وہ چار سادہ اصول جو جاپانی شہروں کو رہائش کے لیے دنیا کے بہترین مقامات بناتے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, لنڈسی گیلووے
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 10 منٹ
محلے کی بازاروں سے لے کر قابلِ رسائی ٹرانسپورٹ تک، جاپان کے شہر شہری زندگی کی روزمرہ پریشانیوں کو کم کر دیتے ہیں۔
آخر کسی شہر کو قابلِ رہائش کیا چیز بناتی ہے؟ یہ ضروری نہیں کہ وہاں چمکتی دمکتی عمارتیں ہوں یا عالمی شہرت یافتہ سیاحتی مقامات۔
اصل بات یہ ہے کہ آیا آپ گاڑی کے بغیر اپنے دفتر تک پہنچ سکتے ہیں، پیدل چل کر خریداری کر سکتے ہیں، وہیل چیئر پر ریلوے سٹیشن استعمال کر سکتے ہیں یا بچوں کی پرام فٹ پاتھ پر محفوظ انداز میں چلا سکتے ہیں یا نہیں۔
جاپان کے شہر اس معاملے میں خاص طور پر نمایاں ہیں۔ اکنامسٹ انٹیلی جنس یونٹ کے 2026 کے گلوبل لائیویبلٹی انڈیکس میں اوساکا ساتویں نمبر پر رہا، جبکہ ٹوکیو تین درجے ترقی کر کے دسویں نمبر پر آ گیا۔ اس طرح جاپان واحد ایشیائی ملک بن گیا، جس کے دو شہر دنیا کے دس بہترین قابلِ رہائش شہروں میں شامل ہیں۔
اس بہتری کی ایک وجہ استحکام، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں مکمل نمبر اور مضبوط انفراسٹرکچر ہے۔ تاہم مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ حقیقی فرق ان شہروں کے ڈیزان ہیں جو سوچ سمجھ کر بنائے گئے ہیں۔
ٹوکیو میں گذشتہ 18 برس سے مقیم اور وہیل چیئر استعمال کرنے والے جوش گریسڈیل، جو ’ایکسسیسبل جاپان‘ نامی ویب سائٹ چلاتے ہیں، کہتے ہیں کہ ’جاپان کو اس طرح تعمیر کیا گیا ہے کہ یہ سب کے لیے کارآمد ہو۔ وہی ریمپ، لفٹیں اور کھلی جگہیں جن کی مجھے بطور وہیل چیئر صارف ضرورت ہوتی ہے، بچوں کی گاڑی دھکیلنے والے والدین، بزرگ افراد اور ہوائی اڈے سے بھاری سامان لانے والے مسافروں کے لیے بھی فائدہ مند ہیں۔‘
جاپان کے شہری ڈیزائن کا مطالعہ کرنے والے آرکیٹیکٹ فرانسِس اگیلارڈ کے مطابق روزمرہ زندگی کی چھوٹی چھوٹی تفصیلات ہی اکثر سب سے بڑا اثر ڈالتی ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’کسی شہر کے قابلِ رہائش ہونے کا انحصار اکثر روزمرہ زندگی میں درپیش رکاوٹوں کو کم کرنے پر ہوتا ہے۔ کیا کوئی شخص اپنی پورے دن کی منصوبہ بندی گاڑی کے گرد کیے بغیر دفتر، سکول، بازار، پارک، ڈاکٹر اور دوستوں تک پہنچ سکتا ہے؟‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بہت سے جاپانی شہریوں کے لیے اس سوال کا جواب ہاں میں ہے۔
ہم نے مقامی رہائشیوں اور شہری منصوبہ بندی کے ماہرین سے بات کی تاکہ یہ جان سکیں کہ جاپان ایسے شہر کیسے تعمیر کرتا ہے، جہاں زندگی نسبتاً آسان محسوس ہوتی ہے اور وہ کون سے اصول ہیں جو ان شہروں کو کامیاب بناتے ہیں؟
1- شہروں کو روزمرہ زندگی کے حساب سے تعمیر کریں
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
جاپان میں لوگوں کی روزمرہ زندگی کا بڑا حصہ ’شوتینگائی‘ نامی اس بازار میں گزرتا ہے، جس کی گلیاں ڈھکی ہوئِ ہیں۔ یہ ایسی تجارتی گزرگاہیں ہیں جہاں دونوں جانب چھوٹے نجی کاروبار قائم ہیں اور اکثر دکاندار اپنی دکانوں کے اوپر ہی رہائش پذیر ہوتے ہیں۔
ٹوکیو میں مقیم جوش گریسڈیل کے مطابق ’سبزی فروش، پرانا کافی ہاؤس، کلینک، 100 ین کی دکان اور مختلف کھانے پینے کی جگہیں چند قدم کے فاصلے پر موجود ہوتی ہیں۔‘
امریکی مصنف پیٹرک لائیڈن، جو جاپان اور کوریا میں شہری زندگی پر لکھتے ہیں، کہتے ہیں کہ امریکہ میں گروسری کی خریداری ان کے لیے ایک مشکل اور اکتا دینے والا کام تھا۔ تاہم اوساکا منتقل ہونے کے بعد ان کی زندگی کا معمول بدل گیا۔ وہ اور ان کی اہلیہ گاڑیوں کے بجائے سائیکل استعمال کرنے لگے، جبکہ چھوٹے گھر اور محدود گنجائش والے فریج کی وجہ سے انھیں زیادہ بار خریداری کرنا پڑتی تھی۔
لائیڈن کہتے ہیں کہ ’حیران کن طور پر یہ تجربہ بہت خوشگوار ثابت ہوا۔ گروسری کی خریداری ایک معمول کی ذمہ داری کے بجائے روزانہ کا ایک سماجی تجربہ بن گئی، جو آپ کو اپنے محلے اور وہاں کے لوگوں سے جوڑتی ہے۔ بچے ہوں یا بزرگ، سب روزانہ ان گلیوں میں پیدل آتے جاتے ہیں۔‘
ان کے مطابق اس طرزِ زندگی کو دنیا کے دیگر حصوں میں اپنانا آسان نہیں، تاہم یہ کسی حد تک امریکہ کی پرانی ’مین سٹریٹ‘ ثقافت سے مشابہ ہے، جہاں مقامی بازار سماجی اور تجارتی سرگرمیوں کا مرکز ہوا کرتے تھے۔
لائیڈن کا کہنا ہے کہ جب شہری منصوبہ بندی میں انسان کو مرکزیت دی جائے تو اس کے فوائد واضح طور پر سامنے آتے ہیں۔
’گلیوں میں پھیلتی تازہ تلے ہوئے کروکیٹس کی خوشبو، عمارتوں کے مالکان کی چھوٹی دکانیں، عوامی ٹرانسپورٹ تک آسان رسائی اور ہر عمر کے لوگوں کے لیے تحفظ اور اپنائیت کا احساس۔۔۔ یہ سب مل کر ایک ایسا ماحول بناتے ہیں جو غیرمعمولی طور پر مؤثر ثابت ہوتا ہے۔‘
جاپانی شہروں کی ایک اور نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہاں سڑکوں کو گاڑیوں کے مطابق ڈھالنے کے بجائے گاڑیوں کو سڑکوں کے مطابق بنایا جاتا ہے۔ اسی لیے چھوٹی وینیں اور مختصر جسامت کے ’کےئی‘ ٹرک تنگ گلیوں میں بھی آسانی سے سفر کر لیتے ہیں۔
شہری ڈیزائن کے ماہر فرانسس اگیلارڈ کے مطابق جاپان میں بہت سی سڑکیں مشترکہ عوامی جگہوں کے طور پر کام کرتی ہیں، جہاں پیدل چلنے والے، سائیکل سوار اور گاڑیاں ایک ساتھ استعمال کر سکتی ہیں۔
ان کے بقول، ’یہ نظام افراتفری پیدا کرنے کے بجائے شہری زندگی میں ایک خوبصورت توازن اور روانی پیدا کرتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
2۔ ٹرانسپورٹ کا نظام سب کے لیے قابلِ استعمال بنائیں
جاپان کا عوامی نقل و حمل کا نظام اپنی وقت کی پابندی، حفاظت اور صفائی کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔
ٹوکیو میں ایک دہائی سے زائد عرصے سے رہنے والی اور ٹریول کمپنی جی ایڈونچرز کی ریجنل آپریشنز مینیجر کیکو اوتا کہتی ہیں کہ ’عوامی ٹرانسپورٹ کا یہ شاندار نظام آپ کو تقریباً ہر جگہ لے جا سکتا ہے۔ میرے پاس ڈرائیونگ لائسنس نہیں، لیکن اس کے باوجود مجھے جہاں چاہوں جانے کی مکمل آزادی محسوس ہوتی ہے۔‘
وہیل چیئر استعمال کرنے والے جوش گریسڈیل کا کہنا ہے کہ جاپان میں سفر کے لیے انھیں پہلے سے منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی، جبکہ دوسرے ممالک میں اکثر ایسا کرنا ناگزیر ہوتا ہے۔
ان کے بقول ’کینیڈا سے آنے کے بعد آج بھی مجھے یہ بات حیران کرتی ہے کہ میں جاپان میں تقریباً کسی بھی سٹیشن پر پہنچ کر بغیر پیشگی بکنگ کے، وقت پر ریل یا بس کے ذریعے اپنی منزل تک جا سکتا ہوں۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’لفٹیں شاذ و نادر ہی خراب ہوتی ہیں اور اگر کوئی لفٹ بند بھی ہو تو متبادل انتظام موجود ہوتا ہے۔ عملہ یہ کہنے کے بجائے کہ یہ ممکن نہیں، سیڑھیاں چڑھنے کے لیے مخصوص قابلِ حمل مشین لے آتا ہے۔‘
گریسڈیل کا تجربہ جاپان میں سنہ 2006 کے ’بیریئر فری‘ قانون کے بعد شروع ہونے والی دو دہائیوں پر محیط اصلاحات کی عکاسی کرتا ہے۔ سنہ 2020 تک ملک کے مصروف ترین ریلوے سٹیشنوں میں سے 90 فیصد سے زیادہ ایسے بنائے جا چکے تھے، جہاں سیڑھیاں چڑھے بغیر آمدورفت ممکن تھی، جبکہ ملک بھر کے ہزاروں سٹیشنوں پر لفٹیں نصب کی جا چکی تھیں۔
گریسڈیل کے مطابق ٹوکیو میں شہری انتظامیہ آج بھی شہریوں کی تجاویز اور شکایات پر توجہ دیتی ہے۔
وہ بتاتے ہیں کہ ان کے مقامی پارک میں پھولوں کے گملے اتنے قریب قریب رکھے گئے تھے کہ ان کی وہیل چیئر کے لیے گزرنا مشکل تھا۔ جب انھوں نے اس مسئلے کی نشاندہی پارکس کے محکمے کو کی تو چند ہی دنوں میں ایسے سٹیکرز لگا دیے گئے جن میں عملے کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہیل چیئر استعمال کرنے والوں کے گزرنے کے لیے مناسب جگہ چھوڑی جائے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
قابلِ رسائی شہری ڈیزائن کے حوالے سے جاپان کا اثر اس کی سرحدوں سے بہت آگے تک پہنچا ہے۔
دنیا بھر میں نابینا اور کم بینائی رکھنے والے افراد کی رہنمائی کے لیے فٹ پاتھوں اور ریلوے سٹیشنوں پر استعمال ہونے والی ابھری ہوئی پیلی ٹائلیں 1967 میں جاپانی انجینئر سیئچی میاکے نے ایجاد کی تھیں۔ انھوں نے یہ ڈیزائن اپنے ایک ایسے دوست کی مدد کے لیے تیار کیا تھا، جس کی بینائی متاثر ہو رہی تھی۔
صرف ایک دہائی کے اندر یہ ٹائلیں جاپان کے قومی ریلوے سٹیشنوں پر لازمی قرار دے دی گئیں۔
گریسڈیل کہتے ہیں، ’جاپان نے یہ سہولت پوری دنیا کو دی ہے۔‘
3۔ مقامی شناخت اور روایات کا تحفظ کریں
اپنی تیز رفتار بلٹ ٹرینوں اور مصروف شہری مراکز کے باوجود جاپان صبر، تسلسل اور روایات کے احترام کو بھی اہمیت دیتا ہے۔
پیٹرک لائیڈن بتاتے ہیں کہ جب انھوں نے اوساکا میں اپنی رہائش رجسٹر کروائی تو ضلعی دفتر کے ایک اہلکار نے ایک بڑا نقشہ نما رجسٹر نکالا، پچھلے رہائشی کا نام مٹایا اور پنسل سے ان کا نام درج کر دیا۔
ان کے بقول ’میں سلیکون ویلی کی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں کام کرتے ہوئے بڑا ہوا ہوں، اس لیے یہ منظر میرے لیے حیران کن تھا۔ جاپان میں اکثر صرف اس وجہ سے کسی نظام کو تبدیل نہیں کیا جاتا کہ نئی ٹیکنالوجی دستیاب ہو گئی ہے۔ اگر کوئی چیز اب بھی قابلِ اعتماد طریقے سے کام کر رہی ہے تو اسے ازسرِنو ایجاد کرنے کا دباؤ کم ہوتا ہے۔‘
یہ طرزِ فکر صرف انتظامی نظام میں ہی نہیں بلکہ جاپان کے شہری منظرنامے میں بھی نظر آتا ہے، جہاں صدیوں پرانے درخت عام محلوں اور یہاں تک کہ ریلوے سٹیشنوں کے درمیان بھی محفوظ رکھے جاتے ہیں۔
اس کی ایک مثال اوساکا کے قریب واقع کایاشیما سٹیشن ہے، جہاں تقریباً 700 سال پرانا کافور کا درخت سٹیشن کی عمارت کی چھت کے بیچوں بیچ سے گزرتا ہے۔
لائیڈن کہتے ہیں ’جاپان میں رہتے ہوئے میں نے محسوس کیا کہ پرانے درختوں کو کاٹنے کے بجائے ان کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ چاہے اس کی وجہ شنتو مذہبی روایات ہوں یا فطرت سے لوگوں کی محبت، نتیجہ بہرحال قابلِ توجہ ہے۔‘
ان کے مطابق ’کسی جگہ پر انفراسٹرکچر تعمیر کرنے اور کسی جگہ کے ساتھ مل کر انفراسٹرکچر تعمیر کرنے میں واضح فرق ہوتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جاپان کے مصروف ترین کاروباری علاقوں میں بھی روزمرہ زندگی اور مقامی شناخت شہری ماحول کا حصہ بنی رہتی ہے۔ ٹوکیو کے ون ہوٹل کے جنرل منیجر ماساتو کومینامی، جو اکثر آکاساکا کے علاقے میں پیدل چلتے ہیں، کہتے ہیں، ’آپ لوگوں کو اجلاسوں کے لیے جلدی میں جاتے دیکھتے ہیں، لیکن اگلے ہی موڑ پر ایک چھوٹا سا مزار نظر آ جاتا ہے جو نسلوں سے وہاں موجود ہے، یا پھر کوئی ایسا مختصر سا ریستوران جہاں مالک اپنے تقریباً تمام مستقل گاہکوں کو نام سے جانتا ہو۔‘
ان کے بقول مصروف کام کے دن کے دوران بھی آپ پرندوں کی آوازیں سن سکتے ہیں، درختوں کے درمیان بدلتی ہوئی روشنی کو محسوس کر سکتے ہیں یا موسم کی خوشبو اپنے اردگرد بکھری ہوئی پا سکتے ہیں۔‘
4۔ مشترکہ عوامی مقامات میں نظم و ضبط اور باہمی احترام کو فروغ دیں
انسانی ضروریات کو مدنظر رکھ کر بنایا گیا انفراسٹرکچر جاپان کے کامیاب شہروں کی صرف ایک وجہ ہے۔ ان شہروں کے رہائشی بھی ایسا ماحول پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جو اجتماعی زندگی کو بہتر بناتا ہے۔
ماساتو کومینامی کہتے ہیں کہ ’ٹوکیو بے حد مصروف شہر ہے، لیکن لوگ فطری طور پر اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ ان کے عمل دوسروں پر کیسے اثر انداز ہوں گے۔ یہ کوئی ایسی چیز نہیں جس پر لوگ زیادہ بات کرتے ہوں، بلکہ یہ روزمرہ زندگی کا ایک معمولی حصہ ہے۔‘
جوش گریسڈیل کا کہنا ہے کہ وہ اس اجتماعی تعاون پر انحصار کرتے ہیں اور جاپان میں تقریباً دو دہائیوں تک رہنے کے بعد وہ اسے حکومت کی فراہم کردہ سہولتوں جتنا ہی اہم سمجھتے ہیں۔
ان کے بقول، ’لوگوں کے آداب و اطوار اتنی ہی اہمیت رکھتے ہیں جتنی بنیادی سہولتیں۔ لوگ پلیٹ فارم پر مقررہ نشانات کے مطابق قطار بناتے ہیں، ٹرینوں میں خاموشی برقرار رکھتے ہیں اور ترجیحی نشستیں یا جگہ بغیر کسی درخواست کے ضرورت مند افراد کے لیے خالی کر دیتے ہیں۔ اتنے بڑے شہر میں یہی رویے روزمرہ زندگی کو سب کے لیے پُرسکون بناتے ہیں۔‘
اوساکا میں قیام کے دوران پیٹرک لائیڈن نے محسوس کیا کہ جاپانی معاشرے میں دوسروں کا خیال رکھنے کی روایت نے ان کی اپنی سوچ پر بھی اثر ڈالا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’چاہے ٹرین کے لیے قطار بنانا ہو، عوامی مقامات پر آہستہ آواز میں بات کرنا، کچرا نہ پھیلانا، ری سائیکل ہونے والے اور دوسرے فضلے کو الگ الگ رکھنا یا کھانے سے قبل ’ایتاداکیماسو‘ کہنا، روزمرہ کی بہت سی عادات انسان کو یاد دلاتی ہیں کہ وہ صرف اپنی ذات تک محدود نہیں بلکہ ایک بڑے معاشرے کا حصہ ہے۔‘
ان کے مطابق، ’شاید یہ دنیا کے تمام مسائل کا جادوئی حل نہ ہو، لیکن ذاتی طور پر اس نے مجھے زیادہ مہربان، خوبصورتی شناس اور پُرامن طرزِ زندگی کی طرف مائل ضرور کیا ہے۔‘



















