حوثیوں کی مبینہ ’مدد‘ اور ’سعودی عرب کی ناراضی کا خطرہ‘: یمن تنازع میں روس کس کا ساتھ دے رہا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
روسی حکام، ذرائع ابلاغ اور بلاگرز یمن کی صورتحال پر شاذ و نادر ہی تبصرہ کرتے ہیں، جہاں رواں برس ستمبر کے بعد خانہ جنگی اور سعودی عرب پر حملوں میں شدت آئی ہے۔
یمن کی سٹریٹجک اہمیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے اور سوویت یونین دور سے ہی روس کے جنوبی یمن سے خصوصی روابط رہے ہیں۔
یہ اس لیے بھی معنی خیز ہے کیونکہ اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران اُنگلیاں روس کے اتحادی ایران کی طرف اُٹھ رہی ہیں۔
تاہم محدود میڈیا کوریج سے اشارہ ملتا ہے کہ روس نہ صرف خود کو تنازع میں ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے بلکہ مبینہ طور پر ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک کی مدد بھی کرتا ہے، جس کے ساتھ روسی حکام کے بھی رابطے ہیں۔
روسی مبصرین، خواہ کریملن نواز ہوں یا مخالف، اس تنازع سے روس کو حاصل ہونے والے فوائد کی نشاندہی کرتے ہیں، جن میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور یوکرین جنگ سے امریکہ کی توجہ ہٹانا شامل ہے۔
یمن میں نئی صف بندی کے ساتھ ہی روس محتاط انداز میں بیان جاری کر کے اور محدود حمایت کے اشارے دے کر تمام فریقوں کو اپنے ساتھ رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
غیر جانبداری کا یہ تاثر ماسکو کو تنازع کے تمام فریقوں تک سٹریٹجک رسائی برقرار رکھنے میں مدد دے سکتا ہے، خواہ نتائج کسی کے حق میں بھی جائیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یمن میں روس کی سفارتی موجودگی؟
روس نے سنہ 2017 میں یمن کے دارالحکومت صنعا میں اپنی سفارتی موجودگی معطل کر دی تھی اور قونصلر کارروائیاں سعودی عرب منتقل کر دی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سات سال بعد ماسکو نے یمن کے اندر قونصلر سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا، تاہم یہ سرگرمیاں عدن سے چلائی جائیں گی، جو 2015 میں تنازع شدت اختیار کرنے کے بعد سے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کا مرکز رہا ہے۔
اس فیصلے کو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے لیے ایک علامتی کامیابی قرار دیا گیا، جسے خانہ جنگی کے آغاز پر صنعا سے باہر دھکیل دیا گیا تھا۔
کریملن کی عربی زبان کی سروس سپوتنک کے مطابق یمن کے روس میں سفیر کا کہنا ہے کہ ’روس کا یہ فیصلہ یمن اور اس کی جائز حکومت کی حمایت کے بارے میں ماسکو کے مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔‘
تاہم روس کے حوثیوں (جنھیں انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے) کے ساتھ بھی تاریخی طور پر دوستانہ تعلقات رہے ہیں۔
12 اکتوبر کو نائب وزیر خارجہ جارجی بوریسینکو نے صحافیوں سے گفتگو میں اس بات کی تصدیق کی کہ روس طویل عرصے سے حوثیوں کے ساتھ رابطے جاری رکھے ہوئے ہے اور کہا کہ ’یہ بات عام ہے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ اس تحریک کا ایک خصوصی نمائندہ عمان میں بھی تعینات ہے، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ روس کے رابطوں کا یہ بھی ایک ذریعہ تھا۔
جلاوطن کریملن مخالف ادارے نووایا گزیٹا یورپ نے مشاہدہ کیا کہ روسی سرکاری خبر رساں ایجنسیاں آر آئی اے نوووستی اور تاس بھی حوثیوں کے ساتھ روابط رکھتی ہیں۔
جنوری اور جولائی 2024 میں حوثی وفود نے ماسکو کا دورہ کیا اور نائب وزیر خارجہ میخائل بوگدانوف سے ملاقات کی۔ اس وقت روسی حکام نے حوثیوں کے اہداف پر امریکہ اور برطانیہ کے حملوں کو ’غیر متناسب‘ قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
روسی حکومت اور حوثی تحریک کے درمیان روابط کم از کم 2016 سے ہیں، جب حوثی نمائندوں نے روس سے انسانی امداد کی درخواست کی تھی۔
بوگدانوف نے عدن میں موجود حکومت کو یمن میں لڑائی پر روس کی ’گہری تشویش‘ سے آگاہ کیا تھا اور دیگر سفارت کاروں نے حوثیوں کی سرکاری روسی حمایت کے دعوؤں کی تردید کی تھی۔
اس کے بعد سے عوامی سطح پر رپورٹ ہونے والے سفارتی رابطوں میں کمی آئی ہے، لیکن روس اب بھی یمن تنازع کے بڑے فریقوں تک رسائی رکھتا ہے۔
حوثیوں اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے علاوہ روسی حکام نے 2024 میں متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ طاقتور علیحدگی پسند گروپ سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) کے ساتھ بھی مذاکرات کیے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایس ٹی سی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت اور اس کے اتحادیوں کے خلاف جنوبی یمن میں ایک آزاد ریاست قائم کرنے کے لیے لڑتی رہی ہے، جو سوویت اتحادی پیپلز ڈیمو کریٹک ریپبلک آف یمن کی یاد دلاتی ہے۔
جنوری 2026 میں ایس ٹی سی کی ناکام فوجی پیش قدمی کے بعد اس کے ارکان کو حکومت سے نکال دیا گیا، جس کے نتیجے میں حوثی مخالف اتحاد کے اندر کھلی مخاصمت دوبارہ شروع ہو گئی۔
یمن بحران پر روس خود کو کیسے پیش کرتا ہے؟
سنہ 2026 کے موسم خزاں میں حوثی تحریک اور عدن میں قائم بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے درمیان تنازع میں شدت آنے کے بعد روس نے ثالثی کے لیے گہری دلچسپی ظاہر کی۔
نائب وزیر خارجہ الیگزینڈر علیموف نے سات اکتوبر کو ریاستی خبر رساں ادارے ’ریانووستی‘ کو بتایا کہ اگر آپ ہمارے ثالثی کے کردار میں دلچسپی رکھتے ہیں تو ہم مکمل خلوص نیت کے ساتھ ایک دیانت دار ثالث کے طور پر یہ کردار ادا کریں گے۔
اُنھوں نے تسلیم کیا کہ تنازع کے فریقوں نے روس کو باضابطہ دعوت نہیں دی اور کہا کہ ’ہم زبردستی خود کو مسلط کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘
اس سے قبل صدر ولادیمیر پوتن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا تھا کہ روس سے ثالثی کی درخواست نہیں کی گئی۔
تاہم اس کے بعد ایسے اشارے سامنے آئے کہ حوثی ثالثی کے لیے آمادہ ہو سکتے ہیں۔
ایک سینئر حوثی عہدیدار نے 14 اکتوبر کو خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کو بتایا کہ عمان، روس اور چین ایسے ممالک ہیں، جو ثالثی کی کوشش کر سکتے ہیں۔
روس کے نائب وزیرِ خارجہ نے 14 اکتوبر کو آر ٹی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ قصورار کون ہے، تاہم مختلف فریقوں نے تحمل کا مظاہرہ نہیں کیا۔ لیکن روس کسی بھی شہری مقام پر حملوں کی غیر مشروط مذمت کرتا ہے۔
اُنھوں نے عدن میں قائم حکومت کو روس کی جانب سے تسلیم کیے جانے اور ایک متحدہ یمن کی حمایت کی تصدیق کی، جبکہ حوثیوں سے رابطوں کا دفاع بھی کیا۔

،تصویر کا ذریعہRTVI
حوثی روس کی کس طرح مدد کرتے ہیں؟
سنہ 2024 میں حوثیوں نے بحیرہ احمر میں روسی جہازوں کو محفوظ گزرگاہ فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا، جس کی بوگدانوف نے تصدیق کی۔
ان پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ اُنھوں نے یوکرین کے خلاف روسی افواج کے لیے لڑنے کی خاطر ’سینکڑوں‘ یمنی شہریوں کو بھرتی کیا۔
’اربوں ڈالر کا غیر متوقع فائدہ، یمن کے حوثیوں نے روس کو ایک شاندار تحفہ دیا۔‘
یہ سرخی ریاستی ویب سائٹ ریانووستی میں 12 ستمبر کو شائع ہونے والے صحافی سرگئی ساوچک کے ایک مضمون کی تھی۔
اس مضمون میں باب المندب کے راستے سمندری آمدورفت پر انصار اللہ کے کنٹرول کی کارروائی کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافے کا ذکر کیا گیا تھا۔
مصنف نے نشاندہی کی کہ روس کا 2026 کا بجٹ یورالز خام تیل کی 59 ڈالر فی بیرل قیمت کی بنیاد پر بنایا گیا تھا، لیکن اس وقت اس کی تجارت 90 ڈالر فی بیرل سے زیادہ پر ہو رہی تھی۔
جلاوطنی میں کام کرنے والے ادارے نووایا گزیٹا یورپ کے مطابق، حوثیوں کے باب المندب آبنائے پر کنٹرول کے بعد بحیرہ اسود اور بحیرہ بالٹک کی بندرگاہوں پر روسی تیل کی قیمت تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
کیا روس حوثیوں کی مدد کر رہا ہے؟
بعض روسی مبصرین تو یہاں تک دعویٰ کرتے ہیں کہ حوثیوں کو ماسکو سے براہ راست فوجی مدد مل رہی ہے۔ ایک بلاگر ملیٹرسٹ نے دو اکتوبر کو دعویٰ کیا کہ انصار اللہ کو ایران اور روس سے ’انٹیلی جنس معاونت‘ حاصل ہے۔
جلاوطنی میں کام کرنے والے ادارے موسٹ میڈیا کے مطابق ماسکو کی حوثیوں میں دلچسپی اس وقت بڑھی جب ان کی بحری کارروائیوں نے ’تیل کی قیمتیں بڑھا دیں اور مغرب اور مشرقی ایشیا کے درمیان تجارت کو پیچیدہ بنا دیا۔‘ حالانکہ گروپ کے وسائل محدود تھے۔
رپورٹ کے مطابق انصار اللہ اور کریملن کے درمیان روابط معمول بن گئے اور ’مغربی ذرائع ابلاغ بارہا اس کثیر الجہتی مدد کی اطلاع دے چکے ہیں، جو ماسکو اپنے نئے دوستوں کو ہتھیاروں، خوراک اور انٹیلی جنس کی صورت میں فراہم کرتا ہے‘ اگرچہ رپورٹ میں مثالیں پیش نہیں کی گئیں۔
2024 میں روسی سرکاری ذرائع ابلاغ سے وابستہ صحافیوں نے انصار اللہ کو اسلحہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا، تاہم اگر ایسی کوئی کارروائی ہوئی بھی ہو تو روسی میڈیا میں اس کی کوریج نہیں دیکھی گئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ روس کے تعلقات
روس صرف حوثیوں کے ساتھ تعلقات میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ وہ ایک نازک توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ سعودی عرب بھی ناراض نہ ہو، جبکہ دوسری طرف وہ متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ ایس ٹی سی کے ساتھ رابطے بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
مثال کے طور پر سعودی ہوائی اڈوں پر حملوں کے بعد روس نے حوثیوں پر محتاط تنقید بھی کی ہے۔
آٹھ ستمبر کو وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان سے ملاقات کے بعد سعودی عرب پر حوثی حملوں کو ’ناقابل قبول‘ اور ’الٹا اثر ڈالنے والے‘ قرار دیا۔
22 ستمبر کو پوتن نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فون پر گفتگو میں جنگ بندی، دشمنی کے خاتمے اور اقوام متحدہ کی نگرانی میں یمنیوں کے درمیان مذاکرات شروع کرنے پر زور دیا۔
اس گفتگو کے بعد مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کی سیاست پر توجہ دینے والے مقبول روسی جنگی بلاگ ریبار کے ایک ذیلی پلیٹ فارم نے لکھا کہ ’روس کے پاس رابطوں کا ایک نادر اور فائدہ مند مجموعہ موجود ہے: روسی سفارت کار حوثیوں سے غیر رسمی روابط برقرار رکھتے ہیں اور ان کے وفود کا استقبال کرتے ہیں، جبکہ بیک وقت اوپیک پلس اور دیگر علاقائی سکیورٹی معاملات کے فریم ورک میں سعودی عرب کے ساتھ پالیسی رابطہ بھی کرتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
روسی مبصرین مستقبل کی پیش رفت کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
روسی مبصرین عمومی طور پر انصار اللہ کو یمن کا سب سے اہم فریق تصور کرتے ہیں۔
کریملن نواز روزنامہ ازویستیا نے سات اکتوبر کو لکھا کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف محاذ آرائی کے پس منظر میں سمندری مواصلاتی راستوں کو خطرے میں ڈالنے کی حوثیوں کی صلاحیت ان کے زیرِ کنٹرول علاقے کے حجم سے کہیں زیادہ سٹریٹجی اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔
مرکز برائے مشرق قریب و وسطی ایشیائی مطالعات کے سربراہ سیمیون باگداساروف نے جنگی رجحان رکھنے والے اخبار کومسومولسکایا پراودا کو بتایا کہ سعودی حمایت یافتہ عدن حکومت کی فوج جنگ کی صلاحیت سے تقریباً محروم ہے اور فرار کی بڑھتی ہوئی شرح سے متاثر ہے۔
روسی امور خارجہ کونسل کے ماہر لیونید تسوکانوف نے بھی سات اکتوبر کو روسی پارلیمان کے اخبار پارلامینٹسکایا گزیٹا کو بتایا کہ حوثیوں نے ایران کی بسیج ملیشیا کے طرز پر ایک مؤثر علاقائی دفاعی نظام قائم کیا ہے۔
باگداساروف نے کہا کہ ’ایران حوثیوں کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے،‘ لیکن امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع ہونے کے بعد تہران کی اسلحہ فراہم کرنے کی صلاحیت تقریباً ختم ہو گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی کردار کے بارے میں روسی مبصرین کیا سوچتے ہیں؟
روسی مبصرین نے بحران میں امریکی کردار پر بھی تبصرہ کیا ہے۔
13 ستمبر کو ریانووستی کے نامہ نگار سرگئی شیلوف نے اپنے ٹیلی گرام چینل ’بائراکتار وِٹنسز‘ پر لکھا کہ باب المندب آبنائے پر کنٹرول قائم کرنے کے لیے حوثیوں کی کارروائی نے عالمی ایندھن بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے جنگی منصوبوں میں ’ایرانیوں کی مزاحمت اور حوثی عنصر‘ کا درست اندازہ نہیں لگایا تھا۔
شیلوف نے 17 ستمبر کی ایک اور پوسٹ میں لکھا کہ یمن کے واقعات نے روسی تیل کی آمدنی کو ہدف بنانے والے واشنگٹن کے ’سنکشنز فرام ہیل‘ بل کی مؤثریت کو کمزور کر دیا۔
ان کے مطابق اگر مشرق وسطیٰ میں طویل بحران نہ ہوتا تو ’پابندیوں کی دھمکی کہیں زیادہ مؤثر ثابت ہوتی۔‘
مقبول انتہائی دائیں بازو کے سازشی نظریات کے حامی نکولائی اسٹاریکوف نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے جان بوجھ کر خطے کو غیر مستحکم کیا۔
اسٹاریکوف کے مطابق امریکہ ’سب کے خلاف سب کی جنگ‘ چاہتا ہے تاکہ امریکی ڈالر کو سہارا دیا جا سکے۔




















