شام کے وزیرِ خارجہ اسعد الشیبانی کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات، دفاع اور سکیورٹی کے شعبوں میں تعاون پر اتفاق

،تصویر کا ذریعہISPR
پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق شام کے وزیرِ خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی اور دفاع سمیت دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اس ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، خطے کی سکیورٹی صورتحال اور دفاعی و سکیورٹی شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
یاد رہے کہ یہ دو دہائیوں سے زائد عرصے میں کسی شامی وزیرِ خارجہ کا پہلا دورۂ پاکستان ہے۔ ان کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب شام اور اسرائیل کے تعلقات شدید تناؤ کا شکار ہیں۔
بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس موقع پر شام کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کا ذکر کیا اور عالمی امن و علاقائی استحکام کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔
انھوں نے مشترکہ سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون اور مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق شامی وزیرِ خارجہ نے خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کی مسلح افواج کے پیشہ ورانہ کردار کو سراہا۔
دونوں فریقوں نے دفاع اور سکیورٹی کے شعبوں میں تعاون اور روابط کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔
’اسرائیل کو ہمیں یہ بتانے کا حق نہیں کہ ہمارا اتحادی یا شراکت دار کون ہو سکتا ہے۔‘
یاد رہے کہ شام کے وزیرِ خارجہ اسعد الشیبانی نے جمعرات کے روز اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی حکومت پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے مکہ معاہدے کے تحت ممکنہ تعاون یا شمولیت کے حوالے سے اپنے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے۔

صحافیوں سے گفتگو میں اسعد الشیبانی نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی خطے کے اہم ممالک ہیں اور شام مستقبل میں اس اتحاد کا حصہ بننے یا نہ بننے کے بارے میں فیصلہ کرے گا۔
اسرائیل کی جانب سے 18 اگست کو حلب کے قریب ابو الظہور فضائی اڈے پر حملے اور اسرائیل کے الزامات کے حوالے سے سوال کے جواب میں شامی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ترکی گذشتہ 14 برسوں کے دوران شام اور اس کے عوام کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور وہ شام کا اہم اتحادی ہے۔
انھوں نے کہا، ’اسرائیل کو ہمیں یہ بتانے کا کوئی حق نہیں کہ ہمارا اتحادی یا شراکت دار کون ہو سکتا ہے۔‘
ایران کے ساتھ تعلقات سے متعلق ایک سوال پر اسعد الشیبانی نے کہا کہ ان کے دورۂ پاکستان کے دوران اسلام آباد کی جانب سے شام اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوئی پیشکش نہیں کی گئی۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران شام اور اس کے عوام کے ساتھ اپنے ماضی کے کردار کو تسلیم کرے اور اس کے بعد پاکستان دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی پیشکش کرے تو دمشق کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔






