آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, برطانیہ کا سعودی عرب کے دفاع کے لیے رائل ایئر فورس کے ٹائفون لڑاکا طیارے تعینات کرنے کا اعلان

برطانوی وزیراعظم کی جانب سے یہ فیصلہ سعودی دارالحکومت ریاض اور ملک کے ساحلی علاقوں میں توانائی کی تنصیبات پر حوثیوں کے حملوں کے بعد کیا گیا ہے۔ تاہم برطانوی وزیرِ دفاع ویس سٹریٹنگ نے منگل کو ایک تحریری بیان میں کہا کہ ’یہ طیارے دفاعی کردار ادا کریں گے اور حوثیوں پر حملے نہیں کریں گے۔‘

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششیں جاری رکھے گا: اسحاق ڈار

    ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششیں جاری رکھے گا۔

    منگل کو تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہانِ حکومت کے 25ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ ’پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ علاقائی کشیدگی کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری سب سے مؤثر ذرائع ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’مغربی ایشیا اور خلیج فارس میں فریقین کے درمیان رابطوں کو ممکن بنانے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی کوششیں تعمیری سفارت کاری کے عزم کی عکاس ہیں۔‘

    اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ ’پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششیں جاری رکھے گا اور دیرپا امن و استحکام کے لیے مذاکرات اور تنازعات کے پُرامن حل کی تمام کوششوں کی حمایت کرے گا۔‘

    انھوں نے زور دیا کہ ’پاکستان کی سفارتی حکمتِ عملی اس یقین پر مبنی ہے کہ علاقائی مسائل کے حل کے لیے اجتماعی تعاون پر مبنی اور پائیدار کثیرالجہتی اقدامات ضروری ہیں۔‘

  2. ایرانی صدر پزشکیان نے مجید ابن الرضا کو دفاعی امور کا مشیر مقرر کر دیا

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ایک حکم نامے کے ذریعے مجید ابن الرضا کو دفاعی امور کا مشیر مقرر کیا ہے۔

    ایران کے سابق وزیرِ دفاع عزیز ناصر زادہ 29 مارچ کو ہونے والے حملے میں ہلاک ہو گئے تھے، جس کے بعد مجید ابن الرضا نے وزارتِ دفاع کے قائم مقام سربراہ کی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔

    اتوار کو پارلیمان کی جانب سے مہرداد اخلاقی کو نیا وزیرِ دفاع مقرر کرنے کی منظوری کے بعد یہ عبوری انتظام ختم ہو گیا۔

    مجید ابن الرضا اس سے قبل وزارتِ دفاع کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ اگست میں عزیز ناصر زادہ کی تجویز اور اس وقت اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی منظوری سے انھیں نائب وزیرِ دفاع مقرر کیا گیا تھا۔

  3. یمن میں تازہ لڑائی کے باعث ڈھائی لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں: اقوامِ متحدہ

    اقوامِ متحدہ نے منگل کو بتایا ہے کہ یمن میں دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے باعث اب تک ڈھائی لاکھ سے زیادہ افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

    عالمی ادارے نے تعز شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں پناہ لینے والے افراد کی صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ان علاقوں تک رسائی تقریباً ناممکن ہو چکی ہے۔

    اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہا کہ حوثیوں نے تعز سے عدن جانے والا واحد راستہ بند کر کے انسانی امداد کی ترسیل اور ضروری اشیا تک رسائی روک دی ہے، جس سے عام شہریوں کی زندگیاں شدید خطرے میں ہیں۔

    انھوں نے حوثی ملیشیا سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر تعز میں امداد کی فراہمی کی اجازت دے۔

    وولکر ترک کے مطابق صوبے بھر میں اب تک 32 شہریوں کی ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں 14 بچے اور نو خواتین شامل ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ تعز کی صورتِ حال خاص طور پر تشویش ناک ہے، کیونکہ حالیہ تشدد کے باعث بے گھر ہونے والے افراد میں سے تقریباً نصف نے اسی شہر میں پناہ لے رکھی ہے۔

  4. برطانیہ کا سعودی عرب کے دفاع کے لیے رائل ایئر فورس کے ٹائفون لڑاکا طیارے تعینات کرنے کا اعلان

    برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ وہ حوثیوں کے بڑھتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملوں کے پیشِ نظر سعودی عرب کے دفاع کے لیے رائل ایئر فورس (آر اے ایف) کے ٹائفون لڑاکا طیارے تعینات کرے گی۔

    اس دفاعی مشن کا مقصد سعودی شہروں اور بنیادی ڈھانچے کو ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے فضائی حملوں سے محفوظ رکھنے میں مدد دینا ہے۔ اس اقدام کی منظوری برطانوی وزیرِ اعظم اینڈی برنہم نے دی ہے۔

    یہ فیصلہ سعودی دارالحکومت ریاض اور ملک کے ساحلی علاقوں میں توانائی کی تنصیبات پر حوثیوں کے حملوں کے بعد کیا گیا ہے۔

    برطانوی وزیرِ دفاع ویس سٹریٹنگ نے منگل کو ایک تحریری بیان میں کہا کہ ’یہ طیارے دفاعی کردار ادا کریں گے اور حوثیوں پر حملے نہیں کریں گے۔‘

    حوثی یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے خلاف خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ سعودی عرب اس حکومت کی حمایت کرتا ہے۔ حوثیوں نے سنہ 2014 میں دارالحکومت صنعا سے حکومت کو بے دخل کر دیا تھا۔

    سعودی حکام کے مطابق گذشتہ ہفتے تک حوثیوں کے مملکت کے ہوائی اڈوں پر حملوں میں 19 افراد ہلاک ہو چکے تھے۔ 10 اکتوبر کو ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر میزائل حملے میں 13 افراد ہلاک اور 308 زخمی ہوئے تھے۔ یہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں سعودی عرب پر ہونے والا مہلک ترین حملہ تھا۔

    حوثی مغربی یمن میں اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں، بشمول دارالحکومت صنعا، پر ہونے والے حملوں کے جواب میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔

    رواں ہفتے کے آغاز میں یمن کے وسطی صوبے شبوا میں ایک فوجی کیمپ پر حوثیوں کے میزائل حملے میں 70 سے زیادہ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔ سعودی حمایت یافتہ یمنی مسلح افواج کے ترجمان کے مطابق حوثیوں نے عتق شہر کے قریب العلم کیمپ پر تین بیلسٹک میزائل داغے۔ حوثیوں کے فوجی ترجمان نے کہا کہ ان کا ہدف ’سعودی دشمن کے ٹھکانے‘ تھے۔

    شمال مغربی یمن میں حوثیوں کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کے مطابق تین ستمبر سے سعودی فضائی اور توپ خانے کے حملوں میں کم از کم 141 افراد ہلاک اور 395 زخمی ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب، یمن کی حکومتی وزارتِ صحت نے گزشتہ ہفتے بتایا تھا کہ چھ اگست سے ملک بھر میں جاری تنازع کے دوران کم از کم 1,282 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  5. غزہ میں اسرائیلی فوج کے حملے اور فائرنگ سے 17 سالہ لڑکے سمیت چار فلسطینی ہلاک

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق غزہ میں منگل کو اسرائیلی فضائی حملوں اور فائرنگ کے مختلف واقعات میں 17 سالہ لڑکے سمیت کم از کم چار فلسطینی ہلاک ہو گئے۔

    طبی عملے کے مطابق غزہ شہر میں ایک اپارٹمنٹ پر فضائی حملے میں اکرم یاسین اور ان کی اہلیہ دینا ابو بکر ہلاک ہوئے۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ انھوں نے علاقے میں ایک مسلح شخص کو نشانہ بنایا، تاہم مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

    جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں قیزان النجار محلے کے قریب اسرائیلی فائرنگ سے ایک 17 سالہ لڑکا ہلاک ہوا، جبکہ غزہ شہر کے مشرقی علاقے الزیتون میں بھی فائرنگ سے ایک فلسطینی ہلاک ہوا۔

    ہلاک ہونے والے ایک شخص کے بھائی محمود یاسین نے کہا کہ جنگ بندی کے باوجود جنگ جاری ہے، ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے اور گولہ باری بھی نہیں رکی۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دوبارہ ہتھیار جمع کر رہی ہے اور حملے کر رہی ہے۔ حماس نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے اسرائیل پر جنگ بندی معاہدے کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا ہے۔

    غزہ کے محکمۂ صحت کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں اور فائرنگ میں کم از کم 1,500 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اسی عرصے میں غزہ میں مسلح افراد کے حملوں میں اس کے چار فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

  6. اسرائیلی طیاروں کے جنوبی لبنان کے تین قصبوں پر فضائی حملے

    لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے جنوبی لبنان کے قصبے القنطرہ کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا ہے۔

    ایجنسی کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے جنوبی لبنان کے قصبے کفرتبنین کے مضافات اور ضلع نبطیہ کے قصبے نبطیہ الفوقا پر بھی فضائی حملے کیے ہیں۔

    تاحال ان حملوں میں ہونے والے ممکنہ جانی یا مالی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل خبر رساں ادارے انادولو ایجنسی نے بھی 18 اکتوبر کو جنوبی لبنان کے علاقے القنطرہ میں اسرائیلی حملوں کی اطلاع دی تھی۔ اس کے مطابق حملوں کے بعد قصبے کے مختلف مقامات سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا، تاہم اس وقت بھی جانی نقصان یا املاک کو پہنچنے والے نقصان کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔

    لبنان کے جنوبی علاقوں میں اسرائیلی فضائی حملے اور گولہ باری امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی کے فریم ورک کے باوجود جاری ہیں۔

    خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق 26 جون کو طے پانے والے اس معاہدے میں لبنانی علاقوں سے اسرائیلی افواج کے بتدریج انخلا اور ان علاقوں میں لبنانی فوج کی تعیناتی کی شقیں شامل ہیں۔

  7. بریکنگ, سعودی عرب کا ریاض کی جانب داغا گیا حوثیوں کا بیلسٹک میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ

    سعودی عرب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے حوثیوں کی جانب سے داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل فضا میں ہی روک کر تباہ کر دیا ہے۔

    سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے بتایا کہ یہ میزائل دارالحکومت ریاض کی جانب داغا گیا تھا۔

    اس سے قبل خبر رساں ادارے اے ایف پی کے نامہ نگاروں نے ریاض میں دو دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی تھی۔

    سعودی عرب کے ادارۂ شہری دفاع نے خطرے سے متعلق انتباہ جاری کرنے کے چند منٹ بعد اعلان کیا کہ ’خطرہ ٹل گیا ہے۔‘

  8. بریکنگ, آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگ سے ٹکرانے پر دو تیل بردار جہازوں میں آگ لگنے کی اطلاعات ہیں: ایرانی پاسدارانِ انقلاب

    ایران کی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں مبینہ خلاف ورزی کرنے والے دو تیل بردار جہاز بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے بعد ’آگ کی لپیٹ میں آ کر رک گئے‘ ہیں۔

    پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں جہاز آبنائے ہرمز کے جنوب میں ایک ’غیر قانونی گزرگاہ‘ میں اس کی بحریہ کی بچھائی گئی بارودی سرنگوں سے ٹکرائے جس کی وجہ سے ان میں آگ بھڑک اُٹھی۔

    پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے خبردار کیا ہے کہ ’بارودی سرنگوں سے بھری گزرگاہ سے گزرنا غیر قانونی ہے اور اس کا نتیجہ خلاف ورزی کرنے والوں کے اثاثوں کے جلنے کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔‘

    تاہم برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی جیسے اداروں نے، جو بحری جہازوں کی حفاظت کی نگرانی کرتے ہیں، ان دھماکوں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی ہے۔

    دوسری جانب حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان تنازع میں شدت اور آبنائے ہرمز میں جہازوں پر مسلسل حملوں کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

    آج کاروبار کے ابتدائی اوقات میں برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت پانچ ماہ میں پہلی بار 111 ڈالر سے تجاوز کر گئی۔

  9. فیلڈ مارشل عاصم منیر ایرانی رہنماؤں سے ملاقات کے لیے تہران پہنچ گئے

    پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچ گئے ہیں۔

    ایرانی خبر رساں ادارے پریس ٹی وی اور بی بی سی فارسی کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ دوراہ ایران کے لیے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی ایران پہنچے ہیں۔

    واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کے ساتھ ساتھ فیلڈ مارشل بھی ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔

    جنگ بندی کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر کا تہران کا یہ پانچواں سرکاری دورہ ہے۔

    اس سے قبل دو ستمبر کو اپنے دورۂ ایران کے دوران انھوں نے صدر مسعود پزشکیان، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی، پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف، وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور وزیرِ داخلہ سکندر مومنی سے ملاقاتیں کی تھیں۔

    عاصم منیر کی آمد سے ایک گھنٹہ قبل ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ اس ملاقات کا بنیادی مقصد ’دوطرفہ تعلقات اور مشترکہ تعاون کو مضبوط بنانا‘ ہے۔

  10. ٹرمپ کا شی جن پنگ اور پوتن کے ساتھ سہ فریقی اجلاس پر آمادگی کا اعلان

    امریکی میڈیا کی جانب سے خبر دیے جانے کے بعد کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین جنگ کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے امریکہ اور چین کے صدور کے ساتھ سہ فریقی اجلاس کی تجویز دی ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایسے اجلاس کے لیے تیار ہیں۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق تاہم، انھوں نے زور دیا کہ اس ملاقات کا محور جوہری ہتھیاروں کی تخفیف ہوگا، نہ کہ یوکرین کا معاملہ۔ امریکی صدر نے کہا کہ یوکرین کے معاملے پر روس کا مؤقف ’قابلِ قبول‘ رہا ہے۔

    وال سٹریٹ جرنل کی جانب سے پوتن کی اس تجویز سے متعلق رپورٹ نے یورپ میں تشویش پیدا کی ہے، جبکہ کیئف کی جانب سے بھی اس کی مذمت کی گئی ہے۔

    ٹرمپ نے ایک بار پھر یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ شاید اب وقت آ گیا ہے کہ کوئی اور شخص کیئف کی جانب سے مذاکرات کرے۔

  11. دروازے کھٹکھٹانے کا دور ختم ہوا، اب ہر حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا: اسماعیل بقائی

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے خبردار کیا ہے کہ ’ایران کسی بھی حملے کا جواب دیے بغیر نہیں چھوڑے گا۔‘

    ایک پریس کانفرنس میں ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ نے ایران کو پیغام بھیجا ہے کہ وہ کوہِ کلنگ پر امریکی حملے کی صورت میں جواب نہ دے، تاکہ ’صورتحال معمول پر آنے تک کشیدگی کم ہو سکے‘۔

    اس کے جواب میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’ہم عملی طور پر دکھا چکے ہیں کہ کسی بھی ضرب کا جواب دیے بغیر نہیں چھوڑیں گے۔ اگر ہمارا حملہ زیادہ طاقتور نہ بھی ہو تو انھیں یقیناً اتنی ہی شدت سے جواب دیا جائے گا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’امریکہ کی جانب سے کوہِ کلنگ پر حملہ کرنے اور ایران کی طرف سے جواب نہ دینے کی بات محض ایک تصور اور الزام ہے۔‘ ان کے بقول ’اب دروازے کھٹکھٹانے کا دور ختم ہو چکا ہے۔‘

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایک بار پھر ایران میں کوہِ کلنگ کی تنصیب پر حملے کی دھمکی دی ہے۔

    کوہِ کلنگ، ایران کی جوہری تنصیب نطنز کے قریب واقع ایک کمپلیکس ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق، اس کمپلیکس میں جدید سینٹری فیوجز تیار اور اسمبل کیے جاتے ہیں۔ تاہم، بعض مغربی ذرائع کا خیال ہے کہ ایران وہاں ایک غیر اعلانیہ جوہری افزودگی کی تنصیب قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہو سکتا ہے۔

  12. جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما شوکت نواز کی بہن کی جانب سے دائر درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبر شوکت نواز میر کے کیس میں دائر تین درخواستوں پر بحث مکمل ہو گئی جس کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔

    شوکت نواز میر کی بہن یاسمین میر کی جانب سے دائر ان درخواستوں پر ان کے وکیل شاہد علی اعوان نے دلائل دیے، جبکہ حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اور اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔

    شاہد علی اعوان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ عدالت میں تین درخواستیں پیش کی گئی تھیں۔ ان کے مطابق پہلی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ شوکت نواز میر کو تھانہ دھیرکوٹ کے ایس ایچ او کی موجودگی میں گرفتار کیا گیا تھا۔

    یاسمین میر کے وکیل کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں بھی ایس ایچ او اور دیگر پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں شوکت نواز میر کو لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس بنیاد پر عدالت سے استدعا کی گئی کہ ایس ایچ او تھانہ دھیرکوٹ کو طلب کرکے وضاحت لی جائے کہ ویڈیو میں دکھائی دینے والا واقعہ کیا تھا اور آیا شوکت نواز میر کو پولیس نے گرفتار کیا تھا یا نہیں۔

    وکیل کے مطابق دوسری درخواست میں عدالت سے ایک یو ایس بی میں محفوظ مواد کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانے کی اجازت طلب کی گئی۔ ان کے بقول، یو ایس بی میں شوکت نواز میر کی مبینہ گرفتاری کی ویڈیو اور اُس وقت کے وزیرِ قانون میاں عبدالوحید کا مبینہ بیان موجود ہے، جس میں انھوں نے شوکت نواز میر کو دھیرکوٹ سے گرفتار کیے جانے کی کارروائی کو درست قرار دیا تھا۔

    شاہد علی اعوان نے بتایا کہ اگر عدالت ویڈیو شواہد کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کی اجازت دیتی ہے تو ان کی فرانزک جانچ کروانے کی استدعا بھی کی جائے گی۔

    ان درخواستوں پر حکومت کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل آفس کے وکلا نے اعتراضات اٹھائے تھے تاہم شاہد علی اعوان کے مطابق عدالت نے یہ اعتراضات مسترد کر دیے۔

    شاہد علی اعوان کے مطابق ہائیکورٹ میں جمع کروائی گئی تیسری درخواست میں یاسمین میر کے بھائی گل نواز میر کو بھی مقدمے میں درخواست گزار بنانے کی استدعا کی گئی ہے۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ تینوں درخواستوں پر آج بحث مکمل ہو گئی ہے اور عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ان کے مطابق جمعے کو آئندہ تاریخ مقرر کی گئی ہے۔

    گذشتہ ماہ کے اواخر میں بی بی سی کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق کشمیر حکومت کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ شوکت نواز میر اس وقت ریاستی تحویل میں نہیں ہیں اور حکومت کے مطابق بھی وہ زیر التوا مقدمات کی وجہ سے مفرور اور روپوش ہیں۔

  13. میزائل اور فوجی ساز و سامان کی سمگلنگ کے لیے ’روایتی بحری ذرائع‘ استعمال کرنا بند کریں: سعودی فوجی اتحاد کا حوثیوں کو انتباہ

    یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی مدد کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں قائم عسکری اتحاد نے حوثی تحریک کو خبردار کیا ہے کہ وہ اسلحہ، میزائل اور فوجی ساز و سامان کی سمگلنگ کے لیے ’روایتی بحری ذرائع‘ استعمال نہ کرے۔

    عسکری اتحاد کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا ’یمن کی سلامتی کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور شہریوں کی جانوں اور ان کی حفاظت کو بھی خطرے میں ڈالتا ہے۔‘

    سعودی اتحاد کی قیادت نے ’تمام بحری جہازوں کے مالکان سے اپیل کی کہ وہ سمندر کے راستے یمن کے ساحلوں تک اسلحہ، میزائل اور فوجی ساز و سامان کی سمگلنگ میں حوثیوں کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہ کریں تاکہ ان کی جانوں اور املاک کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔‘

    عسکری اتحاد کی جانب ایسی ویڈیوز بھی جاری کی گئی ہیں جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ان میں حوثیوں کو اسلحہ پہنچانے میں ملوث کشتیوں کو نشانہ بناتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق سمگلنگ کی ان کوششوں میں مبینہ طور پر منظم جرائم پیشہ گروہ ملوث ہیں۔

  14. فیلڈ مارشل عاصم منیر آج تہران کا دورہ کریں گے، ایرانی میڈیا کا دعویٰ

    ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر منگل کے روز ایران کا دورہ کریں گے۔

    سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق ایک سرکاری ذریعے نے ارنا کے نامہ نگار کو بتایا ہے کہ پاکستانی مسلح افواج منگل 20 اکتوبر 2026 کو ایران کا دورہ کریں گے۔

    ذرائع کے مطابق پاکستانی آرمی چیف تہران میں ایرانی حکام سے ملاقاتوں کے دوران دو طرفہ تعلقات کے فروغ اور خطے کی تازہ پیش رفت پر بات چیت کریں گے۔

    اس سے قبل بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز نے بھی ایک پاکستانی عہدیدار اور ایرانی میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے ایسا ہی دعویٰ کیا تھا۔

    تاہم پاکستانی حکام کی جانب سے اس حوالے سے تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

    فیلڈ مارشل کے ایران دورے کی خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب پاکستان کی ایران کے ساتھ اہم سرحدی گزرگاہوں کے ذریعے ہونے والی تجارت چار روز سے معطل ہے۔ اس کے نتیجے میں بلوچستان کے راستے دونوں ہمسایہ ممالک میں ہونے والی تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں اور سرحد کے دونوں اطراف سینکڑوں مال بردار کنٹینرز پھنس گئے ہیں۔

  15. فیصلے عدالتوں میں نہ ہوئے تو معاملات سڑکوں پر آئیں گے: محمود خان اچکزئی

    قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ فیصلے عدالتوں میں ہوں کیونکہ اگر ایسا نہ ہوا تو معاملات سڑکوں پر آئیں گے۔

    پشاور میں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 1973 کا آئین بڑی مشکل سے بنا ہے۔ محمود اچکزئی کے مطابق آئین کے آرٹیکل 58 (2B) نے ہماری چار اسلمبیاں توڑی ہیں۔

    قائدِ حزبِ اختلاف کا کہنا تھا کہ ہماری نہ نواز شریف اور نہ ہی آصف زرداری سے کوئی دشمنی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ فرانس میں مہنگائی کے خلاف لاکھوں لوگ نکلے، آگ لگائی لیکن وہاں پولیس نے ابھی تک ایک گولی نہیں چلائی۔

    محمود اچکزئی کا کہنا تھا کہ ہمیں اس حکومت کے خلاف بھی پر امن احتجاج کرنا ہو گا۔

    انھوں نے کہا کہ لڑائی کا اب آخری مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔

  16. اب مذکرات کا نہیں عملی اقدام کا وقت ہے: بیرسٹر گوہر

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ اب مذکرات کا نہیں عملی اقدام کا وقت ہے۔

    منگل کے روز پشاور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ہمارا لانگ مارچ جاری ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ مذکرات اگر ہونے تھے تو ابھی تک ہو چکے ہوتے۔

    ایمرجنسی اور گورنر راج کو ’غیر جمہوری و آئینی‘ قرار دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہم نے اس کو چیلنج کیا ہوا ہے۔

    پی ٹی آئی چیئرمین پشاور کا کہنا ہے کہ ہم نے ہمیشہ دہشت گردی کو ناسور قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم کوئی ایسا بیان نہیں دینا چاہتے جس سے دہشت گردی پر کوئی اثر پڑے۔

  17. پشاور ہائیکورٹ میں وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی بازیابی کی درخواست پر سماعت، حکام کو دو روز میں جواب جمع کروانے کا حکم

    پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کے دوران حکومت اور پولیس سمیت متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو روز میں جواب جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

    منگل کے روز پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس سید ارشد علی پر مشتمل بنچ نے وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا کی بازیابی کے متعلق درخواست کی سماعت کی۔

    سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد وزیراعلی کو حراست میں لیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعلیٰ کو دو مقامات پر رکھے جانے کی اطلاعات ہیں جن میں سے ایک شاہی مہمان خانہ ہے۔

    دورانِ سماعت، جسٹس سید ارشد علی نے درخواست گزار کے وکیل سے سوال کیا کہ انھوں نے چیف سیکرٹری کو کیوں فریق نہیں بنایا۔

    سماعت کے بعد عدالت نے حکومت اور پولیس سمیت دیگر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو روز میں جواب جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

    سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی اور پی ٹی آئی کے صوبائی صدر کی بازیابی کی درخواست

    پشاور ہائی کورٹ میں خیبر پختونخوا اسمبلی کے سپیکر بابر سلیم سواتی اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے صوبائی صدر جنید اکبر کی بازیابی کے لیے دائر درخواست کی سماعت جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل بنچ نے کی۔

    درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد انھیں حراست میں لیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اب کچھ پتہ نہیں چل رہا کہ یہ کہاں پر ہیں۔

    دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ سپیکر بابر سلیم سواتی کے پاس آئینی عہدہ ہے تاہم اس کے باوجود انھیں حراست میں لیا گیا۔

    عدالت نے حکومت، آئی جی پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کو نوٹس جاری کرتے 10 روز میں جواب طلب کر لیا۔

  18. خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت، وفاقی حکومت کو نوٹس جاری

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے خلاف پاکستان تحریکِ انصاف کی درخواست پر پشاور ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت، اٹارنی جنرل اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سمات 10 نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔

    صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے خلاف درخواست پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کی جانب سے دائر کی گئی ہے جس کی سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فہیم ولی پر مشتمل بینچ نے کی۔

    بیرسٹر گوہر علی خان نے اپنی درخواست میں استدعا کی ہے کہ صوبے میں تحریک انصاف کے خلاف انتقامی اقدامات روکے جائیں اور اس درخواست کی جلد سماعت کی استدعا کی تھی۔

    تاہم عدالت نے اٹارنی جنرل، وفاق سمیت فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 10 نومبر تک ملتوی کردی ہے۔

    درخواست گزار نے وفاقی حکومت کے اس اقدام کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے کالعدم کرنے اور صوبے میں منتخب حکومت کے آئینی اختیارات بحال کرنے کی استدعا کی ہے۔

    درخواست کب اور کیسے دائر ہوئی؟

    پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے 14 اکتوبر 2026 کو پشاور ہائی کورٹ میں آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت درخواست دائر کی۔ درخواست ایڈووکیٹ شاہ فیصل الیاس کے ذریعے جمع کروائی گئی۔

    یاد رہے کہ صدر علی زرداری نے 11 اکتوبر کو وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی حکومت کی سفارش پر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی منظوری دی تھی۔ وفاقی حکومت نے اس اقدام کا جواز صوبائی حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں مبینہ عدم تعاون اور صوبے کی سکیورٹی صورت حال کو قرار دیا تھا۔

    وفاقی حکومت کے اس فیصلے کے نتیجے میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے صوبے کے انتظامی معاملات کی ذمہ داری سنبھال لی ہے، جبکہ ان کی معاونت کے لیے 11 رکنی خیبر پختونخوا ایڈوائزری کونسل قائم کی گئی ہے۔ وفاقی حکومت نے صوبے میں سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے فوج کی تعیناتی کا حکم بھی جاری کیا۔

    بیرسٹر گوہر نے اپنی درخواست میں 11 اکتوبر کے صدارتی اعلان، فوج کی تعیناتی کے حکم اور ان اقدامات کے نتیجے میں جاری ہونے والے انتظامی احکامات اور نوٹیفکیشنز کو چیلنج کیا ہے۔ درخواست میں وفاقِ پاکستان، متعلقہ وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومت، گورنر خیبر پختونخوا، سپیکر صوبائی اسمبلی اور محکمہ داخلہ کے متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔

    وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو بھی درخواست میں فریق کی حیثیت سے شامل کیا گیا ہے۔

  19. مالدیپ کے صدر پاکستان کے تین روزہ سرکاری دورے پر آج اسلام آباد پہنچیں گے

    پاکستان کے سرکاری میڈیا کے مطابق مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو پاکستان کے تین روزہ سرکاری دورے پر آج اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔

    ریڈیو پاکستان پر شائع خبر کے اس دورے کے دوران صدر محمد معیزو اپنے پاکستانی ہم منصب آصف علی زرداری سے ملاقات کریں گے جو ان کے اعزاز میں عشائیہ دیں گے۔

    مالدیپ کے صدر وزیراعظم شہباز شریف سے معاونین کے بغیر اور وفود کی سطح پر مذاکرات بھی کریں گے۔

    دونوں رہنما دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیں گے اور مختلف شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے کے امکانات تلاش کریں گے۔

    دورے کے دوران دوطرفہ تعاون کے مختلف شعبوں سے متعلق متعدد معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط متوقع ہیں۔

  20. پاسدارانِ انقلاب کا امریکی فوج کا ایک ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے امریکی فوج کا ایک ڈرون مار گرایا ہے۔

    منگل 19 اکتوبر کی صبح پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی مرکزی کمان (سینٹکام) کا ایک ایم کیو-9 ڈرون آبنائے ہرمز کی فضائی حدود میں داخل ہوا تھا۔

    بیان میں کہا گیا ہے ملک کے مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک کی نگرانی میں کام کرنے والے ’پاسدارانِ انقلاب کے نئے جدید ایرو سپیس دفاعی نظام‘ نے اس ڈرون کو تباہ کر دیا ہے۔

    تاہم سینٹکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔