یمن کے حوثی جنگجوؤں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔
یحییٰ سریع کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’دشمن سعودی عرب‘ یمن کا ’ناانصافی پر مبنی اور ظالمانہ‘ محاصرہ جاری رکھے ہوئے ہے، اس لیے اب سے ’آنکھ کے بدلے آنکھ‘ کے اصول کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
بیان میں سعودی عرب کو کشیدگی میں اضافے سے خبردار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’حوثی گروپ تمام ممکنہ حالات کے لیے تیار ہے۔‘
یمن کے حوثی جو خود کو ’انصار اللہ‘ کہتے ہیں ملک کے مغربی حصے کے تقریباً ایک تہائی علاقے پر قابض ہیں۔ خلیج کے ساحلی علاقوں اور عدن کی بندرگاہ کے علاوہ بیشتر علاقوں پر ان کا کنٹرول ہے، جبکہ یہ مقامات سابق یمنی حکومت کی حمایت یافتہ فورسز کے زیرِ اثر ہیں۔
حوثیوں کے پاس دارالحکومت صنعا، اہم بندرگاہ حدیدہ اور بحیرۂ احمر کے بیشتر ساحلی علاقے موجود ہیں۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چار جولائی کو ایران کی ماہان ایئر کی ایک پرواز تہران سے صنعا پہنچی، تاہم چند گھنٹے بعد واپس تہران روانہ ہو گئی۔ یہ گیارہ برس بعد تہران سے صنعا کے لیے پہلی پرواز تھی۔
گزشتہ ہفتے تہران سے آنے والی دوسری پرواز صنعا کے ہوائی اڈے کے رن ویز پر بمباری کے باعث حدیدہ ایئرپورٹ پر اتری اور چند گھنٹے بعد واپس تہران روانہ ہو گئی۔
عدن میں قائم سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت کا مؤقف ہے کہ ماہان ایئر کی صنعا کے لیے پرواز اس کی فضائی حدود کی خلاف ورزی ہے۔ دوسری جانب ایران کے اتحادی حوثی صنعا پر عائد ’فضائی ناکہ بندی‘ کو غیر قانونی قرار دیتے ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ یمن، بحیرۂ احمر میں واقع آبنائے باب المندب کو بند کر کے ایران کی جانب سے خلیج فارس میں آبنائے ہرمز پر عائد پابندیوں جیسی صورتحال پیدا کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی توانائی کی منڈیوں کو بڑا دھچکا لگ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق باب المندب کی بندش عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے، کیونکہ یہ دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔