فٹبال ورلڈ کپ فائنل: یمال کے عروج اور میسی کے ممکنہ الوداع کی کہانی

میسی

،تصویر کا ذریعہReuters

    • مصنف, فِل میکنلٹی
    • عہدہ, بی بی سی سپورٹ
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

جب سپین کے 20 سالہ لامین یمال نے ورلڈ کپ فائنل کے اختتام پر ارجنٹینا کے اشک بار سپرسٹار لیونل میسی کو گلے لگایا تو یہ ایسا منظر تھا جیسے مشعل ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہو رہی ہو۔

39 سالہ میسی نیویارک کے نیو جرسی سٹیڈیم میں موجود ارجنٹینا کے ان شائقین کی جانب دیر تک دیکھتے رہے جو ان کا نام لے کر نعرے لگا رہے تھے۔ شاید فٹبال کے سب سے بڑے سٹیج پر وہ میسی کو آخری بار دیکھ رہے تھے۔

ایسے میں یمال ہی تھے جنھوں نے ارجنٹینا کے عظیم کھلاڑی کو تسلی دی۔ اس کے بعد دونوں ایک دوسرے کے گلے لگ گئے۔

بارسلونا کے نمبر 10 اپنے کلب کے سب سے عظیم نمبر 10 کو گلے لگا رہے تھے۔

یہ منظر اس حیرت انگیز تصویر سے مختلف تھا جس میں ستمبر 2007 میں 20 سالہ میسی ایک خیراتی ادارے کی قرعہ اندازی کے سلسلے میں چھ ماہ کے یمال کو نہلا رہے تھے۔ یہ تصویر اس فائنل سے قبل ایک بار پھر وائرل ہو گئی تھی۔

وہ شیر خوار بچہ اب ایک نوجوان کھلاڑی بن چکا ہے مگر میسی کا ورلڈ کپ کا سفر شاید اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔

یمال میسی سے 20 سال چھوٹے ہیں اور ان کے کیریئر کا ابھی آغاز ہی ہوا ہے۔

میسی، یامال

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اور اس مایوس کن ورلڈ کپ فائنل کی اہم کہانیوں میں سے ایک یہ تھی کہ سپین کے کھلاڑیوں نے یمال کی بہتر کھیل پیش کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کی مگر ارجنٹینا کے اشتعال انگیز انداز نے میسی کو نقصان پہنچایا۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

سپین اور یمال پورے ٹورنامنٹ میں مسلسل بہتر ہوتے گئے، جس کے نتیجے میں آج پوری دنیا ان کے قدموں میں ہے اور فٹبال کے دو سب سے بڑے اعزاز ان کی جھولی میں ہیں۔

اپنی فطری غیر معمولی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ وہ سپین کے لیے خوش قسمتی کی علامت بھی ہیں۔

یمال اپنے ملک کے لیے کھیلے گئے 28 میچوں میں اب تک شکست سے دوچار نہیں ہوئے۔ انھوں نے بڑے ٹورنامنٹس میں 13 میچوں کا آغاز کیا ہے اور ان سب میں کامیابی حاصل کی ہے، جو بڑے ٹورنامنٹس میں ابتدائی کھلاڑی کے طور پر کسی بھی یورپی فٹبالر کی سب سے طویل سو فیصد کامیابی کی شرح ہے۔

وہ، اپنے 19 سالہ سپین کے ساتھی پاؤ کوبارسی کے ساتھ، ورلڈ کپ فائنل میں کھیل کا آغاز کر کے جیتنے والے صرف چوتھے اور پانچویں نوعمر کھلاڑی بھی بن گئے۔ ان سے قبل 1958 میں برازیل کے لیے پیلے، 1982 میں اٹلی کے مدافع جوسیپے برگومی اور 2018 میں فرانس کے لیے کیلیان ایمباپے یہ کارنامہ انجام دے چکے ہیں۔

سپین کے کوچ لوئس ڈی لا فوئنٹے نے بعد میں یمال کے لیے اپنی ’مخلصانہ تشکر‘ کا اظہار کیا۔

انھوں نے کہا ’انھوں نے شاندار کھیلا جو انھیں مزید پختگی دے گا اور وہ پہلے سے بھی زیادہ عظیم فٹبالر بنیں گے۔‘

یمال نے ارجنٹینا کی جانب سے انھیں ڈرانے دھمکانے کی واضح کوششوں کو نظرانداز کیا۔ سابق انگلش گول کیپر اور بی بی سی سپورٹ کے مبصر جو ہارٹ کے مطابق یمال جارحیت کا 'ڈٹ کر مقابلہ کرتے رہے۔ وہ نہ گھبرائے اور نہ ہی پیچھے ہٹے۔ پوری ٹیم انھیں نشانہ بنانے کی کوشش کر رہی تھی۔'

ارجنٹینا کا مایوس کن کھیل

یمال کی خوشی میسی کے تاثرات سے بالکل مختلف تھی جو ارجنٹینا کے شائقین کے ہجوم کی طرف دیکھتے ہوئے دل شکستہ دکھائی دے رہے تھے۔ شاید انھیں یہ احساس ہو رہا تھا کہ ورلڈ کپ میں اس طرح کی محبت اور عقیدت حاصل کرنے کا یہ ان کا آخری موقع ہے۔

ارجنٹینا کے کوچ لیونل سکیلونی، جو میسی کی طرح لگاتار دوسرا ورلڈ کپ جیتنے کی کوشش کر رہے تھے، شدید جذباتی ہو گئے جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا یہ عظیم اٹیکر کا ٹورنامنٹ میں آخری میچ تھا۔ جبکہ وہ اپنے مستقبل پر بھی غور کر رہے تھے کیونکہ ان کا معاہدہ دسمبر میں ختم ہونا ہے۔

سکیلونی نے کہا کہ انھوں نے میسی سے بات نہیں کی جس کے بعد وہ خود بھی رو پڑے اور پھر پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے۔

میسی کی کوششوں کو ارجنٹینا کے اس تصادم پسند انداز نے مزید نقصان پہنچایا جو تقریباً پہلی سیٹی سے ہی نظر آ رہا تھا، جس کے باعث ان کے رہنما اور سب سے بڑے کھلاڑی عملی طور پر زیادہ تر میچ میں غیر موثر رہے۔

سپین کی فتح فٹبال کی فتح تھی کیونکہ ارجنٹینا شروع ہی سے فٹبال کے علاوہ ہر چیز پر توجہ دیتا دکھائی دیا۔ جبکہ سلووینیا کے ریفری سلاوکو ونچیچ نے وہی نرمی دکھائی جس نے پورے ورلڈ کپ میں مخالف ٹیموں کو مشتعل کیا تھا۔

الیکسس میک الیسٹر کے دانی اولمو کے خلاف خراب ٹیکل پر صرف مختصر تنبیہ کی گئی۔ اس پر سپین کے شائقین نے طنزیہ انداز میں فیفا کے صدر انفانٹینو کا نام پکارنا شروع کر دیا۔ یہ ان سازشی نظریات کے حامیوں کی جانب ایک اور اشارہ تھا جو دعویٰ کرتے ہیں کہ ارجنٹینا کا فائنل تک کا سفر حکام کی جانب سے آسان بنایا گیا۔

فرنانڈیز نے بے معنی انداز میں کوبارسی پر دھاوا بولا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنفرنانڈیز نے بے معنی انداز میں کوبارسی پر دھاوا بولا

فائنل کے 40 منٹ بعد ارجنٹینا کے ڈیفینڈر لیساندرو مارٹینیز کو میکل اویارسابال پر فاؤل کرنے پر میچ کا پہلا پیلا کارڈ دکھایا گیا، جس پر اس سٹیڈیم میں موجود بہت سے افراد نے شدید طنزیہ ردعمل دیا۔

ارجنٹینا کی واضح صلاحیت، جس کا مظاہرہ انھوں نے سیمی فائنل میں انگلینڈ کو زیر کر کے کیا تھا، کو اس طرح کے رکاوٹ ڈالنے والے ہتھکنڈوں تک محدود دیکھنا ایک افسوسناک منظر تھا۔ یہ میسی کی ذہانت اور اثر و رسوخ کے لیے ہرگز مددگار نہیں تھا۔

میسی بھی اس میں شامل ہو گئے جب انھوں نے ریفری کو اشارہ کیا کہ سپین کے مارک کوکوریا کو سرخ کارڈ دیا جائے کیونکہ وہ اپنا منھ ہاتھ سے ڈھانپ کر بات کر رہے تھے، جو اس ورلڈ کپ میں اگر اشتعال انگیز انداز میں کیا جائے تو سرخ کارڈ کی سزا کا موجب بن سکتا ہے۔

یہ واقعہ ارجنٹینا کی کارکردگی کے سب سے نچلے لمحے کے بعد پیش آیا، جب اضافی وقت سے ٹھیک قبل اینزو فرنانڈیز نے بے معنی انداز میں کوبارسی پر دھاوا بولا۔ فرنانڈیز کی نظریں گیند پر بھی نہیں تھیں جب انھوں نے اپنے حریف کو گرا دیا۔ یہ ریڈ کارڈ مکمل طور پر جائز تھا۔

ارجنٹینا ٹورنامنٹ کی تاریخ میں پہلی ٹیم بن گئی جو ورلڈ کپ فائنل کے 90 منٹ میں ایک بھی شاٹ نہ لگا سکی۔ جب آخرکار 117ویں منٹ میں موقع آیا اور بے چینی بڑھ چکی تھی تو میسی کا شاٹ ہدف سے باہر چلا گیا۔

سپین نے ہدف پر 12 شاٹس لگائے جبکہ ارجنٹینا پورے میچ میں ایک بھی شاٹ ہدف پر نہ لگا سکا۔

حیران کن پہلے ہاف میں ارجنٹینا نے میدان کے آخری حصے میں پاسز سے زیادہ فاؤل کیے۔ آٹھ پاسز کے مقابلے میں نو فاؤل۔ یہ ان کے انداز کی بہترین عکاسی تھی۔

فائنل سیٹی کے بعد ارجنٹینا کے کھلاڑی بھی میسی کے ساتھ آنسو بہاتے نظر آئے۔ تاہم میچ کا اختتام باوقار نہ رہا کیونکہ دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں اور حکام کے درمیان دھکم پیل ہو گئی۔

لیاندرو پاریدیس، جو دوسرے ہاف میں بطور متبادل میدان میں آنے کے بعد اکثر جارحانہ رویہ اپناتے رہے، مرکزی کردار تھے۔ انھوں نے ایرک گارسیا کا گلا پکڑا۔ وہ اس وقت بھی شامل تھے جب سپین کے گاوی کو زمین پر گرا دیا گیا۔

اس شاندار ورلڈ کپ کو اس ناخوشگوار اختتام کے لیے یاد نہیں رکھا جانا چاہیے۔

اگرچہ سپین فائنل میں اپنی بہترین فارم میں نہیں تھا لیکن اس نے پورے ورلڈ کپ کے دوران ترقی کی۔ ابتدائی میچ میں کیپ وردے سے برابر رہ جانے کے جھٹکے سے لے کر آخری عظیم کامیابی تک۔

ورلڈ کپ کو وہ فاتح ملا جس کا وہ مستحق تھا اور یمال کی صورت میں اسے مستقبل کے ٹورنامنٹس کا ایک ستارہ بھی مل گیا ہے۔

میسی کے ناقابل فراموش ورلڈ کپ دور کا اختتام شاید ہو چکا لیکن یمال کا دور بہت طویل عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔

ارجنٹائن کے فٹبال شائقین نے ڈیاگو میراڈونا (بائیں) اور لیونل میسی (دائیں) کے چہروں والی شرٹس پہن رکھی ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمیراڈونا اور میسی ارجنٹائن کے دو عظیم کھلاڑی ہیں

میسی، میراڈونا یا پیلے: فٹبال کا سب سے بڑا کھلاڑی کون؟

فٹبال کی تاریخ میں لیونل میسی کو سب سے عظیم کھلاڑی قرار دینے والے عموماً دو بنیادی خصوصیات پر زور دیتے ہیں: غیر معمولی صلاحیت کے ساتھ طویل عرصے تک اعلیٰ معیار برقرار رکھنا اور مسلسل بہترین کارکردگی دکھانا۔

جہاں بہت سے عظیم کھلاڑی نسبتاً مختصر عرصے تک اپنے عروج پر رہے، میسی تقریباً دو دہائیوں سے دنیا کے بہترین فٹبالرز میں شمار ہوتے ہیں۔ اس دوران انھوں نے آٹھ بیلون ڈیور ایوارڈز، بارسلونا اور پیرس سینٹ جرمین کے ساتھ متعدد لیگ ٹائٹل، چیمپئنز لیگ ٹرافیاں، 2021 کا کوپا امریکہ اور 2022 کا ورلڈ کپ جیتا۔

جبکہ میسی نے گول کرنے اور اسسٹ فراہم کرنے کے بے شمار ریکارڈ بھی قائم کیے۔

ایک گرافک میں پیلے، میراڈونا اور میسی کا چار زمروں میں موازنہ کیا گیا ہے: کھیلے گئے ورلڈ کپ، کیے گئے گول، فی میچ اوسط گول اور جیتے گئے مجموعی ٹائٹلز

میسی کے حامی اس بات کو بھی اہم سمجھتے ہیں کہ انھوں نے مختلف ماحول میں کامیابی حاصل کی۔ انھوں نے یورپی کلب فٹبال میں بارسلونا کی طویل بالادستی میں مرکزی کردار ادا کیا اور بعد ازاں ارجنٹائن کو عالمی سطح پر دوبارہ کامیابیوں کی راہ پر گامزن کیا۔

ان کے نزدیک صلاحیت، مستقل مزاجی، کامیابیوں اور طویل المدتی عمدگی کا مجموعہ میسی کو تاریخ کے ہر دوسرے کھلاڑی سے ممتاز بناتا ہے۔

سابق فرانسیسی سٹرائیکر تھیری ہنری، جو بارسلونا میں میسی کے ساتھی رہ چکے ہیں، ان کی غیر معمولی مسابقتی فطرت کو ان کی عظمت کا اہم عنصر قرار دیتے ہیں۔

ہنری کے مطابق اگر میسی کو محسوس ہوتا کہ ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے، مثلاً ریفری نے فاؤل نہیں دیا، تو وہ اور زیادہ خطرناک ہو جاتے تھے اور اکثر اس کا جواب گولوں کی بارش سے دیتے تھے۔

ہنری نے اس کیفیت کو یوں بیان کیا: ’سوئے ہوئے شیر کو نہ جگاؤ۔‘

ڈیاگو میراڈونا (بائیں) اور پیلے (دائیں) مصافحہ کرتے ہوئے، دونوں نے سیاہ رنگ کے لباس پہن رکھے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبرازیل کے پیلے اور ارجنٹائن کے ڈیاگو میراڈونا کا شمار تاریخ کے عظیم ترین فٹبالرز میں کیا جاتا ہے

ارجنٹائن میں میسی کا موازنہ زیادہ تر 1986 کا ورلڈ کپ جتوانے والے ڈیاگو میراڈونا سے کیا جاتا ہے۔ میراڈونا صرف ایک فٹبالر نہیں بلکہ قومی شناخت، بغاوت اور عوامی جذبات کی علامت تھے۔ غربت سے نکل کر عالمی شہرت حاصل کرنے والے میراڈونا کھل کر سیاسی اور سماجی معاملات میں رائے دیتے تھے، جس وجہ سے بہت سے ارجنٹائنی ان سے گہرا جذباتی تعلق محسوس کرتے تھے۔ اس کے برعکس، میسی نے ہمیشہ کم گو، محتاط اور سیاست سے دور رہنے والا رویہ اپنایا اور اپنی توجہ تقریباً مکمل طور پر فٹبال پر مرکوز رکھی۔

تاہم ارجنٹائن میں میسی کے بارے میں رائے میں بڑی تبدیلی 2021 میں آئی جب انھوں نے کوپا امریکہ جیت کر ملک کا 28 سالہ انتظار ختم کیا۔ یہ تبدیلی 2022 کے ورلڈ کپ میں مزید مضبوط ہوئی، جہاں میسی نے ارجنٹائن کو تیسرا عالمی ٹائٹل دلانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ اس دوران انھوں نے زیادہ جذباتی، جارحانہ اور قائدانہ شخصیت کا مظاہرہ کیا، جسے بہت سے لوگ پہلے میراڈونا سے جوڑتے تھے۔ سوانح نگار گیلیم بالاگے کے مطابق لوگوں نے انھیں ٹیم کے ''جنرل'' کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا۔ اس کے باوجود بعض ارجنٹائنی آج بھی محسوس کرتے ہیں کہ میراڈونا ان کی قومی شناخت کی بہتر نمائندگی کرتے ہیں۔

اس بحث کا ایک اور اہم پہلو برازیل کے لیجنڈ پیلے ہیں۔ پیلے اب بھی واحد کھلاڑی ہیں جنھوں نے تین ورلڈ کپ جیتے۔ انھوں نے ایک انٹرویو میں میراڈونا کو میسی سے بہتر قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ میسی بائیں پاؤں پر زیادہ انحصار کرتے ہیں اور بعض دیگر عظیم کھلاڑیوں جیسی ہمہ جہت صلاحیت نہیں رکھتے۔ دوسری طرف سابق برازیلی کھلاڑی توسٹاؤ کا خیال تھا کہ میسی میراڈونا سے بہتر لیکن پیلے سے کم تر ہیں، کیونکہ پیلے زیادہ طاقتور اور بہتر ایتھلیٹ تھے۔

آخرکار بحث صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں رہتی۔ اگر ایسا ہوتا تو میسی کے ریکارڈ شاید فیصلہ کن ثابت ہوتے، مگر عظمت کا تعین مختلف ادوار، حالات اور معیارات کی وجہ سے پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ پیلے نے ایسے دور میں کھیلا جب جدید سپورٹس سائنس اور عالمی میڈیا موجود نہیں تھے۔ میراڈونا نے عالمی مقبولیت کے دور میں کھیلتے ہوئے ثقافتی اور سیاسی اثرات مرتب کیے۔ میسی نے جدید تجزیاتی نظام، سائنسی تیاری، طبی معاونت اور مسلسل میڈیا نگرانی کے ماحول میں اپنی میراث قائم کی۔

اس لیے عظیم ترین کھلاڑی کا انتخاب اس بات پر منحصر ہے کہ کوئی شخص صلاحیت، کامیابیاں، اثر و رسوخ، طویل المدتی کارکردگی یا ثقافتی اہمیت میں سے کس عامل کو سب سے زیادہ وزن دیتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پیلے، میراڈونا اور میسی کے درمیان ’سب سے عظیم‘ کی بحث آج بھی جاری ہے اور غالباً آئندہ نسلوں تک جاری رہے گی۔