’مجھے چھ سال کی عمر میں ماہواری شروع ہوئی اور ڈاکٹر نہیں جانتے تھے کہ ایسا کیوں ہوا؟‘

،تصویر کا ذریعہGabby
- مصنف, ریبیکا تھورن
- عہدہ, ورلڈ سروس گلوبل ہیلتھ
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
گیبی محض چھ سال کی تھی جب اسے ماہواری شروع ہوئی اور ان کے جسم پر بال اُگنے لگے۔
اپنی پہلی اولاد کے ساتھ ہونے والی اس تبدیلی سے گھبرا کر ان کی والدہ انھیں ڈاکٹر کے پاس لے گئیں۔
انگلینڈ سے تعلق رکھنے والی گیبی نے بی بی سی ورلڈ سروس کو بتایا کہ ’بچوں کے شعبے میں کام کرنے والے طبی ماہرین کو تحقیق کرنا پڑی کیونکہ انھوں نے اس سے پہلے کبھی ایسا معاملہ نہیں دیکھا تھا جس سے میں گزر رہی تھی۔‘
’انھیں اس کے علاج کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے ملک بھر کے دوسرے ہسپتالوں سے رابطہ کرنا پڑا۔‘
گیبی اب 26 سال کی ہیں۔ ان میں سنٹرل پری کوشیئس پیوبرٹی یا سی پی پی کی تشخیص ہوئی تھی۔ یہ ایک ایسی کیفیت ہے جس میں لڑکیوں میں آٹھ سال اور لڑکوں میں نو سال کی عمر سے پہلے بلوغت شروع ہو جاتی ہے۔
مختلف ممالک میں اس عارضے سے متاثرہ افراد کی تعداد میں کافی مختلف ہے۔
اس کیفیت کا اثر لڑکیوں پر زیادہ ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال 10 ہزار لڑکیوں میں 0.2 سے 26 میں جبکہ 10 ہزار لڑکوں میں 0.02 سے 0.9 یہ کیسز سامنے آتے ہیں۔
قبل از وقت بلوغت کا شکار بچوں کو نہ صرف اس کے فوری اثرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ انھیں دوسروں کی نسبت بعد کی زندگی میں کئی اقسام کے سرطان اور دل کی بیماریوں کے خطرات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’میں خود کو عجوبہ سا محسوس کرتی تھی‘

،تصویر کا ذریعہGabby
گیبی اس وقت اتنی کم عمر تھیں کہ انھیں اپنی بلوغت کے آغاز کے بارے میں زیادہ کچھ یاد نہیں۔ لیکن جو لمحات انھیں یاد ہیں وہ تکلیف دہ اور پریشان کن تھے۔
وہ بتاتی ہیں کہ ’مجھے یاد ہے کہ میں شدید درد کے باعث فرش پر سمٹ کر لیٹ جاتی تھی۔‘
تقریباً ایک سال تک مختلف ٹیسٹس کروانے اور ماہرین کے پاس جانے کے بعد بالآخر گیبی میں سنٹرل پری کوشیئس پیوبرٹی کی تشخیص ہوئی۔ اس دوران ان کے دماغ کا ایم آر آئی سکین بھی کیا گیا لیکن اس میں بھی ایسی کوئی وجہ سامنے نہیں آئی جو اس کیفیت کا سبب بن سکتی ہو۔ سی پی پی کی تشخیص کے بعد گیبی کو گوناڈوٹروپن ریلیزنگ ہارمون ایگونسٹس یا جی این آر ایچ نامی ہارمون بلاکرز دی جانے لگیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے خود کو عجوبہ سا محسوس کرتی تھی کیونکہ مجھ پر یہ سب ٹیسٹ ہو رہے تھے اور مجھے ہارمونز کو روکنے کے لیے ہر تین ہفتے بعد انجیکشن لگوانے پڑتے تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہGabby
جی این آر ایچ کے باقاعدہ انجیکشن بلوغت کی پیش رفت کو روک دیتے ہیں، جس سے بچے کی نشوونما عمر کے مطابق معمول کی رفتار سے جاری رہتی ہے۔ پھر عموماً 11 سے 12 سال کی عمر کے درمیان یہ دوا بند کر دی جاتی ہے اور بلوغت معمول کے مطابق شروع ہو جاتی ہے۔
اگرچہ ان دواؤں سے گیبی کی جسمانی نشوونما رک گئی تھی لیکن تب تک ایک سال بیت چکا تھا اور اس دوران وہ بلوغت سے جڑی جسمانی تبدیلیوں سے گزر چکی تھیں۔
گیبی کا کہنا ہے کہ ’آئینے میں خود کو دیکھ کر میں واقعی سمجھ نہیں پاتی تھی کہ میں کون ہوں، کیونکہ میری شکل میری ذہنی عمر کے حساب سے زیادہ بڑی لگتی تھی۔ میرا خیال ہے کہ اس وجہ سے مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے مجھے اپنی عمر سے کہیں زیادہ بڑا بننا پڑ رہا تھا۔‘
قبل از وقت بلوغت کی وجہ کیا ہے؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اس عارضے کی دو اقسام ہیں:
پیریفرل پری کوشیئس پیوبرٹی (پی پی پی) اس وقت ہوتی ہے جب بیضہ دانیاں اور خصیے ہائپوتھیلمس کے عمل دخل کے بغیر ہی بہت جلد جنسی ہارمونز خارج کرنا شروع کر دیں۔
ہائپوتھیلمس دماغ کا وہ حصہ ہے جو جسم کے ہارمونز کے لیے کنٹرول سینٹر کا کام کرتا ہے۔ اس کی وجہ عموماً کوئی بنیادی طبی مسئلہ ہوتا ہے، جیسے بیضہ دانی یا خصیوں کے ٹیومر، ایڈرینل غدود کی خرابی، یا بیرونی ذرائع سے جنسی سٹیرائڈز کا داخل ہونا۔
سنٹرل پری کوشیئس پیوبرٹی یا جسے سی پی پی بھی کہتے ہیں اس وقت ہوتی ہے جب جسم میں بلوغت بہت جلد شروع ہو جائے لیکن اس کی پیش رفت معمول کے مطابق ہوتی رہے۔ یہ قبل از وقت بلوغت کی سب سے عام قسم ہے اور عموماً اس کی کوئی واضح وجہ معلوم نہیں ہوتی۔
2020 کی ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ ہر سال اوسطاً 10 ہزار میں 9.2 لڑکیوں اور 0.9 لڑکوں میں سی پی پی کی تشخیص ہوتی تھی۔ اس تحقیق میں 1998 سے 2017 کے درمیان ڈنمارک کے 8,596 بچوں کا جائزہ لیا گیا تھا۔
محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ 20 سالہ مدت کے دوران لڑکیوں میں اس کے واقعات کی شرح تین گنا اور لڑکوں میں دو گنا بڑھ گئی ہے۔
جنوبی کوریا میں 2008 سے 2014 کے درمیان قومی انشورنس دعوؤں کے تجزیے سے اندازہ لگایا گیا کہ 10 ہزار میں 26.28 لڑکیوں کو سی پی پی تھی، جبکہ ہر 10 ہزار لڑکوں میں سے یہ صرف 0.7 کو تھی۔
محققین اب بھی پوری طرح سمجھ نہیں پائے ہیں کہ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیاں اس سے اتنی زیادہ کیوں متاثر ہوتی ہیں۔ تاہم ان کے مطابق اس کے پیچھے ماحولیاتی اور حیاتیاتی عوامل کا امتزاج ہو سکتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ عام آبادی میں لڑکیوں میں نسبتاً کم عمر میں بلوغت کے آغاز کے ایک وسیع تر رجحان کی عکاسی ہو۔
2025 میں 44 مطالعات کے میٹا تجزیے سے معلوم ہوا کہ 1977 سے 2013 کے درمیان لڑکیوں میں چھاتیوں کی نشوونما شروع ہونے کی اوسط عمر ہر دہائی میں تقریباً تین ماہ کم ہوئی۔
مطالعات سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ لڑکوں میں بھی بلوغت پہلے شروع ہو سکتی ہے، اگرچہ یہ تبدیلی نسبتاً کم نمایاں ہے۔

برازیل کی ساؤ پالو یونیورسٹی میں اینڈوکرائنولوجسٹ ڈاکٹر آنا پینھیرو ماچاڈو کانتون کہتی ہیں کہ انھوں نے ایسے بچوں کا بھی علاج کیا ہے جن کی عمر صرف ایک سال تھی اور ان میں یہ کیفیت پائی جاتی تھی۔
اس طرح کے معاملات میں سب سے زیادہ امکان ہائپوتھیلمس میں موجود خرابیوں کا ہوتا ہے۔ دماغی ٹیومرز کو بھی اس کے جلد آغاز کا سبب پایا گیا ہے۔
کانتون اور ان کا تحقیقی گروپ کا خیال ہے کہ غذا اور ماحول سمیت بیرونی عوامل بھی اس میں کردار ادا کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’بچوں میں موٹاپے کی بلند شرح ایک ایسا عنصر ہے جس پر ہمیں بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے، کیونکہ جب بچہ موٹاپے کا شکار ہوتا ہے تو بلوغت کی رفتار بڑھ جاتی ہے۔‘
تحقیق میں پتا چلا ہے کہ جسم میں چربی کے بافتے ایسٹروجن سمیت جنسی ہارمونز کی سطح بڑھانے کے ساتھ ساتھ لیپٹن نامی ہارمون کی مقدار میں بھی اضافے کا باعث بن سکتے ہیں جو ہڈیوں کی نشوونما میں کردار ادا کرتا ہے۔ محققین کا خیال ہے کہ یہ عوامل بعض بچوں میں قبل از وقت بلوغت کو متحرک کر سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBruno Bernardi
جینیاتی عوامل بھی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
2013 میں پروفیسر آنا کلاڈیا لاٹرونک اور ہارورڈ یونیورسٹی کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ ایم کے آر این تھری (MKRN3) نامی جین سمیت بعض جینیاتی تغیرات سنٹرل پری کوشیئس پیوبرٹی کا سبب بن سکتے ہیں۔
10 سالہ لارا اور آٹھ سالہ بیاتریز دونوں میں یہ جینیاتی تغیر موجود ہے۔ اس بات کا پتا اس وقت چلا جب لارا میں کم عمری ہی میں چھاتیوں کی نشوونما کے آثار ظاہر ہونے لگے۔
ان کی والدہ لییا برنارڈی کہتی ہیں کہ ’میں اس صورتحال سے بہت خوفزدہ ہو گئی تھی، کیونکہ وہ صرف پانچ سال اور 10 ماہ کی تھی۔ وہ اس سب سے گزرنے کے لیے ابھی بہت کم عمر تھی۔‘
جینیاتی ٹیسٹوں کے ذریعے کانتون اور ان کی ٹیم نے پتا لگایا کہ یہ تغیر ان میں یہ جنیاتی تغیر ان کے والد کی جانب سے منتقل ہوا تھا اور بیاتریز میں بھی سی پی پی ہونے کا امکان تقریباً یقینی تھا۔
اس کا فائدہ یہ ہوا کہ جب سات سال کی عمر میں اس میں نشوونما کے آثار ظاہر ہونے لگے تو اس کا علاج فوراً شروع کر دیا گیا۔
لییا کہتی ہیں کہ وہ اس وقت بہت گھبرا گئی تھی کیونکہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے ہم نے ان کے بچپن کا ایک حصہ کھو دیا ہو۔
کینسر اور دل کی بیماریوں کے خطرات
کانتون کے مطابق اگر سنٹرل پری کوشیئس پیوبرٹی کا علاج نہ کروایا جائے تو اس کے ذہنی اور جسمانی دونوں طرح کے صحت کے خطرات ہوتے ہیں۔
ان کے مطابق، ’آپ تصور کر سکتے ہیں کہ اگر کسی لڑکی میں چھ یا سات سال کی عمر میں چھاتیوں کی نشوونما شروع ہو جائے تو وہ اپنے دوستوں اور سکول کی ہم عمر لڑکیوں سے بہت مختلف نظر آئے گے جو اس کے لیے خاصا مشکل ہو سکتا ہے۔‘
حیاتیاتی طور پر جو بچے جلد بلوغت میں داخل ہوتے ہیں ان کے قد نسبتاً کم رہ جانے کا رجحان پایا جاتا ہے۔
کانتون اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’جنسی ہارمونز ہڈیوں کی پختگی کے ذمہ دار ہوتے ہیں، اس لیے اگر بلوغت جلد آ جائے تو ہڈیوں کی پختگی بہت تیزی سے ہوتی ہے اور پھر یہ عمل بھی جلد ختم ہو جاتا ہے۔‘

بڑی پیمانے پر کی جانے والی تحقیقات سے ایسے شواہد سامنے آئے ہیں کہ بلوغت کے جلد آغاز کا تعلق دل کی بیماریوں اور جنسی ہارمونز سے وابستہ سرطانوں، بشمول چھاتی اور اینڈومیٹریئل کینسر، کے زیادہ خطرے سے ہے۔
تاہم کانتون کا کہنا ہے کہ جلد تشخیص اور بروقت طبی مداخلت کے ذریعے ان خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ ’ہم گزشتہ تین یا چار دہائیوں سے تقریباً یہی علاج استعمال کر رہے ہیں اور یہ بہت مؤثر ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہBruno Bernardi
ابتدائی خدشات کے باوجود لییا اور برونو کو یہ دیکھ کر اطمینان ہے کہ ان کی بیٹیاں نسبتاً معمول کے مطابق اپنا بچپن گزار رہی ہیں۔
لییا کہتی ہیں ’جب لارا میں [بلوغت] شروع ہوئی تو وہ سوچتی تھی کہ یہ صرف اس کے ساتھ ہی کیوں ہو رہا ہے۔ وہ کیوں مختلف ہے؟ اسے یہ دوا کیوں لینی پڑ رہی ہے؟‘
بیاتریز اور لارا کے والدین کو امید ہے کہ وہ اپنا تجربہ بیان کر کے دوسرے والدین میں آگاہی پھیلا سکیں گے اور انھیں جلد مدد حاصل کرنے کی ترغیب دے سکیں گے۔
گیبی بھی اس موضوع پر کھل کر بات کرنے کی حامی ہیں اور اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے دوسروں کو اس کیفیت سے وابستہ شرمندگی کا احساس کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ انھیں اس بات پر تھوڑا غصہ تھا کہ اس بارے میں کتنی کم معلومات دستیاب تھیں۔ ’اتنے لوگوں کو مجھ سے رابطہ کرتے دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا کہ دنیا کو یہ بتانا کہ میں اس تجربے سے گزری ہوں، بالکل درست فیصلہ تھا۔‘
اضافی رپورٹنگ: پاؤلا آدامو اڈویٹا



















