آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, وسط مدتی انتخابات کے ’فوراً بعد‘ جنگ ختم ہو جائے گی، ایران سے مذاکرات پر غور نہیں کر رہے: ٹرمپ

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ وسط مدتی انتخابات سے قبل مستقبل قریب میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے خواہش مند نہیں ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’سچ پوچھیں تو ہم اس کی کوشش ہی نہیں کر رہے۔ ابتدا میں، میں ایک معاہدہ کرنا چاہتا تھا، لیکن اب ہم اس مرحلے سے بہت آگے نکل چکے ہیں۔‘

خلاصہ

  • پاکستان کا برطانیہ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی بستیوں کے خلاف اقدامات کا خیرمقدم
  • ایران کا 'ممنوعہ سمندری علاقے' میں توسیع کا اعلان: خلیجِ عمان اور بحیرۂ عرب کے حصے بھی اس میں شامل ہیں، پاسدارانِ انقلاب
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی
  • سعودی عرب نے یمن میں ٹھکانوں پر 32 سے زائد فضائی حملے کیے: حوثیوں کا دعویٰ
  • کرک میں پولیس موبائل پر حملہ، ایک اہلکار ہلاک، ایک زخمی

لائیو کوریج

  1. امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے ’فوراً بعد‘ ایران کے ساتھ جنگ ختم ہو جائے گی: امریکی صدر

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو ٹیکساس روانگی سے قبل صحافیوں کو بتایا کہ ایران کے خلاف جنگ امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو جائے گی۔

    امریکہ میں بی بی سی نیوز کے پارٹنر ادارے سی بی ایس نیوز کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران پر وسط مدتی انتخابات پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔

    سی بی ایس نیوز کے مطابق ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’میرا خیال ہے کہ انتخابات کے فوراً بعد جنگ ختم ہو جائے گی کیونکہ وہ (ایران) اب مزید مقابلہ نہیں کر سکتا۔‘

    ’وہ انتخابات پر اثر انداز ہونے کے لیے بے چین ہیں تاکہ یہاں (امریکہ میں) ایک نرم اور کمزور گروہ آ جائے، جو انہیں تنہا چھوڑ دے اور انہیں جوہری ہتھیار حاصل کرنے دے۔‘

    امریکی صدر نے مزید کہا کہ ’ان کی ساری خواہش صرف جوہری ہتھیار حاصل کرنا ہے اور اگر ان کے پاس جوہری ہتھیار آ گئے تو پوری دنیا شدید خطرے میں پڑ جائے گی۔‘

    ان دعوؤں کے باوجود ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ وسط مدتی انتخابات سے قبل مستقبل قریب میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے خواہش مند نہیں ہیں۔

    ’سچ پوچھیں تو ہم اس کی کوشش ہی نہیں کر رہے۔ ابتدا میں میں ایک معاہدہ کرنا چاہتا تھا۔ اب ہم اس مرحلے سے بہت آگے نکل چکے ہیں۔‘

    ’مذاکرات ممکنہ طور پر ہو سکتے ہیں، لیکن فی الحال ہم اس پر غور نہیں کر رہے۔‘

  2. جوہری توانائی ایجنسی نے ’امریکہ اور اتحادیوں کے دباؤ‘ میں ایران کے خلاف قرارداد منظور کی: تہران کا دعویٰ

    ایران نے اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے بورڈ آف گورنرز کی جانب سے منظور کی گئی اس قرارداد کی مذمت کی ہے، جس میں جوہری ’عدم تعاون‘ کے معاملے پر ایران کے معاملے کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے سپرد کیا گیا ہے۔

    انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) میں ایران کے نمائندے رضا نجفی نے سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’یہ قرارداد امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے سیاسی دباؤ کے تحت منظور کی گئی ہے اور ہمارے نزدیک اس کی کوئی بنیاد نہیں ہے اور نہ ہی اس سے کوئی نتیجہ نکلے گا۔‘

    نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے جوہری تنصیبات کی تباہی کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے تنصیبات کو نشانہ بناتا ہے اور پھر ان تک رسائی حاصل کرنے کی ضرورت کا دعویٰ کرتا ہے۔

    غریب آبادی نے ایکس پر لکھا: ’وہ پہلے ایران کی ان جوہری تنصیبات پر حملہ کرتے ہیں جو حفاظتی نگرانی کے نظام کے تحت قائم ہیں، معمول کے تصدیقی عمل میں خلل ڈالتے ہیں اور پھر اسی خلل کو بورڈ آف گورنرز میں قرارداد پیش کرنے کے لیے بہانے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔‘

    انہوں نے مزید کہا ’ان من گھڑت دعوؤں کے ذریعے آپ نہ تو اپنی پالیسیوں اور اقدامات کی ناکامی کی تلافی کر سکتے ہیں اور نہ ہی سلامتی کونسل میں کوئی مقصد حاصل کر سکتے ہیں۔‘

  3. ٹرمپ نے نٹالی ہارپ سمیت تین معاونین کو 45، 45 ہزار ڈالر کے نقد تحائف دیے، سرکاری دستاویز, برنڈ ڈیبسمن جونیئر، بی بی سی نیوز

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے عملے کے چار ارکان کو قابلِ ذکر نقد تحائف دیے ہیں، جن میں ان کی قریبی معاون نٹالی ہارپ بھی شامل ہیں جنھوں نے 45,000 ڈالر وصول کیے۔ یہ بات ان کی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ مالیاتی گوشواروں میں سامنے آئی ہے۔

    دستاویزات کے مطابق عملے کے دو دیگر ارکان کو بھی ہارپ کے برابر رقم ملی، جبکہ ٹرمپ کے طویل عرصے سے معاون اور اوول آفس آپریشنز کے ڈائریکٹر والٹ ناوٹا کو 22,000 ڈالر دیے گئے۔

    دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے کسی اور ملازم نے صدر کی جانب سے دیے گئےتحائف کا اندراج نہیں کروایا۔ وفاقی ملازمین کو اپنی سرکاری ذمہ داریوں کے بدلے بیرونی معاوضہ وصول کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔

    وائٹ ہاؤس نے ان تحائف کو ذاتی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا عملے کے ارکان کے سرکاری کام سے کوئی تعلق نہیں تھا اور یہ امریکی قانون کے تحت جائز ہیں۔

    بی بی سی کو فراہم کیے گئے ایک بیان میں وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے کہا کہ صدر ’اپنے حلقۂ اثر میں شامل افراد کو کرسمس کے تحائف دینے کی ایک دیرینہ روایت رکھتے ہیں، جن میں بعض اوقات سرکاری ملازمین اور معاونین بھی شامل ہوتے ہیں، چاہے وہ حکومت میں ہوں یا اس وقت کے ہوں جب ٹرمپ نجی شعبے سے وابستہ تھے۔‘

    عہدیدار نے مزید کہا کہ ’زیرِ بحث یہ تحائف ان افراد کی کسی بھی سرکاری ذمہ داری سے متعلق نہیں ہیں اور متعلقہ قانونی اور اخلاقی معیارات کے تحت مکمل طور پر جائز ہیں۔‘

    157,000 ڈالر مالیت کے یہ نقد تحائف نوٹا، ہارپ اور دو دیگر عہدیداروں، یعنی کمیونیکیشنز کے مشیر مارگو مارٹن اور وائٹ ہاؤس کے معاون چیمبرلین ہیرس، جو ٹرمپ کے ایگزیکٹو اسسٹنٹ کے طور پر خدمات انجام دیتے ہیں، کے لیے ’تعطیلات کے موقع پر نقد تحفہ‘ کے طور پر دستاویزات میں درج ہیں۔

    وائٹ ہاؤس نے بی بی سی کے اس علیحدہ سوال کا جواب نہیں دیا کہ فہرست میں شامل دیگر 91 ملازمین کو یہ تحائف کیوں نہیں دیے گئے۔

    نقد تحائف وصول کرنے والے چاروں افراد کو امریکی صدر کے قریبی حلقے کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

    35 سالہ نٹالی ہارپ کا شمار ٹرمپ کے لیے طویل عرصے سے خدمات انجام دینے والوں اور انتہائی وفادار معاونین میں ہوتا ہے۔ ان کی ذمہ داریوں میں ٹرمپ کی ٹروتھ سوشل کی پوسٹس کو تحریری شکل دینا بھی شامل ہے۔

    گذشتہ ماہ وہ اس وقت قومی توجہ کا مرکز بنی تھیں جب ان کا نام ان چند افراد میں شامل تھا جو ترکی سے روانگی کے وقت ٹرمپ کے ساتھ موجود رہے، جب وہ خفیہ طور پر ایک طیارے سے دوسرے طیارے میں منتقل ہوئے تھے۔

    والٹ ناوٹا، جو امریکی بحریہ کے سابق اہلکار ہیں، بھی طویل عرصے سے ٹرمپ کے قریبی ساتھی ہیں۔ وہ ٹرمپ کی پہلی صدارتی مدت کے دوران وائٹ ہاؤس میں فوجی معاون کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے اور بعد ازاں ٹرمپ کے عہدہ چھوڑنے کے بعد فلوریڈا میں واقع ان کی مار-اے-لاگو رہائش گاہ پر معاون کے طور پر ان کے ساتھ کام کرتے رہے۔

    جون 2023 میں ان پر ٹرمپ کے ساتھ قومی سلامتی سے متعلق دستاویزات کے غلط استعمال کے الزامات میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی، تاہم یہ مقدمہ بعد میں خارج کر دیا گیا۔

    تیسری شخصیت، مارگو مارٹن، سوشل میڈیا پر ٹرمپ کی سرگرمیوں کی دستاویزی کوریج کے لیے جانی جاتی ہیں۔

    جبکہ چوتھے شخص، 26 سالہ چیمبرلین ہیرس، باضابطہ طور پر صدر کے ایگزیکٹو اسسٹنٹ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ فروری میں انہیں امریکی کمیشن برائے فنونِ لطیفہ کا رکن بھی مقرر کیا گیا تھا، جو وائٹ ہاؤس کے بال روم اور واشنگٹن میں ٹرمپ کی ہدایت پر جاری دیگر منصوبوں کی تعمیر کی نگرانی کرتا ہے۔

    وائٹ ہاؤس میں خدمات انجام دینے والے عملے کو کسی حاضر سروس امریکی صدر کی جانب سے نقد تحائف دیے جانے کی کوئی دوسری معروف مثال موجود نہیں ہے۔

    تاہم بہت سے صدور ماضی میں اپنے عملے کو یادگاری تحفے میں دیتے رہے ہیں۔

    مثال کے طور پر صدر براک اوباما نے اپنے سابق پریس سیکریٹری رابرٹ گِبز کو ایک فریم میں جڑی ہوئی ٹائی تحفے میں دی تھی، جسے انہوں نے 2004 کے ڈیموکریٹک نیشنل کنونشن سے قبل ایک موقع پر گِبز سے ادھار لیا تھا۔

  4. بریکنگ, ایران کی جانب سے جوہری عدم پھیلاؤ کی خلاف ورزی کا معاملہ سلامتی کونسل کو بھیجنے کی منظوری

    انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے 20 برس میں پہلی بار ایران کی جانب سے جوہری عدم پھیلاؤ سے متعلق ذمہ داریوں کی خلاف ورزی پر یہ معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجنے کی قرارداد منظور کر لی ہے۔

    یہ قرارداد گذشتہ سال 12 جون کو منظور کردہ ایک دوسری قرارداد کے بعد لائی گئی تھی۔ اس قرارداد میں ایران کو ان ذمہ داریوں کی ’عدم تعمیل‘ کا مرتکب قرار دیا گیا تھا۔

    ایران کے خلاف یہ معاملہ سلامتی کونسل میں اٹھانے کے لیے اس قراردار کی منظوری درکار تھی۔

    امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی جانب سے پیش کی گئی اس قرارداد کے حق میں 23 ووٹ پڑے جبکہ تین ارکان نے مخالفت کی اور آٹھ نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ مخالفت کرنے والے ممالک روس، چین اور نائجر تھے۔

    عدم تعمیل کا یہ تعین امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ سے پہلے کا ہے۔ اس کا تعلق ایران کی جانب سے اُن غیر اعلانیہ مقامات پر پائے جانے والے یورینیئم کی وضاحت نہ کرنے سے ہے جن کی ایجنسی نے کئی برس تک تحقیقات کی تھیں۔ تاہم اب ایک نیا تنازع بھی موجود ہے، جو اُن مقامات تک رسائی کے حوالے سے ہے جن پر اسرائیل اور امریکہ نے بمباری کی تھی۔

  5. پشاور میں دو خواتین کے گینگ ریپ کے الزام میں چار افراد گرفتار: ’ملزمان خود کو خفیہ ادارے کے اہلکار ظاہر کر رہے تھے‘

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر پشاور کی پولیس کا کہنا ہے کہ دو خواتین کے گینگ ریپ کے الزام میں چار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

    بدھ کو جاری کردہ ایک بیان میں پولیس نے بتایا کہ یہ واقعہ پشاور کے علاقے گھڑی موسم خان کے ایک گھر میں پیش آیا جہاں چار ملزمان ڈکیتی کے لیے داخل ہوئے تھے۔ پولیس کے مطابق اس کیس میں چاروں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جنھیں جمعرات کے روز جسمانی ریمانڈ کے لیے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

    پشاور کے رحمان بابا تھانہ کی حدود میں درج اس مقدمے میں گینگ ریپ، ڈکیتی اور دیگر دفعات کے علاوہ چائلڈ پُروٹیکشن ایکٹ میں بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کے سیکشن 50 کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

    ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزمان ’خود کو خفیہ ادارے کے اہلکار ظاہر کر رہے تھے۔‘

    واقعے کے دوران خواتین کے شوہر اور بچوں کو ’کمرے میں بند کیا گیا۔‘ جبکہ مقدمے کے متن کے مطابق تین ملزمان نے ایک خاتون اور دو ملزمان نے دوسری خاتون کا ریپ کیا۔ مدعی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملزمان نے ڈرا دھمکا کر گھر سے موبائل فونز اور رقم بھی حاصل کی۔

    ادھر پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں ملزمان نے خواتین کے شوہر اور ایک بچی کو اسلحے کی نوک پر باندھ دیا تھا۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے گھر میں موجود ایک بچی کے ساتھ ’نازیبا حرکات کیں۔‘

    پشاور میں پریس کانفرنس کے دوران ایس ایس پی آپریشن فرحان خان نے بتایا ہے کہ متاثرہ خواتین کی عمریں 22 سال اور 27 سال ہیں اور وہ آپس میں سوتنیں ہیں۔

    ایس ایس پی فرحان خان کے مطابق ملزمان نے دورانِ تفتیش بتایا کہ انھیں لگا تھا کہ شاید یہ لوگ ڈر جائیں گے اور پولیس کو اطلاع نہیں دیں گے۔

    ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد سمیع کے مطابق ملزمان کو جمعرات کے روز ریمانڈ کے لیے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

  6. پاکستانی بحریہ کے دو اہلکار سمندر میں پیٹرولنگ کے دوران ’سکیورٹی‘ فرائض انجام دیتے ہوئے ہلاک

    پاکستانی بحریہ کے شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ اس کے دو اہلکار سمندر میں پیٹرولنگ کے دوران ہلاک ہوئے ہیں۔

    بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بحریہ کے شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا تھا کہ اس کے دو اہلکار شعیب الرحمان اور غفران نثار سمندر میں پیٹرولنگ کے دوران ’سکیورٹی‘ کے فرائض انجام دیتے ہوئے ہلاک ہوئے۔

    پاکستانی بحریہ کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں بحریہ کے سینیئر افسران کو تلہ گنگ اور بھمبر میں دونوں اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

  7. اسلام آباد میں شیشہ کیفے چلانے پر تاحکم ثانی مکمل پابندی عائد

    پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مقامی انتظامیہ نے شیشہ کیفے چلانے پر تاحکم ثانی مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔

    اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی جانب سے تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔

    اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس پابندی کا اطلاق ان شیشہ کیفی پر بھی ہو گا جنھوں نے این او سی حاصل کر رکھے ہیں۔

    ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان احکامات کے تحت آؤٹ ڈور اور ان ڈور دونوں شیشہ چلانے سے روک دیا گیا ہے، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں کیفے کو سیل اور مالک کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔

    اسلام ہائی کورٹ کی اسلام آباد انتظامیہ کو ایک ماہ میں شیشہ کیفے سے متعلق رولز بنانے کی ہدایت

    بدھ کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں شیشہ کیفیز کے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کی۔

    سماعت کے دوران آئی جی اسلام آباد، ڈپٹی کمشنر، ایڈوکیٹ جنرل نوید حیات ملک اور قائم مقام پراسیکیوٹر جنرل منظور ججہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

    آئی جی اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی حکم کے بعد پولیس نے ان کے خلاف سخت ایکشن لیا ہے اور کچھ افراد کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی ہیں۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس کو کیفے کے مالکان کی طرف سے مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔

    چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کا کہنا تھا کہ شیشہ کیفوں کے حوالے سے نہ کوئی رول بنا اور نا کوئی ریگولیشنز ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ رولز بنائے بغیر ان کیفیز کو اس طرح نہیں چلنے دیا جائے گا۔

    عدالت نے مقامی انتظامیہ کو رولز بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دی۔

  8. پاکستان کا برطانیہ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی بستیوں کے خلاف اقدامات کا خیرمقدم

    پاکستان نے برطانیہ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں میں تیار یا وہاں سے اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔

    پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی بستیوں کا مسلسل پھیلاؤ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

    بیان کے مطابق ایسے غیر قانونی اقدامات نہ صرف دو ریاستی حل کے حصول کے لیے جاری بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ خطے میں امن اور استحکام کو بھی کمزور کر رہے ہیں۔

    دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اس ضمن میں کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، آئس لینڈ، آئرلینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، سپین اور سویڈن سمیت دیگر کئی ممالک کے اس اعلان کا بھی خیرمقدم کرتا ہے کہ وہ غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے خلاف اسی نوعیت کے اقدامات پر غور کریں گے اور ایسی کوششوں کی حمایت کریں گے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کو امید ہے کہ ان اقدامات سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی سرگرمیوں کو مسترد کیے جانے کا ایک واضح اور دوٹوک پیغام جائے گا۔

    یاد رہے کہ برطانیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں پر پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ آباد کاروں کی جانب سے فلسطینیوں کی ’نسل کشی‘ پر چشم پوشی کر رہی ہے۔

    منگل کے روز برطانوی پارلیمان میں خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ یہ اقدام اسرائیل فلسطین تنازع کے حوالے سے ’ایک نئے طرزِ عمل کی شروعات‘ ہے، جو ’صرف ناانصافی اور تکلیف کی نشاندہی ہی نہیں کرتا بلکہ عملی اقدام بھی کرتا ہے۔‘

    برطانیہ کی پابندیوں کے تحت بستیوں کی مصنوعات پر پابندی عائد کی جائے گی جبکہ بستیوں کی توسیع کے لیے خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں اور افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

    یہ پابندیاں فرانس اور کینیڈا کے ساتھ مل کر متعارف کرائی گئی ہیں، جنھوں نے برطانیہ کے ساتھ ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ یہ اقدام ’دو ریاستی حل کے تحفظ کے لیے ہمارے طرزِ عمل میں ایک مزید اہم موڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔‘

    بین الاقوامی قانون کے تحت بستیاں غیر قانونی ہیں اور حالیہ مہینوں میں مغربی کنارے میں آباد کاروں کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔

  9. جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کو تہران کے ’جوہری اور میزائل پروگراموں میں کسی بھی قسم کی مداخلت‘ بند کرنا ہوں گی: ایرانی پاسدارانِ انقلاب

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کو اپنی دھمکیاں اور تہران کے ’جوہری اور میزائل پروگراموں میں کسی بھی قسم کی مداخلت‘ بند کرنا ہوں گی۔

    بی بی سی فارس کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محبی کا کہنا ہے کہ ’اگر مخالف فریق اس صورتحال کا خاتمہ چاہتا ہے تو اسے مکمل طور پر جنگ روکنا ہو گی اور آئندہ دھمکیاں دینا بھی بند کرنا ہوں گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ اسرائیل کا لبنان سے انخلا اور یمن کی ناکہ بندی کا خاتمہ بھی ایران کی شرائط میں شامل ہیں۔

    ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت میں ایران نے تمام محاذوں خصوصاً لبنان میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا، تاہم اس معاہدے میں یمن کا ذکر نہیں تھا۔

    پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے منجمد ایرانی اثاثوں میں سے 24 ارب ڈالر کی رقم جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ کو ایران کی ’جوہری اور میزائل صلاحیتوں میں کسی بھی قسم کی مداخلت‘ بند کرنی ہو گی۔

  10. ایران کا ’ممنوعہ سمندری علاقے‘ میں توسیع کا اعلان: خلیجِ عمان اور بحیرۂ عرب کے حصے بھی اس میں شامل ہیں، پاسدارانِ انقلاب

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے متعین کیے گئے ’ممنوعہ سمندری علاقے‘ میں توسیع کر دی گئی ہے اور اب اس میں خلیجِ عمان اور بحیرۂ عرب کے حصے بھی شامل ہیں۔

    پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محبی کا کہنا ہے کہ اس ’ممنوعہ علاقے‘ سے بنا اجازت گزرنے والے بحری جہازوں کے خلاف ’پابندیاں‘ عائد کی جائیں گی۔

    حسین محبی کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے اعلان کردہ ممنوعہ راستے کے جغرافیائی حدود (کوآرڈینیٹس) بعد میں جاری کیے جائیں گے۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ ممنوعہ حدود چابہار کے علاقے سے شروع ہوتی ہیں۔

    ان کے مطابق جو بھی بحری جہاز اس حدود میں داخل ہوں گے انھیں بعد ازاں آبنائے ہرمز استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہو گی، جبکہ انھیں قانونی اور انشورنس خدمات بھی فراہم نہیں کی جائیں گی۔

  11. ایران کی آئل ٹینکروں پر امریکی حملے کی مذمت: ’ایسے حملے علاقائی اور بین الاقوامی امن کے لیے واضح خطرہ ہیں‘

    ایران نے امریکہ کی جانب سے ایرانی آئل ٹینکروں پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے حملے علاقائی اور بین الاقوامی امن کے لیے واضح خطرہ ہیں۔

    بدھ کے روز ایران کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی میں خطرناک اضافے کا باعث ہیں بلکہ علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے بھی ایک واضح خطرہ ہیں۔

    یاد رہے کہ امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے منگل کو دعویٰ کیا تھا کہ اس کی افواج نے گذشتہ دو دنوں میں خام تیل لے جانے والے پانچ ٹینکروں کو تباہ کر دیا ہے۔ سینٹکام کے مطابق یہ کارروائی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے گذشتہ دو دنوں میں امریکی بحریہ کے ایک جہاز پر دو بیلسٹک میزائل حملوں کے بعد کی گئی۔

    دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ان حملوں کے جواب میں امریکی جنگی جہازوں پر بیلسٹک میزائلوں سے حملے اور ا اردن کے الازرق اڈے پر امریکی جنگی طیاروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

  12. اگلے ہفتے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا: جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ وہ اگلے ہفتے اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔

    تنظیم کی کور کمیٹی کے رکن عابد شاہین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کی تنظیم کی درحواست پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پہیہ جام اور شٹر ڈاون ہڑتال جاری ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم کی جانب سے ایک دن کی ہڑتال کی کال دی گئی تھی۔

    عابد شاہین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے ان سے براہ راست رابطہ نہیں کیا ہے تاہم علما اور مشائح کی نشست پر منتخب ہونے والے ممبر قانون ساز اسمبلی پیر مظہر سعید نے ان کی تنظیم کے نمائندہ وفد کے ساتھ مذاکرات کیے ہیں۔

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ بات چیت نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئی۔

    عابد شاہین کا کہنا ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اگلے ہفتے اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔

    دوسری جانب مظفرآباد کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق شہر میں زندگی معمول کے مطابق ہے اور سڑکوں پر ٹریفک رواں دوراں ہے جبکہ راولاکوٹ اور باغ کی انتظامیہ کے مطابق کچھ مارکیٹیں بند ہیں لیکن ان علاقوں میں بعض مارکیٹیں کھلی بھی ہیں جبکہ سڑکوں پر ٹریفک معمول کے مطابق ہے۔

  13. برطانیہ میں ایئر ٹریفک کنٹرول کے سسٹم میں ’تکنیکی خرابی‘ کے باعث تقریباً 2,000 پروازیں منسوخ

    برطانیہ میں ایئر ٹریفک کنٹرول کے ایک مسئلے کے باعث تقریباً 2,000 پروازیں منسوخ ہونے کے بعد بدھ کے روز بھی پروازوں میں تاخیر کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔

    ہوابازی کے شعبے کے تجزیاتی ادارے سیریم کے مطابق اس خلل سے ہزاروں مسافر متاثر ہوئے ہیں۔ منگل کو 1,750 سے زیادہ پروازیں منسوخ ہوئیں جبکہ بدھ کو مزید 153 پروازیں منسوخ کی گئیں۔

    ایئر ٹریفک کنٹرول کی خدمات فراہم کرنے والے ادارے نیٹس نے اس کی وجہ ایک تکنیکی خرابی کو قرار دیا ہے۔

    ادارے نے تسلیم کیا ہے کہ مسئلے کو حل کرنے میں ’امید سے زیادہ وقت‘ لگا جس پر نیٹس کے سربراہ مارٹن رولف نے معذرت کی ہے اور کہا ہے کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔

    برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ کا کہنا ہے کہ یہ تعطل ’ناقابل قبول‘ ہے، جبکہ وزیر ٹرانسپورٹ ہیڈی الیگزینڈر نے اس معاملے پر وضاحت کے لیے مارٹن رولف کو طلب کر لیا ہے۔

    وزیرِ ٹرانسپورٹ ہیڈی الیگزینڈر بدھ کو ایوانِ زیریں (ہاؤس آف کامنز) سے خطاب کریں گی، جہاں توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اس خرابی کے پیچھے قطعی طور پر کسی سائبر حملے کی تردید کریں گی۔

    مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی پروازوں کے بارے میں مسلسل اپنی ایئر لائنز سے معلومات حاصل کرتے رہیں، کیونکہ فضائی آپریشن مکمل طور پر معمول پر آنے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔

  14. عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی

    بدھ کے روز عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے (فیوچرز) 100 ڈالر فی بیرل کی سطح سے اوپر چلے گئے۔ یہ چھ ہفتوں سے زیادہ عرصے میں خام تیل کی بلند ترین سطح ہے۔

    پاکستانی وقت کے مطابق دن ایک بج کر دو منٹ پر برینٹ خام تیل کے فیوچرز 2.01 ڈالر، یا 2.05 فیصد اضافے کے ساتھ 99.93 ڈالر فی بیرل پر تھے، جبکہ اس سے قبل تیل کی فی ڈالر قیمت 100.19 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی۔ دوسری جانب ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 1.49 ڈالر، یا 1.60 فیصد اضافے کے ساتھ 94.52 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا تھا۔

    گذشتہ ماہ کے آغاز کے بعد سے برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 25 فیصد اضافہ ہو چکا ہے کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان چھ ماہ سے جاری تنازع کے مستقل حل کی امیدیں مدھم پڑتی جا رہی ہیں۔

    28 فروری کو ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 30 اپریل کو 126.41 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی تھی۔

    اس ہفتے ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے سعودی عرب کی توانائی تنصیبات پر حملوں کے نتیجے میں بعض تیل تنصیبات میں آگ لگ گئی، جس سے اس تنازع کے مزید پھیلنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

    ان حملوں سے بحیرۂ احمر کے راستے خام تیل کی ترسیل کو بھی خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ یہ راستہ آبنائے ہرمز کا ایک اہم متبادل سمجھا جاتا ہے، جہاں 28 فروری کو ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے تیل کی ترسیل شدید متاثر رہی ہے۔

  15. سماجی تنظیموں کا بلوچستان میں خواتین اور بچیوں پر تشدد کے بڑھتے واقعات پر تشویش کا اظہار

    ایواجی الائنس اور عورت فاؤنڈیشن نے بلوچستان میں خواتین اور بچیوں پر تشدد کے بڑھتے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    بدھ کے روز ان تنظیموں کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں گذشتہ ایک ماہ کے دوران خواتین اور کمسن بچیوں کے خلاف تشدد، قتل، تیزاب پھینکنے اور جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ کچلاک میں ایک 15 سالہ کمسن لڑکی کا مبینہ طور پر اپنے شوہر کے ہاتھوں قتل، مستونگ کے کلی ببری میں ایک خاتون پر مبینہ تیزاب پھینکنے اور تشدد، تربت میں ایک خاتون کی لاش کی برآمدگی اور نوشکی کے علاقے احمد وال میں 9 سالہ بچی کے ساتھ مبینہ زیادتی، قتل اور لاش چھپانے جیسے واقعات معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔

    تنظیموں نے بلوچستان حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان واقعات کا فوری اور سخت نوٹس لیا جائے۔

    بیان میں صوبے میں بعض ضروری سہولیات کی کمی کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔

    ’طبی و فرانزک سہولیات کا فقدان‘

    ایواجی الائنس اور عورت فاؤنڈیشن نے سول ہسپتال نوشکی میں پوسٹ مارٹم کے لیے سرجن کی عدم دستیابی اور بلوچستان کے دیگر اضلاع میں پولیس سرجن کے نہ ہونے پر بھی تشویش ظاہر کی۔

    بیان میں کہا گیا کہ ایسے حساس مقدمات میں طبی اور فرانزک سہولیات کی کمی انصاف کے عمل کو متاثر کرتی ہے۔

    حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ تمام اضلاع، خصوصاً دور دراز علاقوں میں مناسب فرانزک، طبی، نفسیاتی اور قانونی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ متاثرین کو بروقت انصاف اور معاونت مل سکے۔

    ’جامع حفاظتی نظام کی ضرورت‘

    دونوں تنظیموں کا کہنا ہے کہ صرف مقدمات کا اندراج کافی نہیں بلکہ ایسے واقعات میں متاثرہ خواتین اور بچیوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے ایسا ردِعمل دینا ضروری ہے جس میں تحفظ، رازداری، طبی علاج، نفسیاتی معاونت، قانونی امداد اور بحالی شامل ہوں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پولیس، صحت، پراسیکیوشن، سماجی بہبود اور محکمہ حقوق نسواں کے درمیان مربوط نظام قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

  16. پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کو تین ماہ مکمل

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کو تین ماہ مکمل ہو گئے ہیں۔

    مقامی صحافی فرحان طارق کے مطابق جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے چارٹر آف ڈیمانڈ کے حق میں نو جون کو بھمبر سے مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا آغا کیا تھا جسے آج (نو ستمبر) کو تین ماہ مکمل ہو چکے ہیں۔

    رواں ماہ کی پانچ تاریخ کو جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ایک بار پھر اپنے بار پھر اپنے مطالبات کے حق میں شٹر ڈاون ہڑتال کی کال دی تھی۔

    تنظیم کی کال پر پاکستان زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں جزوی شٹر ڈاون ہے۔ پلیٹ اپر اڈہ میں واقع مارکیٹس مکمل بند ہیں جبکہ بینک روڈ ٹالی منڈی کے علاقوں میں دکانیں کھلی ہیں۔ ضلع باغ میں مکمل شٹر ڈاون ہے جبکہ ضلع کوٹلی میں بھی ہڑتال جاری ہے۔

    خطے میں سڑکوں پر ٹرانسپورٹ کی روانی معمول سے بہت کم ہے۔

    فرحان طارق کا کہنا ہے کہ ضلع باغ میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ہڑتال کرنے پر متعدد دکانیں سیل کر دی گئی ہیں۔

  17. انڈیا کی سرحدی تنازع پر چین کے ساتھ مذاکرات کی تصدیق: چھ، سات ستمبر کوسینیئر فوجی کمانڈروں کی دو فلیگ میٹنگز ہوئیں، وزارت خارجہ

    انڈین وزارتِ خارجہ نے آٹھ ستمبر کو تصدیق کی ہے کہ خطے میں کشیدگی کے دوران متنازع ریاست اروناچل پردیش کی سرحد پر انڈیا اور چین کے اعلیٰ فوجی کمانڈروں کے درمیان مذاکرات کے دو دور ہوئے ہیں۔

    وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق متنازع سرحد، یعنی لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر کشیدگی کی اطلاعات کے پس منظر میں یہ مذاکرات ریاست کے اپر سبانسری علاقے میں ہوئے۔

    نئی دلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بتایا کہ اعلیٰ سطح فوجی کمانڈروں کی پہلی فلیگ میٹنگ چھ ستمبر کو اروناچل پردیش میں انڈیا کی جانب واقع واچا میں ہوئی، جبکہ دوسری ملاقات اگلے روز چین کی جانب واقع دامائی میں ہوئی۔

    جیسوال کے مطابق اگست 2025 اور اگست 2026 میں انڈیا اور چین کے خصوصی نمائندوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں جس مفاہمت پر اتفاق ہوا تھا، اور اس کے بعد مئی اور اگست 2026 میں بالترتیب بیجنگ اور نئی دلی میں ہونے والے ورکنگ میکنزم فار کنسلٹیشن اینڈ کوآرڈینیشن کے اجلاسوں میں جو گفتگو ہوئی تھی، حالیہ ملاقاتیں اسی کے مطابق ہوئیں۔

    ترجمان نے حالیہ مذاکرات کے نتائج کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ یہ مشرقی سیکٹر میں انڈیا اور چین کے درمیان کور کمانڈر سطح کا پہلا رابطہ تھا۔

    انھوں نے کہا کہ اعلیٰ فوجی کمانڈروں کے درمیان مذاکرات کا اسی نوعیت کا نظام مغربی سیکٹر میں 2020 سے موجود ہے، جو وادیٔ گلوان میں خونریز جھڑپوں کے بعد قائم کیا گیا تھا۔

    فوجی مذاکرات کا یہ تازہ دور چینی صدر شی جن پنگ کے برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے متوقع دورۂ انڈیا سے چند روز قبل ہوا ہے۔

  18. بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کے دو آپریشنز، 11 شدت پسند ہلاک: آئی ایس پی آر کا دعویٰ

    پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے دعویٰ کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے چھ اور سات ستمبر کو بلوچستان کے اضلاع خاران اور واشک میں کارروائی کر کے 11 شدت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق شدت پسندوں نے چھ ستمبر کو خاران میں سڑک بند کرکے ٹریفک کی روانی متاثر کرنے کی کوشش کی، جس پر سکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ان کا مقابلہ کیا، جس کے نتیجے میں آٹھ شدت پسند ہلاک ہو گئے۔

    بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سات ستمبر کو واشک ضلع میں شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاعات پر ان کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد تین شدت پسند ہلاک ہوئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے دوران 2.9 ٹن بارودی مواد بھی برآمد کیا گیا، جو بم تیار کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

  19. کیچ: 30 سالہ خاتون کے اغوا اور لاش برآمدگی کیس کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟, محمد کاظم، بی بی سی اُردو، کوئٹہ

    ’ہماری بچی کو جس ظلم کا نشانہ بنایا گیا اُس نے نہ صرف ہمارے خاندان کو شدید صدمے سے دوچار کیا بلکہ پورے علاقے کو سوگوار کیا ہے۔‘

    یہ کہنا ہے صوبہ بلوچستان کے ضلع کیچ سے تعلق رکھنے والی خاتون ماہ گُل بلوچ کے والد عبدالعزیز کا۔ ماہ گُل کو اتوار کی شب نامعلوم مسلح افراد نے اُن کے گھر سے اغوا کیا تھا اور چند گھنٹوں بعد اُن کی لاش قریبی علاقے سے ملی تھی۔

    30 سالہ ماہ گل دو بچوں کی والدہ تھیں۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے خاتون کے والد عبدالعزیز بلوچ نے بتایا کہ انھیں بالکل اندازہ نہیں ہے کہ اُن کی بیٹی کو کس نے اور کیوں اِس ظلم کا نشانہ بنایا۔

    ضلع کیچ کی سیاسی جماعتوں نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری اور خاتون کے خاندان کو انصاف فراہم کرنےکا مطالبہ کیا ہے جبکہ سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے کا مقدمہ درج کرکے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لائے جائیں گے۔

    اغوا اور قتل کا واقعہ

    ماہ گل بلوچ کا تعلق ایران سے متصل بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے کلگ سہرانی سے تھا۔ یہ علاقہ تربت شہر سے تقریباً 15 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

    ماہ گل بلوچ کے والد عبدالعزیز بلوچ نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ اُن کی بیٹی نے پرائمری تک تعلیم حاصل کی تھی، وہ شادی شدہ تھیں اور اُن کی پانچ اور آٹھ سال کی دو بیٹیاں ہیں۔

    عبدالعزیز کے مطابق اُن کی بیٹی کا کسی سیاسی تنظیم یا گروہ سے کوئی تعلق نہیں تھا اور وہ گھریلو خاتون تھی۔

    ماہ گل کے اغوا اور قتل کی ایف آئی آر اُن کے والد عبدالعزیز کی مدعیت میں درج کی گئی ہے۔

    مدعی مقدمہ کے مطابق چھ ستمبر (اتوار) کی شب لگ بھگ آٹھ بجے ایک سفید رنگ کی لینڈ کروزر گاڑی اُن کےگھر آئی جس میں چھ سے سات افراد سوار تھے۔

    والد کے مطابق یہ نقاب پوش اور مسلح افراد اُن کے گھر زبردستی داخل ہوئے اور پوچھا کہ ماہ گُل کون ہے، اور اس کی تصدیق کے بعد مسلح افراد نے اُن کی بیٹی کو زبردستی اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش کی۔

    والد کے مطابق گھر والوں نے مزاحمت کی کوشش کی جس پر مسلح افراد نے ہوائی فائرنگ کی اور بندوق کی نوک پر اُن کی بیٹی کو اغوا کر کے لے گئے۔

    والد کا دعویٰ ہے کہ اُن کی بیٹی یا ماہ گل کے شوہر کی نہ تو کسی کے ساتھ کوئی دشمنی ہے اور نہ ہی ماہ گُل کسی سیاسی یا غیر قانونی سرگرمی میں ملوث تھیں۔

    ایک سوال پر اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ انھیں کسی جانب سے کسی دھمکی کا کوئی سامنا نہیں تھا۔

    اس علاقے سے تعلق رکھنے والے نذیر بلوچ ایڈووکیٹ نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ اس واقعے نے اہل علاقہ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

    واقعے کے خلاف سیاسی جماعتوں کا ردعمل

    منگل کے روز تربت میں آل پارٹیز کیچ اور ضلع کے تاجران کے مسائل کے حوالے سے جو مشترکہ پریس کانفرنس کی گئی اس میں ماہ گُل بلوچ کے اغوا اور قتل کے واقعے کی مذمت کی گئی۔ اس پریس کانفرنس میں سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان اور نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ بھی موجود تھے ۔

    پریس کانفرنس میں اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آل پارٹیز کیچ کے رہنماؤں نے اسے بلوچ روایات کے منافی قرار دیا ۔

    ان کا کہنا تھا کہ اُن کے علاقے میں یہ اپنی نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے، اس سے چند سال قبل ڈھننُک کے علاقے میں ملک ناز نامی خاتون کو ان کے گھر میں فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا تھا۔

    آل پارٹیز کیچ کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ ماہ گُل بلوچ کے قاتلوں کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

    سرکاری حکام کا کیا کہنا ہے؟

    بی بی سی کی جانب سے رابطہ کرنے پر محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے ترجمان بابر یوسفزئی نے بتایا کہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے انصاف کے جو تقاضے ہیں، وہ پورے کیے جائیں گے۔ بی بی سی نے ڈی آئی جی پولیس مکران رینج اور ایس ایس پی کیچ سے متعدد بار رابطے کی کوشش کی لیکن اُن کی جانب سے جواب موصول نہیں ہوا۔

    متعلقہ علاقے کے ایس ایچ او منصور احمد کا کہنا ہے کہ جب اس خاتون کی اغوا کی خبر ملی تو پولیس فوراً جائے وقوعہ پر پہنچی اور مغوی خاتون کے والد، شوہر اور خاندان کے دیگر افراد سے اس واقعے کے بارے میں معلومات حاصل کر کے اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا۔

    انھوں نے بتایا کہ اگلی صبح پولیس کو یونیورسٹی کے عقب میں ایک خاتون کی لاش موجود ہونے کی اطلاع ملی اور بعدازاں اس کی شناخت مغوی ماہ گُل کے طور پر ہوئی۔

    انھوں نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق خاتون کو گولی مار کر قتل کیا گیا تھا۔ اُن کے مطابق خاتون کی لاش جہاں پڑی ہوئی تھی انھیں وہاں گولی نہیں ماری گئی تھی بلکہ کہیں اور گولی مارنے کے بعد لاش کو لا کر پھینک دیا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ اس واقعے کا مقدمہ درج ہوا ہے اور اس کے محرکات اور ملزمان کی نشاندہی اور گرفتاری کے لیے تحقیقات مختلف پہلوؤں سے جاری ہیں۔

  20. سعودی عرب میں یمنی حوثیوں کے حملے کے بعد کی سیٹلائٹ تصاویر

    یمن کے حوثی جنگجوؤں نے گذشتہ روز سعودی عرب کے اقتصادی اور عسکری اہداف پر درجنوں ڈرونز اور میزائل داغنے کا دعویٰ کیا تھا۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے سیٹلائٹ تصاویر جاری کی ہیں، جن میں حملوں کے بعد دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔

    حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ ’یمنی مسلح افواج نے طویل فاصلے تک مار کرنے والی ایک بڑے پیمانے کی عسکری کارروائی انجام دی، جس میں درجنوں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کیا گیا۔‘

    انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ یہ حملے سعودی عرب کے مختلف اقتصادی اور فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے اور ان کا مقصد حالیہ سعودی حملوں کا جواب دینا تھا۔

    سعودی وزارتِ خارجہ نے منگل کو کہا کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے شہروں ابہا، خمیس مشیط، جیزان اور نجران میں شہری اور اقتصادی تنصیبات پر حملوں کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 73 سعودی شہری زخمی ہوئے ہیں۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سعودی وزارتِ خارجہ کے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ ’حوثی ملیشیا کی جانب سے بے گناہ شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھنے کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔‘