لائیو, علی خامنہ ای کی تدفین سے قبل مشہد میں ہزاروں کا مجمع، اردن کا آٹھ ایرانی میزائل گرانے کا دعویٰ

امریکی و اسرائیلی حملوں میں مارے جانے والے ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو آج مشہد میں سپردِ خاک کیا جا رہا ہے اور اس موقع پر عوام کی بہت بڑی تعداد شہر کی سڑکوں پر موجود ہے۔ ادھر اردن میں حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے داغے گئے آٹھ میزائلوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. امریکی رات بھر کے حملوں کے بعد ایرانی بندرگاہ کے کنٹرول ٹاور کو شدید نقصان, غنچہ حبیبی زاد اور شیری رائڈر

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہInstagram

    دو تصدیق شدہ ویڈیوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی افواج کے رات بھر کے حملوں کے بعد ایران کے جنوب مشرقی شہر چابہار کی ایک اہم بندرگاہ کے کنٹرول ٹاور کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    دونوں ویڈیوز، ایک رات کے وقت اور دوسری آج صبح ریکارڈ کی گئی، شہید بہشتی بندرگاہ کے کنٹرول ٹاور میں شدید ساختی نقصان دکھاتی ہیں، جن میں چھت کا ایک بڑا حصہ جزوی طور پر منہدم نظر آتا ہے۔

    دن کے وقت بنائی گئی ویڈیو کے ساتھ درج کی گئی عبارت میں کہا گیا ہے کہ ’ہمارے لیے یہ صرف ایک ٹاور نہیں تھا۔۔۔ یہ چابہار کا ایک حصہ تھا۔‘

    Iran, USA
  2. آبنائے ہرمز پر کنٹرول ہمارا ہے، کسی بھی مداخلت پر ’سخت جواب‘ دیا جائے گا: پاسداران انقلاب کی دھمکی

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ ایرانی افواج نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول قائم کر لیا ہے۔

    پاسداران سے وابستہ خبر رساں ادارے تسنیم میں شائع ہونے والے ایک بیان کے مطابق، ایران نے گذشتہ دو ہفتوں کے دوران آبنائے ہرمز کی ’سکیورٹی برقرار رکھی‘ ہے اور اس کے ’تدریجی طور پر دوبارہ کھولنے‘ کا عمل شروع کر دیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والی بحری ٹریفک جنگ سے پہلے کی سطح کے تقریباً 50 فیصد تک پہنچ چکی ہے، اور ایران سے ’اجازت‘ حاصل کرنے والے جہازوں کی آمدورفت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ہم ایک بار پھر اعلان کرتے ہیں کہ غیر ملکی طاقتوں کا اس سرزمین یا آبنائے ہرمز پر کوئی حق نہیں۔‘

    پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی قسم کی مداخلت کا ’منھ توڑ اور سخت جواب‘ دیا جائے گا۔

    دوسری جانب، بی بی سی ویریفائی نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا ہے، جن کے مطابق 8 جولائی کو 23 تجارتی مال بردار جہازوں اور آئل ٹینکروں نے اس آبی راستے کو عبور کیا۔

    جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر کے مطابق، 28 فروری کو تنازع شروع ہونے سے پہلے اس آبنائے سے اوسطاً 138 جہاز روزانہ گزرا کرتے تھے۔

  3. امریکی حملوں کے جواب میں ایران کی نئی جوابی کارروائی

    ایران کی خبر رساں ایجنسی مہر نیوز کے مطابق، ایران کے جنوبی علاقوں پر امریکہ کے رات بھر جاری رہنے والے حملوں کے جواب میں ایران نے امریکی اہداف کے خلاف حملوں کی ایک نئی لہر شروع کر دی ہے۔

    ایرانی حکومت سے منسلک اس خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ اسلامی پاسدارانِ انقلاب نے میزائل حملے کرتے ہوئے کویت میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر بھی میزائل حملے کیے گئے ہیں۔ خیال رہے کہ اردن کے سرکاری ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ملک کی فضائی حدود میں آٹھ میزائل مار گرائے گئے ہیں۔

    اس کے علاوہ، خبر رساں ادارے کے مطابق بغداد، عراق میں واقع امریکی وکٹری بیس پر بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

  4. بریکنگ, علی خامنہ ای کی تدفین سے قبل مشہد کی سڑکوں پر سوگواران کا ہجوم

    iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چھ دن جاری رہنے والی آخری رسومات کے بعد ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو جمعرات کو ملک کے شمال مشرقی شہر مشہد میں سپردِ خاک کیا جا رہا ہے۔

    اس موقع پر ہزاروں افراد مشہد کی سڑکوں پر موجود ہیں۔ بہت سے لوگ ایرانی پرچم لہرا رہے ہیں، جبکہ بعض افراد ایسے بینرز اٹھائے ہوئے بھی نظر آئے جن پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کے نعرے درج تھے۔

    علی خامنہ ای فروری میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے ابتدائی گھنٹوں کے دوران مارے گئے تھے اور آج ان کی تدفین چھ روزہ منظم تقریب کا اختتامی مرحلہ ہے۔

    iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اس عرصے کے دوران جہاں ان کی میت کو تہران میں عوامی دیدار کے لیے رکھا گیا وہیں اسے ہمسایہ ملک عراق بھی لے جایا گیا جہاں نجف اور کربلا میں ان کی نمازِ جنارہ میں بڑی تعداد میں سوگواروں نے شرکت کی۔

    ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ اس مدت کے دوران ملک کے مختلف علاقوں اور دنیا بھر سے تقریباً ایک کروڑ پچاس لاکھ افراد نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔

    علی خامنہ ای کو مشہد میں شیعہ مسلک کے آٹھویں امام، امام رضا کے روضے کے احاطے میں دفن کیا جائے گا۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق بدھ اور جمعرات کو امریکی حملوں کی وجہ سے تہران سے مشہد جانے والی ریل سروس متاثر ہوئی ہے۔ اس کے نتیجے میں علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے سفر کرنے والے بہت سے مسافروں کو ٹرینوں سے اتار کر بسوں کے ذریعے مشہد روانہ کیا گیا۔

    مشہد

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  5. بریکنگ, اردن کا آٹھ ایرانی میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ

    اردن کی مسلح افواج نے ملک کی سرکاری خبررساں ایجنسی پیٹرا نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے آج دوپہر ایران کی جانب سے داغے گئے آٹھ میزائلوں کو مار گرایا ہے۔

    خبر رساں ادارے کے مطابق، کچھ میزائلوں کا ملبہ زمین پر گرا، تاہم کسی جانی نقصان یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    اس سے قبل اردن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے حکومتی ترجمان کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ ملک کی فضائی حدود میں ایران کی طرف سے داغے گئے میزائلوں کا علم ہونے کے بعد ملک بھر میں انتباہی سائرن بجائے گئے ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اردنی حکومت کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ ملک کی مسلح افواج مکمل چوکس ہیں اور مملکت اردن کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔

    اس سے قبل ایرانی میڈیا نے اردن میں امریکی اڈے پر حملے کی خبر دی تھی تاہم امریکہ نے ابھی تک اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    حالیہ جنگ کے دوران، تہران نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں قطر، بحرین، کویت اور اردن سمیت علاقائی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو بارہا نشانہ بنایا ہے۔

  6. امریکی حملے جنگی جرم ہیں: ایرانی وزارتِ خارجہ

    ایرانی ہل

    ،تصویر کا ذریعہISNA

    ایرانی وزارت خارجہ نے جمعرات کی صبح ملک کے جنوبی صوبوں میں کئی مقامات اور مشرقی صوبوں میں ریلوے روٹ کے دو پلوں پر امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے جنگی جرم قرار دیا ہے۔

    جمعرات کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق واقعات کو بہانہ بنا کر کیے گئے امریکی حملے اقوام متحدہ کے چارٹر اور جنگ کے خاتمے کے لیے مفاہمت کی یادداشت میں شامل ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہیں۔

    امریکہ نے اس سے قبل ایران پر ’جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی‘ کا الزام عائد کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں تین تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا تھا۔ ایران نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

    ایران کی وزارت خارجہ نے اس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’سخت اور توہین آمیز‘ بیان کی بھی مذمت کی، جس میں انھوں نے بدھ کو ایران کے رہنماؤں کو ’بدتمیز‘ اور ’بیمار‘ قرار دیا تھا۔

  7. بوشہر سے دھماکوں کی اطلاعات

    ایرانی خبر رساں اداروں نے بوشہر کے مقامی باشندوں کے حوالے سے شہر میں دو دھماکے سنائی دینے کی خبر دی ہے۔

    ان دھماکوں کے مقام کے بارے میں ابھی تک سرکاری رپورٹ جاری نہیں کی گئی۔ خیال رہے کہ امریکہ نے جمعرات کی صبح اس صوبے میں مقامات کو نشانہ بنایا تھا۔

    اس سے قبل اطلاعات تھیں کہ بوشہر پاور پلانٹ پر ایک میزائل گرا ہے تاہم بوشہر کے گورنر نے اس خبر کی تردید کی تھی۔

  8. کویت: ’چار میزائل اور 10 ڈرونز تباہ، ایک شخص زخمی‘

    کویت کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ نو جولائی کو ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں میں کم از کم ایک شخص زخمی ہوا ہے۔

    کویتی وزارت دفاع کے ترجمان سعود عبدالعزیز العطوان نے کہا کہ زخمی شخص کو ضروری طبی امداد دی جا رہی ہے اور اس کی حالت مستحکم ہے۔

    انھوں نے یہ بھی بتایا کہ جمعرات کی صبح ’چار میزائل اور 10 ڈرونز کو کامیابی سے روک کر تباہ کر دیا گیا ہے‘۔

  9. آبنائے ہرمز میں غیر یقینی صورتحال برقرار

    AFP via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو اس وقت ایک پیچیدہ صورتحال کا سامنا ہے، کیونکہ امریکہ اور ایران دونوں بحری ٹریفک کو مختلف راستوں سے گزارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    جاری تنازع کے باعث جہازوں کو آبنائے ہرمز کے درمیانی حصے سے گزرنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

    امریکہ کی رکنیت رکھنے والے جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر نے سفارش کی ہے کہ بحری جہاز ممکنہ ایرانی بارودی سرنگوں کے خطرے سے بچنے کے لیے آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں عمان کے ساحل کے قریب واقع راستہ اختیار کریں۔

    دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ کوئی بھی بحری جہاز اس وقت تک آبنائے ہرمز سے نہیں گزر سکتا جب تک وہ اس کے مقرر کردہ شمالی راستے پر سفر نہ کرے، جو ایرانی ساحل کے زیادہ قریب واقع ہے۔

    ایران کی پرشین گلف سٹریٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ اجازت نامے صرف اسی راستے کے لیے جاری کیے جائیں گے، جبکہ دیگر راستوں کا استعمال سختی سے ممنوع ہے۔

    آبنائے ہرمز کے انتظام اور جہاز رانی کے طریقۂ کار پر یہ متضاد مؤقف دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک میں سرگرم شپنگ کمپنیوں کے لیے غیر یقینی صورتحال کو مزید بڑھا رہے ہیں۔

    Iran
  10. ایران کا امریکہ پر جنگ بندی معاہدے کی ’کھلی خلاف ورزی‘ کا الزام

    CENTCOM

    ،تصویر کا ذریعہCENTCOM

    ایران کی وزارتِ خارجہ نے امریکہ پر 17 جون کو طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی بعض شقوں کی ’کھلی خلاف ورزی‘ کا الزام عائد کیا ہے۔ اس معاہدے کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان عارضی جنگ بندی عمل میں آئی تھی۔

    معاہدے میں فوجی کارروائیوں کے ’فوری اور مستقل خاتمے‘ کا مطالبہ کیا گیا تھا، جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اپنی بھرپور کوششیں بروئے کار لانے کا عہد کیا تھا۔

    تاہم، اس شق کی تشریح دونوں فریق مختلف انداز میں کر رہے ہیں اور یہی معاملہ موجودہ کشیدگی کا ایک اہم سبب بن گیا ہے۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز میں ’چند۔۔ تجارتی جہازوں سے متعلق مبینہ واقعات‘ کو جواز بنا کر حملے کیے، حالانکہ یہ دعویٰ حقائق پر مبنی نہیں۔

    دوسری جانب امریکہ پہلے ہی ایران پر جنگ بندی کی ’واضح خلاف ورزی‘ کا الزام عائد کر چکا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تین تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ایران نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کی بھی مذمت کی ہے۔ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایرانی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے توہین آمیز الفاظ استعمال کیے تھے۔

    وزارتِ خارجہ نے مزید الزام لگایا کہ ریلوے کے دو پلوں سمیت متعدد مقامات کو نشانہ بنا کر امریکہ نے ’سنگین جنگی جرم‘ کا ارتکاب کیا ہے۔

  11. وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    Shahbaz Sharif

    ،تصویر کا ذریعہPID

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے ہیں۔ ان کے ہمراہ متعدد وفاقی وزرا بھی موجود ہیں۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم کوئٹہ میں نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کریں گے، جس میں بلوچستان کی امن و امان کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان، وفاقی وزرا اور اعلیٰ عسکری و سول حکام اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کوئٹہ میں منعقد ہوگا۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق اجلاس میں صوبے میں امن و استحکام کے قیام سے متعلق اہم فیصلوں اور اقدامات کی منظوری متوقع ہے۔

  12. ’نہ جنگ، نہ امن‘: دونوں فریق تصادم سے بچنا چاہتے ہیں، مگر پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں, لیز ڈوسیٹ کا تجزیہ

    USA, Iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images/AFP

    ’وہاں جنگ بندی دنیا کے دوسرے حصوں کی جنگ بندیوں سے بہت مختلف ہے۔‘

    ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایران کے ساتھ نازک جنگ بندی اور گذشتہ ماہ طے پانے والے عبوری معاہدے کو اسی انداز میں بیان کیا تھا۔ یہ سمجھوتہ اب بھی آزمائش سے گزر رہا ہے اور بار بار کشیدگی کا شکار ہو رہا ہے۔

    ایسا لگتا ہے کہ خطہ فی الحال ’نہ جنگ، نہ امن‘ کی کیفیت میں رہنے والا ہے۔ اس صورتحال کی بنیاد مختصر اور مبہم الفاظ پر مشتمل مفاہمتی یادداشت ہے، جس کی دونوں فریق اپنی اپنی تشریح کر رہے ہیں۔

    ایران کا مؤقف ہے کہ اس معاہدے نے اسے آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستے کے انتظام سے متعلق کردار دیا ہے اور جہازوں کو اس کے مقرر کردہ راستوں سے گزرنا چاہیے۔

    دوسری جانب امریکہ کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں بین الاقوامی بحری آمدورفت کی آزادانہ روانی بحال ہوئی ہے۔

    اگرچہ کوئی بھی فریق مکمل جنگ کی طرف لوٹنا نہیں چاہتا، لیکن دونوں اپنی پوزیشن منوانے کے لیے محدود سطح پر دباؤ اور جوابی کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں۔

    دونوں حکومتوں کو اپنے اپنے حلقوں میں موجود سخت گیر عناصر کے دباؤ کا بھی سامنا ہے۔

    اس کشیدہ ماحول میں ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے بارے میں کہا ہے کہ ’وہ معاہدہ کرنے کے لیے بے تاب ہیں۔‘

  13. مزید حملوں کے باوجود تیل کی قیمتوں میں زیادہ اتار چڑھاؤ نہیں

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کی جانب سے ایران پر مسلسل دوسری رات بھی حملے کیے جانے کے باوجود جمعرات کی صبح تیل کی قیمتوں میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔

    بدھ کو حملوں کے پہلے مرحلے کے بعد عالمی معیار کے برینٹ کروڈ کی قیمت میں پانچ فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا تھا، تاہم آج یہ معمولی کمی کے بعد تقریباً 77.90 ڈالر (58 پاؤنڈ) فی بیرل پر آ گئی ہے۔

    سرمایہ کاری بینک ریمنڈ جیمز میں نجی سرمایہ کاری کی مشاورتی خدمات کی عالمی سربراہ سنائنا سنہا ہلدیا نے بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام ٹوڈے سے گفتگو میں کہا کہ مارکیٹیں اب اس صورتحال کی کسی حد تک عادی ہو چکی ہیں کہ آیا فریق مکمل جنگ کی طرف جا رہے ہیں یا دوبارہ مذاکرات کی میز پر واپس آئیں گے۔

    ان کے بقول بدھ کو تیل کی قیمت میں اضافہ ضرور ہوا، تاہم یہ اس اضافے کے قریب بھی نہیں تھا جو تنازع کے آغاز پر اس وقت دیکھا گیا تھا جب آبنائے ہرمز عملاً بند ہو گئی تھی۔ دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل اسی آبی گزرگاہ سے ہوتی ہے۔

    سنائنا سنہا ہلدیا کا کہنا ہے کہ مارکیٹوں کی مجموعی توقع اب بھی یہی ہے کہ فریقین بالآخر مذاکرات کی میز پر واپس آئیں گے۔

  14. رہبرِ اعلیٰ کی آخری رسومات کے شہر جانے والی ریلوے لائن حملے میں متاثر

    ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق تہران اور مشہد کے درمیان ٹرین سروس معطل ہو گئی ہے، جہاں آج بعد ازاں سابق رہبرِ اعلیٰ کی آخری رسومات ادا کی جانی ہیں۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ ریلوے لائن کو امریکی حملے میں نشانہ بنایا گیا، جبکہ وزارتِ خارجہ کے مطابق اس حملے میں دو پل تباہ ہو گئے ہیں۔

    پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ خبر رساں ادارے تسنیم سے گفتگو کرتے ہوئے ایران ریلوے کے ایک ترجمان نے کہا کہ ’اس راستے کی جلد از جلد مرمت کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔‘

    تہران اور شمال مشرقی شہر مشہد کے درمیان ریلوے رابطہ ایران کے مصروف ترین ریلوے راستوں میں شمار ہوتا ہے۔

    Railways
  15. ملک ریاض کے ادارے بحریہ ٹاؤن کے وائس چیف ایگزیکٹو کرنل خلیل سمیت تین ملزمان کو ایک سال قید کی سزا

    Bahria Town

    بحریہ ٹاؤن سے متعلق مقدمے میں عدالت نے وائس چیف ایگزیکٹو کرنل خلیل سمیت تین ملزمان کو ایک، ایک سال قید اور پانچ، پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

    ایڈیشنل سیشن جج ویسٹ کی عدالت نے فیصلے میں بحریہ ٹاؤن کے وائس چیف ایگزیکٹو کرنل خلیل، حوالہ ایجنٹ عمران کاکا اور پراپرٹی ڈیلر مشتاق احمد کو جرم ثابت ہونے پر سزا سنائی۔ مقدمے کی تحقیقات ایف آئی اے کے اینٹی منی لانڈرنگ سرکل اسلام آباد کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے کی تھیں۔

    حکام کے مطابق یہ فیصلہ غیر قانونی فاریکس ٹریڈنگ، حوالہ ہنڈی اور اس سے منسلک پراپرٹی لین دین کے خلاف جاری کریک ڈاؤن میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

  16. شجاع آباد کے قریب فائرنگ کے تبادلے میں دو افراد ہلاک، تین زخمی ہونے کا دعویٰ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    کشمیر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے شجاع آباد کے قریب قانون نافذ کرنے والے اداروں اور کالعدم قرار دی گئی تنظیم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں کے درمیان مبینہ فائرنگ کے تبادلے میں دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہو گئے ہیں۔

    کمشنر پونچھ ڈویژن سردار وحید خان نے بی بی سی کو بتایا کہ مظفرآباد سے راولاکوٹ میں تعینات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے لیے سامان لے جایا جا رہا تھا۔ اُن کے مطابق اس قافلے کے ہمراہ سکیورٹی فورسز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بھی موجود تھے۔

    سردار وحید خان کا کہنا تھا کہ شجاع آباد کے قریب کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں نے سڑک پر پتھر رکھ کر راستہ بند کر رکھا تھا۔ اُن کے بقول جب قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار رکاوٹیں ہٹانے کے لیے گاڑیوں سے اترے تو تنظیم کے کارکنوں نے مبینہ طور پر اُن پر فائرنگ شروع کر دی۔

    کمشنر پونچھ کے مطابق حملہ آوروں کی فائرنگ سے قافلے میں شامل متعدد گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ کالعدم تنظیم کے کارکنوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں دو حملہ آور ہلاک اور تین زخمی ہوئے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔

    سردار وحید خان کے مطابق حملہ آور ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کو اپنے ساتھ لے گئے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ کو اطلاعات ملی ہیں کہ ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق اُس قریبی علاقے سے تھا جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔

    دوسری جانب جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے سرگرم رکن اختر عباسی نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ انھیں واقعے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ تاہم اُن کے بقول انھیں جو معلومات دی گئی ہیں، اُن کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    اختر عباسی نے کہا کہ اُن کی تنظیم اپنے مطالبات سے دستبردار نہیں ہو گی اور تنظیمی قیادت جمعرات کو آئندہ کے لائحۂ عمل کا اعلان کرے گی۔

    ادھر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے بعض علاقوں میں مبینہ طور پر راستوں کی بندش کے باعث اشیائے خور و نوش کی ترسیل متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق اس صورتحال کے سبب بعض مقامات پر لوگوں کو سبسڈی والا آٹا دستیاب نہیں ہو رہا۔

    واضح رہے کہ تین برس قبل حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے رہائشیوں کو دو ہزار روپے فی من کے حساب سے آٹا فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا تھا۔

    تاہم مظفرآباد کے ڈپٹی کمشنر منیر قریشی نے بی بی سی کو بتایا کہ اُن کے ضلع میں خوراک، خصوصاً آٹے کی ترسیل میں کوئی رکاوٹ نہیں اور شہریوں کو سبسڈی والا آٹا معمول کے مطابق دستیاب ہے۔

  17. علی خامنہ ای کی میت لے جانے والا طیارہ ایران کے شہر مشہد پہنچ گیا

    IRIB

    ،تصویر کا ذریعہIRIB

    ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی میت لے جانے والا طیارہ ایران کے مقدس ترین شہر مشہد پہنچ گیا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، کئی روز سے جاری جنازے کی تقریبات کے آخری مرحلے کا آغاز مقامی وقت کے مطابق دوپہر دو بجے ہوگا۔

    خامنہ ای کے تابوت کو گذشتہ چھ روز کے دوران ایران اور عراق کے مختلف شہروں میں عوامی دیدار کے لیے رکھا گیا، جبکہ انہیں مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا، جو ان کی جائے پیدائش بھی ہے۔

  18. آبنائے ہرمز پر پہلے کون پسپائی اختیار کرے گا؟, فرینک گارڈنر، سکیورٹی نامہ نگار، انقرہ

    AFP via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    آبنائے ہرمز کے گرد اس وقت پیدا ہونے والی صورتحال میں ایک حد تک خطرناک پیش گوئی جیسی کیفیت پائی جاتی ہے۔ ہفتے کے آغاز میں پاسدارانِ انقلاب نے، جن وجوہات سے وہ خود ہی آگاہ ہیں، تین آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا۔ اس کے جواب میں امریکہ نے ایران کے ساحلی علاقوں میں تقریباً 80 اہداف پر حملے کیے، جبکہ ایران نے بحرین اور کویت میں امریکی اڈوں پر ڈرونز اور میزائل داغ کر ردِعمل ظاہر کیا۔

    بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب بھی اسی نوعیت کے واقعات پیش آئے، جن کے بعد دونوں جانب سے سخت بیانات سامنے آئے۔

    کسی حد تک یہ صورتحال اس سوال پر آ کر ٹھہرتی ہے کہ پہلے کون پسپائی اختیار کرتا ہے؟

    امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فضائی افواج کے رواں سال کے آغاز میں کیے گئے 24 ہزار سے زائد فضائی حملوں کا مقابلہ کرنے کے بعد، پاسدارانِ انقلاب خود کو کافی مضبوط اور ناقابلِ شکست محسوس کر رہے ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت کے طریقۂ کار میں بنیادی تبدیلی لائی جائے، جس کے تحت جہازوں کو ایک چیک پوائنٹ سے گزرنا پڑے اور پاسدارانِ انقلاب کے اہلکار ان کا معائنہ کریں۔

    ایران کا کہنا ہے کہ 28 فروری کو جنگ شروع ہونے سے پہلے کی صورتحال اب کبھی بحال نہیں ہوگی۔

    تاہم امریکہ، عرب خلیجی ریاستیں اور بین الاقوامی بحری تنظیم اس مؤقف کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہیں۔

    گذشتہ ماہ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں بھی ان اختلافات کا کوئی حل نہیں نکل سکا تھا، اور اب حالیہ کشیدگی اور جھڑپوں کے بعد دیرپا معاہدے تک پہنچنا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل دکھائی دیتا ہے۔

  19. آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت انتہائی کم ہو گئی

    بین الاقوامی آزاد ٹینکر مالکان کی تنظیم انٹرٹینکو کے میرین ڈائریکٹر فل بیلچر کے مطابق، جنگی کشیدگی دوبارہ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔

    انھوں نے بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام ٹوڈے میں بتایا کہ عمان کے ساحل کے قریب واقع امریکی حمایت یافتہ جنوبی بحری راستے سے رات کے وقت گزرنے والے جہازوں کی تعداد سنگل فگرز (دس سے کم) رہ گئی ہے، جبکہ ایران کی نگرانی میں موجود شمالی راستے سے تقریباً 20 جہاز گزرے۔

    ان کے مطابق، روزانہ گزرنے والے جہازوں کی مجموعی تعداد تقریباً 30 رہ گئی ہے، جو ایک ہفتہ قبل 70 تھی، جبکہ رواں سال ایران سے متعلق جنگ شروع ہونے سے پہلے یہ تعداد معمول کے مطابق 130 جہاز روزانہ کے قریب ہوا کرتی تھی۔

  20. ایران میں سابق رہبر اعلیٰ کی آخری رسومات پر جنگ کے سائے, لیز ڈوسیٹ کا تجزیہ

    ایران کے سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران میں چھ روز اور پانچ شہروں پر محیط عوامی سوگ اور آخری رسومات کے سلسلے کا آج آخری دن ہے، جبکہ اس دوران پڑوسی ملک عراق میں بھی تقریبات منعقد کی گئیں۔ یہ ایران کی نئی قیادت کی جانب سے اتحاد اور طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش تھی اور اس بات کو اجاگر کرنے کی بھی کہ جنگ کے آغاز میں قتل کیے گئے ان کے رہبر اعلیٰ کی اہمیت صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ وسیع شیعہ مسلم دنیا تک پھیلی ہوئی ہے۔

    ہر مقام پر بڑے اور جذباتی ہجوم کے باعث جنازے کا جلوس سست روی کا شکار رہا، اور آج بھی ایران کے مقدس ترین شہر مشہد، جو آیت اللہ خامنہ ای کا آبائی شہر بھی ہے، یہی منظر دیکھنے میں آیا۔ ایران کو امید تھی کہ گذشتہ ماہ امریکہ کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت ان تقریبات کو جنگ کے اثرات سے محفوظ رکھے گی، لیکن نازک جنگ بندی اور ایک ایسی مبہم مفاہمت، جس کی دونوں فریق الگ الگ تشریح کرتے ہیں، ابتدا ہی سے خطرات اپنے ساتھ لیے ہوئے تھی۔

    اب ایران اور پورا خطہ بظاہر ’نہ جنگ، نہ امن‘ کی کیفیت میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں وقفے وقفے سے فائرنگ کے تبادلے کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور ایران کے جوہری پروگرام جیسے اہم معاملات پر مذاکرات جاری رکھنے کی کوششیں بھی ہوتی رہیں گی۔ جیسا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بقول، مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی دنیا کے دیگر خطوں کی جنگ بندیوں سے مختلف نوعیت رکھتی ہے۔