ہیں۔

طالبان حکومت کے نائب ترجمان حمداللہ فطرت نے اس سڑک کی افتتاحی تقریب کے دوران امید ظاہر کی کہ اس راستے کے کھلنے سے علاقے میں سیاحت کی صنعت کو بھی فروغ ملے گا اور سیاح آسانی کے ساتھ اس دور افتادہ مقام کی سیر کے لیے آ سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سیاحت کے ساتھ اقتصادی ترقی بھی جڑی ہوتی ہے۔

فطرت نے مزید بتایا کہ ان کی حکومت نے علاقے میں مواصلاتی نیٹ ورکس کی فراہمی کے علاوہ ایک صحت مرکز اور ایک اسکول کی تعمیر کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں۔

واخان

پانچ ملکی ریلوے راہداری

خطے میں آمد و رفت کا ایک اور ممکنہ متبادل مجوزہ پانچ ملکی ریلوے راہداری ہے جس کے تحت چین، کرغزستان، تاجکستان، افغانستان اور ایران کو تقریبا 2100 کلومیٹر طویل ریلوے لائن کی مدد سے جوڑنا مقصود ہے۔

اس منصوبے پر دوشنبے میں 2014 میں ایک ابتدائی معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت چین کے مغربی ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کو افغانستان سے جوڑتے ہوئے ایرانی بندرگاہوں تک رسائی ملنی تھی۔

افغانستان میں یہ راستہ تاجکستان سے قندوز اور ہرات سے ہوتا ہوا ایران داخل ہونا تھا اور اس میں واخان راہداری شامل نہیں تھی۔

تاہم یہ منصوبہ ادھورا پڑا ہے۔ اس کے باوجود چین کے لیے یہ زیادہ قابل عمل ہو سکتا ہے کیوں کہ وسطی ایشیائی ریاستیں چین اور افغانستان کے بیچ ایک رابطہ فراہم کرتے ہوئے سکیورٹی خدشات کو کم کر سکتی ہیں۔

فی الحال واخان راہداری سڑک ایک فعال تجارتی راستے سے زیادہ صرف چین کی سرحد تک رسائی فراہم کر رہی ہے۔ چین کی جانب سے افتتاحی تقریب میں عدم شمولیت، چین کی سرحد پر کراسنگ پوائنٹ قائم نہ ہونا اور کسٹمز انفراسٹرکچر کی عدم دستیابی کے علاوہ چین کے سکیورٹی خدشات سے یہ علم ہوتا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے ملک کو چین سے جوڑنے کے دعوے کو احتیاط کی نظر سے دیکھنا چاہیے۔