پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کا پہلا پڑاؤ ضلع کرک میں ہے اور آج یہ مارچ کوہاٹ کے لیے روانہ ہوگا جہاں کوہاٹ شہر سے چند کلومیٹر پہلے لاچی کے مقام پر لانگ مارچ کے مظاہرین پڑاؤ ڈالیں گے۔
کوہاٹ میں پارٹی کے قائدین مظاہرین کی آمد سے پہلے وہاں تیاریاں جاری کیے ہیں جبکہ ادھر پشاور سے پہلے متنی کے مقام پر بھی لانگ مارچ کے مظاہرین کی آمد کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
کرک سے مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ جیل چوک پر ایک بڑا پنڈال بنایا گیا ہے جہاں لانگ مارچ میں شامل لوگوں موجود ہیں۔
بیشتر لوگ رات مختلف مقامات پر چلے گئے تھے اور اب کوہاٹ روانگی کے لیے پنڈال میں پہنچ رہے ہیں۔
مظاہرین کے لیے پنڈال میں رات کے کھانے اور صبح کے ناشتے کا انتظام بھی کیا گیا تھا۔ کرک کے پولیس حکام نے بتایا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ کے ساتھ آنے والے لانگ مارچ کی یہاں کرک سے روانگی کا وقت تو 12 بجے دوپہر کا بتایا گیا تھا لیکن اب یہ معلوم نہیں ہے کہ کس وقت روانگی ہوتی ہے۔ کرک اور قریبی علاقوں میں موبائل فون سروس اور موبائل انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔
صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے اپنے سوشل میڈیا ایکس پر لکھا ہے کہ ’آج پانچ اکتوبر کو قافلہ رات کے وقت کوہاٹ کے قریب لاچی گراؤنڈ میں پڑاؤ کرے گا۔‘
پی ٹی آئی کے مطابق چھ اکتوبر یعنی منگل کو دن 12 بجے کوہاٹ، ہنگو، کُرم اور اورکزئی اضلاع سے آنے والے افراد قافلے میں شامل ہوں گے، جس کے بعد قافلہ کوہاٹ سے پشاور کی جانب روانہ ہو گا۔ پشاور پہنچنے کے بعد قافلہ متنی کے قریب رات گزارے گا۔
متنی کا علاقہ پشاور شہر سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
اتوار کو ضلع لکی مروت کے علاقے گنڈی چوک سے لانگ مارچ کا اغاز شام سے تھوڑی دیر پہلے ہوا تھا اور یہ مارچ 80 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے رات دیر سے کرک پہنچ گیا تھا۔
اس لانگ مارچ میں بنوں شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، لکی مروت ٹانک اور دیگر قریبی علاقوں کے لوگ بھی شام ہوئے تھے۔
ڈیرہ اسماعیل خان سے انفرادی طور پر لوگ پہنچ گئے تھے لیکن جس قافلے کی قیادت سابق وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈا پور کر رہے تھے وہ نہیں پہنچ سکے تھے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں بلوچستان سے ایک قافلہ ژوب کے راستے ڈیرہ اسماعیل خان پہنچا تھا اور وہ بھی یارک کے مقام پر رکاوٹ عبور کرکے مارچ میں شامل ہو گیا تھا۔
اس لانگ مارچ کے آغاز لیے جنوبی اضلاع کا انتخاب کیا گیا تھا اور اس فیصلے کو تجزیہ کار ایک بہتر فیصلہ قرار دے رہے تھے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جنوبی اضلاع میں پی ٹی آئی کے کارکن بڑی تعداد میں ہیں اور اس مرتبہ انھیں ساتھ لانے کے لیے وزیرِ اعلیٰ خود جنوبی اضلاع کے مرکزی پوائٹ گنڈی چوک پہنچے۔