اندو مٹھا: کلاسیکی رقص کی استاد جنھوں نے بھرت ناٹیم کو اُردو میں ڈھالا

،تصویر کا ذریعہTehreema Mitha/ Facebook
- مصنف, وقار مصطفیٰ
- عہدہ, صحافی، محقق
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
فنونِ لطیفہ اور کلاسیکی رقص کی اُستاد اور رقاصہ اِندُو مٹھا 97 برس کی عمر میں گذشتہ دنوں ڈبلن (آئرلینڈ) میں وفات پا گئیں۔ جولائی 1929 کو لاہور میں بسنے والے ایک روایتی بنگالی ’چیٹرجی‘ گھرانے میں پیدا ہونے والی اندو مٹھا کا نام اندو چٹرجی تھا۔
چیٹرجی خاندان 19ویں صدی کے اواخر میں لاہور آیا تھا۔ اندو کے والد گیانیش چندر چٹرجی، گورنمنٹ کالج لاہور میں فلسفے کے اُستاد تھے۔
اِندو سے چھ سال بڑی اُن کی بہن، صحافی، اداکارہ اور براڈکاسٹر اوما آنند کی شادی سنہ 1943 میں فلمساز اور ہدایتکار چیتن آنند سے ہوئی تھی۔ وہی چیتن آنند جن کی پہلی فلم ’نیچا نگر‘ کو سنہ 1946 میں پہلے کانز فلم فیسٹیول میں گراں پری ایوارڈ (جو اب گولڈن پام کہلاتا ہے) ملا۔ چیتن اداکار دیوآنند کے بھائی تھے۔
لاہور میں گھر والوں کی حوصلہ افزائی کے باعث اِندو نے ’وائی ڈبلیو سی اے‘ میں کتھک کی بنیادی تربیت حاصل کی اور کلاسیکی رقص کے ایک نسبتاً جدید انداز ’اودے شنکر‘ کو اختیار کیا۔ انھوں نے اداکارہ زہرا سہگل اور اُن کے شوہر کامیشور سہگل کی سرپرستی میں یہ تربیت حاصل کی۔
برصغیر کی تقسیم سے قبل یہ خاندان لاہور سے پہلے شملہ اور پھر دلی منتقل ہو گیا۔
یہیں اندو نے سنہ 1951 میں دہلی یونیورسٹی سے فلسفے میں ایم اے کیا۔ لیکن اس سے پہلے انھوں نے وجے راگھو راؤ اور للتیا شاستری سے ’بھرت ناٹیم‘ کی باقاعدہ تربیت حاصل کی اور رقص کی اُستاد رکمنی دیوی سے بھی فیض پایا۔
دلی ہی میں اُن کی برطانوی ہندوستان کی فوج کے ایک افسر ابوبکر عثمان مٹھا سے ملاقات ہوئی، جو بعد میں محبت میں بدل گئی۔
یکم جون 1923 کو برطانوی ہندوستان کے شہر بمبئی کے علاقے ماَلابار ہِلز میں پیدا ہونے والے ابوبکر عثمان کا تعلق ایک خوشحال اور صاحبِ ثروت کاروباری میمن خاندان سے تھا۔ ہندوستان کی تقسیم کے بعد، ابوبکر عثمان پاکستانی فوج کا حصہ بنے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ابوبکر نے دور رہتے ہوئے بھی اندو سے محبت کا رشتہ قائم رکھا۔ چار سال بعد، یعنی سنہ 1951 میں اِندو کراچی آئیں اور ابوبکر عثمان مٹھا سے شادی کر لی اور اِندو مٹھا کہلانے لگیں۔
صحافی ظفرعباس کے مطابق میجر جنرل ابوبکر عثمان مٹھا آج بھی پاکستانی فوج میں ایک اساطیری (لیجنڈ) حیثیت رکھتے ہیں۔
مٹھا کی خودنوشت ’ان لائیکلی بیگنگز: اے سولجرز لائف‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے، ظفر عباس نے لکھا کہ ’سنہ 1947میں ابوبکر عثمان مٹھا نے اپنے خاندان اور عزیز دوستوں کو پیچھے چھوڑ کر پاکستان آنے کا فیصلہ کیا۔ اُس وقت اُن کی عمر صرف 24 برس تھی۔‘
’اُن کی ہونے والی اہلیہ، اندو مٹھا، نے بھی چار برس بعد انڈیا میں اپنا سب کچھ چھوڑ کر پاکستان آنے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت ابوبکر مٹھا سٹاف کالج کی نہایت اہم تربیت میں مصروف تھے، مگر شادی کے لیے کراچی آنے کی خاطر انھوں نے صرف چار دن کی چھٹی لی۔‘
ظفر عباس نے لکھا کہ تقدیر ابوبکر کو فوجی پیشہ ورانہ زندگی کی اُس بلندی تک لے گئی جہاں انھوں نے 1950 کی دہائی کے وسط میں پاکستانی فوج کے معروف سپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا اور وہ پاکستان ملٹری اکیڈمی (پی ایم اے) کے سربراہ بھی رہے۔
پاکستان آنے کے بعد اندو مٹھا کے رقص سکھانے اور پیش کرنے کے ابتدائی برس نجی تقریبات تک محدود رہے، جن میں فوجی تقریبات، ریڈ کراس کی امدادی تقریبات اور آل پاکستان ویمنز ایسوسی ایشن کے پروگرام شامل تھے۔

،تصویر کا ذریعہPublic Domain
اُن کے لیے پہلی بڑی کامیابی اُس وقت آئی جب انھوں نے فارسی عالم اور شاعر امیر خسرو کی زندگی پر اُردو زبان میں ایک رقصی ڈراما پیش کیا، جسے بڑی تعداد میں لوگوں نے پسند کیا۔
انگریزی اخبار ایکسپریس ٹربیون کے لیے صحافی مائرہ اقبال نے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ اندو مٹھا نے 1953 میں راولپنڈی کے سر سید گرلز کالج سے رقص سکھانے کا آغاز کیا۔ بھرت ناٹیم میں تقدس کا ایک پہلو موجود ہے کیونکہ اس کا ارتقا ہندو مندروں میں عبادت کے پس منظر میں ہوا۔ تاہم اندو مٹھا رقص کو ایک مذہب سے ماورا اور باطن کی ترجمانی کرنے والا فن سمجھتی تھیں۔
ریحانہ حیدر نے ہفت روزہ ’فرائڈے ٹائمز‘ کے لیے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ اگرچہ پاکستان میں فنون اور ثقافت کی مختلف صورتوں کی پذیرائی ہمیشہ یکساں نہیں رہی، مگر اندو مٹھا نے اپنے شوہر کی فوجی ملازمت کے دور میں پاکستان کے مختلف شہروں میں قیام کے دوران شوق رکھنے والی نوجوان لڑکیوں اور خواتین کو رقص کی مختلف منزلیں سکھائیں۔
ریحانہ کے مطابق اندو مٹھا نے بھرت ناٹیم کو محض ایک قدیم مذہبی روایت کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اسے انسانی جذبات، خیالات اور باطن کے اظہار کا ذریعہ بنایا۔ اُن کے تخلیقی تصور میں یہ فن مزاحمت کا وسیلہ بھی بن گیا، جس کے ذریعے انھوں نے نسوانیت، آزادی اور سیکولر اقدار جیسے موضوعات کو بیان کیا۔
’دلی اور مدراس میں رقص کی تربیت حاصل کرنے کے بعد انھوں نے اس فن کے سنسکرتی مواد کو اُردو میں ڈھالنا شروع کیا۔ ہندو دیوتاؤں سے متعلق کہانیوں کو بھی انھوں نے اس انداز سے پیش کیا کہ وہ کسی مخصوص مذہبی عقیدے تک محدود نہ رہیں بلکہ عام انسانوں کی روزمرہ زندگی کی کہانیوں میں تبدیل ہو جائیں۔‘
’اُن کا مقصد یہ تھا کہ پاکستان میں بھرت ناٹیم کی روایت برقرار رہے اور اس کے مذہبی و اساطیری مواد کو مقامی سماجی اور ثقافتی ماحول سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔‘
پاکستان میں رقص کے خلاف سماجی تحفظات کے باوجود، شوہر کی فوج سے سبکدوشی کے بعد اندو مٹھا نے لاہور میں بھرت ناٹیم سکھانا شروع کیا۔ ان کی پہلی تدریسی ملازمت لاہور گرامر سکول میں تھی، جہاں وہ ایک مقبول اور ممتاز رقص کی استاد کے طور پر معروف ہوئیں۔
بعدازاں انھوں نے اپنا ادارہ قائم کیا اور اسلام آباد میں ’مضمونِ شوق‘ کے نام سے رقص کی درسگاہ قائم کرکے اس کی سربراہی کی۔ وہ نیشنل کالج آف آرٹس کے راولپنڈی کیمپس سے بھی وابستہ رہیں اور وہاں تدریس کے فرائض انجام دینے کے بعد سبکدوش ہوئیں۔
اندو مٹھا کی ایک شاگرد اور رقص کی محقق فریال امل اسلم کے مطابق ’ہو سکتا ہے سرحد پار بہت سے لوگ بھرت ناٹیم کی فنی تکنیک میں اتنی ہی مہارت رکھتے ہوں، لیکن اندو مٹھا کی بے پایاں جستجو اور ان رقصوں کے ذریعے سامنے آنے والی ان کی فلسفیانہ تعبیرات کا شاید کوئی مقابل نہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہPTV
اندو مٹھا کہتی تھیں کہ رقص صرف تال کا نام نہیں، نہ ہی رقص کا مطلب موسیقی کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنا ہے۔ رقص خیالات اور احساسات کا نام ہے، جو آفاقی ہوتے ہیں۔ ان کا تعلق صرف ہندو اساطیر سے نہیں بلکہ انسانوں کی اپنی اساطیر سے ہے۔
مَنیشا ٹکیکر نے اپنی کتاب ’ایک انڈین کا پاکستان میں قیام: واہگہ کی سرحد پار‘ میں اندو مٹھا کی شاگردوں کی اسلام آباد کلب میں ایک پرفارمنس کا ذکر کیا ہے۔
اُن کے مطابق ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور اسلام آباد کے اشرافیہ کی بڑی تعداد وہاں موجود تھی۔ اندو مٹھا کی شاگردوں نے الاریپو، جاتی سوارم، تلانہ اور ورنم جیسی خالص رقص کی اصناف پیش کیں اور پورا ماحول رقص اور موسیقی سے معمور ہو گیا۔
ٹکیکر لکھتی ہیں کہ اندو مٹھا نے انھیں بتایا کہ پاکستان میں بھرت ناٹیم کو زندہ رکھنے کے لیے انھیں ’سینکڑوں سمجھوتے‘ کرنا پڑتے ہیں۔ لیکن یہی سمجھوتے ان کی نظر میں اس فن کی بقا کی قیمت تھے۔
اندو مٹھا کو یقین تھا کہ بھرت ناٹیم کو کسی ایک ملک، مذہب یا مندر تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ وہ کہتی تھیں کہ انھیں یقین ہے کہ بھرت ناٹیم کا دنیا بھر میں مستقبل ہے اور یہ پاکستان میں بھی زندہ رہے گا۔
پاکستان میں کلاسیکی رقص کے فروغ کے لیے اندو مٹھا کی طویل جدوجہد کو وسیع پیمانے پر سراہا گیا۔ اگست 2020 میں انھیں فنونِ لطیفہ میں رقص کی ترتیب سازی کے شعبے میں صدارتی تمغۂ حسنِ کارکردگی سے نوازا گیا۔
ان کی بیٹی تحریمہ مٹھا بھی بھرت ناٹیم کی معروف رقاصہ ہیں اور امریکہ میں اپنی رقص کی درسگاہ چلاتی ہیں۔
اندو مٹھا اپنی بیٹی کو اپنی سب سے بڑی کامیابی اور اپنے رقص کے فنی ورثے کی وارث قرار دیتی تھیں۔
اپنی ایک تحریر میں اندو نے لکھا کہ ’میں رقص کی استاد اور رقص کی ترتیب دینے والی فنکار ہوں۔ میں نے ایسے ماحول میں رقص سکھایا جہاں اس فن کے پنپنے کے امکانات بہت کم تھے۔ میری طالبہ اور شاگرد، جو میرے لیے باعثِ فخر اور خوشی ہے اور میرے رقص کے ورثے کی وارث بھی، میری بیٹی تحریمہ ہے۔‘
انھوں نے لکھا کہ تحریمہ نے رقص کے بارے میں ان سے جو کچھ سیکھا، اسے پوری طرح اپنے اندر جذب کیا اور پھر فنِ رقص کی پیشکش، نظری مطالعے اور فکری صلاحیت میں ان سے بھی آگے بڑھ گئیں۔ ان کے مطابق، ایک استاد کی سب سے بڑی خواہش یہی ہوتی ہے کہ اس کا شاگرد اس سے آگے نکل جائے۔
شیما کرمانی کلاسیکی رقاصہ، اداکارہ اور سماجی کارکن ہیں۔ وہ تحریکِ نسواں ثقافتی عملی گروپ کی بانی ہیں اور بھرت ناٹیم کی معروف ماہر بھی ہیں۔
شیما کرمانی نے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اندو مٹھا پاکستانی کلاسیکی رقص کی ایک منفرد اور ہمہ جہت شخصیت تھیں۔
’انھوں نے بھرت ناٹیم کو شمالی ہند کی موسیقی، اردو شاعری اور پاکستانی ثقافتی مزاج سے ہم آہنگ کرکے اسے پاکستان میں ایک نئی اور منفرد صورت دی، جبکہ خواتین کے حقوق کی جدوجہد میں بھی فعال کردار ادا کیا۔‘
شیما کرمانی بتاتی ہیں کہ ان کی اندو مٹھاسے پہلی ملاقات 1984 میں لاہور میں ہوئی، جب وہ (شیما) انڈیا سے کلاسیکی رقص کی مزید تعلیم حاصل کر کے پاکستان واپس آئی تھیں۔
’اُس وقت پاکستان میں کلاسیکی رقص پر پابندی لگ چکی تھی اور بیشتر رقاص ملک چھوڑ چکے تھے۔‘ ان کے بقول، ’ہم دو ہی لوگ تھے تب، اندو جی لاہور میں اور میں کراچی میں، جو کلاسیکی رقص کر بھی رہے تھے اور سکھا بھی رہے تھے۔‘
’بعد میں اندو مٹھا کراچی آئیں، میرا سٹوڈیو ،ادارہ، کلاسز اور پرفارمنسزبھی دیکھیں۔ یوں ہم دونوں کے درمیان ایک مستقل تعلق قائم رہا۔‘
شیما کرمانی کے مطابق، اندو مٹھا بھرت ناٹیم سکھاتی تھیں اور وہ خود بھی یہ رقص کرتی تھیں۔
’بھرت ناٹیم کی بنیاد کرناٹک موسیقی، یعنی جنوبی ہند کی موسیقی پر ہے، لیکن اندو مٹھا نے اس رقص کو شمالی ہند کی موسیقی اور اردو شاعری سے جوڑ کر ایک منفرد شکل دی۔ انھوں نے بھرت ناٹیم کو پاکستان کے ماحول، مقامی ذوق اور پاکستانی ثقافتی مزاج کے مطابق ڈھالا اور اسی مناسبت سے رقص کی نئی تراتیب تخلیق کیں۔‘
شیما کرمانی کہتی ہیں کہ یہ کام اس لیے بھی اہم تھا کہ کرناٹک موسیقی پاکستان میں زیادہ معروف نہیں تھی اور یہاں کے سامعین اس سے زیادہ مانوس نہیں تھے۔

،تصویر کا ذریعہDOST PUBLICATIONS
’اس لیے اندو مٹھا کے لیے ضروری تھا کہ وہ شمالی ہند کی موسیقی کو بنیاد بنا کر رقص پیش کریں۔‘
شیما کرمانی کے نزدیک یہی اندو مٹھا کی ایک نمایاں خوبی تھی کہ انھوں نے جنوبی ہند کے ایک کلاسیکی رقص کو پاکستانی ماحول اور ذوق سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی۔
اندو مٹھا نے لاہور اور اسلام آباد کے مختلف سکولوں میں رقص کی تعلیم بھی دی اور نئی نسل کو کلاسیکی رقص سے روشناس کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔
شیما کے مطابق، پاکستانی ثقافت، رقص کی تعلیم اور رقص کی ترتیب سازی میں ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
خود تھیٹر سے وابستہ شیما کرمانی نے ایک مرتبہ اندو مٹھا کو اپنے ایک ڈرامے میں اداکاری بھی کروائی تھی۔
وہ کہتی ہیں کہ اندو مٹھا صرف رقص اور فن تک محدود شخصیت نہیں تھیں بلکہ خواتین کے حقوق کی تحریک میں بھی ان کی فعال شرکت تھی۔ وہ لاہور میں خواتین ایکشن فورم کا حصہ رہیں اور خواتین کے حقوق کی جدوجہد میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھڑی رہیں۔
اندو مٹھا کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شیما کرمانی کہتی ہیں کہ ان کی کمی ہمیشہ محسوس ہو گی۔
ان کے الفاظ میں ’وہ ایک ہمہ جہت شخصیت تھیں، ایسے لوگ پاکستان میں کم سے کم ہوتے جا رہے ہیں۔‘



















