اوپن اے آئی اور چیٹ جی پی ٹی پر فائرنگ کرنے والوں کی مدد کا الزام: ’آلٹمن بچوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فلوریڈا امریکہ کی پہلی ریاست بن گئی ہے جس نے اوپن اے آئی کے خلاف اس کے مصنوعی ذہانت چیٹ بوٹ، چیٹ جی پی ٹی، کے ڈیزائن اور حفاظتی اقدامات کے حوالے سے مقدمہ دائر کیا ہے۔
اٹارنی جنرل جیمز اُتھمئیر کی جانب سے دائر کیے گئے اس وسیع مقدمے میں الزام لگایا گیا ہے کہ اوپن اے آئی اور اس کے سربراہ سام آلٹمن بچوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں اور انھیں اس کا عادی بنا رہے ہیں، اور لوگوں پر فائرنگ کرنے والوں کی مدد و معاونت کر رہے ہیں، اور کمپنی منافعے کی دوڑ میں صارفین کو خودکشی پر اکسا رہی ہے۔
اس مقدمے کے جواب میں اوپن اے آئی نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے ’صنعت میں نمایاں حفاظتی اقدامات اور پالیسیاں‘ نافذ کر رکھی ہیں۔
یہ قانونی کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فلوریڈا یہ جانچنے کے لیے مجرمانہ تحقیقات بھی کر رہا ہے کہ آیا گزشتہ سال فلوریڈا اسٹیٹ یونیورسٹی میں ہونے والی فائرنگ، جس میں دو افراد ہلاک ہوئے تھے، میں چیٹ جی پی ٹی کا کوئی کردار تھا یا نہیں۔
فلوریڈا کی جانب سے دائر کیے گئے سول مقدمے میں سام آلٹمن کو ذاتی طور پر بھی ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس میں ان پر مبینہ ’غیر ذمہ دارانہ اور دانستہ رویے‘ کا الزام ہے، جس میں ان کی کمپنی کے اقدامات سے انسانی جانوں کو لاحق خطرات کو ’مکمل طور پر نظر انداز‘ کرنا شامل ہے۔
مقدمے میں اوپن اے آئی کے خلاف متعدد الزامات عائد کیے گئے ہیں جن میں دھوکہ دہی اور غیر منصفانہ تجارتی طریقے، غفلت، مصنوعات کی ذمہ داری کے قوانین کی خلاف ورزی، غلط بیانی، اور عوامی نقصان کا باعث بننا شامل ہیں۔
اس شکایت میں فلوریڈا اسٹیٹ یونیورسٹی کی فائرنگ کے علاوہ یونیورسٹی آف ساؤتھ فلوریڈا کے دو پی ایچ ڈی طلبا کے قتل کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جہاں پراسیکیوٹرز کے مطابق ملزم نے مبینہ طور پر انسانی لاشوں کو ٹھکانے لگانے سے متعلق سوالات چیٹ جی پی ٹی سے پوچھے تھے۔
جیمز اُتھمئیر نے پیر کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا: ’ آلٹمن اور چیٹ جی پی ٹی نے مصنوعی ذہانت کی دوڑ کو ہمارے بچوں کی سلامتی اور تحفظ پر ترجیح دی ہے۔ انھوں نے عوامی تحفظ پر منافع کو ترجیح دی ہے، اور ہم فلوریڈا میں یہ برداشت نہیں کریں گے۔ ہم انہیں جوابدہ ٹھہرائیں گے۔‘
اوپن اے آئی نے بی بی سی کو ایک بیان میں بتایا ’کسی بچے کو کھونا ایک خاندان کے لیے سب سے بڑا سانحہ ہوتا ہے، اور ہم جانتے ہیں کہ کوئی بھی الفاظ اس نقصان کے درد کا مداوا نہیں کر سکتے۔‘
’مصنوعی ذہانت ایک نئی اور طاقتور ٹیکنالوجی ہے، اور ہمارا ماننا ہے کہ کم عمر افراد کو خصوصی تحفظ درکار ہے، اسی لیے ہم نے صنعت کے بہترین حفاظتی اقدامات اور پالیسیاں لاگو کی ہیں۔‘
کمپنی نے کہا کہ وہ کم عمر صارفین کی حفاظت کو اپنی مصنوعات میں براہِ راست شامل کرتی ہے، جس میں عمر کی شناخت کا نظام اور ایسے دیگر طریقے شامل ہیں جن کی مدد سے والدین اپنے بچوں کے اے آئی کے استعمال کی نگرانی کر سکتے ہیں۔
ایک ترجمان نے کہا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ ان اقدامات کا ذکر کسی کھوئے ہوئے بچے کو واپس نہیں لا سکتا، لیکن ہم اس مسئلے کو درست کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔‘
یہ مقدمہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اوپن اے آئی کو اس کی حفاظتی پالیسیوں کے حوالے سے متعدد قانونی چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں کچھ مقدمات یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ چیٹ جی پی ٹی نے خودکشی کے لیے رہنمائی فراہم کی یا نقصان دہ خیالات کو فروغ دیا۔
اسی سال کے آغاز میں کینیڈا میں ٹمبلر رج کی فائرنگ کے کچھ متاثرہ خاندانوں نے بھی اوپن اے آئی کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ کمپنی نے ملزم کے چیٹ جی پی ٹی اکاؤنٹ کو مسئلہ خیز استعمال کی بنیاد پر بند کر دیا تھا، مگر حکام کو اطلاع نہیں دی۔
کمپنی نے پولیس کو اطلاع نہ دینے پر معذرت کی، تاہم اس کا کہنا تھا کہ ملزم کی سرگرمیاں اس حد تک نہیں پہنچیں کہ انہیں فوری یا سنجیدہ جسمانی نقصان کے خطرے کے طور پر دیکھا جاتا۔
دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی اس وقت اسی نوعیت کے قانونی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہیں۔




















