یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
25 مئی کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’مذاکرات منظم اور تعمیری انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں‘ اور انھوں نے امریکی ٹیم کو ’کسی معاہدے میں جلدی نہ کرنے‘ کا کہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’وقت ہمارے حق میں ہے۔‘
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
25 مئی کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ میں ڈیموکریٹک رکنِ کانگریس رو کھنہ نے این بی سی نیوز کے پروگرام میٹ دی پریس میں کہا ہے کہ اب کانگریس میں ’وار پاورز ریزولوشن‘ منظور کرانے کے لیے مطلوبہ حمایت موجود دکھائی دیتی ہے۔
پس منظر کے طور پر یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ امریکی ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکن قیادت نے جمعرات کو اس قرارداد پر ووٹنگ منسوخ کر دی تھی، جس کے تحت صدر ٹرمپ کو ایران سے امریکی افواج واپس بلانے پر مجبور کیا جا سکتا تھا، کیونکہ واضح ہو گیا تھا کہ ریپبلکن اراکین کے پاس اس قانون سازی کو روکنے کے لیے ووٹ ناکافی ہیں۔
رو کھنہ نے کہا کہ ’بہت سے ریپبلکن یہ سمجھتے ہیں کہ جنگ ختم ہونی چاہیے۔ انھوں نے کسانوں سے بات کی ہے جو کہہ رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور کنٹرول کے باعث نائٹروجن، امونیا اور یوریا کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ عوام مہنگے پیٹرول کی وجہ سے بھی مشکلات کا شکار ہیں۔‘
رو کھنہ کے بقول ’یہ تمام صورتحال ٹرمپ پر مذاکرات کی طرف آنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ کانگریس اہم ہے۔ حتیٰ کہ اگر قرارداد منظور نہ بھی ہو، تب بھی ہم صدر پر دباؤ ڈالتے ہیں اور امید ہے کہ یہ جنگ ختم ہو جائے گی۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ اسرائیل لبنان سمیت ہر محاذ پر خطرات کے خلاف ’آزادانہ طور پر کارروائی کرنے کا حق برقرار رکھے گا۔‘
عہدیدار کے مطابق امریکہ، اسرائیل کو اس مفاہمتی یادداشت سے متعلق مذاکرات پر مسلسل آگاہ کر رہا ہے، جس کا مقصد ’آبنائے ہرمز کو کھولنا اور متنازع نکات پر حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات شروع کرنا‘ ہے۔
اسرائیلی عہدیدار نے مزید کہا ہے کہ ’صدر ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنے اور اس کی سرزمین سے تمام افزودہ یورینیم ہٹانے کے اپنے مستقل مؤقف پر سختی سے قائم رہیں گے اور ان شرائط کو تسلیم کیے بغیر کسی حتمی معاہدے پر دستخط نہیں کریں گے۔‘
واضح رہے کہ اس سے قبل اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی یہ بات کہہ چُکے ہیں کہ جب تک ’جوہری خطرہ‘ مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاتا، ایران کے ساتھ کوئی حتمی معاہدہ ممکن نہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ انھوں نے گزشتہ رات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کی تازہ صورتحال پر بات چیت کی۔
ایکس پر جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ صدر ٹرمپ اور اُن کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ ’ایران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے۔‘
انھوں نے کہا کہ اس عمل میں ایران سے ’افزودہ جوہری مواد‘ کا خاتمہ اور تہران کی یورینیم افزودگی کی تنصیبات کو ختم کرنا بھی شامل ہے۔
نیتن یاہو نے مزید کہا کہ ’میری پالیسی، صدر ٹرمپ کی طرح، تبدیل نہیں ہوئی ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنے مکمل بیان میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والا سابق جوہری معاہدہ امریکی تاریخ کے ’بدترین معاہدوں میں سے ایک‘ تھا، جو باراک اوباما اور ان کی انتظامیہ کے دور میں طے پایا۔
انھوں نے کہا کہ وہ معاہدہ ایران کے جوہری ہتھیار بنانے کی طرف ایک ’براہ راست قدم‘ تھا، تاہم ان کی انتظامیہ کی جانب سے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات اس کے برعکس ہیں۔
صدر ٹرمپ کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ’منظم اور تعمیری انداز میں‘ جاری ہیں اور انھوں نے اپنے نمائندوں کو ہدایت دی ہے کہ کسی معاہدے میں جلد بازی نہ کی جائے کیونکہ ’وقت امریکہ کے حق میں ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ایران پر امریکی پابندیاں کسی معاہدے کے طے، تصدیق اور دستخط ہونے تک برقرار رہیں گی اور فریقین کو مکمل احتیاط کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔
ٹرمپ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’کوئی غلطی کی گنجائش نہیں‘ اور امریکہ و ایران کے تعلقات زیادہ پیشہ ورانہ اور مثبت سمت میں جا رہے ہیں، تاہم ایران کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ جوہری ہتھیار یا بم حاصل نہیں کر سکتا۔‘
انھوں نے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کا تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ تعاون مستقبل میں مزید مضبوط ہوگا، خصوصاً ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت کے ذریعے۔
انھوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ ممکن ہے کہ ایران بھی مستقبل میں ان معاہدوں کا حصہ بننے میں دلچسپی لے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بحرین کی ایک عدالت نے 11 افراد کو پاسدارانِ انقلاب سے تعاون کے الزام میں قید کی سزائیں سنائی ہیں۔
بحرین کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ان افراد پر الزام تھا کہ انھوں نے بحرین کے خلاف ’دشمن کا ساتھ دیا اور شدت پسندانہ کارروائیوں‘ کے لیے پاسدارانِ انقلاب سے تعاون کیا۔ عدالت نے نو افراد کو عمر قید جبکہ دو افراد کو تین سال قید کی سزا سنائی ہے۔
سرکاری بیان کے مطابق ملزمان پر حساس مقامات سے متعلق معلومات جمع کرنے اور ان سرگرمیوں سے جڑے مالی لین دین میں سہولت کاری کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا۔
بحرینی وزارتِ داخلہ نے نو مئی کو اعلان کیا تھا کہ اس نے پاسدارانِ انقلاب سے مبینہ تعلق رکھنے والے 41 افراد کو گرفتار کیا ہے۔
اس وقت وزارتِ داخلہ کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ ایک گروہ کو بے نقاب کیا ہے، جبکہ پراسیکیوشن کی تحقیقات میں ایران کے حملوں سے ’ہمدردی‘ رکھنے کے معاملات بھی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں اور جنگ کے آغاز کے بعد بحرین اور خلیج فارس کے دیگر عرب ممالک، جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں، میں بعض اہداف پر حملے کیے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انھوں نے مذاکرات کاروں کو کسی بھی معاہدے میں جلد بازی نہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔
ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’مذاکرات منظم اور تعمیری انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں‘ اور انھوں نے امریکی ٹیم کو ’کسی معاہدے میں جلدی نہ کرنے‘ کا کہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’وقت ہمارے حق میں ہے۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کسی بھی حتمی معاہدے تک برقرار رہے گی۔
انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے مکمل بیان جلد جاری کیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
امریکی ایوانِ نمائندگان کے سپیکر مائیک جانسن نے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر بات کی ہے اور کہا ہے کہ انھیں مکمل یقین ہے کہ یہ معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے گا۔
انھوں نے کہا کہ ’میں نے گزشتہ رات دیر گئے صدر ٹرمپ سے بات کی۔ وہ ابتدا سے جتنے پُرعزم تھے، اب بھی اتنے ہی پُرعزم ہیں۔‘
ایوانِ نمائندگان میں اعلیٰ ترین ریپبلکن رہنما کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان زیرِ غور موجودہ تجویز میں ’تفصیلات کو حتمی شکل دینے کے لیے 60 دن کی مدت‘ شامل ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کی سب سے بڑی شرط یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم جوہری مسئلے کو مکمل طور پر حل کر دیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ پیش رفت پر امریکی قانون سازوں کی رائے سامنے آنا شروع ہو گئی ہے، تاہم اس وقت تفصیلات محدود ہیں۔
ڈیموکریٹک کانگریس مین جم ہائمز نے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے مزید تفصیلات کا مطالبہ کیا۔
انھوں نے کہا کہ ’جب تک حتمی معاہدہ نہ ہو جائے، تب تک کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ اس وقت جو کچھ ہے وہ صرف ایک فریم ورک ہے۔‘ ہائمز کے مطابق اگر لیک ہونے والی تفصیلات درست ہیں تو ’ایرانیوں کو تیل کی برآمد کی اجازت مل جائے گی۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’بظاہر یہ معاہدہ فوری طور پر پابندیوں میں نرمی پر مشتمل ہو سکتا ہے۔‘ ان کے بقول ’اس کے سوا کسی نتیجے پر پہنچنا مشکل ہے کہ اس جنگ کی سیاسی حساسیت کے باعث صدر ٹرمپ نے عملاً ہتھیار ڈال دیے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی دفاعی افواج نے جنوبی لبنان کے دس دیہات کے رہائشیوں کو ’فوری طور‘ پر علاقے سے نکل جانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
آئی ڈی ایف کے عربی زبان کے ترجمان اویخائے ادرعی نے ایکس پر کہا ہے کہ ’حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کے پیشِ نظر‘ فوج کو ان کے خلاف ’سخت کارروائی کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔‘
یاد رہے کہ لبنان اور اسرائیل نے 15 مئی کو جنگ بندی میں 45 روز کی توسیع پر اتفاق کیا تھا اور فریقین کے درمیان جون کے آغاز میں مذاکرات دوبارہ شروع ہونا تھے۔
اویخائے ادرعی نے متعلقہ علاقوں کے رہائشیوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے گھروں کو خالی کر دیں اور کم از کم ایک ہزار میٹر دور کھلے مقامات کی طرف منتقل ہو جائیں۔
ادھر امریکہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود گزشتہ ماہ اس کے نفاذ کے بعد سے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ’ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کے لیے تیار ہے‘ کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں۔‘
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق صدر پزشکیان نے ٹیلیگرام پر جاری بیان میں کہا کہ ’آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت سے قبل بھی ہم نے اعلان کیا تھا اور آج دوبارہ اسے دہرانے جا رہے ہیں کہ ہم دنیا کو یہ یقین دلانے کے لیے تیار ہیں کہ ہم جوہری ہتھیار نہیں چاہتے۔‘
ارنا کے مطابق ایرانی صدر نے مزید کہا کہ ایران ’خطے میں عدم استحکام نہیں چاہتا‘ بلکہ ’اسرائیلی حکومت ہی خطے کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘
تاہم انھوں نے واضح کیا کہ ایرانی مذاکرات کار ’ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔‘
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے عندیہ دیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج مذاکرات سے متعلق کوئی اہم اعلان کر سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق مجوزہ معاہدے میں 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی شامل ہو سکتی ہے۔
تاہم ابھی تک کسی باضابطہ معاہدے کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ ممکنہ معاہدے پر اب بھی ’ایک یا دو‘ نکات پر اختلافات موجود ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے آج نئی دہلی میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ مذاکرات میں ’نمایاں‘ پیش رفت ہوئی ہے تاہم یہ ابھی ’حتمی‘ نہیں۔
روبیو نے یہ عندیہ بھی دیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج مزید کوئی اعلان کر سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے گزشتہ شب کہا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ’زیادہ تر طے پا چکا ہے۔‘
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ممکنہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کا بھی ذکر موجود ہے، تاہم انھوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
دوسری جانب ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے مسودے کے تحت آبنائے ہرمز ’جنگ سے پہلے کی صورتحال‘ میں واپس نہیں جائے گی، البتہ جہازوں کی آمدورفت سابقہ سطح پر بحال کر دی جائے گی۔
تاحال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یا ایرانی قیادت کی جانب سے آج براہِ راست کوئی بیان اب تک سامنے نہیں آیا۔

،تصویر کا ذریعہIRNA
ایران کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر علی عبداللہی نے کہا ہے کہ ایرانی مسلح افواج ’تاریخ کے دردناک تجربات کو دوبارہ دہرانے کی اجازت نہیں دیں گی‘ اور ’کسی بھی جارحیت کا سخت اور انتہائی شدید انداز میں جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔‘
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق علی عبداللہی نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں منعقدہ ایک تقریب کے موقع پر اپنے پیغام میں اس جنگ کو ’تاریخ کے سنگین ترین واقعات میں سے ایک‘ قرار دیا۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران جنگ کے بعد ’رہبرِ اعلیٰ کی حکمتِ عملی‘ کے تحت ’خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے انتظام‘ کے لیے بھی منصوبہ بندی کرے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سکیورٹی فورسز کی جانب سے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر جاری کارروائیوں کے تسلسل میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں شدت پسندوں کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔‘
آئی ایس پی آر کا بیان میں مزید کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کے دوران 11 شدت پسند مارے گئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ کارروائیوں میں جن شدت پسندوں اور اُن کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے وہاں سے بھاری تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔‘ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے شدت پسند علاقے میں متعدد پرتشدد کارروائیوں میں ملوث تھے۔‘
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’علاقے میں چھپے ہوئے شدت پسندوں کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں، جبکہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے قومی ایکشن پلان کی وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ وژن ’عزمِ استحکام‘ کے تحت غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے بھرپور انسدادِ دہشت گردی مہم جاری رکھیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
معاہدے میں 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع شامل ہو سکتی ہے: امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے اس بارے میں خبر دی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے میں 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے سے متعلق نکات شامل ہیں۔
ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے ایگزیوس نے خبر دی ہے کہ معاہدے میں درج ذیل نکات شامل ہیں:
رپورٹ کے مطابق باہمی رضامندی سے اس معاہدے میں 60 دن سے زائد توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔ تاہم بی بی سی ان اطلاعات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔
ادھر نیویارک ٹائمز نے بھی دو امریکی عہدیداروں کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اس تجویز میں تہران کی جانب سے انتہائی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ترک کرنے کا عندیہ بھی شامل ہے۔
تاہم ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے امریکہ اور ایران کے درمیان مبینہ معاہدے کی مزید تفصیلات جاری کی ہیں جن میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکہ کے ساتھ ابتدائی معاہدے میں ایران کی جوہری پروگرام سے متعلق کوئی یقین دہانی شامل نہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یورپی کمیشن کی سربراہ ارسلا وان ڈر لیئن نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ہونے والی ’پیش رفت‘ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘
ارسلا وان ڈر لیئن نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ کسی بھی معاہدے سے ’حقیقی معنوں میں کشیدگی میں کمی‘ آنی چاہیے اور آبنائے ہرمز میں ’بغیر کسی رکاوٹ مکمل آزادی سے تجارتی سرگرمیاں بحال ہونی چاہیں‘ اور ’محفوظ جہاز رانی‘ کی ضمانت دی جانی چاہیے۔
یورپی کمیشن کی سربراہ ارسلا وان ڈر لیئن نے مزید کہا کہ ایران کو خطے میں ’عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیاں‘ بند کرنا ہوں گی، چاہے وہ براہِ راست ہوں یا اس کے حمایت یافتہ گروہوں کے ذریعے، جبکہ پڑوسی خلیجی ممالک پر ’بار بار حملے‘ بھی روکنے ہوں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’یورپ ایک دیرپا سفارتی حل کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی غرض سے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ کام جاری رکھے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے امریکہ اور ایران کے درمیان مبینہ معاہدے کی مزید تفصیلات جاری کی ہیں جن میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکہ کے ساتھ ابتدائی معاہدے میں ایران کی جوہری پروگرام سے متعلق کوئی یقین دہانی شامل نہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے معاہدے کے مسودہ میں اپنے کسی بھی جوہری مواد کی حوالگی سے متعلق کوئی وعدہ نہیں کیا، جبکہ خبر رساں ادارے کا دعویٰ ہے کہ ’مغربی میڈیا اس کے برعکس خبریں دے رہا ہے۔‘
ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ خبر رساں ادارے کے مطابق جوہری معاملے پر مذاکرات کو ’ممکنہ طور پر جنگ کے خاتمے کے بعد‘ تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔
تسنیم کے مطابق موجودہ مسودہ صرف جنگ کے خاتمے کے معاملے تک محدود ہے اور اس میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق کوئی تفصیلات شامل نہیں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہMehrnews
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے سرکاری نشریاتی ادارے کے مدیران سے ملاقات میں کہا ہے کہ ’قومی سلامتی کونسل کے دائرہ کار سے باہر اور رہبرِ اعلیٰ کی منظوری اور رضا مندی کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔‘
ایرانی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ ’جب سفارت کاری کے شعبے میں کوئی فیصلہ کیا جاتا ہے تو تمام اداروں، پلیٹ فارمز اور سیاسی دھڑوں کو اس کی حمایت کرنی چاہیے تاکہ دنیا تک اسلامی جمہوریہ ایران کی ایک متحد اور مستحکم آواز پہنچے۔‘
انھوں نے سرکاری میڈیا سے مطالبہ کیا کہ وہ ’سماجی ہم آہنگی کے فروغ، نظام کے اہم فیصلوں کی حمایت اور ملک کے سماجی اعتماد میں اضافے‘ کے لیے مزید مؤثر کردار ادا کرے۔
ایرانی صدر کی جانب سے یہ بیان ایرانی پارلیمان کے رکن کامران غضنفری کے اُن بیانات کے بعد سامنے آیا ہے کہ جس میں گزشتہ روز انھوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ صدر مسعود پزشکیان نے رہبرِ اعلیٰ کی اجازت کے بغیر جنگ بندی قبول کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ، ایران مذاکرات پر گذشتہ 48 گھنٹوں میں کچھ پیشرفت ہوئی ہے اور امکان ہے کہ دنیا کو کوئی ’اچھی خبر‘ ملے گی۔
انڈیا میں پریس کانفرنس کے دوران پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ اس اچھی خبر کا تعلق آبنائے ہرمز کے حوالے سے ہے اور ’ایک ایسے عمل کے حوالے سے ہے جو بالآخر ہمیں وہاں پہنچا سکتا ہے جہاں صدر (ٹرمپ) ہمیں دیکھنا چاہتے ہیں، یعنی ایک ایسی دنیا جہاں ایران کے جوہری ہتھیاروں کے خوف سے نجات حاصل ہو چکی ہو۔‘
انھوں نے کہا: ’میرے خیال میں اس حوالے سے کچھ اچھی خبریں ہیں، لیکن حتمی خبریں نہیں ہیں۔‘
امریکی وزیر خارجہ کی گفتگو سے بار بار اس بات کا تاثر ملا کہ امریکہ، ایران مذاکرات میں بات آگے تو بڑھی ہے لیکن معاملات کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچے۔
مارکو روبیو کے الفاظ تھے: ’میں یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ کچھ پیشرفت ہوئی ہے، اہم پیشرفت ہوئی ہے، تاہم حتمی پیشرفت نہیں ہوئی۔‘
پریس کانفرنس میں مارکو روبیو نے کہا کہ مذاکرات کا مقصد یہ ہے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا، اور وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں رکھے گا، ’کم از کم اُس وقت تک تو ہرگز نہیں جب تک ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر ہیں۔‘
مارکو روبیو نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی گزر گاہ ہے اور ’ایران اس کا مالک نہیں ہے۔‘
امریکی وزیر خارجہ کے مطابق ’اس وقت ایران یہ بین الاقوامی آبی گزر گاہ استعمال کرنے والے تجارتی بحری جہازوں کو دھمکا رہا ہے اور کسی بھی بین الاقوامی ضابطے کے تحت یہ غیر قانونی ہے۔‘
مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ اگر ’ہم نے ایسا ہونے دیا تو ایک خطرناک مثال قائم کریں گے۔‘
دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے امریکی وزیر خارجہ نے بتایا کہ گذشتہ 48 گھنٹوں میں کچھ پیشرفت ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں ’نہ صرف آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کا محصول ادا کیے بغیر آمد و رفت بحال ہو گی، بلکہ اُن بعض بنیادی عوامل پر بھی توجہ دی جائے گی جو ماضی میں ایران کے جوہری ہتھیاروں کے عزائم کو ظاہر کرتے رہے ہیں۔‘
مارکو روبیو نے کہا کہ ان کے خیال میں بعض ایسے معاملات کے خدوخال پر پیشرفت ہوئی ہے جن پر عمل ہوا تو مطلوبہ نتائج حاصل ہو جائیں گے۔
امریکی وزیر خارجہ کے مطابق ’اس کے لیے ایران کی منظوری اور تعمیل بھی درکار ہو گی اور اس کی تفصیلات مستقبل میں طے کی جائیں گی۔‘
انھوں نے وضاحت کی: ’مثال کے طور پر جوہری پروگرام ایک تکنیکی معاملہ ہے اور اس پر بات چیت میں کچھ وقت لگے گا۔‘
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ پیشرفت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وہ محتاط اس لیے ہیں ’کیوں کہ آپ کاغذ پر تو کچھ چیزیں طے کر لیتے ہیں لیکن ان پر عمل در آمد بھی ہونا ہوتا ہے۔ جو تحریر میں لکھا جائے، اس پر عمل بھی ہونا ہوتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے امریکہ، ایران مذاکرات میں اہم پیشرفت کا اشارہ دیا ہے۔
پوسٹ میں انھوں نے بتایا کہ آج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں پاکستان، سعودی عرب، ترکی، قطر، مصر، متحدہ عرب امارات اور اردن کے رہنماؤں کی ٹیلی فونک گفتگو ہوئی جو ’خطے میں امن، استحکام اور جلد سفارتی حل کے مشترکہ مقصد کی جانب ایک اہم قدم کی نشاندہی کرتی ہے۔‘
اسحاق ڈار نے لکھا: ’ہم صدر ٹرمپ کی قیادت اور مذاکرات و سفارت کاری کے لیے ان کے عزم کو سراہتے ہیں۔‘
پاکستانی وزیر خارجہ نے نائب امریکی صدر جے ڈی وینس، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور پوری امریکی ٹیم کی کوششوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ’مسلسل شمولیت کے باعث جاری مذاکرات میں با معنی پیش رفت ہوئی۔‘
اسحاق ڈار نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور سپیکر محمد باقر قالیباف سمیت ایرانی قیادت کی مذکرات میں ’تعمیری شمولیت‘ کو بھی سراہا اور ’امن کے لیے کوششیں آگے بڑھانے‘ پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
پاکستان کے نائب وزیر اعظم نے ایکس پر پوسٹ میں لکھا کہ 28 فروری (جس روز امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا) کے بعد سے ان کا سعودی عرب، ترکی، مصر اور قطر سمیت دیگر ممالک سے رابطہ رہا، جن کی ’تعمیری شمولیت اور حمایت نے اس حتمی نتیجے میں اہم کردار ادا کیا۔‘
اسحاق ڈار کے مطابق پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی ’اس حساس اور نتیجہ خیز عمل کے دوران مرکزی کردار‘ ادا کیا۔
وزیر خارجہ نے لکھا کہ مذاکرات سے جو کچھ حاصل ہوا اس سے امید ملتی ہے کہ ’ایک مثبت اور پائیدار نتیجہ دسترس میں ہے۔‘
یاد رہے کہ اس سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ بڑی حد تک معاہدہ طے پا جانے کا دعویٰ کر چکے ہیں اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بہت جلد مذاکرات کے اگلے دور کی میزبانی کا عندیہ دیا ہے۔