اسرائیل کا یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ بند کرنے سمیت برطانیہ پر متعدد پابندیوں کا اعلان

برطانیہ کی جانب سے مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں پر پابندیوں کے اعلان کے بعد اسرائیل نے جوابی اقدامات کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ یروشلم میں قائم برطانوی قونصل خانہ بھی بند کر دیا جائے گا۔ برطانیہ کے وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے غیر قانونی طور پر مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیا کی درآمد پر پابندی سمیت متعدد اقدامات کا اعلان کیا تھا۔

خلاصہ

  • سعودی عرب کی حوثیوں کے متعدد شہروں پر حملوں کی شدید مذمت، خواتین اور بچوں سمیت 73 افراد زخمی
  • ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی پر اسلامی ممالک ذمہ دارانہ ردِعمل دیں: عباس عراقچی
  • بین الاقوامی جوہری تنظیم کے بورڈ آف گورنرز نے قرارداد منظور کی تو تہران جوابی کارروائی کرے گا: اسماعیل بقائی
  • سعودی عرب نے یمن کے متعدد علاقوں کو 'فضائی حملوں اور کروز میزائلوں' کے ذریعے نشانہ بنایا: حوثیوں کا الزام
  • ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے پہلی بار ایک امریکی بحری جہاز کے خلاف ایرانی ساختہ اینٹی ڈسٹرائر میزائل کا استعمال کیا ہے

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    نو ستمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  2. اردن میں امریکی اڈوں پر ایران کے میزائل حملوں کا ’دوسرا مرحلہ‘

    پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھی جانے والی خبر رساں ایجنسیوں نے اطلاع دی ہے کہ ایران نے اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملوں کا ایک اور مرحلہ شروع کیا ہے، جس میں مشرقی اردن میں واقع پرنس حسن فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔

    اسی دوران ایرانی ذرائع نے اردن پر میزائل حملوں کے پہلے مرحلے سے منسوب کئی ویڈیو تصاویر جاری کی ہیں، جن میں سے بعض میں ایرانی میزائلوں کو فضائی دفاعی نظام سے گزر کر براہِ راست اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

    بدھ کی صبح پاسدارانِ انقلاب نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس نے امریکی جنگی جہازوں پر بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔

  3. پاسدارانِ انقلاب کا امریکی جہازوں پر میزائل حملے کا اعلان

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پاسدارانِ انقلاب نے، جس نے منگل کی نصف شب اردن میں امریکی اڈوں پر میزائل حملوں کا اعلان کیا تھا، ایک نئے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی جنگی جہازوں پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب نے بدھ کی صبح جاری کیے گئے ایک نئے بیان میں کہا: طاقت ور بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے DDG-119 اور DDG-53 جنگی تباہ کن جہازوں کو، جو کروز میزائلوں اور ایجس (Aegis) نظام سے لیس تھے، نشانہ بنایا گیا، اور دعویٰ کیا کہ ان حملوں سے انھیں نقصان پہنچا ہے۔

    اس سے ایک گھنٹہ قبل سینٹکام نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس نے اپنے جنگی جہازوں کو نشانہ بنانے کی ایران کی کوششوں کے جواب میں پانچ ایرانی آئل ٹینکروں پر حملہ کر کے انھیں تباہ کر دیا ہے۔

    امریکی جہازوں پر ایران کے میزائل حملوں کا معاملہ گذشتہ چند دنوں کے دوران دونوں فریقوں کے درمیان اہم چیلنجوں میں سے ایک بن گیا ہے۔

    محسن رضائی نے چند روز قبل کہا تھا کہ ایرانی افواج بحری جہاز شکن میزائلوں کے ذریعے امریکی جہازوں کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہی ہیں۔

    امریکہ نے اپنے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنائے جانے کی تردید کی تھی، تاہم ایسی کوششوں کے جواب میں اس نے ایرانی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔

  4. پاسدارانِ انقلاب نے امریکی خودکار آبدوز زیہپد پر حملے کی تصاویر جاری کر دیں

    ْْٰBBC

    منگل کو پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے ایک امریکی خودکار آبدوز کے قبضے میں لیے جانے کا اعلان کیے جانے اور سینٹکام کی جانب سے اس بات کی تصدیق کے بعد کہ امریکی بحریہ کی زیہپد کو 24 گھنٹے قبل فنی خرابی کا سامنا ہوا تھا، سپاہ نیوز ویب سائٹ نے ایسی تصاویر شائع کیں جن کے بارے میں کہا گیا کہ ان میں خودکار آبدوز کو پانی سے نکالتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

    سینٹکام کے ترجمان فرسٹ کیپٹن ٹم ہاکنز نے منگل کو بی بی سی سے گفتگو میں کہا: امریکہ سے تعلق رکھنے والی ایک زیہپد کو فنی خرابی کا سامنا ہوا تھا۔ زیہپد جاری کارروائیوں کی حمایت میں علاقے کے پانیوں میں گشت کر رہی تھی۔

    انھوں نے کہا: یہ ایک پرانا ماڈل تھا جو حساس معلومات جمع نہیں کرتا تھا اور اس میں خفیہ ریڈار یا سینسر کا سامان موجود نہیں تھا۔ علاقائی پانیوں میں امریکی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔

    سینٹکام کے ترجمان کے بیان کے جواب میں پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ آبدوز کا فعال ہونا اور کارروائیوں کے دوران استعمال میں ہونا ان بحری ہتھیاروں کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

  5. پاسدارانِ انقلاب کا اردن کے الازرق اڈے پر امریکی جنگی طیاروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    پاسدارانِ انقلاب نے گذشتہ ایک گھنٹے کے دوران اردن میں مختلف مقامات پر میزائل حملے سے منسوب کئی تصاویر جاری کی ہیں اور ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اردن میں واقع امریکی الازرق اڈے کو نشانہ بنایا۔

    منگل کی نصف شب جاری کیے گئے ایک بیان میں پاسدارانِ انقلاب نے کہا: اس کارروائی میں ٹھوس ایندھن اور مائع ایندھن سے چلنے والے بیلسٹک میزائلوں نے ایف 15، ایف 16 اور ایف 35 جنگی طیاروں کی دیکھ بھال، تیاری اور تعیناتی کے مقامات، نیز جنگی طیاروں کے ہینگر کو نشانہ بنایا، جس سے بھاری نقصان ہوا۔

    پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ اس نے یہ حملے ایرانی آئل ٹینکروں پر امریکی حملوں کے ردعمل میں کیے۔

    اس سے چند منٹ قبل، سینٹکام نے اعلان کیا تھا کہ اس نے اپنے جنگی جہازوں پر ایران کے حملے کے جواب میں پانچ ایرانی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا ہے، تاہم اس نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ ان جہازوں پر حملے کی ایران کی کوشش سے نہ تو ان جہازوں کو کوئی نقصان پہنچا اور نہ ہی امریکی افواج کو۔

  6. سینٹکام کا ایرانی خام تیل لے جانے والے پانچ آئل ٹینکر تباہ کرنے کا دعویٰ

    امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے منگل کو دعویٰ کیا کہ اس کی افواج نے گذشتہ دو دنوں میں خام تیل لے جانے والے پانچ ٹینکروں کو تباہ کر دیا، یہ کارروائی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے گذشتہ دو دنوں میں امریکی بحریہ کے ایک جہاز پر دو بیلسٹک میزائل حملوں کے بعد کی گئی۔

    سینٹکام کے بیان میں کہا گیا کہ امریکی جہاز، ایرانی میزائل حملوں سے کامیابی کے ساتھ بچ نکلے اور علاقائی پانیوں میں گشت جاری رکھا۔ کمانڈ کے مطابق حملوں میں کوئی امریکی فوجی زخمی نہیں ہوا۔

    ایران کے تازہ ناکام حملوں کے جواب میں سینٹکام نے کہا کہ اس نے بحیرۂ عمان میں ایم ٹی کاویز، ایم ٹی چارمینار، ایم ٹی ہورائزن ون اور ایم ٹی رسکو نامی ٹینکروں کو، جبکہ خارک جزیرے کے قریب ایم ٹی دریا کو نشانہ بنایا۔

    امریکی فوج کے مطابق جہازوں پر حملے سے پہلے ان کے عملے کو جہاز چھوڑنے کا حکم دیا گیا تھا، جس کے بعد ٹینکروں کو نشانہ بنا کر ناکارہ بنا دیا گیا۔

    سینٹکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران ان ٹینکروں کو پاسدارانِ انقلاب اور اس کے علاقائی اتحادیوں کی مالی معاونت کے لیے اربوں ڈالر مالیت کے ایک خفیہ تیل منتقلی نیٹ ورک کے حصے کے طور پر استعمال کر رہا تھا، اور یہ بھی کہا کہ ایران ان جہازوں کے دفاع کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

    بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ سینٹکام کی افواج نے 5 ستمبر کو مزید تین ایرانی آئل ٹینکر تباہ کر دیے تھے، جب انقلابی گارڈز نے ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز اور ایک میزائل تباہ کن جنگی جہاز پر حملے کی کوشش کی تھی۔

    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسیوں نے بندرگاہ جاسک کے ساحل سے دور ایک آئل ٹینکر پر حملے کی تصدیق کی ہے، تاہم دیگر آئل ٹینکروں پر حملوں کے متعلق کوئی خبر نہیں دی گئی۔

    دریں اثنا، پاسدارانِ انقلاب نے ایک ہنگامی نوٹس جاری کرتے ہوئے بحرین اور کویت کی بندرگاہوں میں موجود ٹینکروں کے عملے کو فوری طور پر ڈیک چھوڑنے کی تنبیہ کی، کیونکہ انھیں جلد نشانہ بنایا جائے گا۔

    ایران نے اردن اور ملک میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملوں کا بھی اعلان کیا ہے۔

  7. آبنائے ہرمز میں ایک آبدوز میں تکنیکی خرابی ہوئی تھی: سینٹرل کمانڈ کا ایرانی دعوے پر ردِعمل

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کی ایک آبدوز کو تکنیکی خرابی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ آبدوز علاقے کے پانیوں میں جاری آپریشنز کی معاونت کے لیے گشت کر رہی تھی۔

    اس سے قبل ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نے دعویٰ کیا تھا کہ پاسدارانِ انقلاب نے ایک امریکی سمارٹ آبدوز کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔

    فارس کے مطابق یہ امریکی فوج کی ’انتہائی جدید، ذہین اور بغیر عملے کے چلنے والی (ان مینڈ) آبدوزوں‘ میں سے ایک ہے۔

    فارس نے یہ بھی کہا کہ اس آبدوز کو ’آبنائے ہرمز کے داخلی راستے‘ پر قابو کیا ہے۔

    سینٹکام کے ترجمان لیفٹیننٹ کیپٹن ٹم ہاکنز نے ایک بیان میں کہا: ’ایک روز قبل امریکی بحریہ کی ایک آبدوز کو تکنیکی خرابی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ آبدوز علاقے کے پانیوں میں جاری آپریشنز کی معاونت کے لیے گشت کر رہی تھی۔‘

    اُنھوں نے مزید کہا کہ یہ ڈرون آبدوز کا ایک پرانا ماڈل تھا جو حساس معلومات اکٹھی نہیں کرتا تھا اور اس میں کوئی خفیہ (کلاسیفائیڈ) ریڈار یا سینسر کا سامان نصب نہیں تھا۔

  8. حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں پانچ روپے 58 پیسے، ڈیزل کی قیمت میں چار روپے 18 پیسے اضافہ کر دیا

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا۔ اس حوالے سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں پانچ روپے 58 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 364 روپے35 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں چار روپے 18 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 385 روپے 95 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ پیٹرول کی قیمت 364 روپے 35 پیسے ہو گئی ہے۔

  9. امریکہ نے 27 ایرانی فضائی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں

    Iranian airlines

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    امریکی محکمۂ خزانہ نے منگل کے روز ایران کی 27 فضائی کمپنیوں اور چند دیگر اداروں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یہ اقدام ایران کی معیشت کو مزید عالمی سطح پر تنہا کرنے کی امریکی کوششوں کے سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔

    یہ پابندیاں ایسے وقت میں لگائی گئی ہیں جب تہران اور اس کے اتحادی گروہوں کی جانب سے آبنائے ہرمز اور آس پاس کے علاقوں میں حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

    امریکہ کی جانب سے اعلان کردہ ’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘ کے تحت کیے گئے اس تازہ اقدام میں ان تمام ایرانی فضائی کمپنیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جو اس سے قبل امریکی پابندیوں کی زد میں نہیں آئی تھیں۔

    امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ ’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ کے تحت ہم نے وعدہ کیا تھا کہ ایرانی حکومت کو مالی سہارا فراہم کرنے والوں کو سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آج ہم نے اس وعدے کو پورا کرتے ہوئے ان کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی ہیں جو اب بھی ماہان ایئر کی حمایت کر رہی ہیں۔

    ماہان ایئر ایران کی نجی فضائی کمپنیوں میں شامل ہے اور ماضی میں بھی امریکی پابندیوں کا سامنا کر چکی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ نئی پابندیوں کا مقصد ایرانی حکومت کے مالی وسائل تک رسائی کو محدود کرنا ہے اور ان کمپنیوں کو نشانہ بنانا ہے جو ایرانی فضائی کمپنیوں کی کاروباری سرگرمیوں میں معاونت کر رہی ہیں۔

  10. ایران کا آبنائے ہرمز سے امریکی ڈرون آبدوز قبضے میں لینے کا دعویٰ

    US Drone submarine

    ،تصویر کا ذریعہX/FarsNews_Agency

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے نزدیک سمجھی جانے ولی فارس نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے ایک امریکی ’سمارٹ آبدوز‘ کو قبضے میں لے لیا ہے۔

    فارس کے مطابق یہ امریکی فوج کی ’جدید ترین، ذہین اور بغیر عملے کے چلنے والی آبدوزوں‘ میں سے ایک ہے۔

    ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس آبدوز کو آبنائے ہرمز کے دہانے پر روکا گیا اور اپنے کنٹرول میں لیا گیا۔

    تاہم امریکہ کی جانب سے تاحال اس دعوے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

  11. سندھ ہائی کورٹ نے دادو میں قید علی وزیر کے خلاف مزید ایف آئی آر کے اندراج پر پولیس سے تفصیلات طلب کرلیں, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    Ali Wazir

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    سندھ ہائی کورٹ کے سرکٹ کورٹ حیدرآباد نے ڈسٹرکٹ جیل دادو میں قید پشتون رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر کے خلاف مزید ایف آئی آرز کے اندراج کے معاملے پر پولیس سے تفصیلات طلب کرلی ہیں۔

    عدالت نے پولیس حکام کو ہدایت کی کہ علی وزیر کے خلاف زیرِ التوا مقدمات اور ایف آئی آرز کی مکمل تعداد سے آگاہ کیا جائے، جبکہ دورانِ حراست اگر ان کے خلاف مزید مقدمات درج کیے گئے ہیں تو ان کا ریکارڈ بھی آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کیا جائے۔

    سندھ ہائی کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 10 ستمبر 2026 تک ملتوی کر دی۔

    یاد رہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) سے وابستہ سابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو مارچ 2026 میں سکھر جیل سے ضمانت پر رہا کیا گیا تھا، تاہم رہائی کے چند گھنٹے بعد ہی پولیس نے انھیں بغاوت کے ایک اور مقدمے میں دوبارہ گرفتار کر لیا۔ بعد ازاں مقامی عدالت نے انھیں ڈسٹرکٹ جیل دادو منتقل کرنے کا حکم دیا، جہاں وہ اس وقت قید ہیں۔

    واضح رہے کہ علی وزیر کو دسمبر 2020 میں گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد سے ان پر چار مقدمات دائر ہوچکے ہیں۔

  12. اسرائیل کا یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ بند کرنے سمیت برطانیہ پر متعدد پابندیوں کا اعلان

    Israel's foreign minister Gideon Saar

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    برطانیہ کی جانب سے مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں پر پابندیوں کے اعلان کے بعد اسرائیل نے جوابی اقدامات کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ یروشلم میں قائم برطانوی قونصل خانہ بھی بند کر دیا جائے گا۔

    منگل کے روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسرائیل کے وزیر خارجہ گیڈیون ساعر نے کہا کہ اسرائیل یروشلم میں برطانیہ کا قونصل خانہ بند کر دے گا۔

    برطانوی حکومت کے مطابق ’یروشلم میں برطانیہ کا قونصل جنرل‘ یروشلم، مغربی کنارے اور غزہ میں برطانوی حکومت کی نمائندگی کرتا ہے اور برطانیہ اور فلسطین کے درمیان سیاسی، تجارتی، سکیورٹی اور اقتصادی مفادات پر کام کرتا ہے۔

    اسرائیلی وزیرِ خارجہ نے برطانوی حکومت کی جانب سے آج اعلان کردہ پابندیوں کے جواب میں ’اسرائیلی جوابی اقدامات‘ کے ایک سلسلے کا اعلان کیا۔

    ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات لیبر حکومت کے ’اسرائیل مخالف فیصلوں کے ایک سلسلے‘ کے بعد کیا جا رہا ہے، جبکہ انھوں نے برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ پر ’بے بنیاد اور اشتعال انگیز جھوٹ‘ بولنے کا الزام بھی عائد کیا۔

    اسرائیلی وزیر خارجہ نے الزام لگایا کہ لیبر حکومت ’منظم انداز میں ریاستِ اسرائیل کے خلاف کام کر رہی ہے۔‘

    یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ بند کرنے کے علاوہ اسرائیل نے برطانیہ کے خلاف جن جوابی اقدامات کا اعلان کیا ہے وہ یہ ہیں:

    • جنوبی اسرائیل کے شہر کیریات گات میں قائم انٹرنیشنل غزہ سپورٹ سینٹر سے برطانوی نمائندوں کو ہٹا دے گا۔
    • رام اللہ میں قائم برٹش سپورٹ ٹیم کے تحت فلسطینی اتھارٹی کی سکیورٹی فورسز کو دی جانے والی برطانوی تربیتی سرگرمیوں کا خاتمہ۔ اسرائیلی حکومت مغربی کنارے کو ’یہودیا اور سامریہ‘ کے نام سے پکارتی ہے۔
    • 12 برطانوی منتخب نمائندوں اور دیگر برطانوی شہریوں کے اسرائیل میں داخلے پر پابندی۔ ساعر کے مطابق یہ پابندی ان افراد پر عائد کی جائے گی جو ’یہود مخالف یا اسرائیل مخالف سرگرمیوں‘ میں ملوث ہیں، یا جو ’ریاستِ اسرائیل کے وجود ہی سے انکار کرتے ہیں۔‘

    یاد رہے کہ برطانیہ کے وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے غیر قانونی طور پر مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیا کی درآمد پر پابندی سمیت متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

  13. علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایران-امریکہ مذاکرات کی بحالی کے لیے کام کر رہے ہیں: قطر

    قطری وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ان کا ملک علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایران اور امریکہ کے درمیان سفارت کاری اور مذاکرات کی بحالی کے لیے کام کر رہا ہے۔

    وزارتِ خارجہ کے ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان کے مطابق ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ابراہیم بن سلطان الہاشمی کا کہنا تھا کہ ان کا ملک بحران کے پُرامن حل کے لیے سیاسی عزم ناگزیر ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کی فوری اور غیر مشروط بحالی قطر اور خطے کے دیگر ممالک کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، جبکہ قطر اس آبی گذرگاہ کو دباؤ ڈالنے کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کیے جانے کی مخالفت کرتا ہے۔

  14. سعودی عرب کے اپنے دفاع کے جائز حق کی مکمل حمایت کرتے ہیں: پاکستانی وزارتِ خارجہ

    پاکستان نے سعودی عرب کے شہروں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران کے شہری اور اقتصادی اہداف پر حوثی جنگجوؤں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملے یمن تنازع کے پُرامن اور دیرپا حل کے لیے جاری کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

    وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حوثیوں کے حملے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں، پورے خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔

    وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے مطابق سعودی عرب کے اپنے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کے جائز حق کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

    وزارتِ خارجہ کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

  15. برطانیہ کا مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں پر پابندیوں کا اعلان، آبادکاروں پر نسل کشی کا الزام

    برطانیہ کے وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ

    ،تصویر کا ذریعہHouse of Commons

    برطانیہ کے وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے غیر قانونی طور پر مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیا کی درآمد پر پابندی سمیت متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

    منگل کے روز برطانوی پارلیمان میں خطاب کرتے ہوئے ملی بینڈ کا کہنا تھا انھیں نہیں لگتا کہ ’برطانوی عوام یہ چاہتے ہیں کہ ہماری دکانوں میں بستیوں سے آنے والی مصنوعات اجازت دے کر قبضے کی حمایت کریں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ:

    ·ایک ’جامع پابندیوں کا نظام‘ قائم کیا جائے گا، جس میں ’مناسب مذہبی استثنا‘ بھی شامل ہوں گے۔

    • غیر قانونی بستیوں کو سہولت فراہم کرنے والوں کو مخاطب ہوتے ہوئے ملی بینڈ کا کہنا تھا: ’آپ کو برطانیہ کی بھرپور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘
    • انھوں نے ارکانِ پارلیمان کو بتایا کہ برطانیہ اس بات سے متفق ہے کہ مغربی کنارے کے بعض علاقوں میں شناخت کی بنیاد پر نسل کشی (ایتھنک کلینزنگ) ہو رہی ہے۔
    • ملی بینڈ کا کہنا ہے کہ برطانوی حکومت کی نظر میں مغربی کنارے پر قبضہ ’غیر قانونی‘ ہے۔
    • انھوں نے برطانیہ میں مغربی کنارے کی غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے اشتہارات پر پابندی کا بھی اعلان کیا۔
    • وزیر خارجہ نے کہا کہ ’پابندیوں کا نظام غیر قانونی بستیوں اور ان کے پھیلاؤ کو ہدف بنائے گا، اسرائیل کو نہیں۔‘
    • ملی بینڈ نے کا مزید کہنا تھا کہ برطانیہ ایسے ’انتہا پسند آبادکاروں‘ پر بھی پابندیاں عائد کر رہا ہے جنھوں نے فلسطینی برادریوں کے خلاف تشدد کی کارروائیوں کی حمایت کی یا انھیں ہوا دی۔
  16. میئر کراچی کے دفتر میں آتشزدگی، ملحقہ کمروں میں موجود متعدد دستاویزات متاثر: کمرہ مکمل طور پر جل چکا، مرتضی وہاب

    Karachi Metropolitan Corporation office

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    کراچی میں ایم اے جناح روڈ پر واقع کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے مرکزی دفتر میں منگل کی دوپہر آتشزدگی کے باعث میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا دفتر متاثر ہوا، جبکہ ملحقہ کمروں میں موجود متعدد دستاویزات بھی متاثر ہوئی ہیں۔

    میئر کے دفتر کی ساتھ ہی ان کا کچن واقع ہے، تاہم آگ کی وجہ ابھی معلوم نہیں ہوئی اور واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    دوسری جانب میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ ان کا کمرہ مکمل طور پر جل چکا ہے اور وہاں موجود فرنیچر بھی تباہ ہو گیا ہے۔

    مرتضیٰ وہاب نے دعویٰ کیا کہ ان کے کمرے میں مستقل طور پر کوئی فائل یا سرکاری ریکارڈ نہیں رکھا جاتا۔ ان کا کہنا ہے کہ دستخط اور منظوری کے لیے جو فائلیں ان کے پاس آتی ہیں، وہ ان پر دستخط کرنے اور ضروری احکامات جاری کرنے کے بعد متعلقہ محکموں کو واپس بھجوا دیتے ہیں۔

    میئر کراچی کے مطابق اگر کسی وقت ان کے پاس کوئی فائل موجود ہوتی ہے تو وہ صرف ایسی فائل ہوتی ہے جس پر ان کے دستخط یا منظوری زیرِ التوا ہو۔ ان کے بقول فیصلہ ہونے کے بعد فائل متعلقہ محکمے کو منتقل کر دی جاتی ہے، جہاں اسے مزید کارروائی اور ریکارڈ کے طور پر محفوظ رکھا جاتا ہے۔

  17. سعودی تنصیبات پر حوثی حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی

    Oil Tanker

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    ایرانی حمایت یافتہ حوثی جنگجوؤں کی جانب سے سعودی عرب کی توانائی تنصیبات پر حملوں اور تہران کی طرف سے امریکہ کو ’اقتصادی جنگ‘ کی دھمکی کے بعد منگل کو تیل کی قیمتیں کئی ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق منگل کے روز پاکستانی وقت کے مطابق دن دو بج کر 56 منٹ پر برینٹ خام تیل کے سودے 1.39 ڈالر، یا 1.43 فیصد اضافے کے ساتھ 98.39 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے ہیں۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 2.25 ڈالر، یا 2.46 فیصد اضافے کے ساتھ 93.73 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا تھا۔

    اس سے قبل برینٹ خام تیل کی قیمت 99.46 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، جو 24 جولائی کے بعد بلند ترین سطح تھی جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی فی بیرل قیمت 94.73 تک پہنچ گئی تھی جو آٹھ جون کے بعد کی بلند ترین سطح ہے۔

    منگل کے روز حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں 73 افراد کے زخمی ہونے کے بعد بعض توانائی کی تنصیبات پر سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں۔

    دوسری جانب ایران نے امریکہ کو ’اقتصادی جنگ‘ کی دھمکی دی ہے اور کہا ہے کہ اس نے امریکی جنگی جہازوں پر ایک جدید میزائل داغا ہے، جس کے بعد کشیدگی میں اضافے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ حالیہ دنوں میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر ایک بار پھر حملے شروع کر دیے ہیں۔

    سنیچر کے روز امریکی فوج کی مرکزی کمان سینٹکام نے ایران کے تین تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا جن میں سے ایک خارگ جزیرے کے قریب موجود تھا۔ سینٹکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے خطے میں موجود امریکی جنگی جہازوں پر حملوں کے بعد کیے گئے ہیں۔

    رواں ہفتے کے آغاز سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمد و رفت بھی سست پڑ گئی ہے کیونکہ ایران نے سوموار کو خبردار کیا تھا کہ اگر امریکہ نے مزید حملے کیے تو وہ جوابی کارروائی کرے گا۔

    فروری کے اواخر میں تنازع شروع ہونے سے قبل دنیا بھر میں روزانہ سپلائی ہونے والے خام تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا تقریباً پانچواں حصہ آبنائے ہرمز کے راستے منتقل کیا جاتا تھا۔

  18. قطر کے وزیرِ اعظم کی چینی وزیرِ خارجہ سے ملاقات، خطے میں کشیدگی پر تبادلہ خیال: بندوقوں کے ذریعے دباؤ ڈالنا مسئلے کا حل نہیں، بیجنگ

    qatar

    ،تصویر کا ذریعہx/MofaQatar_EN

    قطر کے وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی نے منگل کے روز بیجنگ میں چین کے وزیرِ خارجہ وانگ یی سے ملاقات کی۔

    قطری وزارتِ خارجہ کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات میں خطے کی حالیہ صورتِ حال اور کشیدگی میں کمی اور علاقائی امن و استحکام کو فروغ دینے کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر بات چیت ہوئی۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اس موقع پر آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہازرانی کے تحفظ اور آزادی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

    ملاقات کے دوران قطری وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ان کا ملک سمندری آمد و رفت کی آزادی کو یقینی بنانے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ایک جامع معاہدے تک پہنچنے کی راہ ہموار کرنے والی سفارتی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی نے قطر کے وزیرِ اعظم کو بتایا کہ خلیج میں کشیدگی نے نہ صرف خطے کے ممالک کی سلامتی کو شدید نقصان پہنچایا ہے بلکہ یہ ’توانائی کی منڈیوں، جہازرانی اور رسد کے سلسلوں کے استحکام کو مسلسل متاثر کر رہی ہے۔‘

    چین کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ سرکاری بیان کے مطابق بیجنگ میں ہونے والی ملاقات کے دوران وانگ یی نے کہا کہ ’بندوقوں اور توپوں کے ذریعے دباؤ ڈالنا مسئلے کا حل نہیں۔ بات چیت اور مذاکرات ہی درست راستہ ہیں۔‘

    وانگ یی نے مزید کہا کہ چین خطے کے مسائل میں ثالثی اور امن کے فروغ کے لیے قطر کی وسیع کوششوں کو سراہتا ہے اور بین الاقوامی اور علاقائی امور پر قطر کے ساتھ رابطے اور ہم آہنگی جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔

  19. پاکستان کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت: ایسے حملے نہ صرف بے گناہ انسانی جانوں بلکہ علاقائی امن کے لیے بھی خطرہ ہیں، شہباز شریف

    Shehbaz Sharif MBS

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu Agency via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان نے سعودی عرب پر حوثی جنگجوؤں کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے حملے نہ صرف بے گناہ انسانی جانوں بلکہ علاقائی امن اور سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہیں۔

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’میں سعودی عرب میں شہری اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حوثیوں کے بزدلانہ حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔‘

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اس نوعیت کے مذموم حملے نہ صرف بے گناہ انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ علاقائی امن اور سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہیں۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی مضبوط حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔

    یاد رہے کہ سعودی وزارتِ خارجہ نے حوثیوں کی جانب سے ابہا، خمیس مشیط، جیزان اور نجران میں شہری اور اقتصادی تنصیبات پر حملے میں خواتین اور بچوں سمیت 73 شہریوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

    دوسری جانب یمن کے حوثی جنگجوؤں نے اعلان کیا ہے کہ انھوں نے گذشتہ تین روز کے دوران یمن پر 120 سے زائد سعودی حملوں کے جواب میں سعودی عرب کے اقتصادی اور عسکری اہداف پر درجنوں ڈرونز اور میزائل داغے ہیں۔

    حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ’یمنی مسلح افواج نے طویل فاصلے تک مار کرنے والی ایک بڑے پیمانے کی عسکری کارروائی انجام دی، جس میں درجنوں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کیا گیا۔‘

  20. کشمیری پنڈتوں کے لیے پھر سے دھمکی آمیز خطوط: سنگین خطرہ یا سازش؟, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو، سرینگر

    Indian administered Kashmir

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    انڈیا کے زیرانتظام کشمیر سے 1990 میں نقل مکانی کرنے والے ہزاروں کشمیری پنڈتوں میں مبینہ عسکریت پسندوں کی جانب سے دھمکی آمیز خطوط اور ان میں پنڈتوں سے متعلق ذاتی معلومات افشا کیے جانے سے خوف کی لہر پھیل گئی ہے۔

    وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے ان دھمکیوں کو ’سنگین‘ قرار دیتے ہوئے انڈین وزارت داخلہ سے اپیل کی ہے کہ پنڈتوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔

    حکومت نے کشمیر میں کام کرنے والے کشمیری پنڈتوں کو ایک ’زبانی حکمنامہ‘ کے ذریعے انھیں ’ورک فرام ہوم‘ کی طرز پر گھر سے ہی کام کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ دوسری جانب پولیس نے کشمیری پنڈتوں کی کالونیوں کے آس پاس سکیورٹی مزید سخت کردی ہے۔

    خطوط میں ذاتی معلومات کا افشاٴ

    پہلی مرتبہ ایسا خط گذشتہ ماہ کے آغاز میں سوشل میڈیا پر منظرِ عام پر آیا تھا جبکہ تازہ ترین خط چھ ستمبر کو جاری کیا گیا ہے۔ غیرمعروف گروپ ’یونائیٹڈ لبریشن کونسل‘ نے خط میں کشمیر اور جموں میں رہنے والے بعض کشمیری پنڈتوں کے نام، اُن کے گھروں کے پتے، گاڑیوں کے رجسٹریشن نمبر اور دیگر حساس معلومات جاری کرتے ہوئے انھیں دھمکی دی تھی۔

    خط میں ایسے کشمیری پنڈتوں کو محفوظ قرار دیا گیا ہے جو گروہ کے بقول 1990 میں اُس وقت کے گورنر جگموہن ’کے جھوٹے جھانسوں میں نہیں آئے اور حکومت کی کٹھ پتلی نہیں بنے۔‘

    ’یہ ایک سازش ہے‘

    سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ نے گذشتہ روز ایک تقریب میں کشمیری پنڈتوں کے لیے دھمکی آمیز خطوط کو تشویشناک قرار دیا۔ تاہم ساتھ ہی انھوں نے اس بات پر تعجب کا اظہار بھی کیا کہ ’اگر کشمیر کی بیوروکریسی میں اکثریت ہندو افسروں کی ہے، تو دھمکی والے خط صرف پنڈتوں کے لیے کیوں؟ یہ ایک سازش ہے جو اس لیے رچائی گئی ہے تاکہ ہم لوگ کشمیر کو دوبارہ باقاعدہ ریاست بنانے کےمطالبے پر خاموش ہوجائیں۔‘

    واضح رہے 2019 میں کشمیر کو نیم خودمختاری دینے والی انڈین آئین کی شق 370 کو منسوخ کر کے کشمیر کا ریاستی درجہ ختم کر دیا گیا تھا اور اسے مرکز کے زیرانتظام علاقہ قرار دی دیا گیا۔ تاہم یہ اعلان کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں انڈین وزیرداخلہ امت شاہ نے کہا تھا کہ \ریاستی درجہ مناسب وقت پر سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد بحال کیا جائے گا۔‘

    گذشتہ چند ماہ سے حکمران جماعت نیشنل کانفرنس نے ریاستی درجہ بحال کرنے کے لئے مہم شروع کر رکھی ہے، جس کے بعد گذشتہ ماہ نئی دلّی میں پارلیمنٹ کے باہر دھرنا بھی دیا گیا۔

    پنڈتوں کی کشمیر واپسی کی کوششیں

    1990 میں کشمیر میں مسلح کارروائیاں شروع ہوتے ہی متعدد کشمیری پنڈتوں کو مسلح گروپوں نے انڈین فورسز کے لیے مخبری کرنے کے الزام میں ہلاک کر دیا۔ بعض ہائی پروفائل ہلاکتیں بھی ہوئیں، جن میں سرینگر کے سرکاری ٹیلی ویژن سٹیشن کے ڈائریکٹر لسہ کول، ایک ہائی کورٹ کے جج اور ہندوستان مشین ٹوُلز نامی گھڑیوں کی فیکٹری کے سربراہ ایچ ایل کھیرا شامل تھے۔

    اس کے فوراً بعد وادی سے کشمیری پنڈتوں کا انخلا شروع ہوا۔ تاہم 1996 میں طویل گورنر راج کے بعد جب فاروق عبداللہ کی حکومت وجود میں آئی تو سرکاری اور غیرسرکاری سطح پر پنڈتوں کو واپس لانے کی کوششیں شروع ہوگئیں۔ علیحدگی پسندوں کے اتحاد حریت کانفرنس، جو 2019 میں کالعدم قرار دی گئی، نے بھی کئی سیمنار منعقد کیے جن میں پنڈتوں کی واپسی کی اپیل کرتے ہوئے کہا گیا کہ ’کشمیری پنڈتوں کے بغیر کشمیر کا وجود ادھورا ہے۔‘ لیکن مسلح جھڑپوں، پتھراؤ اور ہڑتالوں سے جو صورتحال بن چکی تھی، اسے کشمیری پنڈت رہنماؤں نے وطن واپسی کے لیے بڑی رکاوٹ قرار دیا۔

    2008 میں اُس وقت کے انڈین وزیراعظم منموہن سنگھ نے پنڈتوں کو وطن واپسی پر آمادہ کرنے کے لیے 16 کروڑ روپے کے ایک ’سپیشل پیکیج‘ کا اعلان کیا تھا۔ اس پیکیج کے تحت کشمیر پنڈتوں کو کشمیر میں اس شرط پر نوکریاں دینے کا اعلان کیا گیا کہ وہ کشمیر میں سرکاری طور تعمیر کیے گئے اپارٹمنٹس میں رہیں گے۔ فی الوقت سرینگر، بڈگام، اننت ناگ اور دوسرے علاقوں سخت سکیورٹی حصار والے ایسے متعدد اپارٹمنٹس ہیں، جن میں سات ہزار کشمیری پنڈت ملازم اور ان کے اقربا رہائش پذیر ہیں۔