’ہماری بچی کو جس ظلم کا نشانہ بنایا گیا اُس نے نہ صرف ہمارے خاندان کو شدید صدمے سے دوچار کیا بلکہ پورے علاقے کو سوگوار کیا ہے۔‘
یہ کہنا ہے صوبہ بلوچستان کے ضلع کیچ سے تعلق رکھنے والی خاتون ماہ گُل بلوچ کے والد عبدالعزیز کا۔ ماہ گُل کو اتوار کی شب نامعلوم مسلح افراد نے اُن کے گھر سے اغوا کیا تھا اور چند گھنٹوں بعد اُن کی لاش قریبی علاقے سے ملی تھی۔
30 سالہ ماہ گل دو بچوں کی والدہ تھیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے خاتون کے والد عبدالعزیز بلوچ نے بتایا کہ انھیں بالکل اندازہ نہیں ہے کہ اُن کی بیٹی کو کس نے اور کیوں اِس ظلم کا نشانہ بنایا۔
ضلع کیچ کی سیاسی جماعتوں نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری اور خاتون کے خاندان کو انصاف فراہم کرنےکا مطالبہ کیا ہے جبکہ سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے کا مقدمہ درج کرکے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لائے جائیں گے۔
ماہ گل بلوچ کا تعلق ایران سے متصل بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے کلگ سہرانی سے تھا۔ یہ علاقہ تربت شہر سے تقریباً 15 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
ماہ گل بلوچ کے والد عبدالعزیز بلوچ نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ اُن کی بیٹی نے پرائمری تک تعلیم حاصل کی تھی، وہ شادی شدہ تھیں اور اُن کی پانچ اور آٹھ سال کی دو بیٹیاں ہیں۔
عبدالعزیز کے مطابق اُن کی بیٹی کا کسی سیاسی تنظیم یا گروہ سے کوئی تعلق نہیں تھا اور وہ گھریلو خاتون تھی۔
ماہ گل کے اغوا اور قتل کی ایف آئی آر اُن کے والد عبدالعزیز کی مدعیت میں درج کی گئی ہے۔
مدعی مقدمہ کے مطابق چھ ستمبر (اتوار) کی شب لگ بھگ آٹھ بجے ایک سفید رنگ کی لینڈ کروزر گاڑی اُن کےگھر آئی جس میں چھ سے سات افراد سوار تھے۔
والد کے مطابق یہ نقاب پوش اور مسلح افراد اُن کے گھر زبردستی داخل ہوئے اور پوچھا کہ ماہ گُل کون ہے، اور اس کی تصدیق کے بعد مسلح افراد نے اُن کی بیٹی کو زبردستی اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش کی۔
والد کے مطابق گھر والوں نے مزاحمت کی کوشش کی جس پر مسلح افراد نے ہوائی فائرنگ کی اور بندوق کی نوک پر اُن کی بیٹی کو اغوا کر کے لے گئے۔
والد کا دعویٰ ہے کہ اُن کی بیٹی یا ماہ گل کے شوہر کی نہ تو کسی کے ساتھ کوئی دشمنی ہے اور نہ ہی ماہ گُل کسی سیاسی یا غیر قانونی سرگرمی میں ملوث تھیں۔
ایک سوال پر اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ انھیں کسی جانب سے کسی دھمکی کا کوئی سامنا نہیں تھا۔
اس علاقے سے تعلق رکھنے والے نذیر بلوچ ایڈووکیٹ نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ اس واقعے نے اہل علاقہ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
واقعے کے خلاف سیاسی جماعتوں کا ردعمل
منگل کے روز تربت میں آل پارٹیز کیچ اور ضلع کے تاجران کے مسائل کے حوالے سے جو مشترکہ پریس کانفرنس کی گئی اس میں ماہ گُل بلوچ کے اغوا اور قتل کے واقعے کی مذمت کی گئی۔ اس پریس کانفرنس میں سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان اور نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ بھی موجود تھے ۔
پریس کانفرنس میں اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آل پارٹیز کیچ کے رہنماؤں نے اسے بلوچ روایات کے منافی قرار دیا ۔
ان کا کہنا تھا کہ اُن کے علاقے میں یہ اپنی نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے، اس سے چند سال قبل ڈھننُک کے علاقے میں ملک ناز نامی خاتون کو ان کے گھر میں فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا تھا۔
آل پارٹیز کیچ کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ ماہ گُل بلوچ کے قاتلوں کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
سرکاری حکام کا کیا کہنا ہے؟
بی بی سی کی جانب سے رابطہ کرنے پر محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے ترجمان بابر یوسفزئی نے بتایا کہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے انصاف کے جو تقاضے ہیں، وہ پورے کیے جائیں گے۔ بی بی سی نے ڈی آئی جی پولیس مکران رینج اور ایس ایس پی کیچ سے متعدد بار رابطے کی کوشش کی لیکن اُن کی جانب سے جواب موصول نہیں ہوا۔
متعلقہ علاقے کے ایس ایچ او منصور احمد کا کہنا ہے کہ جب اس خاتون کی اغوا کی خبر ملی تو پولیس فوراً جائے وقوعہ پر پہنچی اور مغوی خاتون کے والد، شوہر اور خاندان کے دیگر افراد سے اس واقعے کے بارے میں معلومات حاصل کر کے اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا۔
انھوں نے بتایا کہ اگلی صبح پولیس کو یونیورسٹی کے عقب میں ایک خاتون کی لاش موجود ہونے کی اطلاع ملی اور بعدازاں اس کی شناخت مغوی ماہ گُل کے طور پر ہوئی۔
انھوں نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق خاتون کو گولی مار کر قتل کیا گیا تھا۔ اُن کے مطابق خاتون کی لاش جہاں پڑی ہوئی تھی انھیں وہاں گولی نہیں ماری گئی تھی بلکہ کہیں اور گولی مارنے کے بعد لاش کو لا کر پھینک دیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ اس واقعے کا مقدمہ درج ہوا ہے اور اس کے محرکات اور ملزمان کی نشاندہی اور گرفتاری کے لیے تحقیقات مختلف پہلوؤں سے جاری ہیں۔