لائیو, باقر قالیباف کی قطر اور پاکستان کے ذریعے امریکہ کو پیغامات پہنچانے کی تصدیق، ایران کی مذاکرات کے لیے سات شرائط

اتوار کو پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ جنگ کی باتیں تو کی جاتی ہیں، لیکن اس کے حتمی اور مؤثر خاتمے کے لیے کوئی لائحہ عمل یا طریقہ کار موجود نہیں ہوتا۔ دوسری جانب سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کے آغاز کے لیے سات شرائط مقرر کی ہیں۔

لائیو کوریج

  1. امریکہ خطے کے کچھ ممالک کی حمایت سے ایران پر دوبارہ حملے کی تیاری کر رہا ہے: خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹر کا دعویٰ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے اعلیٰ ترین عسکری ادارے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈ کوارٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ خطے کے کچھ ممالک کی حمایت سے ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

    ایک بیان میں خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اسے ایسی معلومات ملی ہیں کہ امریکہ، خطے کے کچھ ممالک کی حمایت سے، ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’موصولہ معلومات کی بنیاد پر، امریکہ نے خطے کے کچھ ممالک کی رضامندی (گرین سگنل) کے ساتھ، ایک یورپی ملک میں ہونے والے مشترکہ اجلاس میں ایران کے خلاف دوبارہ کارروائیاں شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

    خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹر نے اجلاس میں شریک فریقین یا میزبان یورپی ملک کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    ایران کے اس اعلیٰ ترین عسکری ادارے نے خطے کے ممالک کو خبردار کیا کہ اگر وہ امریکی حملے میں ’شامل‘ ہوتے ہیں یا اس کا ساتھ دیتے ہیں، تو ’انھیں اس مذموم عمل میں شریک سمجھا جائے گا اور وہ ایران کی طاقتور مسلح افواج کی جانب سے تحمل یا نرم رویے کی توقع نہیں رکھ سکیں گے۔‘

    خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈ کوارٹر نے امریکہ کو بھی خبردار کیا کہ حملے کی صورت میں، ’خطے میں اس ملک کے تمام فوجی مراکز اور مفادات کو بغیر کسی پابندی یا لحاظ کے مسلسل، مؤثر اور شدید (تکلیف دہ) حملوں کا نشانہ بنایا جائے گا۔‘

  2. ایرانی وزارتِ انٹیلی جنس کی تین صوبوں میں ’پیشگی‘ کارروائیاں، متعدد افراد گرفتار

    ایران کی وزارتِ انٹیلی جنس نے بتایا ہے کہ اس نے ایک ’پیشگی‘ کارروائی کے دوران تین صوبوں میں کئی افراد کو گرفتار کیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں کو اپوزیشن گروپوں سے منسلک ’کلیدی ارکان‘ قرار دیا گیا ہے۔

    وزارتِ انٹیلی جنس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ افراد ’قتل کی کارروائیاں کرنے اور معاشی بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے‘ کا ارادہ رکھتے تھے۔

    وزارتِ انٹیلی جنس کا کہنا ہے کہ پیران شہر میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں اپوزیشن گروپوں کے ساتھ تعاون کرنے کے الزام میں ایک شخص ہلاک ہو گیا۔

    ادارے نے مزید بتایا کہ اس نے کرمان اور البرز کے صوبوں میں بھی کئی افراد کو گرفتار کیا ہے۔

    اس حوالے سے مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

    بیان کے مطابق، یہ کارروائی ’عوامی اطلاعات‘ کی بنیاد پر کی گئی تھی۔

    وزارتِ انٹیلی جنس نے کہا کہ یہ کارروائی ’عوامی اطلاعات‘ پر مبنی تھی اور شہریوں پر زور دیا کہ وہ ’مشکوک معاملات‘ کی اطلاع دیں۔

  3. امریکہ کو مذکرات کی بحالی کے لیے سات شرائط بھیج دی ہیں: میجر جنرل محسن رضائی

    میجر جنرل محسن رضائی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کے آغاز کے لیے سات شرائط مقرر کی ہیں۔

    محسن رضائی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان میں لکھا کہ ایران نے کسی بھی ممکنہ مذاکرات کے آغاز کے لیے اپنی سات شرائط امریکی انتظامیہ تک پہنچا دی ہیں۔

    ’ہمارا پیغام واضح اور غیر مبہم ہے: اگر واشنگٹن اپنے ہی پیدا کردہ بحران سے نکلنا چاہتا ہے اور اس میں مزید الجھنے سے بچنا چاہتا ہے تو اس کے پاس ایران کے حقوق اور شرائط کو تسلیم کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔‘

    رضائی کے بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مستقبل میں کسی بھی سفارتی پیش رفت کا انحصار ایران کی جانب سے پیش کی گئی شرائط اور حقوق کو تسلیم کرنے پر ہوگا۔

    تاہم اس بیان میں مذکور ساتوں شرائط کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ تاہم سنیچر کو الجزیرہ ٹی وی پر نشر ہونے والے انٹرویو میں رضائی نے بتایا تھا کہ تہران کسی سمجھوتے کے لیے ’تمام محاذوں‘ پر جنگ کے خاتمے، منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

  4. یوکرین کا ماسکو پر ڈرونز کا حملہ، کم از کم دو افراد ہلاک اور چھ زخمی

    یوکرین کا روس پر حملہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    روس کے دارالحکومت ماسکو پر رات گئے یوکرینی ڈرونز کے ایک بڑے حملے میں کم از کم دو افراد ہلاک اور چھ زخمی ہو گئے ہیں۔

    ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانن نے اس حملے کو غیر معمولی حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دارالحکومت کی جانب آنے والے 450 ڈرونز کو مار گرایا گیا تاہم اس دوران ایک آئل ریفائنری کو نقصان پہنچا جبکہ کئی گھروں میں آگ لگ گئی۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے تصدیق کی کہ کیئو نے روس کے ایک اہم تیل کے مرکز اور علاقے میں ایک لاجسٹکس سائٹ کو نشانہ بنایا ہے، جو ان کے بقول جنگی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے درکار اربوں ڈالر کے وسائل فراہم کرتے ہیں۔

    دوسری جانب یوکرینی حکام نے کہا ہے کہ ہفتے کے روز کیئو اور سومی کے علاقوں میں روسی حملوں میں تین بچوں سمیت آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    واضح رہے کہ روس اور یوکرین نے حالیہ دنوں میں اپنے حملے تیز کر دیے ہیں، جن میں توانائی پیدا کرنے والی اور ٹرانسپورٹ کی تنصیبات کے علاوہ بڑے لاجسٹکس مراکز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں جن میں بظاہر ماسکو کے اوپر رات کے آسمان میں دھماکے اور ایک گودام میں آگ دکھائی دے رہی ہے۔ بی بی سی ان ویڈیوز کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

  5. متحدہ عرب امارات میں امریکی مشن کو مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ

    متحدہ عرب امارات میں امریکی مشن نے انتباہ جاری کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث سکیورٹی صورتحال پیچیدہ ہے اور حالات میں غیر متوقع طور پر شدت آنے کا امکان موجود ہے۔

    امریکی مشن کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی شہریوں کو چاہیے کہ وہ انتہائی چوکنا رہیں اور پروازوں کی ممکنہ منسوخی، فضائی حدود کی بندش اور سفری رکاوٹوں کے امکانات سے آگاہ رہیں۔

    امریکی مشن کے مطابق ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے سعودی عرب کے خلاف (بشمول شہری ہوائی اڈوں کے) جارحانہ کارروائیاں کی ہیں۔

    اس عسکری تنازع کے شدت اختیار کرنے کا قوی امکان ہے۔ مشرقِ وسطیٰ سے باہر موجود امریکی شہریوں کو اس خطے کا سفر کرنے یا یہاں سے گزرنے کے فیصلے پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ اس خطے کا سفر کرتے ہیں یا یہاں سے آتے جاتے ہیں، انھیں ہوائی اڈوں اور ایئر لائنز کے آپریشنز سے متعلق معلومات پر نظر رکھنی چاہیے۔

    امریکی مشن کی جانب سے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ایران اور اس کے حامی گروہ بیرون ملک امریکی مفادات کا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

  6. ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف کی قطر اور پاکستان کے ذریعے امریکہ کو پیغامات پہنچانے کی تصدیق

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف نے تصدیق کی ہے ایران نے ثالثوں کے ذریعے امریکہ کو پیغامات اور شرائط سے آگاہ کیا ہے۔

    اتوار کو پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ جنگ کی باتیں تو کی جاتی ہیں، لیکن اس کے حتمی اور مؤثر خاتمے کے لیے کوئی لائحہ عمل یا طریقہ کار موجود نہیں ہوتا۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ہمیں بیک وقت لڑنا بھی چاہیے اور مذاکرات بھی کرنے چاہییں۔

    باقر قالیباف نے کہا کہ ایران نے ثالثوں کے ذریعے پیغامات کی ترسیل اور دوسرے فریق کے سامنے اپنی شرائط کی وضاحت کر دی ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ جب تک ایران کی پیشگی شرائط پوری نہیں ہو جاتیں، اس وقت تک مذاکرات کی سابقہ صورتحال کی بحالی اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی۔

    خیال رہے کہ گذشتہ روز ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے اعلان کیا تھا کہ تہران نے قطر اور پاکستان کے ثالثوں کے ذریعے مذاکرات کے لیے اپنی شرائط امریکہ تک پہنچا دی ہیں اور اب وہ ’صدر ٹرمپ کے ردعمل کے منتظر ہیں۔‘

  7. بریکنگ, لاہور پولیس نے علیمہ خان کو حراست میں لے لیا

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں ڈپٹی کمشنر نے تصدیق کی ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان کو تھری ایم پی او کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔

    ادھر علیمہ خان کے رشتہ دار قاسم زمان خان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ لاہور میں علیمہ خان کو لاہور جم خانہ کے باہر سے حراست میں لیا گیا ہے اور انھیں کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا گیا ہے۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ اطلاعات ہیں کہ ڈی سی نے نقصِ امن کے خدشات پر پولیس کو علیمہ خان کے ڈیٹنشن آرڈر جاری کیے جس پر پولیس نے یہ کارروائی کی ہے۔ تاحال لاہور پولیس نے اس معاملے پر تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    خیال رہے کہ 27 ستمبر کو پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا تھا جس کے بعد 13 ستمبر کو صوبہ پنجاب میں دفعہ 144 نافذ کی گئی تھی۔

  8. پاکستان میں حکومت کی بجلی خریداری کے نظام سے نکلنے کے لیے پہلی بجلی ویلنگ نیلامی کا آغاز, تنویر ملک ، صحافی

    بجلی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے بجلی کے شعبے کو مرکزی خریداری کے نظام سے مسابقتی مارکیٹ کی طرف لے جانے کے لیے اہم پیش رفت ہوئی ہے اور پاور ڈویژن نے ملک میں پہلی بار بجلی کی ویلنگ کی نیلامی کے لیے درخواست برائے تجاویز (آر ایف پی) جاری کر دی ہے۔ اس نظام کے تحت آئندہ پانچ برسوں میں مجموعی طور پر 800 میگاواٹ بجلی نیلام کرنے کا منصوبہ ہے، جبکہ پہلے مرحلے میں 400 میگاواٹ بجلی مسابقتی بنیادوں پر فراہم کی جائے گی۔

    کمپیٹیٹو ٹریڈنگ بائی لیٹرل کنٹریکٹ مارکیٹ (سی ٹی بی سی ایم) کے تحت کاروباری اور صنعتی صارفین بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں سے براہِ راست مسابقتی بنیادوں پر بجلی خرید سکیں گے۔

    پاور ڈویژن کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے نیلامی کے عمل کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے اسے ملک کے بجلی کے شعبے میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس وقت حکومت مرکزی نظام کے تحت بجلی خرید کر صارفین کو فراہم کرتی ہے، تاہم بجلی کی خریداری کی شرائط اور طریقۂ کار پر اکثر سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔

    سردار اویس لغاری نے کہا کہ ’آج سے حکومت عملی طور پر بجلی کی خریداری کے عمل سے باہر نکل رہی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ نئے نظام کے تحت حکومت نہ تو بجلی فروخت کرنے کی مجاز ہوگی اور نہ ہی روایتی طریقے سے بجلی پیدا کرنے والوں سے بجلی خریدے گی۔

    ان کے مطابق بجلی پیدا کرنے والے اور اسے استعمال کرنے والے براہِ راست بجلی خرید اور فروخت کر سکیں گے اور یہ نظام شفافیت اور مسابقت کی بنیاد پر کام کرے گا۔

    وفاقی وزیر نے بتایا کہ ابتدائی طور پر یہ نظام صنعتی اور بڑے صارفین، خصوصاً ایک میگاواٹ سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے نافذ کیا جائے گا۔

    ان کے مطابق آنے والے برسوں میں مسابقتی بجلی کی مارکیٹ کو مزید وسعت دی جائے گی اور صارفین کو بجلی خریدنے کے لیے زیادہ انتخاب حاصل ہوگا۔

    انھوں نے کہا کہ مستقبل میں عام صارف بھی اپنی پسند کے مطابق بجلی خریدنے کے قابل ہو سکے گا۔

    سردار اویس لغاری نے امید ظاہر کی کہ مسابقتی نرخوں پر بجلی کی دستیابی سے پاکستانی صنعت کو عالمی منڈی میں مسابقت برقرار رکھنے اور اپنی برآمدات بڑھانے میں مدد ملے گی۔

    انھوں نے بجلی کی خریداری کے ماضی کے نظام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’آئی پی پیز‘ یعنی آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں کی اصطلاح عوامی بحث میں متنازع رہی ہے، تاہم نیا مسابقتی نظام بجلی کی خریداری اور تجارت میں زیادہ شفافیت لائے گا۔

  9. ٹرمپ کی کیمپ ڈیوڈ سے وقت سے پہلے وائٹ ہاؤس واپسی

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کی رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی قیام گاہ کیمپ ڈیوڈ میں اپنا ویک اینڈ مکمل کیے بغیر وقت سے پہلے وائٹ ہاؤس واپسی اختیار کر لی ہے۔

    تاہم وائٹ ہاؤس نے ان کی تعطیلات مختصر کرنے کی کوئی وجہ نہیں بتائی۔

    ایگزیوس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی کیمپ ڈیوڈ سے وائٹ ہاؤس واپسی اتوار کی شب مقرر تھی۔

    خبر رساں اداروں کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی ویک اینڈ سے وقت سے پہلے واپسی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ان کی انتظامیہ ایران کے ساتھ جاری تنازع میں آئندہ کے اقدامات پر غور کر رہی ہے۔ یہ واپسی ان کے اگلے ہفتے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک کے دورے سے بھی قبل ہوئی ہے۔

    ایران نے سنیچر کو اعلان کیا تھا کہ اس نے قطر اور پاکستان کے ذریعے امریکہ کو مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے اپنی شرائط سے آگاہ کر دیا ہے اور وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے جواب کا انتظار کر رہا ہے۔

  10. منی پور میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے چھ مشتبہ شدت پسندوں کی حراست کے بعد پر تشدد احتجاج

    انڈیا کے علاقے منی پور میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے مبینہ طور پر چھ کوکی افراد کو حراست میں لیے جانے کے بعد مقامی افراد نے پرتشدد احتجاج کیا۔

    اس احتجاج میں زیادہ تر دیہی محافظ (ولیج گارڈز) اور خواتین شامل تھیں۔

    فروری سے کوکی اور ناگا قبائل کے درمیان پرتشدد جھڑپیں جاری ہیں۔ اب تک ہونے والے تشدد میں دونوں برادریوں کے 40 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسی وجہ سے بالخصوص ناگا اور کوکی آبادیوں کی سرحدی دیہات میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔

    منی پور میں تعینات ایک سکیورٹی افسر کے مطابق، سی آر پی ایف کی کوبرا یونٹ کے اہلکاروں نے کانگپوکپی ضلع کے ناگا گاؤں چاوانگ کیننگ کے قریب ایک آپریشن کیا، جس کے دوران شدت پسند ہونے کے شبہے میں چھ افراد کو حراست میں لیا گیا۔

    انھوں نے بتایا، ’مظاہرین نے پتھراؤ کیا اور راستے بند کرنے کی کوشش کی۔ رات تقریباً 9 بجے موٹبونگ میں اضافی سکیورٹی فورسز اور مسافروں کی آمدورفت روک دی گئی تھی۔ تاہم، اس وقت صورتحال قابو میں ہے۔‘

    جس کھولین گاؤں سے ان چھ کوکی افراد کو گرفتار کیا گیا، وہاں حال ہی میں مشتبہ کوکی شدت پسندوں نے کم از کم دو گھروں پر حملہ کرکے انھیں نذرِ آتش کر دیا تھا۔

    چھ افراد کی حراست کی خبر سامنے آنے کے بعد موٹبونگ اور قریبی علاقوں میں بعض کوکی افراد نے ہفتے کی شام سے رات گئے تک احتجاج جاری رکھا۔ اس دوران مظاہرین نے سڑکوں پر ٹائر جلائے، سکیورٹی فورسز کی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا اور مختلف مقامات پر آگ لگا دی۔

    مظاہرین نے سکیورٹی فورسز کی گاڑیوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے امپھال اور ڈمّا پور کو ملانے والی قومی شاہراہ نمبر 2 کے بعض حصوں کو کھود دیا۔ اس کے علاوہ شاہراہ بند کرنے کے لیے مختلف مقامات پر بانس کی رکاوٹیں بھی کھڑی کر دی گئیں۔ دوسری جانب سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے متعدد آنسو گیس کے گولے داغے۔

    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں مشتعل ہجوم کو سکیورٹی فورسز کے کیسپیر ٹرک کو روکنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ٹرک جزوی طور پر جلا ہوا دکھائی دیتا ہے اور ہجوم سے بچ کر نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    مظاہرین نے مقامی میڈیا سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ سکیورٹی فورسز نے بغیر کسی وجہ کے ان چھ افراد کو حراست میں لیا ہے۔

  11. روس کا ماسکو پر یوکرینی ڈرون حملے میں دو افراد کی ہلاکت کا دعویٰ

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنماسکو پر یوکرینی ڈرون حملے کے بعد کے مناظر

    روسی سرکاری میڈیا کے مطابق ماسکو پر یوکرینی ڈرون حملوں میں دو افراد ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ روسی دارالحکومت میں واقع ایک آئل ریفائنری کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

    یہ حملے روس کے پارلیمانی انتخابات سے ایک روز قبل ہوئے ہیں۔

    ماسکو کے میئر کے مطابق حملوں میں ماسکو آئل ریفائنری کے بعض حصوں کو نقصان پہنچا اور 30 سے زائد پروازیں متاثر ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں کا مقصد انتخابات پر اثرانداز ہونا تھا۔

    یہ حملے ایسے وقت میں بھی جاری ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ روس اور یوکرین نے ایک دوسرے کی تیل تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

    یہ معاہدہ عالمی سطح پر ایندھن اور توانائی کے بحران کے تناظر میں کیا گیا تھا۔

  12. ازبکستان اور امریکہ کے درمیان جوہری تحفظ پر تعاون کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ازبکستان اور امریکہ نے دونوں ممالک کے جوہری اداروں کے درمیان تعاون کو وسعت دینے کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔

    ازبک خبر رساں ویب سائٹ ’پودروبنو‘ کے مطابق اس تعاون میں جوہری تحفظ کے معیارات، معائنوں اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاری شامل ہوگی۔

    رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک نے جوہری توانائی کے پُرامن استعمال میں جوہری تحفظ کے شعبے میں تعاون مزید مضبوط کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

    یہ مفاہمت کی یادداشت ویانا میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی جنرل کانفرنس کے 70ویں اجلاس کے موقع پر دستخط کی گئی۔

    روسی سرکاری جوہری توانائی کارپوریشن روس ایٹم وسطی ازبکستان کے قریب ایک علاقے میں ملک کا پہلا جوہری بجلی گھر تعمیر کر رہی ہے۔

  13. سعودی عرب کی ریاض پر حوثیوں کے میزائل حملے کی تصدیق

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سعودی عرب نے تصدیق کی ہے کہ یمن کے حوثیوں نے دارالحکومت ریاض کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش کی۔

    حوثیوں کے ساتھ لڑائی میں حالیہ شدت کے بعد ریاض پر یہ پہلا حملہ ہے۔

    اس سے قبل حوثیوں نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے سعودی دارالحکومت ریاض میں ’حساس‘ تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

    سعودی عرب کا کہنا ہے کہ ریاض کی جانب داغا جانے والے میزائل کو ’روک کر تباہ‘ کر دیا گیا۔

    ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ریاض کے بعض رہائشیوں نے دھماکے کی آواز سنی اور بعد میں ایئرپورٹ کے قریب دھوئیں کا ایک بادل دیکھا۔

    اے ایف پی نے بھی رپورٹ کیا کہ سنیچر کو ریاض میں دو زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور اس کے صحافیوں نے ایئرپورٹ کے قریب سعودی آرامکو سے تعلق رکھنے والے ایندھن کے ایک ٹینک کو آگ کی لپیٹ میں دیکھا۔

    سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تنازع ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ حوثی یمن کے ایک بڑے حصے پر کنٹرول رکھتے ہیں اور حالیہ دنوں میں باب المندب آبنائے اور اس کے جزائر کے قریب ساحلی شہروں پر بھی قبضہ کر چکے ہیں۔

    امریکہ نے سنیچر کو خبردار کیا تھا کہ سعودی عرب اور ایران کی حمایت یافتہ حوثیوں کے درمیان تنازع ’تیزی سے شدت اختیار کر سکتا ہے‘۔

  14. اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کے لیے نائب وزیرِ اعظم نیویارک روانہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں شرکت کے لیے اسلام آباد سے نیویارک روانہ ہو گئے ہیں، جہاں وہ 21 سے 25 ستمبر تک وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کے ہمراہ ہوں گے۔

    پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہےکہ ’اس اعلیٰ سطح کی مصروفیات کے دوران ہفتے میں نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ کا پروگرام وسیع اور مختلف نوعیت کی سرگرمیوں پر مشتمل ہوگا۔‘

    بیان کے مطابق ’وزیرِ خارجہ اور وزیرِاعظم کشمیر کے معاملے پر او آئی سی رابطہ گروپ کے اجلاس میں شرکت کریں گے، جس میں وہ کشمیریوں کے حقوق کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کریں گے۔‘

    مزید کہا گیا ہے کہ ’وہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ہونے والے او آئی سی کے متعدد وزارتی اجلاسوں میں بھی شرکت کریں گے، جن میں او آئی سی وزرائے خارجہ کا سالانہ رابطہ اجلاس اور او آئی سی رابطہ گروپ کے دیگر اجلاس شامل ہیں۔‘

    وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری تفصیلی بیان میں مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ’فلسطینی کاز کے لیے پاکستان کی مضبوط حمایت کے اظہار کے طور پر نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ فلسطین کے معاملے پر ہونے والے کئی اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں شرکت کریں گے۔‘

    ’ان اجلاسوں میں آٹھ عرب اور اسلامی ممالک کے گروپ کا اجلاس اور دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے عالمی اتحاد کا اعلیٰ سطحی وزارتی اجلاس بھی شامل ہیں۔‘

    نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ مصنوعی ذہانت کے معاملے پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی اعلیٰ سطح کی بریفنگ میں بھی خطاب کریں گے۔

    اس کے علاوہ وہ وبائی امراض سے بچاؤ، تیاری اور ردِعمل سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔ وہ اقتصادی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کی صدارت بھی کریں گے۔

    بیان کے مطابق نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ کئی ممالک کے ہم منصب وزرائے خارجہ سے دوطرفہ ملاقاتیں کریں گے، جبکہ وزیرِ اعظم کے ہمراہ اعلیٰ سطح کی دوطرفہ ملاقاتوں اور دیگر سرگرمیوں میں بھی شریک ہوں گے۔

    وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ان وسیع سفارتی سرگرمیوں کے دوران وہ علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی جاری کوششوں کو اجاگر کریں گے اور اہم علاقائی و بین الاقوامی چیلنجز پر تبادلۂ خیال کریں گے۔‘

  15. اب تک کی اہم ترین خبروں کا خلاصہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی قیام گاہ کیمپ ڈیوڈ میں اپنا ویک اینڈ مکمل کیے بغیر وقت سے پہلے وائٹ ہاؤس واپسی اختیار کر لی

    آئیے اب تک کی اہم خبروں پر ایک مختصر نظر ڈالتے ہیں:

    • مغربی ایشیا کے متعدد ممالک میں امریکی سفارتخانوں نے فوری سکیورٹی وارننگز جاری کرتے ہوئے اپنے شہریوں کو سکیورٹی ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خطے میں پروازیں منسوخ ہونے کا امکان ہے۔
    • امریکی سفارتخانوں نے فوری سکیورٹی وارننگز کے سامنے آنے کے بعد یہ اطلاعات بھی ںہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی قیام گاہ کیمپ ڈیوڈ میں اپنا ویک اینڈ مکمل کیے بغیر وقت سے پہلے وائٹ ہاؤس واپسی اختیار کر لی۔
    • ترکی کے وزیرِ خارجہ حاقان فیدان نے کہا ہے کہ ’ترکی دیگر ممالک کے ساتھ مل کر ایسی نئی تجاویز پر کام کر رہا ہے جن کا مقصد امریکہ اور ایران کو جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے کے قریب لانا ہے۔‘
    • ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کی جانب سے سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب ایک بیان سامنے آیا کہ ’پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی اتوار کو یعنی آج تہران کا دورہ کریں گے۔‘
    • ترکی کے وزیرِ خارجہ حاقان فیدان نے سنیچر کی شب کہا کہ یمنی حوثیوں کے جاری حملوں کے باعث سعودی عرب کو فوجی مدد کی ضرورت پڑ سکتی ہے اور ترکی مکہ دفاعی معاہدے کے تحت ان معاملات کا جائزہ لے گا۔‘
    • یمن کے حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے ریاض میں بعض ’حساس‘ تنصیبات کے ساتھ ساتھ بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع ینبع میں آرامکو کی ایک تنصیب کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنحوثیوں کا ریاض میں ’حساس‘ تنصیبات اور ینبع میں آرامکو کی تنصیب کو نشانہ بنانے کا دعویٰ (فائل فوٹو)
  16. مغربی ایشیا میں امریکی سفارتخانوں کی اپنے شہریوں کے لیے سکیورٹی وارننگ جاری

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنبغداد میں امریکی سفارتخانہ

    مغربی ایشیا کے متعدد ممالک میں امریکی سفارتخانوں نے فوری سکیورٹی وارننگ جاری کرتے ہوئے اپنے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ سکیورٹی ہدایات پر عمل کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’خطے میں پروازیں منسوخ ہونے کا امکان ہے۔‘

    خطے کے کئی ممالک میں امریکی سفارتخانوں نے چند گھنٹے قبل یہ فوری سکیورٹی وارننگز جاری کیں اور اپنے شہریوں کو مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث چوکس رہنے اور زیادہ احتیاط برتنے کی ہدایت کی۔

    بغداد میں امریکی سفارتخانے نے خاص طور پر حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ جھڑپوں کا حوالہ دیا، جن میں ’ہوائی اڈوں پر حملے‘ بھی شامل ہیں اور خبردار کیا کہ یہ تنازع تیزی سے بڑھ سکتا ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے بھی ایک الگ وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’یمن میں سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تنازع میں کشیدگی بڑھنے کا امکان موجود ہے۔‘

  17. ترکی کا جنگ ختم کرانے کے لیے نئی سفارتی کوششوں کا اعلان: ’حوثیوں کے جاری حملوں میں ریاض کو فوجی مدد کی ضرورت پڑ سکتی ہے،‘ ترک وزیرِ خارجہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنترکی کے وزیرِ خارجہ حاقان فیدان

    ترکی کے وزیرِ خارجہ حاقان فیدان نے سنیچر کی شب کہا ہے کہ یمن کے حوثیوں کے جاری حملوں کے باعث سعودی عرب کو فوجی مدد کی ضرورت پڑ سکتی ہے اور ترکی مکہ دفاعی معاہدے کے تحت ان معاملات کا جائزہ لے گا۔

    یہ ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان سہ فریقی دفاعی معاہدہ ہے، جس پر رواں سال اگست میں دستخط کیے گئے تھے۔ معاہدے کے مطابق تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

    این ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے حاقان فیدان نے کہا کہ ’سعودی عرب کو امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ میں گھسیٹا جانا ناقابلِ قبول ہے، کیونکہ سعودی عرب اس تنازع میں شامل نہیں ہونا چاہتا۔‘

    ساتھ ہی ترک وزیرِ خارجہ حاقان فیدان نے کہا ہے کہ ’ترکی دیگر ممالک کے ساتھ مل کر امریکہ اور ایران کو جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچانے کی غرض سے نئی تجاویز پر کام کر رہا ہے۔‘

    ترکی کے ٹی وی چینل این ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے حاقان فیدان نے کہا کہ ’ترکی اور دیگر ممالک تجاویز پیش کر رہے ہیں اور امریکہ ایران کے درمیان مذاکرات کو نتیجے تک پہنچانے کے لیے اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں۔‘

    حاقان فیدان نے ان تجاویز کی تفصیلات نہیں بتائیں، تاہم انھوں نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان بداعتمادی کا ذکر کیا۔

    انھوں نے کہا کہ ’فریقین کے درمیان گہری بداعتمادی ہے۔ اب دونوں جانب سے کھلے طور پر کوشش کی جا رہی ہے کہ اس عمل کو اس انداز میں آگے بڑھایا جائے جو ان کے مفادات کو پورا کرے۔‘

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کا ’مکہ دفاعی معاہدہ‘ کیا ہے؟

    پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکی نے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت ان تینوں ممالک میں سے ’کسی ایک ملک پر مسلح حملہ، سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔‘

    ،ویڈیو کیپشنسعودی عرب، پاکستان اور ترکی نے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کر دیے ہیں
  18. وائٹ ہاؤس کے ایران پر الزامات دراصل امریکہ کے اپنے اقدامات کی عکاسی ہیں: اسماعیل بقائی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا کہ وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایران پر ’الزامات کی ایک طویل فہرست‘ عائد کی ہے۔

    انھوں نے لکھا کہ ’حیرت انگیز حد تک درستگی کے ساتھ، ان میں سے زیادہ تر الزامات ان اقدامات کی عکاسی کرتے ہیں جو امریکہ نے خود شروع کیے یا پھر خود ان کی حمایت کی۔‘

    بقائی نے مزید کہا کہ ’حقیقت سے فرار اور دوسروں پر اپنے اقدامات کا الزام عائد کرنا حیران کن نہیں ہونا چاہیے۔‘

    انھوں نے امریکہ اور امریکی انتظامیہ پر شدید الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’بدکردار بھاگتا ہے، چاہے اس کا کوئی تعاقب نہ کر رہا ہو۔‘

    بقائی کا یہ بیان بظاہر وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی کے ان ریمارکس کے ردِعمل میں آیا، جن میں انھوں نے اقوامِ متحدہ کے حقائق جانچنے والے مشن کی نئی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے ایران پر جنگی جرائم کے ارتکاب، مظاہرین کی ہلاکتوں، آبنائے ہرمز میں حملوں اور خطے کے ممالک پر بلاامتیاز حملوں کے الزامات عائد کیے تھے۔

  19. حوثیوں کا ریاض میں ’حساس‘ تنصیبات اور ینبع میں آرامکو کی تنصیب کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشناس تصویر میں سعودی دارالحکومت ریاض کے قریب ایندھن کے ٹینکوں سے سیاہ دھوئیں کے بادل اٹھتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں

    یمن کے حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے سعودی دارالحکومت ریاض میں بعض ’حساس‘ تنصیبات کے ساتھ ساتھ بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع ینبع میں آرامکو کی ایک تنصیب کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

    حوثیوں کے ترجمان امین حیان نے ایک بیان میں کہا کہ ان تازہ حملوں میں ان تنصیبات کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

    سعودی عرب نے تاحال اس بیان پر کوئی ردِعمل نہیں دیا اور نہ ہی ان حملوں کی تصدیق یا تردید کی ہے۔

    اس سے قبل سعودی حکام نے کہا تھا کہ اسی روز ریاض کی جانب داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل روک کر تباہ کر دیا گیا، تاہم انھوں نے دیگر حملوں کی تصدیق نہیں کی۔

    اس سے پہلے سعودی دارالحکومت ریاض کے قریب ایندھن کے ٹینکوں سے سیاہ دھوئیں کے بادل اٹھتے ہوئے دیکھے گئے تھے۔ ریاض انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب اس واقعے کے باعث سنیچر کو پروازوں کی آمدورفت بھی عارضی طور پر متاثر ہوئی تھی۔

  20. ایران کی امریکہ کے ساتھ مشروط مذاکرات پر رضا مندی کے بعد پاکستانی وزیر داخلہ ایران کے دورے پر

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اعلان کیا ہے کہ ’پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی اتوار کو یعنی آج تہران کا دورہ کریں گے۔

    انھوں نے کہا کہ یہ دورہ دونوں ملکوں کے دوطرفہ تعلقات اور ماضی میں کیے گئے معاہدوں سے متعلق ملاقات پر مرکوز ہوگا۔

    ان کا کہنا تھا کہ انھیں کسی ایسے مخصوص پیغام یا تجویز کے بارے میں علم نہیں جسے اس دورے کے دوران امریکہ کی جانب سے پہنچایا جانا ہو۔

    تاہم یہ ملاقات ایسے وقت ہو رہی ہے جب تہران نے واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے شرائط عائد کر رکھی ہیں، جبکہ تنازعات جاری ہیں اور خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے خبر رساں ادارے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ ’تہران نے قطر اور پاکستان کے ثالثوں کے ذریعے امریکہ کو مذاکرات کے لیے اپنی شرائط سے آگاہ کر دیا ہے اور اب وہ ’صدر ٹرمپ کے جواب کا انتظار کر رہا ہے۔‘