بعض ’طاقت ور عناصر‘ جنگ کے تسلسل کو اپنے مفاد میں سمجھتے ہیں: پاکستان فوج

،تصویر کا ذریعہReuters
پاکستان فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششوں کے حوالے سے ’پُر امید مگر محتاط‘ ہے۔
انھوں نے کہا کہ تاہم، بعض ’طاقت ور عناصر‘ بھی موجود ہیں جو جنگ کے تسلسل کو اپنے مفاد میں سمجھتے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں احمد شریف چوہدری نے ان قوتوں کی نشان دہی نہیں کی، تاہم کہا کہ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا حالیہ دورۂ تہران مثبت پیش رفت کی علامت ہے۔
عاصم منیر اکتوبر کے دوران دو مرتبہ تہران کا دورہ کر چکے ہیں۔ پیر کے روز انھوں نے سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکی کی انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ ابراہیم کالن کے ہمراہ ایرانی حکام سے ملاقات کی تھی۔
ترجمان پاک فوج نے کہا، ’اگر کوئی مثبت اشارہ نہ ہوتا تو فیلڈ مارشل دو مرتبہ تہران کیوں جاتے؟‘
تاہم انھوں نے تہران میں ہونے والی بات چیت کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا اور یہ بھی واضح نہیں کیا کہ آیا امریکہ ان سفارتی کوششوں کی حمایت کر رہا ہے یا نہیں۔
ایک سوال کے جواب میں احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے میں نئے اراکین کی شمولیت کے لیے کوئی رکاوٹ موجود نہیں۔
ان کے مطابق جو بھی ملک اجتماعی دفاع اور علاقائی امن کے بارے میں مشترکہ مؤقف رکھتا ہو، اس کی شمولیت کا خیر مقدم کیا جا سکتا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ معاہدے میں ایران کی ممکنہ رکنیت کا حتمی فیصلہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کی سیاسی قیادت کرے گی۔
یاد رہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے سات اگست کو ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت کسی ایک رکن پر حملہ تمام اراکین پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
داخلی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے ترجمان پاکستان فوج نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں شدت پسندی کے خلاف کارروائیاں انٹیلیجنس بنیادوں پر جاری ہیں اور ایسے آپریشنز کی رفتار مزید بڑھائی جائے گی۔













