لائیو, امریکی صدر ٹرمپ کا اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی اور ایران سے مذاکرات میں پیش رفت کا عندیہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے نئے معاہدے کا اعلان کیا اور اس بات کی تصدیق کہ اب بیروت کی جانب فوج نہیں بھیجی جائے گی اس کے علاوہ انھوں نے ایک اور پوسٹ میں لکھا کہ ’ایران کے ساتھ بات چیت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔‘

خلاصہ

  • ایران میں کئی حکومتی عہدیداروں نے صدر مسعود پزشکیان کے مستعفیٰ ہونے کی غیر مصدقہ رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے اسے 'مایوسی پھیلانے کی غرض سے چلائی جانے والی فیک نیوز' قرار دیا ہے
  • ایران کی مجلس خبرگان رہبری کے رُکن محسن حیدری الحطیر نے دعویٰ کیا ہے رہبرِ اعلی کے جانشین کے انتخاب کے لیے ہونے والے پہلے اجلاس میں مجتبیٰ خامنہ ای کا نام 'فہرست میں شامل نہیں تھا'
  • ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت اور پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے
  • امریکی ذرائع ابلاغ نے مطابق صدر ٹرمپ کا ایران معاہدے میں آبنائے ہرمز اور افزودہ یورینیم سے متعلق معاملات میں تبدیلیوں کا مطالبہ کیا ہے
  • اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے لبنان میں 'سٹریٹجک قلعے' پر اسرائیلی قبضے کو حزب اللہ کے خلاف جنگ میں 'ڈرامائی تبدیلی' قرار دیا ہے

لائیو کوریج

  1. اوپن اے آئی اور چیٹ جی پی ٹی پر فائرنگ کرنے والوں کی مدد کا الزام: ’آلٹمن بچوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں‘

    آلٹمن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فلوریڈا امریکہ کی پہلی ریاست بن گئی ہے جس نے اوپن اے آئی کے خلاف اس کے مصنوعی ذہانت چیٹ بوٹ، چیٹ جی پی ٹی، کے ڈیزائن اور حفاظتی اقدامات کے حوالے سے مقدمہ دائر کیا ہے۔

    اٹارنی جنرل جیمز اُتھمئیر کی جانب سے دائر کیے گئے اس وسیع مقدمے میں الزام لگایا گیا ہے کہ اوپن اے آئی اور اس کے سربراہ سام آلٹمن بچوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں اور انھیں اس کا عادی بنا رہے ہیں، اور لوگوں پر فائرنگ کرنے والوں کی مدد و معاونت کر رہے ہیں، اور کمپنی منافعے کی دوڑ میں صارفین کو خودکشی پر اکسا رہی ہے۔

    اس مقدمے کے جواب میں اوپن اے آئی نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے ’صنعت میں نمایاں حفاظتی اقدامات اور پالیسیاں‘ نافذ کر رکھی ہیں۔

    یہ قانونی کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فلوریڈا یہ جانچنے کے لیے مجرمانہ تحقیقات بھی کر رہا ہے کہ آیا گزشتہ سال فلوریڈا اسٹیٹ یونیورسٹی میں ہونے والی فائرنگ، جس میں دو افراد ہلاک ہوئے تھے، میں چیٹ جی پی ٹی کا کوئی کردار تھا یا نہیں۔

    فلوریڈا کی جانب سے دائر کیے گئے سول مقدمے میں سام آلٹمن کو ذاتی طور پر بھی ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس میں ان پر مبینہ ’غیر ذمہ دارانہ اور دانستہ رویے‘ کا الزام ہے، جس میں ان کی کمپنی کے اقدامات سے انسانی جانوں کو لاحق خطرات کو ’مکمل طور پر نظر انداز‘ کرنا شامل ہے۔

    مقدمے میں اوپن اے آئی کے خلاف متعدد الزامات عائد کیے گئے ہیں جن میں دھوکہ دہی اور غیر منصفانہ تجارتی طریقے، غفلت، مصنوعات کی ذمہ داری کے قوانین کی خلاف ورزی، غلط بیانی، اور عوامی نقصان کا باعث بننا شامل ہیں۔

    اس شکایت میں فلوریڈا اسٹیٹ یونیورسٹی کی فائرنگ کے علاوہ یونیورسٹی آف ساؤتھ فلوریڈا کے دو پی ایچ ڈی طلبا کے قتل کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جہاں پراسیکیوٹرز کے مطابق ملزم نے مبینہ طور پر انسانی لاشوں کو ٹھکانے لگانے سے متعلق سوالات چیٹ جی پی ٹی سے پوچھے تھے۔

    جیمز اُتھمئیر نے پیر کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا: ’ آلٹمن اور چیٹ جی پی ٹی نے مصنوعی ذہانت کی دوڑ کو ہمارے بچوں کی سلامتی اور تحفظ پر ترجیح دی ہے۔ انھوں نے عوامی تحفظ پر منافع کو ترجیح دی ہے، اور ہم فلوریڈا میں یہ برداشت نہیں کریں گے۔ ہم انہیں جوابدہ ٹھہرائیں گے۔‘

    اوپن اے آئی نے بی بی سی کو ایک بیان میں بتایا ’کسی بچے کو کھونا ایک خاندان کے لیے سب سے بڑا سانحہ ہوتا ہے، اور ہم جانتے ہیں کہ کوئی بھی الفاظ اس نقصان کے درد کا مداوا نہیں کر سکتے۔‘

    ’مصنوعی ذہانت ایک نئی اور طاقتور ٹیکنالوجی ہے، اور ہمارا ماننا ہے کہ کم عمر افراد کو خصوصی تحفظ درکار ہے، اسی لیے ہم نے صنعت کے بہترین حفاظتی اقدامات اور پالیسیاں لاگو کی ہیں۔‘

    کمپنی نے کہا کہ وہ کم عمر صارفین کی حفاظت کو اپنی مصنوعات میں براہِ راست شامل کرتی ہے، جس میں عمر کی شناخت کا نظام اور ایسے دیگر طریقے شامل ہیں جن کی مدد سے والدین اپنے بچوں کے اے آئی کے استعمال کی نگرانی کر سکتے ہیں۔

    ایک ترجمان نے کہا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ ان اقدامات کا ذکر کسی کھوئے ہوئے بچے کو واپس نہیں لا سکتا، لیکن ہم اس مسئلے کو درست کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔‘

    یہ مقدمہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اوپن اے آئی کو اس کی حفاظتی پالیسیوں کے حوالے سے متعدد قانونی چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں کچھ مقدمات یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ چیٹ جی پی ٹی نے خودکشی کے لیے رہنمائی فراہم کی یا نقصان دہ خیالات کو فروغ دیا۔

    اسی سال کے آغاز میں کینیڈا میں ٹمبلر رج کی فائرنگ کے کچھ متاثرہ خاندانوں نے بھی اوپن اے آئی کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ کمپنی نے ملزم کے چیٹ جی پی ٹی اکاؤنٹ کو مسئلہ خیز استعمال کی بنیاد پر بند کر دیا تھا، مگر حکام کو اطلاع نہیں دی۔

    کمپنی نے پولیس کو اطلاع نہ دینے پر معذرت کی، تاہم اس کا کہنا تھا کہ ملزم کی سرگرمیاں اس حد تک نہیں پہنچیں کہ انہیں فوری یا سنجیدہ جسمانی نقصان کے خطرے کے طور پر دیکھا جاتا۔

    دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی اس وقت اسی نوعیت کے قانونی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہیں۔

  2. بریکنگ, امریکی صدر ٹرمپ کا اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی اور ایران سے مذاکرات میں پیش رفت کا عندیہ

    امریکی صدر ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے نئے معاہدے کا اعلان کیا اور اس بات کی تصدیق کہ اب بیروت کی جانب فوج نہیں بھیجی جائے گی۔

    انھوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا، ’میں نے اسرائیل کے وزیر اعظم کے ساتھ بہت نتیجہ خیز بات چیت کی اور بیروت میں کوئی فوجی نہیں بھیجا جائے گا۔ اس کے علاوہ جو بھی فوجی راستے میں تھے وہ واپس آگئے ہیں۔‘

    امریکی صدر نے مزید کہا کہ ’میں نے حزب اللہ کے ساتھ اعلیٰ سطح کے نمائندوں کے ذریعے بہت اچھی بات چیت کی، اور وہ تمام گولی باری بند کرنے پر راضی ہوگئے۔ اسرائیل ان پر حملہ نہیں کرے گا، اور وہ اسرائیل پر حملہ نہیں کریں گے۔‘

    مسٹر ٹرمپ نے ایک اور پوسٹ میں لکھا کہ ’ایران کے ساتھ بات چیت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔‘

    ایک گھنٹہ قبل تسنیم خبر رساں ادارے نے کہا تھا کہ یہ اطلاع دی گئی ہے کہ ’اس بات کو دیکھتے ہوئے کہ لبنان جنگ بندی کے لیے پیشگی شرائط میں سے ایک تھا اور اس جنگ بندی کی اب لبنان سمیت تمام محاذوں پر خلاف ورزی کی گئی ہے، ایرانی مذاکراتی ٹیم ثالث کے ذریعے مذاکرات اور متن کا تبادلہ معطل کر رہی ہے۔‘

    ایران کے وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی نے بھی اس سے پہلے کہا تھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی بلاامتیاز تمام محاذوں پر ایک مکمل جنگ بندی ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔

    انھوں نے متنبہ کیا کہ ’کسی ایک محاذ پر اس کی خلاف ورزی تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھی جائے گی اور کسی بھی خلاف ورزی کے نتائج کے ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل ہوں گے۔‘

  3. پاکستان کشیدگی میں کمی کے لیے مدد جاری رکھے: ایرانی وزیرِ خارجہ

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے لبنان میں اسرائیل کی طرف سے کی جانے والی ’جنگ بندی کی خلاف ورزی‘ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

    پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق گفتگو کے دوران ایرانی وزیرِ خارجہ نے خطے میں سفارتکاری کے ’تعمیری کردار‘ کو سراہا اور گزارش کی کہ اسلام آباد ’موجودہ صورتحال میں کشیدگی کم کرنے میں مدد جاری رکھے اور جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوششوں کی حمایت کرتا رہے۔‘

    بیان کے مطابق گفتگو کے دوران پاکستانی نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ مفاہمت کو برقرار رکھنے کے لیے جنگ بندی کا تسلسل ضروری ہے۔

    پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔

  4. بحری ناکہ بندی، لبنان میں اسرائیلی ’جنگی جرائم‘ امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کا ثبوت ہیں: قالیباف

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ ’بحری ناکہ بندی اور لبنان میں اسرائیل کے جنگی جرائم اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ امریکہ جنگ بندی کی پاسداری نہیں کر رہا۔‘

    انھوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں خبردار کیا کہ ہر فیصلے کی ایک قیمت ہوتی ہے اور اس کی ادائیگی کرنا پڑتی ہے۔ سب کچھ اپنے انجام تک پہنچے گا۔

  5. امریکی فوج کا کویت میں امریکی اڈے کو نشانہ بنانے والے ایران کے دو بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کرنے کا دعویٰ

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    یو ایس سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ رات 11 بجے، امریکی افواج نے کویت میں تعینات امریکی اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے ایران کے دو بیلسٹک میزائلوں کو کامیابی سے روک لیا۔

    ایکس پر جاری بیان میں سینٹکام کا کہنا ہے کہ ان میزائلوں کو فوری طور پر ناکام بنا دیا گیا اور کسی امریکی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ یو ایس سینٹرل کمانڈ چوکس ہے اور ایران کی جارحیت سے اپنی افواج کا تحفظ کرتے ہوئے جنگ بندی کی برقرار رکھنے میں تعاون جاری رکھے گی۔

  6. پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مندی، انڈیکس میں 3300 پوائنٹس سے زائد کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں پیر کے روز مندی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا اور مارکیٹ میں کاروبار کے اختتام پر انڈیکس میں 3362 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد انڈیکس 170600 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں آج سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی فروخت میں رجحان غالب نظر آیا جس کے بعد کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی۔

    سٹاک ایکسچینج میں مندی کے بارے میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان دربارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہے جس نے کاروبار پر منفی اثرات مرتب کیے۔

    تجزیہ کار شہر یار بٹ کے مطابق گذشتہ ہفتے مارکیٹ میں کاروبار کے اختتام کے بعد امکان تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ ہو جائے گا تاہم ایسا نہیں ہوا اور دونوں کے درمیان دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جو آج 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا ہے جس کے بعد مارکیٹ نے اس پر منفی رد عمل دیا۔

    انھوں نے کہا اس کے ساتھ آنے والے بجٹ میں پاکستان میں سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافے کے امکانات کی خبروں نے بھی کاروبار پر منفی اثر مرتب کیا۔

  7. مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے اثرات: پاکستان میں مہنگائی کی شرح 11.7 فیصد تک پہنچ گئی, سارہ حسن، صحافی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے سبب پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ملک میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور مئی کے مہینے میں ملک میں مہنگائی میں اضافے کی شرح 11.7 فیصد رہی ہے۔

    وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق رواں سال اپریل کے مہینے میں ملک میں مہنگائی میں اضافے کی شرح 10.9 فیصد تھی جو مئی کے مہینے میں بڑھ کر 11.7 فیصد ہو گئی ہے۔

    یہ جون 2024 کے بعد ملک میں مہنگائی کی بلند ترین سطح ہے۔

    وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے گیارہ ماہ کے دوران ملک میں مہنگائی کی مجموعی شرح 6.6 فیصد رہی ہے جبکہ گذشتہ سال اسی دوران مہنگائی میں اضافے کی شرح 4.6 فیصد تھی۔

    حکومت نے رواں مالی سال کے دوران ملک میں افراط زر کا ہدف 7.5 فیصد مقرر کیا تھا۔ مئی 2026 میں شہری علاقوں میں مہنگائی بڑھنے کی شرح 11.8 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ دیہی علاقے میں کنزیمور پرائس انڈکس (سی پی آئی) یعنی مہنگائی میں اضافے کی شرح 11.5 فیصد رہی۔

    امریکہ ایران جنگ کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور پاکستان میں بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے جبکہ سٹیٹ بینک نے افراط زر کو محدود کرنے کے لیے اپریل میں شرح سود میں بھی ایک فیصد اضافہ کیا تھا۔

    اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتیں زیادہ ہونے کے سبب پاکستان کی برآمدی لاگت بڑھ ہے اور ٹرانسپورٹیشن کی لاگت بڑھنے سے ملک میں مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    وفاقی ادارہ شماریات کا کہنا ہے کہ مئی میں آٹے کی قیمت میں 11.21 فیصد اضافہ، گوشت کی قیمت میں 2.25 فیصد جبکہ تازہ دودھ، چاول، بیکری آئٹمز، کوکنگ آئل، خشک میوہ جات، تازہ پھلوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

  8. بریکنگ, جنگ بندی میں لبنان بھی شامل ہے، خلاف ورزی کے نتائج کے ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل ہوں گے: ایرانی وزیرِ خارجہ کا انتباہ

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی بلاامتیاز تمام محاذوں پر ایک مکمل جنگ بندی ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔

    انھوں نے متنبہ کیا کہ ’کسی ایک محاذ پر اس کی خلاف ورزی تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھی جائے گی اور کسی بھی خلاف ورزی کے نتائج کے ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل ہوں گے۔‘

  9. امریکہ-ایران جنگ میں پاکستان کی ثالثی کو یورپ میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے: یورپی یونین کی اعلی نمائندہ کاجا کالاس

    @ForeignOfficePk

    ،تصویر کا ذریعہ@ForeignOfficePk

    یورپی یونین کی اعلی نمائندہ کاجا کالاس کا کہنا ہے کہ امریکہ-ایران جنگ میں پاکستان کی ثالثی کو یورپ میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

    اسلام آباد میں نائب وزیراعظم و وزارِ خارجہ اسحاق ڈارکے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کاجا کالاس کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ مختصر دورہ ہے، لیکن ایک اہم وقت پر ہو رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ آج نائب وزیر اعظم اور میں نے مشرقِ وسطیٰ سمیت اہم عالمی پیش رفت پر تبادلۂ خیال کیا۔ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان اہم ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ ’آپ کی سفارتی کوششوں نے کئی مواقع پر مکمل جنگ کے خطرے کو ٹالنے میں مدد دی ہے، اور یورپ میں ان کوششوں کو بہت سراہا جاتا ہے۔‘

    ’آپ کی حمایت سے اب جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک نازک سفارتی موقع پیدا ہوا ہے۔ تاہم امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی عارضی مفاہمت کے بعد ایران کے جوہری ذخیرے اور دیگر اہم مسائل پر مذاکرات ضروری ہوں گے اور دیرپا استحکام کے لیے زیادہ جامع حل درکار ہوں گے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ یورپی یونین ایک پائیدار اور پُرامن حل میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ ہمارے پاس اقتصادی اثر و رسوخ، جوہری امور میں مہارت، خلیجی ممالک کے ساتھ دیرینہ تعلقات اور ایران کے ساتھ براہِ راست روابط موجود ہیں۔

    یورپی یونین کی اعلی نمائندہ کا کہنا تھا کہ اس خطے میں پاکستان افغانستان کے ساتھ تنازعے میں الجھا ہوا ہے۔ حالیہ ہفتوں کی لڑائی کے سنگین انسانی نتائج برآمد ہوئے ہیں اور اس سے مزید عدم استحکام اور انتہا پسندی کے فروغ کا خطرہ بھی پیدا ہوا ہے۔

    ’اسی لیے ہم مسلسل دونوں فریقوں سے تحمل اور کشیدگی میں کمی کی اپیل کرتے رہے ہیں۔ پاکستان کو بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے اور اپنے عوام کے دفاع کا حق حاصل ہے۔‘

    کاجا کالاس کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک اہم علاقائی طاقت اور یورپی یونین کا اہم شراکت دار ہے۔ آج ہماری بات چیت کے دوران ہم نے پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ خصوصاً تجارت کے میدان میں پہلے ہی مضبوط پیش رفت موجود ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے، جو چین اور امریکہ دونوں سے مل کر بھی بڑی ہے۔ پاکستان یورپی یونین کی تجارتی ترجیحات (جی ایس پی پلس) سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ملک ہے۔ تاہم اس کے ساتھ واضح شرائط بھی وابستہ ہیں۔ یورپی منڈی تک ترجیحی رسائی کا تسلسل ان بین الاقوامی معاہدوں کے نفاذ میں پیش رفت پر منحصر ہے جن پر یہ نظام قائم ہے۔ اس میں اچھی حکمرانی، ماحولیاتی تحفظ، اور خاص طور پر مزدوروں اور انسانی حقوق شامل ہیں۔

    کاجا کالاس کا کہنا تھا کہ کہ ہم پاکستان سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ان شعبوں میں عملی اور واضح پیش رفت کا مظاہرہ کرے گا۔ تجارت کے علاوہ ہم موسمیاتی استحکام، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، صاف توانائی، ہجرت اور نقل و حرکت سمیت متعدد شعبوں میں تعاون کو بھی وسعت دے رہے ہیں اور عوامی سطح کے روابط بھی ہماری شراکت داری کا ایک اہم حصہ ہیں۔

    اس موقع پر اسحاق ڈار نے یورپی کمیشن کی نائب صدر کو ان کے پہلے دورہ پاکستان پر خوش آمدید کہا اور امریکہ-ایران جنگ میں پاکستان کی ثالثی کی حمایت پر یورپی یونین کا شکریہ ادا کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ کاجا کالاس کا اسلام آباد آنا پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان شراکت داری میں بڑھتی ہوئی پیش رفت کی علامت ہے۔ کاجا کلاس میری مستقل رابطہ کار رہی ہیں۔ ہمارے درمیان بااعتماد تبادلۂ خیال پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان موجود اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ گذشتہ برس انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ کے دوران ہم مسلسل رابطے میں رہے، اور اسی طرح امریکہ اور ایران کے درمیان علاقائی تنازعے کے دوران بھی رابطے میں ہیں۔

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یورپی یونین امن، سفارت کاری، جمہوریت اور انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ ہم یورپی یونین اور اس کے رکن ممالک کے ساتھ تعمیری روابط کے لیے پُرعزم ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان-یورپی یونین سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان 2019 کے تحت مختلف شعبوں میں تعاون کا جائزہ لیا، جن میں تجارت، سرمایہ کاری، ترقی، انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی، ہجرت و نقل و حرکت، اور سلامتی و انسدادِ دہشت گردی شامل ہیں۔

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ یورپی یونین پاکستان کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے، اور باہمی تجارتی حجم تقریباً 12 ارب یورو ہے۔ جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں کے لیے فائدہ مند ماڈل ہے۔ آج ہماری گفتگو کا مرکز باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کو مزید فروغ دینا تھا۔

    نائب وزیراعظم نے بتایا کہ آج انھوں نے علاقائی اور عالمی مسائل پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا، جن میں امریکہ-ایران تنازعہ، جنوبی ایشیا، افغانستان، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کی صورتحال شامل تھی۔

    ’میں نے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں میں یورپی یونین کی حمایت پر کاجا کالاس کا شکریہ ادا کیا۔ ہم اپنی کوششوں کے اعتراف پر شکر گزار ہیں اور تنازعے کے جامع اور دیرپا حل کے لیے کام جاری رکھیں گے۔‘

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ’میں نے انھیں پاکستان کے خلاف انڈین جارحیت پر اپنی تشویش سے آگاہ کیا اور کشمیر تنازعے کے حل کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کی وضاحت کی، جو کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔‘

    ’مزید برآں، میں نے بتایا کہ سندھ طاس معاہدے کے بارے میں پاکستان کا مؤقف ثالثی عدالت کے اضافی فیصلے سے درست ثابت ہوا ہے، جو رتلے اور کشن گنگا پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن تنازعات سے متعلق تھا۔ اس فیصلے نے پاکستان کے اس بنیادی مؤقف کی توثیق کی کہ معاہدہ مغربی دریاؤں پر انڈیا کے پانی کے کنٹرول کی صلاحیت پر واضح حدود عائد کرتا ہے۔

    نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’ہم نے سلامتی اور دہشت گردی کے مسائل پر بھی بات کی، جن میں افغانستان کی سرزمین پر موجود فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان عناصر شامل ہیں۔ پاکستان کے خلاف ان کے مسلسل حملے ہماری سب سے بڑی تشویش ہیں۔‘

    ’میں نے کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانے اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں کی مستقل پاسداری کی ضرورت پر زور دیا تاکہ موجودہ اور ابھرتے ہوئے عالمی چیلنجز کا مؤثر اور معتبر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔‘

  10. واشنگٹن مسلسل اپنے مؤقف میں تبدیلی اور متضاد و مختلف میڈیا پیغامات کے ذریعے مذاکرات کے عمل کو پیچیدہ بنا رہا ہے: اسماعیل بقائی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا آغاز ’شدید شکوک و شبہات اور بداعتمادی‘ کے ماحول میں ہوا تھا اور پیغامات کا تبادلہ اب بھی اسی فضا میں جاری ہے۔

    سوموار کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے امریکہ پر مذاکراتی عمل کو طول دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’واشنگٹن مسلسل اپنے مؤقف میں تبدیلی اور متضاد و مختلف میڈیا پیغامات کے ذریعے اس عمل کو پیچیدہ بنا رہا ہے۔‘

    انھوں زور دیا کہ ’مذاکرات یا سفارت کاری بذاتِ خود فریقین کے درمیان اعتماد کی علامت یا اس کا نتیجہ نہیں ہوتے۔‘

    اسماعیل بقائی نے بتایا کہ واشنگٹن کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، تاہم جنگ بندی کے باوجود ایران اور امریکہ کے درمیان وقفے وقفے سے فائرنگ اور حملوں کے واقعات جاری ہیں، جن میں حالیہ ہفتوں کے دوران اضافہ بھی دیکھا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ حالیہ واقعے میں پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا کہ امریکہ کی جانب سے سیرک جزیرے پر حملے کے جواب میں امریکہ کے خلاف کارروائی کی۔‘

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکہ اور اسرائیل کو ’دو الگ الگ فریق‘ تصور نہیں کیا جا سکتا۔

    انھوں نے لبنان میں جنگ بندی کے حوالے سے ایران کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ’لبنان میں جنگ بندی کسی بھی معاہدے اور جنگ کے خاتمے کا لازمی حصہ ہے۔‘

  11. نیتن یاہو کا اسرائیلی فوج کو بیروت کے جنوبی علاقوں میں اہداف پر حملوں کا حکم

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے ایک بیان میں ملکی فوج کو لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں اہداف کو نشانہ بنانے کا حکم دے دیا ہے۔

    جس علاقے پر حملے کا حکم دیا گیا ہے وہ ’ضاحیہ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے اور اسے حزب اللہ کا اہم گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔

    اس سے قبل لبنان کے صدر کی جانب سے ایک بیان سامنے آیا تھا کہ جس میں انھوں نے اپنے ملک پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی تھی۔

    دوسری جانب لبنان کی صورتحال پر غور کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس آج منعقد ہوگا، جس میں خطے کی تازہ کشیدگی اور سکیورٹی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

  12. یورپی یونین کا حقِ دفاع کا استعمال کرنے والوں کو موردِ الزام ٹھہرانا ’منافقت‘ ہے: ایران

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ’یورپی یونین کا حقِ دفاع کا استعمال کرنے والوں کو موردِ الزام ٹھہرانا ’منافقت ہے۔‘

    ایکس پر جاری بیان میں اُن کا کہنا تھا کہ ’ایران کی جانب سے ہمسایہ مُمالک میں امریکی فوج کی تنصیبات اور اڈوں کو نشانہ بنانا حقِ دفاع کے ذمرے میں آتا ہے کیونکہ یہ وہی مقامات ہیں کہ جنھیں ایران کے خلاف کارروائیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔‘

    ایکس پر اُن کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ ’یورپی یونین کو قانون کی حکمرانی اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے اُن اصولوں پر قائم رہنا چاہیے جن کا وہ طویل عرصے سے دعویٰ کرتی آئی ہے۔‘

    اسماعیل بقائی نے کہا کہ یورپی یونین کو چاہیے کہ ’جارح قوتوں کو خوش کرنے کے بجائے اُن ممالک کو موردِ الزام ٹھہرانا بند کرے جو غیر قانونی حملوں کا جواب دیتے ہیں اور اپنا حقِ دفاع استعمال کرتے ہیں۔‘

    اُن کی جانب سے ایکس پر اپنے بیان میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ ’ایران کی جانب سے اُن اڈوں اور اثاثوں کو نشانہ بنانا، جو ایران پر غیر قانونی حملوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں، بین الاقوامی قانون کے تحت جائز ہے۔‘

    اسماعیل بقائی کا اپنے بیان کے آخر پر کہنا تھا کہ ’ریاستوں پر یہ واضح قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی سرزمین یا اثاثوں کو کسی دوسرے ملک پر حملے کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔‘

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  13. لبنانی صدر نے ’اسرائیلی جارحیت‘ کو ’وحشیانہ اور ناقابلِ قبول‘ قرار دے دیا

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لبنان کے صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ ان کا ملک اسرائیل کی ’وحشیانہ اور ناقابلِ قبول جارحیت‘ کا سامنا کر رہا ہے۔

    صدر عون نے یہ بیان اسرائیل کی جانب سے حزب اللہ کے خلاف حملوں میں شدت آنے اور تاریخی اور سٹریٹجک اہمیت کے حامل قلعے پر قبضے کے بعد دیا۔

    ایکس پر جاری اپنے پیغام میں صدر عون نے اسرائیلی کارروائی کی شدید مذمت کی اور عہد کیا کہ وہ لبنانی عوام، خصوصاً جنوبی لبنان کے رہائشیوں کی مشکلات اور مصائب کے خاتمے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔

    دوسری جانب لبنان کی صورتحال پر غور کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج نیویارک میں منعقد ہونے والا ہے۔

    یہ اجلاس ایسے وقت میں طلب کیا گیا ہے جب اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے شقیف قلعے پر قبضے کو تنازع کے رخ میں ’اہم اور بنیادی تبدیلی‘ قرار دیا ہے۔

  14. ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن ڈیموکریٹس اور رریپبلکنز میرا کام مشکل بنا دیتے ہیں: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہKevin Dietsch/Getty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران واقعی ایک معاہدہ کرنا چاہتا ہے، اور یہ ’امریکہ اور ان لوگوں کے لیے ایک اچھا معاہدہ ہوگا جو ہمارے ساتھ ہیں۔‘

    اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر انھوں نے لکھا کہ ڈیموکریٹس اور ریپبلکن جماعت کے اراکین کی طرف سے منفی تبصرے ان کے لیے کام کو درست طریقے سے انجام دینا اور مذاکرات کرنا مشکل بنا دیتے ہیں۔

    انھوں نے ڈیموکریٹس کو بطور طنز ڈمبوکریٹس لکھا، اور طنز کرنے والے ریپبلکن اراکین کو غیر محبِ وطن قرار دیا۔

    انھوں نے لکھا: ’بس آرام سے بیٹھے رہیں، آخر میں سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا، ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے!‘

    امریکی صدر ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹ

    ،تصویر کا ذریعہtruthsocial.com/@realDonaldTrump

  15. فضائی دفاعی نظام کا میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ جاری: کویتی فوج کا دعوی

    کویت کی افواج کا دعویٰ ہے کہ ملک کا فضائی دفاعی نظام ’دشمن کے میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کرنے میں مصروف ہے۔‘

    کویتی فوج کے جنرل سٹاف کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اگر دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں تو وہ دراصل فضائی دفاعی نظام کی جانب سے حملہ آور میزائلوں اور ڈرونز کو فضا ہی میں تباہ کرنے کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں۔‘

    بیان میں شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کردہ سکیورٹی اور حفاظتی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔

    تاہم بیان میں اس بات کا ذکر موجود نہیں ہے کہ کویت میں کس علاقے میں ان حملوں کا مقابلہ کیا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ تہران نے گزشتہ ہفتے کویت میں ایک فضائی اڈے کو امریکی فضائی حملوں کے جواب میں نشانہ بنایا تھا جن کے بارے میں اس نے کہا کہ وہ ایرانی کشتیوں اور میزائل حملوں کو شپنگ چینل کے اطراف بارودی سرنگیں بچھانے سے روکنے کے لیے کیے گئے تھے۔

  16. ایران میں حکومت مخالف احتجاج کے دوران گرفتار دو مظاہرین کو پھانسی دے دی گئی: ایرانی عدلیہ سے وابستہ خبر رساں ادارے میزان کا دعوی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی عدلیہ سے وابستہ خبر رساں ادارے میزان نے خبر دی ہے کہ جنوری میں حکومت مخالف احتجاج کے دوران گرفتار کیے گئے دو افراد کو پھانسی دے دی گئی ہے۔ ان افراد کو تہران میں ہونے والے ہنگاموں سے متعلق مقدمے میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔

    میزان نیوز ایجنسی کے مطابق ان افراد کی شناخت مہرداد محمدنیا اور اشکان ملکی کے ناموں سے کی گئی ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں افراد پر عدالت نے ’مسجد کو آگ لگانے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور سکیورٹی فورسز سے جھڑپوں‘ جیسے الزامات کے تحت مقدمہ چلایا اور بعد ازاں انھیں سزائے موت سنائی گئی۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی عدلیہ کے مطابق دونوں افراد کی سزائے موت کو ملک کی سپریم کورٹ نے بھی توثیق کی تھی، جس کے بعد انھیں پھانسی دی گئی۔

    تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں، جن میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ایران سے متعلق خصوصی نمائندہ بھی شامل ہیں، نے ایران میں سزائے موت کے بڑھتے ہوئے استعمال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ مائی ساتو نے کہا ہے کہ ایران سزائے موت کو ’احتجاج کو دبانے، معاشرے میں خوف پیدا کرنے اور اختلاف رائے پر پابندی لگانے‘ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

  17. یوکرین پر روسی ڈرون حملے: خارکیف اور اوڈیسا میں شہری علاقوں کو نشانہ، متعدد افراد زخمی

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    یوکرین کے شہر خارکیف اور اوڈیسا میں روسی ڈرون حملوں کے نتیجے میں شہری علاقوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    خارکیف علاقائی فوجی انتظامیہ کے سربراہ اولیگ سینیہوبوف کے مطابق اتوار اور سوموار کی درمیانی شب خارکیف کے ضلع اوسنویانسکی پر ڈرون حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوئے۔ حملے میں ایک پانچ منزلہ رہائشی عمارت اور قریبی بلند عمارتوں کو نقصان پہنچا۔

    حکام کے مطابق ایک گاڑی اور پانچ گیراج بھی متاثر ہوئے، جبکہ دو گیراج مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔

    سینیہوبوف نے بتایا کہ روسی افواج نے بوگودوخوف شہر پر بھی ڈرون حملہ کیا، جس میں 39 سالہ خاتون زخمی ہوئیں۔

    خارکیف کے میئر ایگور ٹیریکوف کے مطابق شہر کے سلوبودسکی اور کییفسکی اضلاع میں بھی حملوں کی اطلاعات ملی ہیں۔ ان کے مطابق ایک روسی ’مولنیا‘ ڈرون نے کھولودنوہیرسکی ضلع کو نشانہ بنایا جس سے تین نجی مکانات کو نقصان پہنچا۔

    ادھر اوڈیسا میں بھی رات بھر دو بار روسی ڈرون حملے کیے گئے۔

    شہر کی فوجی انتظامیہ کے سربراہ سرہی لیساک کے مطابق ان حملوں میں دو افراد شدید زخمی ہوئے جنھیں ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ دیگر زخمیوں کو موقع پر ہی طبی امداد فراہم کی گئی۔

    انھوں نے اپنے ٹیلیگرام چینل پر بتایا کہ مختلف علاقوں میں رہائشی عمارتیں، ایک انتظامی عمارت اور بنیادی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے۔

    حکام کے مطابق حملوں کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ نقصان کا مکمل تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔

  18. ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد حملہ آور فضائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا: پاسدارنِ انقلاب کا دعویٰ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اُن کی ایرو سپیس فورس نے اس فضائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے جہاں سے مبینہ طور پر سیریک جزیرے کے ایک ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور پر امریکہ کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا۔

    پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں اس فضائی اڈے کے مقام کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

    بیان کے مطابق یہ کارروائی ’امریکی فوج کی جانب سے ایک گھنٹہ قبل کی گئی جارحیت‘ کے جواب میں کی گئی۔

    پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ اس کی فورسز نے ’اس فضائی اڈے کو نشانہ بنایا جہاں سے جارحیت کا آغاز ہوا تھا‘ اور حملے کے دوران مقررہ اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا۔

    بیان میں حملے سے ہونے والے ممکنہ جانی اور مالی نقصانات کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں دی گئیں، جبکہ امریکی حکام کی جانب سے بھی فوری طور پر اس دعوے پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ امریکی افواج نے ایران کے اندر واقع ریڈار اور ڈرون کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز پر ’دفاعی کارروائی‘ کے تحت حملے کیے ہیں۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ کارروائیاں سنیچر اور اتوار کے روز ایران کے شہر گوروک اور جزیرہ قشم پر کی گئیں۔

  19. ایرانی جزائر پر ریڈار اور ڈرون کنٹرول مراکز کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے: امریکی سینٹرل کمانڈ کا دعویٰ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی سینٹرل کمانڈ ے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے ایران کے اندر واقع ریڈار اور ڈرون کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز پر ’دفاعی کارروائی‘ کے تحت حملے کیے ہیں۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ کارروائیاں سنیچر اور اتوار کے روز ایران کے شہر گوروک اور جزیرہ قشم پر کی گئیں۔

    امریکی فوج کے مطابق یہ کارروائیاں ایران کی ’جارحانہ سرگرمیوں‘ کے جواب میں کی گئیں، جن میں ایک امریکی ’ایم کیو ون‘نامی ڈرون کو بین الاقوامی فضائی حدود میں مار گرانا بھی شامل تھا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی جنگی طیاروں نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے ایران کے فضائی دفاعی نظام، ایک زمینی کنٹرول سٹیشن اور دو خودکش حملہ آور ڈرونز کو تباہ کر دیا جو علاقائی سمندری راستوں سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے خطرہ بن سکتے تھے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اس کارروائی میں کسی امریکی فوجی کو نقصان نہیں پہنچا۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ وہ جاری جنگ بندی کے دوران بھی ایران کی ’بلاجواز جارحیت‘ کے جواب میں امریکی اثاثوں اور مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی۔

  20. ایران میں سکیورٹی کریک ڈاؤن تیز: اسرائیل کو معلومات فراہم کرنے کے الزام میں دو افراد گرفتار، 75 افراد کے اثاثے ضبط

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے شمال مغربی صوبے مغربی آذربائیجان کے شہر ارومیہ میں پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس ونگ نے دو افراد کو اسرائیل کو حساس معلومات فراہم کرنے کے شبہے میں گرفتار کر لیا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق گرفتار افراد پر الزام ہے کہ انھوں نے اسرائیل کو سکولوں، مساجد اور بسیج مراکز کی تصاویر اور معلومات فراہم کیں۔ رپورٹ میں انھیں ’کرائے کے ایجنٹ‘ اور ’غدار‘ قرار دیا گیا ہے۔ تسنیم کے مطابق بعد ازاں ان افراد نے انہی مقامات کی تصاویر بھی شیئر کیں جب وہ بمباری کا نشانہ بنے۔

    سرکاری خبر رساں ادارے آئی آر آئی بی نیوز کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی زمینی فورس کے حمزہ سیدالشہدا ہیڈکوارٹر نے بتایا کہ یہ کارروائی ایران کے صوبے مغربی آذربائیجان میں انٹیلی جنس آپریشنز کے نتیجے میں عمل میں آئی۔

    بیان کے مطابق ضبط شدہ سامان میں جدید کیمرے اور نگرانی کے آلات شامل تھے، جو مبینہ طور پر ’علیحدگی پسند گروہوں‘ تک پہنچائے جانے تھے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ ان گروہوں کو ’دشمن کی خفیہ ایجنسیوں‘ کی حمایت حاصل ہے۔

    صوبہ خوزستان میں پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے 264 آتشیں اسلحہ قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔

    تسنیم نیوز کے مطابق پولیس ترجمان نے بتایا کہ برآمد شدہ اسلحے میں 96 جنگی ہتھیار، 168 رائفلیں اور تقریباً چار ہزار گولیاں شامل ہیں جبکہ کارروائیوں کے دوران 187 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

    دوسری جانب ایرانی عدلیہ سے منسلک خبر رساں ادارے میزان نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ صوبہ مرکزی میں ’دشمن کی حمایت‘ کے الزام میں 75 افراد کے اثاثے ضبط کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

    میزان کے مطابق صوبہ مرکزی کے چیف جسٹس حجت اللہ درودگر نے کہا کہ صوبائی دارالحکومت اراک میں ’غیر ملکی میڈیا‘ سے رابطوں کے الزام میں مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔

    انھوں نے ایسے روابط کو ’ناقابلِ معافی جرم‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام کی سلامتی اور اسلامی جمہوریہ ایران کا تحفظ ملک کی ’سرخ لکیر‘ ہے۔

    ان کے بقول ’غداری‘ اور غیر ملکی دراندازی کے خلاف کارروائی میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی اور ملوث افراد کو سخت ترین قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔