آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, سوات میں پولیس سٹیشن کے باہر خودکش دھماکے میں 14 ہلاکتوں کی تصدیق، 15 سے زائد زخمی

ترجمان ریسکیو 1122 بلال فیضی کے مطابق نو افراد کی لاشیں سینٹرل ہسپتال سیدو شریف میں ہیں جبکہ کبل ہسپتال نے پانچ ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے مطابق دھماکہ خودکش تھا۔ اُن کے بقول بہادر پولیس جوانوں نے جان دے کر خودکش بمبار کو تھانے کے اندر جانے سے روکا۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے متعلق نئے بحری راستے پر معاہدے کے قریب، عراقچی

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکرات اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور دونوں ممالک معاہدے کو حتمی شکل دینے کے قریب ہیں۔

    تہران میں کابینہ کے اجلاس کے آغاز پر گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے بتایا کہ ایران اور عمان کے درمیان ہونے والی بات چیت مثبت سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اور اس حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

    دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے مذاکرات کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ تہران اور مسقط کے درمیان بات چیت کا مقصد خلیج فارس اور بحیرہ عمان کو ملانے والی اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں ایک مخصوص بحری راہداری پر اتفاق کرنا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ عمانی سمندری حدود میں واقع جنوبی راستے کے حوالے سے ایران کو سلامتی اور قومی مفادات سے متعلق تحفظات ہیں، اسی لیے تہران موجودہ جنوبی روٹ کو قابل قبول نہیں سمجھتا۔

    اسماعیل بقائی کے مطابق زیر غور تجویز کے تحت نہ موجودہ شمالی راستہ اختیار کیا جائے گا اور نہ ہی جنوبی راستہ برقرار رہے گا، بلکہ دونوں ممالک کی باہمی مشاورت سے ایک نیا بحری راستہ طے کیا جائے گا۔

    ایرانی ترجمان نے واضح کیا کہ ایران اور عمان کے درمیان ہونے والی اس مفاہمت کا براہ راست تعلق آبنائے ہرمز کی بندش یا بحالی سے نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال ایران کے بقول امریکہ کی جانب سے معاہدوں کی خلاف ورزی اور پابندیوں سے جڑی ہوئی ہے، جبکہ عمان کے ساتھ مذاکرات ایک الگ معاملہ ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ایران اور عمان کے درمیان کسی نئے بحری راستے پر اتفاق آبنائے ہرمز میں آمد و رفت کی بحالی کے لیے ایک ضروری پیش رفت ہو سکتی ہے، تاہم صرف یہ معاہدہ آبی گزرگاہ کو مکمل طور پر فعال بنانے کے لیے کافی نہیں ہوگا۔

    ادھر اسرائیلی ٹی وی چینل 12 نے دو سفارتی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے ایران کی آمادگی سے آگاہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ایران اور عمان کے درمیان مجوزہ انتظام کے تحت بحری جہاز آبنائے ہرمز میں ایران کے زیر نگرانی حصے سے داخل ہوں گے اور عمانی جانب سے گزر کر کھلے سمندر میں جائیں گے۔

    چینل 12 کی رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس پیش رفت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف مجوزہ فوجی کارروائی روکنے کے فیصلے میں کردار ادا کیا۔

    اس سے قبل صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا تھا کہ ایران اور خطے کے بعض دیگر ممالک کی درخواست پر وہ فوجی اقدام روکنے پر آمادہ ہوئے، بشرطیکہ فریقین جلد کسی سمجھوتے پر پہنچ جائیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک ابتدائی فریم ورک پر اتفاق ہو چکا ہے جس میں آبنائے ہرمز کو فوری طور پر مکمل طور پر کھولنا بھی شامل ہے۔

    آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی توانائی تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے، اسی لیے اس آبی راستے سے متعلق کسی بھی پیش رفت پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

  2. خاران میں مسلح حملہ آوروں کا پولیس اور سی ٹی ڈی تھانوں پر حملہ، عمارتوں کو نقصان، پانچ افراد زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع خاران میں نامعلوم مسلح افراد نے سٹی پولیس سٹیشن اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے تھانے پر حملہ کرکے عمارتوں کو نقصان پہنچایا اور ان کے بعض حصوں کو نذرِ آتش کر دیا۔

    محکمہ داخلہ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملہ آوروں کے عزائم ناکام بنا دیے۔

    ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مسلح افراد کی بڑی تعداد سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب خاران شہر میں داخل ہوئی اور دونوں تھانوں کو نشانہ بنایا۔

    حملے کے دوران سکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان مختلف مقامات پر جھڑپیں بھی ہوئیں، جن کے نتیجے میں ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والی خواتین اور بچوں سمیت پانچ افراد زخمی ہو گئے۔

    حملہ کب اور کیسے ہوا؟

    ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ رات 12 بجے کے بعد نامعلوم مسلح افراد کی ایک بڑی تعداد خاران شہر میں داخل ہوئی۔ حملہ آوروں نے پہلے سٹی پولیس سٹیشن کو نشانہ بنایا اور بعد ازاں اس کے قریب واقع سی ٹی ڈی تھانے پر حملہ کیا۔

    اہلکار کے مطابق حملہ آور سٹی پولیس اسٹیشن میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے، جہاں انھوں نے توڑ پھوڑ کے ساتھ ساتھ فرنیچر اور سرکاری ریکارڈ کو آگ لگا دی۔ اسی طرح سی ٹی ڈی تھانے میں بھی فرنیچر اور ریکارڈ کو نقصان پہنچایا گیا اور عمارت کے بعض حصوں میں آگ لگا دی گئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز، سی ٹی ڈی اور پولیس اہلکاروں کی اضافی نفری کے پہنچنے سے قبل حملہ آور موقع سے فرار ہو چکے تھے۔

    تاہم شہر کے بعض علاقوں میں سکیورٹی اہلکاروں اور مسلح افراد کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں ایک گھر میں موجود خواتین اور بچوں سمیت پانچ افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    بابر یوسفزئی کے مطابق سکیورٹی فورسز اور پولیس کی جوابی کارروائی کے باعث حملہ آور اپنے منصوبے میں کامیاب نہ ہو سکے اور فرار ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    خاران کہاں واقع ہے؟

    خاران، بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے تقریباً 300 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔ یہ نہ صرف ضلع خاران بلکہ رخشان ڈویژن کا بھی ہیڈکوارٹر ہے۔

    خاران کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو گذشتہ کئی برسوں سے بدامنی اور شورش سے متاثر رہے ہیں۔ رواں سال جنوری میں بھی خاران شہر میں ایک بڑا حملہ ہوا تھا، جس میں پولیس سٹیشن اور متعدد بینکوں کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔

    شہر اور اس کے گردونواح میں طویل عرصے سے وقفے وقفے سے سکیورٹی سے متعلق سنگین واقعات پیش آتے رہے ہیں، جس کے باعث یہ علاقہ صوبے کے حساس ترین اضلاع میں شمار کیا جاتا ہے۔

  3. سوات میں پولیس سٹیشن کے باہر خودکش دھماکے میں 14 ہلاکتوں کی تصدیق، 15 سے زائد زخمی

    صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کی انتظامیہ کے مطابق کبل پولیس سٹیشن کے باہر ہونے والے دھماکے میں 14 افراد ہلاک اور 15 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

    ترجمان ریسکیو 1122 بلال فیضی کے مطابق نو افراد کی لاشیں سینٹرل ہسپتال سیدو شریف جبکہ کبل ہسپتال نے پانچ ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

    وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے مطابق دھماکہ خودکش تھا۔ اُن کے بقول بہادر پولیس جوانوں نے جان دے کر خودکش بمبار کو تھانے کے اندر جانے سے روکا۔

    مقامی افراد نے بی بی سی کو بتایا کہ اتوار کی شام یہ دھماکہ اُس وقت ہوا جب تھانے کے قریب ہی کچھ لوگ ’امن مظاہرہ‘ کر رہے تھے۔

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کبل خودکش دھماکے اور اس میں ہونے والی اموات پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    وزیرِ اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔

  4. سوات میں پولیس سٹیشن کے باہر خودکش دھماکے میں سات افراد ہلاک، 18 زخمی

    صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کی پولیس کے مطابق کبل پولیس سٹیشن کے باہر ہونے والے دھماکے میں کم از کم سات افراد ہلاک اور 18 زخمی ہو گئے ہیں۔

    وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے مطابق دھماکہ خودکش تھا۔ محسن نقوی کے مطابق بہادر پولیس جوانوں نے جان دے کر خودکش بمبار کو تھانے کے اندر جانے سے روکا۔

    دھماکہ اُس وقت ہوا جب سوات میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کے خلاف لوگ ’امن مظاہرہ‘ کر رہے تھے۔

    ریسکیو 1122 کے مطابق 15 سے زائد زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

    مقامی افراد نے بی بی سی کو بتایا کہ اتوار کی شام یہ دھماکہ اُس وقت ہوا جب تھانے کے قریب ہی کچھ لوگ ’امن مظاہرہ‘ کر رہے تھے۔

    وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

  5. ہمارے لیے ہر خطرہ حقیقی ہے اور فوج اس سے نمٹنے کے لیے تیار ہے: ایرانی وزیرِ دفاع

    ایرانی وزیرِ دفاع نے کہا ہے کہ ایران کے لیے ہر خطرہ حقیقی ہے اور اس کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

    ایکس پر اپنے بیان میں وزیرِ دفاع ماجد ابن رضا کا کہنا تھا کہ ’دشمن کے حالیہ بیانات نفسیاتی کارروائیوں اور کمپیوٹیشنل جنگ کے تناظر میں دیئے گئے ہیں، ہمارے نقطہ نظر سے، کوئی بھی خطرہ ایک حقیقی اور اہم خطرہ ہے۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ ہم نہ تو حیران ہیں اور نہ ہی غیر فعال، ہم خطرے کو اپنی تیاریوں کو آگے بڑھانے اور اپنی طاقت کو بڑھانے کے لیے بنیاد کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

  6. عراقی شہر سلیمانیہ میں ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھنے کی اطلاعات

    عراقی میڈیا کے مطابق عراقی کردستان کے شہر سلیمانیہ کے ایک علاقے میں ڈرون حملے کے بعد بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق ’حملے میں کرد پیشمرگہ فورس کی ’70ویں بریگیڈ‘ کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا، تاہم حملہ آور ڈرون کو روک لیا گیا۔‘ مگر حکام کے مطابق تباہ کیے گئے ڈرون کا ملبہ ہیڈکوارٹر کے قریب گرنے کے بعد بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق آن لائن شائع ہونے والی ویڈیوز، جو کرد خبر رساں نیٹ ورک روداو نے نشر کی ہیں، میں واقعے کے مقام پر شدید آگ کے شعلے دیکھے جا سکتے ہیں۔

    اب تک کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

    تاہم لبنانی خبر رساں نیٹ ورک المیادین نے رپورٹ کیا ہے کہ یہ حملہ عراق میں ایران نواز گروہوں کی جانب سے کیا گیا، جبکہ فارس نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے کا مقام اسلامی جمہوریہ ایران کے مخالف گروہوں کا ہیڈکوارٹر تھا۔

  7. ایران میں حکومت کی تبدیلی کا مطلب نظام کا مکمل خاتمہ نہیں بلکہ رویے اور پالیسیوں میں تبدیلی ہے: مارکو روبیو

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ ’ایران میں ’حکومت کی تبدیلی‘ سے مراد لازمی طور پر حکومت کا مکمل خاتمہ نہیں، بلکہ اس کے کردار، نوعیت اور طرزِ عمل میں تبدیلی ہے۔‘

    امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مارکو روبیو نے کہا کہ ’ممکن ہے ہم حکومت کی تبدیلی سے مراد مکمل اقتدار کا خاتمہ نہ دیکھیں، لیکن خود اس نظام کی نوعیت میں تبدیلی ضروری ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ایرانی حکومت کا رویہ ہمیشہ بیرونی مداخلت اور توسیع پسندانہ پالیسیوں پر مبنی رہا ہے۔ وہ صرف ایران پر حکمرانی نہیں کرنا چاہتے بلکہ پورے خطے پر اپنا اثر و رسوخ قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اس صورتحال کو تبدیل ہونا ہوگا اور اسے تبدیل کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ان پر ایسا دباؤ ڈالا جائے جسے وہ مزید برداشت نہ کر سکیں۔‘

    امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’حکومت کی تبدیلی‘ اور ’نظام کی مکمل تبدیلی‘ کے درمیان عملی فرق موجود ہے کیونکہ ان کے مطابق کسی مخصوص معاہدے کے برعکس کسی حکومت کے رویے کو تبدیل کرنا ایک ایسا عمل ہے جس کا کوئی واضح اختتامی نقطہ نہیں ہوتا۔‘

    روبیو نے مزید کہا کہ ’جوہری معاہدہ کیا جا سکتا ہے اور اس پر عمل درآمد کی تصدیق بھی کی جا سکتی ہے تاہم کسی حکومت کو اپنی علاقائی حکمت عملی ترک کرنے پر مجبور کرنا ایک مسلسل عمل ہے، اس لیے اس دباؤ کے خاتمے کے لیے کوئی واضح مدت مقرر نہیں کی جا سکتی۔‘

  8. بریکنگ, مشرق وسطیٰ کے ممالک کی درخواست پر ایران کے خلاف حملے کا منصوبہ موخر کر دیا: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک نے ہم سے درخواست کی ہے کہ ہم حملہ روک دیں، کیونکہ ایک معاہدے کے بنیادی نکات پر اتفاق ہو چکا ہے۔‘

    صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ’امریکہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف ایسی فوجی کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار تھا، جس کی شدت، طاقت اور عسکری صلاحیت دوسری عالمی جنگ کے بعد کبھی نہیں دیکھی گئی۔‘

    ٹرمپ کے مطابق اس مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کو فوری، مکمل اور غیر مشروط طور پر کھولنا اور ایران کے جوہری خطرے کا خاتمہ شامل ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’اس درخواست کی بنیاد پر دنیا کے بہتر مستقبل اور ایک کامیاب و خوشحال ایران کی بقا کے پیشِ نظر میں نے تیزی سے معاہدہ طے پانے کی شرط پر مجوزہ حملہ منسوخ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔‘

    امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ’اس عزم میں اسرائیل بھی ہمارے ساتھ شامل ہے۔ اب سب کام پر لگ جائیں اور اس معاہدے کو مکمل کریں۔‘

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل ایران کو ’انتہائی سخت‘ حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’امریکہ ایران کو ’بہت بری طرح نشانہ بنائے گا‘، جبکہ امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ وہ آج یا کل ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے سمیت دیگر اہداف پر نئے بڑے حملوں پر غور کر رہے ہیں۔‘

    تاہم اب سے کُچھ دیر قبل ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے پاکستان، ترکی اور سعودی عرب سے رابطوں کے حوالے سے خبر سامنے آئی تھی کہ جس میں اُن کی جانب سے خبردار کیا گیا تھا کہ ’ایران، امریکہ یا اسرائیل کی کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دے گا۔‘

    ساتھ ہی ترکی کی جانب سے بھی مذاکرات اور خطے میں دیرپا امن کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا تھا۔

  9. ایران امریکی ’مہم جوئی‘ کا منھ توڑ جواب دے گا، عراقچی کی فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ترک وزیر خارجہ سے گفتگو میں پیغام

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سنیچر کے روز ترکی کے وزیر خارجہ اور پاکستان کے آرمی چیف سے علیحدہ علیحدہ ٹیلیفونک رابطوں میں امریکہ کو کسی بھی ’مہم جوئی‘ سے باز رہنے کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ایران کسی بھی جارحیت کا ’فیصلہ کن جواب‘ دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔‘

    ایرانی حکومت کی جانب سے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’عباس سراقچی نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان سے علیحدہ علیحدہ ٹیلیفونک رابطے کیے، جن میں خطے کی تازہ صورتحال اور امریکہ کی مبینہ عدم استحکام پیدا کرنے والی کارروائیوں کے نتائج پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔‘

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق عباس عراقچی نے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ انھوں نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ سے الگ گفتگو میں بھی کہا کہ ’امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کسی بھی ’جارحیت‘ یا اس میں خطے کے کسی ملک کی شرکت کا ایران بھرپور اور فیصلہ کن جواب دے گا۔‘

    ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے بھی گزشتہ رات اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطے کے حوالے سے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان جاری مذاکرات کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ ’ترکی خطے میں جاری تنازعات کے خاتمے اور دیرپا امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔‘

    بعد ازاں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے گفتگو میں کہا کہ ’امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کسی بھی حملے یا ایسی کارروائی میں خطے کے کسی بھی ملک کی شمولیت کا ایران ’متناسب جواب‘ دے گا۔‘

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے حوالے سے یہ خبر بھی دی ہے کہ ’سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے سنیچر کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا۔‘

    ایگزیوس کے مطابق ’ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ محمد بن سلمان نے ایران سے متعلق امریکی منصوبوں پر تشویش کا اظہار کیا اور اس حوالے سے وضاحت طلب کی۔‘

    ایرانی وزیرِ خارجہ کی جانب سے یہ بیانات یا انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے کہ جب امریکی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف، خصوصاً توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والی، ایک نئی اور بڑے پیمانے کی کارروائی کر سکتا ہے۔

    ادھر بغداد میں امریکی سفارت خانے اور اربیل میں امریکی قونصل خانے نے سکیورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے امریکی شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ سے فوری انخلا کی صورت حال کے لیے تیار رہیں۔

  10. میری پالیسیاں ایرانی کرنسی کو تباہ کر رہی ہیں: ٹرمپ کا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک چارٹ شیئر کیا ہے، جس میں اُن کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کی پالیسیاں ’ایران کی کرنسی کو تباہ کر رہی ہیں اور ملک شدید مہنگائی کا سامنا کر رہا ہے۔‘

    ٹرمپ کی جانب سے شیئر کیے گئے چارٹ کے مطابق سنہ 2025 کے آغاز میں ایک امریکی ڈالر کی قیمت تقریباً 90 ہزار تومان تھی، جو جولائی سنہ 2026 تک بڑھ کر تقریباً ایک لاکھ 90 ہزار تومان ہو گئی ہے۔

    تاہم امریکی صدر نے اس چارٹ کے ساتھ مزید کوئی وضاحت یا تبصرہ جاری نہیں کیا۔

    دوسری جانب جاری جنگ، سخت ہوتی اقتصادی پابندیوں اور ایران کی غیر ملکی زرمبادلہ آمدن پر بڑھتے دباؤ کے باعث حالیہ مہینوں میں ایرانی ریال کی قدر میں تیزی سے کمی دیکھی گئی ہے۔

  11. پیرو میں سیاحوں کو لے جانے والا چھوٹا طیارہ گر کر تباہ، 13 افراد ہلاک

    پیرو کے مقامی میڈیا اور حکام کے مطابق پیرو میں سیاحوں کو لے جانے والا ایک چھوٹا طیارہ گر کر تباہ ہو گیا ہے۔ اس حادثے کے نتیجے میں جہاز میں سوار تمام 13 افراد ہلاک ہو گئے۔

    طیارہ سنیچر کو نازکا لائنز کے آثارِ قدیمہ کے مقام کے اوپر پرواز کر رہا تھا جب حادثے کا شکار ہوا۔ طیارے میں 11 مسافر اور دو پائلٹ سوار تھے۔

    حادثے کی وجہ اور مسافروں کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی ہے۔

    نازکا لائنز جنوبی پیرو میں واقع ایک مقبول سیاحتی مقام اور یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل جگہ ہے۔ یہاں صحرائی ریت پر بنائی گئی قدیم نقش نگاری موجود ہے۔

    یہ حادثہ مقامی وقت کے مطابق دوپہر تقریباً ایک بجے پیوبلو ویخو کے علاقے میں پیش آیا۔ طیارے نے پیرو کے شہر پسکو کے ہوائی اڈے سے اڑان بھری تھی۔

  12. ماسکو کے ریستوران میں بم دھماکہ، تین افراد ہلاک اور 15 زخمی

    روس کے سرکاری میڈیا کے مطابق ماسکو میں ایک ریستوران میں ہونے والے بم دھماکے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور 15 زخمی ہو گئے ہیں۔

    یہ دھماکہ مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً آٹھ بجے شہر کے مرکز کے قریب کدرنسکایا سکوائر میں ہوا۔

    خبر رساں ادارے تاس کے مطابق تفتیش کاروں نے بتایا کہ ایک خاتون دیسی ساختہ دھماکا خیز مواد لے کر ریستوران میں داخل ہونے کی کوشش کر رہی تھی جسے ایک سکیورٹی گارڈ نے اسے روک دیا۔ دھماکے میں خاتون اور سکیورٹی گارڈ دونوں ہلاک ہو گئے۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ ریستوران کے کچن میں ہوا، تاہم بعد میں ریستوران کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اندر سب کچھ معمول کے مطابق تھا اور ’مسئلہ باہر پیش آیا تھا‘۔

    سکوائر کے اطراف کی سڑکیں کچھ وقت کے لیے بند کر دی گئی تھیں۔ قریب ہی درجنوں سائیکل سوار شہر میں شام کی سواری کے لیے جمع ہو رہے تھے، تاہم یہ سرگرمی منسوخ کر دی گئی۔

    روسی خبر رساں ادارے آر آئی اے کی جانب سے جاری ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جائے وقوعہ پر بھاری ہتھیاروں سے لیس قانون نافذ کرنے والے اہلکار موجود ہیں جبکہ علاقے کو عوام کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔

  13. اسرائیلی فوج کا جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے کئی ارکان کو ہلاک کرنے کا دعوی

    اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے کئی ارکان کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ گذشتہ رات حزب اللہ کے کئی ارکان اسرائیل کی جانب سے ’سکیورٹی زون‘ قرار دیے گئے علاقے میں موجود پائے گئے جہاں اسرائیلی فوجی بھی تعینات ہیں۔

    بیان میں کہا گیا کہ ’ان افراد کی نشاندہی کے بعد فوجیوں نے خطرے کو ختم کرنے کے لیے حملہ کیا اور عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا۔‘

    اسرائیلی فوج کے مطابق اس کی افواج ’اپنے اہلکاروں کو لاحق کسی بھی خطرے کو ختم کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھیں گی اور حزب اللہ کو اسرائیلی شہریوں کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گی۔‘

    اس سے قبل اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اپنے ایک فوجی کے زخمی ہونے کی اطالع دی تھی اور کہا تھا کہ اسے علاج کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    بیروت میں اے ایف پی کی جانب سے واقعے کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر حزب اللہ نے کوئی ردعمل نہیں دیا۔ ایران کی حمایت یافتہ اس مسلح تنظیم نے 20 جون کے بعد سے کسی حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

  14. سات مئی سے بحرِ عمان میں عملے کے 17 ارکان سمیت ایرانی ماہی گیری کی کشتی لاپتا ہے: ایرانی میڈیا

    ایران کی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کا کہنا ہے کہ سات مئی کو عملے کے 17 ارکان سمیت ایک ماہی گیری کی کشتی بحرِ عمان سے لاپتا ہو گئی تھی۔

    خبر کے مطابق، بحرِ عمان میں امریکی ہیلی کاپٹروں کی جانب سے ماہی کیری ٹرالرز کو منتشر کرنے کے لیے ان کی جانب فلیر داغے جانے کے بعد سے اس کشتی کا کچھ پتا نہیں چل سکا ہے۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ کشتی کا نام شاہین 2 ہے اور اس میں صوبہ ہرمزگان کے شہر کنارک سے تعلق رکھنے والے ماہی گیر سوار تھے۔

    رپورٹ کے مطابق اس کشتی سے آخری رابطہ سات مئی کی صبح عمان کے ساحل سے 70 میل دور ہوا تھا۔

    اس کشتی کے کپتان کے بھائی نوید بلوچ کا کہنا ہے کہ ’دیگر کشتیوں کے ماہی گیروں نے بتایا کہ امریکی ہیلی کاپٹر نے کشتیوں کو منتشر کر دیا تھا۔ آدھے گھنٹے بعد تمام کشتیاں ایک دوسرے کو تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئیں، لیکن شاہین 2 کا کوئی پتہ نہیں چل سکا۔‘

  15. امریکی شہری ممکنہ انخلا کے لیے تیار رہیں، امریکی سفارت خانوں کا مشرقِ وسطیٰ میں اپنے شہریوں کے لیے انتباہ

    بغداد میں امریکی سفارت خانے اور اربیل میں امریکی قونصل خانے نے ایک سکیورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے خطے میں موجود امریکی شہریوں کو مشرقِ وسطیٰ چھوڑنے کی تیاری کرنے کی ہدایات کی ہیں۔

    امریکی سفارت خانے کے ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث سکیورٹی کی صورتحال بدستور پیچیدہ ہے اور اس کے غیر متوقع طور پر مزید بگڑنے کا امکان موجود ہے۔‘

    یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی فوج نے امریکہ پر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھانے کا الزام عائد کیا ہے۔

    یہ بیان اُن امریکی میڈیا رپورٹس کے بعد آیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل رواں ہفتے ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف کارروائیوں کی تیاری کر رہے ہیں۔

    امریکی سفارت خانے کی جانب سے سنیچر کو جاری بیان میں امریکی شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتہائی احتیاط برتیں اور پروازوں کی منسوخی، فضائی حدود کی عارضی بندش اور دیگر سفری رکاوٹوں کے امکان کو مدِنظر رکھیں۔

    سفارت خانے کے مطابق خطے میں بعض ایئرلائنز نے پروازوں کی بحالی کے منصوبے مؤخر کر دیے ہیں، جبکہ کچھ نے مخصوص روٹس پر اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’خطے میں موجود امریکی شہریوں کو وہاں سے روانگی پر غور کرنا چاہیے یا کشیدگی میں مزید اضافے کی صورت میں فوری انخلا کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

    بی بی سی عربی کے مطابق قاہرہ سمیت خطے کے مختلف دارالحکومتوں میں واقع امریکی سفارت خانوں نے اپنی ویب سائٹس پر تقریباً یکساں نوعیت کے پیغامات جاری کیے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ ’ایرانی حکومت کا طرزِ عمل غیر متوقع ہے اور حالیہ واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بغیر پیشگی انتباہ یا کسی واضح اشتعال انگیزی کے خطے میں مختلف مقامات کو نشانہ بنا سکتی ہے۔‘

    ادھر اردن کے دارالحکومت عمان اور یروشلم میں امریکی سفارت خانوں نے بھی اسی نوعیت کے سکیورٹی الرٹس جاری کیے ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران نے حملوں کے دائرہ کار کو اُن علاقوں تک بھی وسعت دی ہے جو ماضی میں اس کی کارروائیوں کا ہدف نہیں رہے تھے۔

  16. شمالی وزیرستان میں سکیورٹی آپریشن کے دوران ایک فوجی افسر اور پانچ شدت پسند ہلاک: آئی ایس پی آر

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے علاقے رزمک میں انٹیلیجنس اطلاعات کی بنیاد پر ایک آپریشن کے دوران پانچ شدت پسند ہلاک کر دیے ہیں جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں ایک فوجی افسر بھی جان سے گئے۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یکم اگست 2026 کو ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے رزمک میں کارروائی کالعدم تنظیم فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے مسلح افراد کی موجودگی کی اطلاع پر کی گئی۔‘

    پاکستانی فوج کے مطابق آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں پانچ شدت پسند ہلاک ہو گئے جبکہ اس دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں میجر حافظ احسان الٰہی بھی ہلاک ہو گئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق 34 سالہ میجر احسان الٰہی، جو ضلع میانوالی کے رہائشی تھے، آپریشن کے دوران اگلی صفوں سے قیادت کر رہے تھے۔

    آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا ہے کہ ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔

    پاکستانی فوج کے دعوے کے مطابق ’یہ افراد سکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں کے خلاف مختلف دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث تھے۔‘

    بیان کے مطابق علاقے میں مزید شدت پسندوں کی موجودگی کے خدشے کے پیشِ نظر کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

  17. امریکہ خطے کو ہمہ گیر جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے، ایرانی کمانڈر کا الزام

    ایران کے جنگی انتظام کی ذمہ دار کمانڈ خاتم الانبیا ہیڈ کوارٹر کے کمانڈر علی عبداللہی نے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ’امریکہ ایک خطرناک حکمتِ عملی کے باعث تیزی سے ایک علاقائی جنگ کی جانب بڑھ رہا ہے جس کا مقصد پورے خطے میں توسیع اور ناجائز غلبہ حاصل کرنا ہے۔‘

    علی عبداللہی نے مزید کہا کہ امریکہ نے ایران کے خلاف اپنی حالیہ جنگ میں یہ ثابت کر دیا ہے کہ ’وہ اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے مسلمانوں کے مفادات اور وسائل کو نقصان پہنچانے یا تباہ کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا۔‘

    بی بی سی عربی کے مطابق کمانڈر علی عبداللہی نے خطے کے ممالک کو تنازع کے دوران واشنگٹن کے ساتھ تعاون کرنے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’جو بھی ملک امریکہ کو اپنی حفاظتی ڈھال بنائے گا، وہ جنگ کی آگ میں جل جائے گا۔‘

    انھوں نے اسلامی ممالک پر امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرِ ثانی کرنے پر زور دیا اور کہا کہ وہ تسلیم کریں کہ واشنگٹن ان کے سرمائے، دولت، اہم بنیادی ڈھانچے اورسٹریٹیجک وسائل کا استحصال کر رہا ہے اور انھیں ’اپنی فوج کے لیے دفاعی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے جبکہ اسی دوران ’صہیونی ریاست‘ کی سلامتی کو بھی مضبوط بنا رہا ہے۔‘

  18. اب تک کی اہم خبریں

    بی بی سی کے لائیو پیج میں آگے بڑھنے سے پہلے ایک نظر صبح سے اب تک کی اہم خبروں کے خلاصے پر ڈال لیتے ہیں۔

    • ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی اکبر ذوالقدر نے امریکہ کے ممکنہ حملوں کی خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’اگر امریکی حملے اور بحری ناکہ بندی جاری رہی تو ’آبنائے ہرمز پر لگائی گئی پابندی مزید سخت ہو جائے گی‘ اور اس کے نتیجے میں دیگر اہم آبی گزرگاہیں اور تجارتی راستے بھی بند ہو سکتے ہیں۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ’انتہائی سخت‘ حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’امریکہ ایران کو ’بہت بری طرح نشانہ بنائے گا‘، جبکہ امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ وہ آج یا کل ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے سمیت دیگر اہداف پر نئے بڑے حملوں پر غور کر رہے ہیں۔‘
    • یمن کے حوثیوں کے زیرِ انتظام میری ٹائم کوآرڈینیشن باڈی نے ان خبروں کی تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ گروہ باب المندب کی آبنائے سے گزرنے والے تجارتی جہازوں سے ٹول ٹیکس وصول کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔
    • ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے کہا ہے کہ جب تک فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس ’حقیقی معنوں میں ہتھیار نہیں ڈالتی‘، اسرائیلی فوج غزہ میں اپنی موجودہ پوزیشن سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ ادھر حماس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر حملوں کا مکمل خاتمہ اور اسرائیلی افواج کا انخلا کسی بھی معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے ’بنیادی شرط‘ ہے۔
    • بی بی سی ویریفائی کی تحقیقات کے مطابق ایران کے حملوں کے نتیجے میں کئی عرب ممالک میں امریکہ سے منسلک فوجی اڈوں اور شہری تنصیبات کو مزید نقصان پہنچا ہے، حالانکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل یہ دعویٰ کر چکے تھے کہ تہران کی فوجی صلاحیتیں تباہ کر دی گئی ہیں۔
    • کویتی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے آج صبح سے ملک کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ’دشمن ڈرونز‘ کا سراغ لگا کر انھیں تباہ کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل کویتی فوج کی جانب سے ایکس پر جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ’شہری اگر کسی دھماکے کی آواز سنیں تو وہ فضائی دفاعی نظام کی جانب سے دشمن حملوں کو ناکام بنانے کی کارروائی کا نتیجہ ہے۔‘
  19. ہم نے دشمن ڈرونز کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے: کویتی فوج کا دعویٰ

    کویتی فوج نے سنیچر کے روز اعلان کیا ہے کہ اس نے آج صبح سے ملک کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ’دشمن ڈرونز‘ کا سراغ لگا کر انھیں تباہ کر دیا گیا ہے۔

    کویتی فوج کے مطابق ایک ’ایرانی حملے‘ میں ملک کی متعدد اہم تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

    فوج نے بتایا کہ شمالی کویت میں واقع ایک سرکاری تنصیب اور بوبیان جزیرے پر ایک کمپنی سے منسلک شہری مقامات کو حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

    بیان کے مطابق حملے کے نتیجے میں گرنے والے ملبے اور ٹکڑوں سے کچھ نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

  20. مراکش سے سپین میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے 60 ہزار افراد کے ذمہ دار انسانی سمگلر ہیں: وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز

    ہسپانوی وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز نے مراکش سے سپین کے شمالی افریقی علاقے سیوٹا میں تقریباً 60 ہزار افراد کے غیر قانونی طور پر داخل ہونے کے بعد اس واقعے کا ذمہ دار انسانی سمگلنگ میں ملوث گروہوں کو قرار دیا ہے۔

    مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس بڑی نقل مکانی کے دوران کم از کم 57 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    پیڈرو سانچیز نے اس واقعے کو ’سپین کی علاقائی خودمختاری کی خلاف ورزی‘ قرار دیا، جبکہ اٹلی نے ردعمل میں سپین کے ساتھ یورپی یونین کے شینگن معاہدے کے تحت سرحدی آمدورفت کی سہولت عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    یہ پیش رفت سپین کی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ سیوٹا یا سپین کے ایک اور علاقے میلیلا پہنچنے کی کوشش کے دوران سمندر میں روکے جانے والے تارکینِ وطن کو فوری طور پر مراکش واپس نہیں بھیجا جا سکتا۔

    سپین میں حکام کے مطابق جمعے کی شام تک 48 ہزار سے زیادہ افراد رضاکارانہ طور پر مراکش واپس جا چکے تھے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے واپس جانے والے ایک شخص نے کہا کہ ’یہ بالکل بھی اچھا نہیں اور نہ ہی کوئی خوشگوار تجربہ ہے۔ لوگ یہاں مر رہے ہیں۔ میں سب سے درخواست کرتا ہوں کہ اگر آپ ابھی تک نہیں آئے تو مت آئیں، ایسا ہرگز نہ کریں۔‘

    شمالی افریقہ کے ساحل پر واقع سیوٹا آبنائے جبرالٹر کے ذریعے سپین کے مرکزی علاقے سے الگ ہے۔ یہ طویل عرصے سے یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے تارکینِ وطن کے لیے ایک اہم راستہ رہا ہے۔ گرمیوں کے مہینوں میں سوشل میڈیا کے ذریعے منظم کیے جانے والے ایسے سفر میں عموماً اضافہ دیکھا جاتا ہے۔

    مراکش سیوٹا اور سپین کے ایک اور علاقے میلیلا پر اپنا دعویٰ بھی رکھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ دونوں علاقے کئی برسوں سے سپین اور مراکش کے درمیان سفارتی کشیدگی کا باعث رہے ہیں۔ یہ یورپی یونین کی افریقہ کے ساتھ واحد زمینی سرحدیں بھی ہیں۔

    حالیہ ہفتوں میں سرحد عبور کرنے کی کوششوں میں اضافے کے بعد مقامی حکام نے میڈرڈ سے مدد کی اپیل کی تھی، تاہم جمعرات کے روز سرحدی انتظامات بظاہر ناکام ہونے کے بعد علاقے میں افراتفری کی صورتحال دیکھنے میں آئی۔