توقع ہے کہ امریکی مذاکرات کار اس ہفتے ایران کے ساتھ مزید بات چیت کریں گے: ٹرمپ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی نشریاتی ادارے ایگزیوس کو دیے گئے ایک ٹیلی فونک انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ توقع رکھتے ہیں کہ امریکی مذاکرات کار اس ہفتے ایران کے ساتھ مزید بات چیت کریں گے۔ انھوں نے پیش گوئی کی ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد ختم ہو جائے گی اور اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    28 ستمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  2. ریاض میں سکول عارضی طور پر بند، ایک ہفتے تک آن لائن کلاسز ہوں گی: اے ایف پی

    Saudi Arabia

    سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں کئی سکولوں نے والدین کو اطلاع دی ہے کہ کلاسیں ایک ہفتے کے لیے آن لائن منعقد کی جائیں گی۔ والدین کو اتوار کے روز موصول ہونے والے پیغامات میں بتایا گیا کہ سعودی حکام کی ہدایت پر سکول عارضی طور پر بند رہیں گے اور طلبہ گھر سے تعلیم حاصل کریں گے۔

    خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سکول انتظامیہ نے بندش کی کوئی سرکاری وجہ نہیں بتائی۔ تاہم یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان تنازع دوبارہ شدت اختیار کر گیا ہے۔

    اے ایف پی کے مطابق ریاض میں رہنے والے بعض والدین نے اچانک فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب کوئی فیصلہ پورے ہفتے کے لیے ہزاروں خاندانوں کو متاثر کرتا ہے تو اس کی وجوہات سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔ ایک والد نے کہا کہ خاندان شفافیت اور واضح معلومات کے حق دار ہیں، جبکہ ایک لبنانی شہری نے اسے آخری وقت میں کیا جانے والا غیر متوقع فیصلہ قرار دیا۔

    ابھی تک سعودی حکام نے سکولوں کی بندش یا دوبارہ معمول کے مطابق کلاسوں کے آغاز کے بارے میں کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا۔ یہ پیش رفت ایک روز بعد سامنے آئی ہے جب سعودی قیادت والے اتحاد نے اعلان کیا تھا کہ اس نے سعودی عرب کی جانب آنے والے ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کر دیا ہے۔

    دوسری جانب حوثیوں کا کہنا ہے کہ یمن کے جنوب مغربی علاقے تعز کے نواح میں سعودی فضائی حملوں کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ یہ علاقے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول ہیں۔

  3. آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے کے امریکی دعوے کھوکھلے ہیں: ایرانی سپیکر

    Iran, USA

    ایران کے پارلیمنٹ کے سپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تیل کی عالمی قیمتیں خود اس بیانیے کی تردید کر رہی ہیں۔

    باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’امریکی پراپیگنڈا مشین کہتی ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو کنٹرول نہیں کرتا، لیکن تیل کی قیمتیں اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں اور فی بیرل تقریباً 35 ڈالر زیادہ پر ٹریڈ ہو رہی ہیں۔‘

    انھوں نے طنزیہ انداز میں کہا، ’یا تو مارکیٹ اندھیر نگری کا شکار ہے یا پھر امریکی بیانیہ بنانے والی مشین حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہی ہے۔‘

    باقر قالیباف نے مزید کہا کہ اگر امریکی مؤقف درست ہے تو ’آبنائے ہرمز میں یقین رکھنے والوں کے لیے مفت ڈالر بانٹنے والی مشین موجود ہے، جا کر اسے حاصل کر لیں۔‘

  4. ایران کے پاس جلد تجارت کے لیے کچھ نہیں بچے گا: امریکی وزیر خزانہ کا دعویٰ

    امریکہ کے وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں ایران کے پاس تجارت یا بارٹر کے لیے تقریباً کچھ نہیں بچے گا۔

    امریکی ٹی وی چینل فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایرانی معیشت پر امریکی دباؤ کے اثرات پر بات کرتے ہوئے سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ اس وقت سمندر میں صرف ڈیڑھ کروڑ بیرل ایرانی تیل موجود ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ایران کے پاس بارٹر یا تجارت کے لیے کچھ نہیں بچے گا۔ غالب امکان ہے کہ وہ اگلے دو ہفتوں کے دوران اپنا آخری تیل کا ذخیرہ بھی چین کو فروخت کر دے گا، جس کے بعد اس کے پاس فروخت کے لیے کچھ نہیں رہ جائے گا۔‘

    اس سے قبل سکاٹ بیسنٹ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ امریکہ مختلف ممالک میں وفود بھیجے گا تاکہ انھیں تہران کے ساتھ تجارتی تعلقات محدود یا ختم کرنے پر آمادہ کیا جا سکے۔ امریکی وزیر خزانہ کے اس بیان پر ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ’آزاد ریاستیں ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کا تعین اپنے مفادات اور ترجیحات کی بنیاد پر کرتی ہیں، نہ کہ امریکی محکمہ خزانہ کے احکامات پر۔ دھمکیوں اور پابندیوں کے ذریعے اپنی مرضی مسلط کرنے کا دور ختم ہو رہا ہے۔‘

  5. عمران خان کے اہلِ خانہ کی تردید، نورین نیازی سے منسوب سہیل آفریدی سے متعلق بیانات من گھڑت قرار

    ِعمران خان کی بہنیں
    ،تصویر کا کیپشنعلیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان کے 30 روز کے لیے نظربندی احکامات جاری کیے گئے ہیں (فائل فوٹو)

    سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے اہلِ خانہ نے ان کی ہمشیرہ نورین نیازی اور عمران خان کے درمیان ملاقات سے متعلق گردش کرنے والی خبروں اور منسوب بیانات کی تردید کرتے ہوئے انھیں بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا ہے۔

    اہلِ خانہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نورین نیازی اور عمران خان کی ملاقات سے متعلق زیرِ گردش خبروں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی ملاقات سے منسوب بیان میں کوئی صداقت ہے۔ بیان کے مطابق سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے پھیلائی جانے والی تمام تفصیلات من گھڑت ہیں، جن میں کہا گیا کہ عمران خان نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے ناراضی کا اظہار کیا۔

    سہیل آفریدی

    اہلِ خانہ نے واضح کیا کہ نورین نیازی نے سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق آخری بار 25 اگست 2026 کو اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کی تھی اور انھوں نے اس ملاقات کی تفصیلات کبھی کسی کے ساتھ شیئر نہیں کیں۔

    بیان میں اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ ایسی کہانیاں ایک ایسے وقت میں پھیلائی جا رہی ہیں جب عمران خان خود حراست میں ہیں اور ان دعوؤں کی تردید یا وضاحت کے لیے براہِ راست جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں۔

    اہلِ خانہ نے مطالبہ کیا کہ عمران خان اور ان کے خاندان سے متعلق جھوٹی خبروں اور بے بنیاد دعوؤں کے پھیلاؤ سے گریز کیا جائے، جبکہ بیان کے اختتام پر ایسی خبروں کی مذمت بھی کی گئی ہے۔

  6. سعودی عرب پر کوئی بھی حملہ مراکش پر حملہ ہے: شاہ محمد ششم

    مراکش کے بادشاہ محمد ششم (VI) نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں کی سلامتی مراکش کی اپنی سلامتی سے جڑی ہوئی ہے۔

    مراکش کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ بیان سعودی عرب کے 26 ستمبر کو ریاض اور خمیس مشیط کی جانب داغے گئے حوثی ڈرونز اور میزائلوں کو تباہ کرنے کے دعوے کے بعد سامنے آیا ہے۔

    شاہی دفتر کے بیان کے مطابق شاہ محمد ششم نے سعودی فرمانروا اور ولی عہد کو بھیجے گئے دو پیغامات میں ریاض کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

    بیان میں ان کے حوالے سے کہا گیا کہ ’سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام، دیگر خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) ممالک کی طرح، مراکش کی اپنی سلامتی کا لازمی حصہ ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’سعودی عرب پر کوئی بھی حملہ مراکش پر حملہ ہے، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ کھڑا ہونا ان کی حمایت کے مترادف ہے۔‘

    شاہ محمد ششم کے مطابق خلیجی ممالک کے ’اہم مفادات کا دفاع ہمارے مشترکہ سٹریٹیجک مفادات کا دفاع ہے۔‘

    مراکش کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق بادشاہ نے سعودی عرب کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے ان خطرات کا حوالہ دیا جنھیں انھوں نے ’دہشت گرد اور علیحدگی پسند ملیشیاؤں اور ان کی حمایت کرنے والی علاقائی طاقتوں‘ سے منسوب کیا۔

    یہ اشارہ ایران اور خطے میں اس کے اتحادی گروہوں کی جانب سمجھا جا رہا ہے ، جن میں یمن کی حوثی تحریک بھی شامل ہے۔

    انھوں نے کہا کہ یہ عناصر ہمسایہ ممالک کے لیے خطرہ ہیں اور عالمی معیشت اور بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے اہم سمندری راستوں کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔

    بادشاہ محمد ششم نے حوثیوں اور ان کے بقول ان کی مالی اور عسکری حمایت کرنے والوں کے خلاف بین الاقوامی پابندیاں عائد کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

  7. ایران کا امریکہ کو انتباہ: ’فوجی جارحیت کی صورت میں بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہیں‘

    ایران امریکہ
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایران کی فوج نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن نے خطے میں کسی قسم کی فوجی کارروائی کی تو ایرانی افواج اس کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

    ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمنیہ نے کہا ہے کہ خطے میں امریکہ کی پوزیشن ’اچھی نہیں‘ اور اسی وجہ سے وہ فوجی جارحیت کا راستہ اختیار کر سکتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج کسی بھی ممکنہ خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

    اس سے قبل ایران کی مسلح افواج کے ایک سینئر ترجمان ابوالفضل شیکرچی نے بھی امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر اس نے آبنائے ہرمز میں مداخلت کی تو ایران اس کا بھرپور جواب دے گا۔

    شیکرچی کا کہنا تھا کہ امریکہ کے پاس ’مغربی ایشیا چھوڑنے کے سوا کوئی راستہ نہیں‘ اور جتنی جلد امریکی افواج خطے سے نکل جائیں گی، اتنا ہی کم نقصان اٹھائیں گی۔

    ایرانی حکام کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے اور کشیدگی کم کرنے سے متعلق ایک مجوزہ منصوبہ مسترد کر دیا ہے۔

  8. برطانیہ میں فوجی اڈے کے قریب گرفتار مشتبہ افراد پر طویل عرصے سے نظر تھی، ٹرمپ

    Trump

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اتوار کے روز آر اے ایف فیئر فورڈ کے قریب گرفتار کیے گئے افراد ’بڑی تباہی پھیلانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔‘

    صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم ان پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ وہ ہمارے اڈے کو شدید نقصان پہنچانا چاہتے تھے، اور برطانوی حکام کے ساتھ مل کر کام کرنے کے اچھے نتائج برآمد ہوئے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’شاید اس میں سکاٹ لینڈ یارڈ شامل تھی، مجھے یقین نہیں۔ ہم نے مختلف برطانوی اداروں کے ساتھ کام کیا۔ ہم کافی عرصے سے ان کی نگرانی کر رہے تھے اور بالآخر انھیں گرفتار کر لیا گیا۔‘

    ٹرمپ کے مطابق، ’یہ ایک شاندار کارروائی تھی۔ برطانیہ کے ساتھ مل کر کام کرنا غیر معمولی رہا اور متعلقہ اداروں نے بہترین کام کیا۔‘

  9. ایران کے ساتھ اس ہفتے مذاکرات کی توقع ہے: ٹرمپ

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی نشریاتی ادارے ایگزیوس کو دیے گئے ایک ٹیلی فونک انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ توقع رکھتے ہیں کہ امریکی مذاکرات کار اس ہفتے ایران کے ساتھ مزید بات چیت کریں گے۔

    ٹرمپ کے بقول، ’مجھے امید ہے کہ ایران کے ساتھ مزید مذاکرات ہوں گے۔ وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن ایسا معاہدہ نہیں جو میں چاہتا ہوں۔ شاید ایک سال پہلے میں ایسی کسی تجویز کو قبول کر لیتا، مگر اب حالات بدل چکے ہیں۔ ایران نے اپنی پوزیشن ضرورت سے زیادہ استعمال کر لی ہے۔‘

    جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایران پر دوبارہ حملے کے امکان پر غور کر رہے ہیں تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ ’میں اس امکان پر ہمیشہ غور کرتا رہتا ہوں۔‘

  10. بلوچستان میں شدت پسندی کے خلاف جاری آپریشن، حالیہ دنوں میں 71 شدت پسند ہلاک: آئی ایس پی آر

    بلوچستان میں شدت پسندی کے خلاف جاری آپریشن
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق انٹیلیجنس ایجنسیوں کی نشاندہی پر سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں چند روز سے جاری شدت پسندوں کے خلاف آپریشن میں اب تک عسکریت پسندوں کے متعدد ٹھکانوں کو کلیئر کر کے 71 شدت پسند ہلاک کیے ہیں جبکہ اس دوران ان ٹھکانوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران آپریشن میں مزید شدت لائی گئی، جس کے نتیجے میں مزید 23 دہشت گرد مارے گئے۔

    آئی ایس پی آر کا دعویٰ ہے کہ سکیورٹی فورسز نے ایک وسیع علاقے کو کلیئر کر دیا ہے اور مقامی آبادی کو شدت پسندی کے خطرات سے نجات دلائی ہے۔ بیان کے مطابق خطرے کے مکمل خاتمے تک کلیئرنس آپریشن جاری رہے گا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق 25 ستمبر 2026 کو ضلع نوشکی میں انٹیلیجنس بنیادوں پر کی گئی ایک الگ کارروائی میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ایک مبینہ ٹھکانے کو نشانہ بنایا، جس میں 11 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مند کے علاقے میں بھی سکیورٹی فورسز نے چھ شدت پسند ہلاک کیے اور بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ چار روز کے دوران دوران آپریشن شابان اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں مجموعی طور پر 71 سے زیادہ دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔

  11. ایران جلد ہتھیار ڈال دے گا اور جنگ کے خاتمے کے ساتھ تیل کی قیمتیں بھی گر جائیں گی: ٹرمپ

    USA

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیش گوئی کی ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد ختم ہو جائے گی اور اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔

    وائٹ ہاؤس سے روانگی کے وقت صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’جیسے ہی ایران ہتھیار ڈالتا ہے اور جنگ ختم ہوتی ہے، جو میرے خیال میں بہت جلد ہونے والی ہے، تیل کی قیمتیں نیچے آ جائیں گی۔‘

    ٹرمپ نے اس سے ایک روز قبل ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق پیشکش کو بھی مسترد کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں ان کی تجویز مسترد کرتا ہوں۔ وہ بری طرح ناکام ہو رہے ہیں اور اسی لیے آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنے پر آمادہ ہیں۔‘

    ادھر وال سٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کو توقع ہے کہ وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف فضائی حملے دوبارہ شروع کیے جا سکتے ہیں۔

    دوسری جانب ایرانی حکام نے امریکہ کے سامنے ایک تجویز رکھی ہے جس کے تحت تہران سات مخصوص شرائط پوری کیے جانے کی صورت میں سات دن کے اندر آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادہ ہو سکتا ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال ایران کے لیے غیر متوقع نہیں اور تہران خطے کے حالات سے بخوبی آگاہ ہے۔

  12. برطانوی فضائی اڈے کے قریب مشتبہ گاڑیوں کی اطلاع، پانچ افراد گرفتار، انسدادِ دہشت گردی پولیس بھی تحقیقات میں شامل

    UK

    برطانیہ میں آر اے ایف فیئر فورڈ کے قریب پیش آنے والے ایک بڑے سکیورٹی واقعے کے بعد پانچ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    گلاسٹرشائر پولیس کے مطابق انھیں رات تقریباً 12:45 بجے اطلاع موصول ہوئی کہ تین مشتبہ گاڑیاں آر اے ایف فیئر فورڈ کی جانب جا رہی ہیں۔ اس اطلاع پر سکیورٹی اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے پانچ افراد کو گرفتار کر لیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد پر دہشت گردی کی کارروائی کی تیاری اور ایکسپلوسوز ایکٹ کے تحت جرائم کے شبے میں مقدمات درج کیے گئے ہیں، جبکہ تمام ملزمان بدستور حراست میں ہیں۔

    واقعے کے بعد مشتبہ گاڑیوں کے گرد 400 میٹر کا حفاظتی حصار قائم کر دیا گیا ہے، جہاں بم ڈسپوزل اور دیگر ماہر ٹیمیں گاڑیوں کا جائزہ لے رہی ہیں۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر قریبی علاقے کے 85 گھروں کو خالی کرا لیا گیا ہے اور مکینوں کو ایک مقامی تفریحی مرکز منتقل کیا گیا ہے۔

    ہیلی کاپٹر سے حاصل ہونے والی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ برطانوی فوج کا ایک روبوٹک بم ڈسپوزل یونٹ گاؤں میں کھڑی تین سفید وینوں کے قریب کارروائی کر رہا ہے۔

    متعدد مقامی رہائشیوں نے بی بی سی کو بتایا کہ رات کے وقت پولیس اہلکاروں نے ان کے گھروں کے دروازے کھٹکھٹا کر انھیں فوری طور پر انخلا کی ہدایت دی۔

    اسسٹنٹ چیف کانسٹیبل رچرڈ اوکون نے پریس کانفرنس میں کہا کہ واقعے کی مکمل نوعیت جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں اور گلاسٹرشائر پولیس اس معاملے میں انسدادِ دہشت گردی پولیس کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

    تاحال حکام نے مشتبہ گاڑیوں میں موجود مواد یا خطرے کی نوعیت کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کی ہیں، تاہم تحقیقات اور تکنیکی جانچ کا عمل جاری ہے۔

    ُآر اے ایف

    انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 2000 کے تحت گرفتار ہونے والے کسی بھی شخص کو فردِ جرم عائد کیے بغیر 14 دن تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔

    یہ معمول کے مقدمات سے مختلف ہے، جہاں پولیس عام طور پر کسی شخص کو گرفتاری کے بعد زیادہ سے زیادہ 24 گھنٹے تک بغیر فردِ جرم کے حراست میں رکھ سکتی ہے، یا پھر یہ کہ حراست میں توسیع کے لیے الگ درخواست دی جائے۔

    انسدادِ دہشت گردی پولیس کے مطابق پانچوں افراد کو آج اسی قانون کے تحت گرفتار کیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اگر ان کے خلاف فردِ جرم عائد کی جاتی ہے تو یہ 11 اکتوبر تک کسی بھی وقت عائد کی جا سکتی ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ یہ افراد اس وقت حراست میں ہیں اور انھیں دہشت گردی کی کارروائی کی تیاری کے شبہے میں گرفتار کیا گیا ہے۔

    اس قانون کے تحت پولیس کو یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ اگر کسی شخص پر دہشت گرد ہونے کا معقول شبہ ہو تو اسے وارنٹ کے بغیر گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح قانون پولیس کو مشتبہ افراد کو روک کر تلاشی لینے کے اختیارات بھی فراہم کرتا ہے۔

  13. پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ خیبر پختونخوا ایک بار پھر تشدد کی لپیٹ میں آ سکتا ہے: سہیل آفریدی

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس اہلکاروں، سکیورٹی فورسز کے جوانوں اور عام شہریوں کی جانیں جا رہی ہیں، پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ خیبر پختونخوا ایک بار پھر تشدد کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

    ڈیرہ اسماعیل خان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’گزشتہ روز درازندہ میں پیش آنے والے واقعے میں بھی متعدد پولیس اہلکار اور شہری ہلاک ہوئے ان کی جماعت نے پہلے ہی دہشت گردی کی واپسی کے خدشات کا اظہار کیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ خیبر پختونخوا ایک بار پھر تشدد کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔‘

    وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہلاک ہونے والا ہر سکیورٹی اہلکار، پولیس اہلکار اور شہری ہمارا اپنا ہے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی صوبے، برادری یا ادارے سے ہو۔‘

    سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی حکومت نے امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کر کے 35 ارب روپے مختص کیے، جبکہ مالی سال 2026-27 کے لیے پولیس کے بجٹ کو بڑھا کر 191.4 ارب روپے کر دیا گیا ہے، جو ان کے بقول گزشتہ سال کے مقابلے میں 103 فیصد زیادہ ہے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ وفاقی اداروں کو ادائیگی کے باوجود خیبر پختونخوا کو مطلوبہ سازوسامان فراہم نہیں کیا جا رہا اور اس عمل کو تیز کیا جانا چاہیے۔

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ گزشتہ برسوں میں بڑے اور انٹیلیجنس بنیادوں پر ہزاروں آپریشنز کے باوجود دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت اور مقامی آبادی کو اعتماد میں لیے بغیر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی۔

    انھوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہے اور اگر اس کی پالیسی پر عمل کیا جائے تو قابلِ ذکر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ نفرت انگیز زبان ملک میں تقسیم کو بڑھا رہی ہے۔

  14. تعز میں بازار پر فضائی حملے میں سات افراد کی ہلاکت کی اطلاعات

    یمن کی صورتحال
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    حوثیوں سے وابستہ ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ یمن کے جنوب مغربی شہر تعز میں ایک بازار پر ہونے والے فضائی حملے میں کم از کم سات افراد ہلاک اور 40 زخمی ہو گئے ہیں۔

    المسیرہ ٹی وی کے مطابق یہ حملہ سعودی اتحاد کے ایک لڑاکا طیارے نے کیا تاہم اس دعوے پر سعودی عرب یا سعودی قیادت میں قائم اتحاد کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

    حملے کا یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تعز اور اس کے اطراف میں حوثیوں اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حامی فورسز کے درمیان نسبتاً پرسکون دور کے بعد دوبارہ لڑائی میں شدت دیکھی جا رہی ہے۔

    دوسری جانب یمنی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کی فورسز نے اسی علاقے میں حوثیوں کے ایک فوجی کیمپ اور عسکری گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔ حکومتی فوج سے وابستہ ذرائع کے مطابق حوثیوں نے حال ہی میں بازار کے قریب ایک عسکری مرکز قائم کیا تھا۔

    حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے کہا ہے کہ ہفتے کے روز سعودی فضائیہ نے تعز، مأرب، صعدہ، عمران، اب اور حجہ کے صوبوں میں 27 فضائی حملے کیے۔

    دوسری جانب سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اس نے ہفتے کے روز حوثیوں کی جانب سے ریاض کی طرف بھیجے گئے دو ڈرونز کو تباہ کر دیا۔

    یاد رہے کہ تعز شہر یمنی حکومت کے کنٹرول میں ہے اور حالیہ ہفتوں میں یہ علاقہ ایک بار پھر اہم محاذ بن کر ابھرا ہے۔

    یمن میں تنازع 2014 میں شروع ہوا تھا جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس کے بعد 2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں ایک فوجی اتحاد نے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت میں مداخلت کی تھی۔

    تعز شہر کا کنٹرول حکومتی فورسز کے پاس ہے اور حالیہ ہفتوں میں یہ شہر حوثیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان ایک اہم محاذ کے طور پر سامنے آیا ہے۔

  15. پاکستان کا نورستان سے متعلق افغان وزارت دفاع کے دعووں پر رد عمل،’الزامات بے بنیاد، من گھڑت اور شواہد کے بغیر ہیں‘

    Pakistan Afghanistan Border
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    افغانستان کی وزارتِ دفاع نے الزام عائد کیا ہے کہ صوبہ نورستان کے ضلع کامدیش کے قریب ایک کارروائی کے دوران 28 افراد ہلاک اور 32 گرفتار کیے گئے، جن کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ انھیں پاکستان نے تربیت دے کر تخریب کاری کے لیے افغانستان بھیجا تھا۔

    تاہم پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کے صوبہ نورستان میں مبینہ تشدد یا سکیورٹی کارروائیوں سے پاکستان کو جوڑنے کے دعوے بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہیں۔

    پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات کے فیکٹ چیک ونگ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان کے خلاف لگائے گئے ان الزامات کے شواہد پیش نہیں کیے گئے، یہ الزامات ’بے بنیاد، من گھڑت اور حقائق کے منافی‘ ہیں۔‘

    بیان میں پاکستان نے افغان طالبان حکومت کے ان دعوؤں کو بھی مسترد کیا ہے جن میں پاکستانی سکیورٹی فورسز یا انٹیلیجنس اداروں پر نورستان یا افغانستان کے دیگر علاقوں میں اندرونی جھڑپوں میں ملوث ہونے، سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں کو بھرتی یا تربیت دینے، یا داعش اور دیگر شدت پسند گروہوں کی مدد کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

    یاد رہے کہ افغانستان کے وزارت دفاع کا دعویٰ ہے کہ ’داعش سے وابستہ یہ افراد دیگر مسلح عناصر کے ساتھ پاکستان کی حمایت سے ڈیورنڈ لائن عبور کر کے افغانستان میں داخل ہوئے تھے۔ ان افراد کا مقصد افغانستان میں تخریبی کارروائیاں کرنا اور بدامنی پھیلانا تھا۔‘

    وزارتِ اطلاعات کے فیکٹ چیک ونگ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں مختلف شدت پسند گروہوں کی موجودگی اور سرگرمیوں کا ذکر اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی متعدد رپورٹوں میں کیا جا چکا ہے، اور پاکستان سے تعلق جوڑنے کی کوششیں اس حقیقت کو نہیں بدل سکتیں کہ یہ گروہ افغان سرزمین پر سرگرم ہیں۔

    فیکٹ چیک ونگ کے مطابق دعوؤں کے ثبوت کے طور پر پیش کی جانے والی جو ویڈیوزسوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں ان میں صرف چند غیر مسلح افراد نظر آتے ہیں جو بظاہر کسی عسکری کارروائی کے لیے درکار سازوسامان سے لیس نہیں تھے۔

    بیان میں افغان طالبان حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ وہ پاکستان پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام لگا کر اپنی داخلی سکیورٹی مشکلات کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ وزارتِ اطلاعات نے کہا کہ افغان طالبان کو چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین پر سرگرم شدت پسند تنظیموں کے خلاف قابلِ تصدیق اقدامات کریں اور اس عہد پر عمل کریں کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔

    افغانستان کے وزارت دفاع کے بیان میں مزید کیا الزامات ہیں

    افغان وزارتِ دفاع نے اپنے بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ کارروائی میں شامل زیادہ تر افراد سابق افغان سکیورٹی اہلکار تھے جنھیں مبینہ طور پر پاکستان میں تربیت دے کر دوبارہ افغانستان بھیجا گیا تھا۔

    افغان حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز نے کارروائی کے دوران متعدد افراد کو ہلاک کیا جبکہ درجنوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔ بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ بعض افراد کارروائی کے بعد واپس سرحد پار چلے گئے۔

    بیان میں کہا گیا کہ افغان سکیورٹی فورسز ملک میں بدامنی پھیلانے کی کوششوں کا مقابلہ جاری رکھیں گی۔ وزارتِ دفاع نے خطے کے دیگر ممالک سے بھی ان سرگرمیوں پر نظر رکھنے کی اپیل کی جنھیں افغانستان علاقائی عدم استحکام کا باعث قرار دیتا ہے۔

  16. برطانیہ میں واقع امریکی فضائی اڈے کے قریب سکیورٹی الرٹ، متعدد افراد گرفتار, لی بووبیئر،بی بی سی

    برطانیہ میں ایک امریکی فضائی اڈہ

    برطانیہ میں ایک امریکی فضائی اڈے کے قریب واقع گاؤں میں ایک بڑے سکیورٹی واقعے کے بعد ہنگامی صورتحال نافذ کر دی گئی ہے اور کئی گھروں کو خالی کرا لیا گیا ہے۔

    گلوچسٹرشائر پولیس کے مطابق کئی افراد کو دھماکہ خیز مواد سے متعلق جرائم کے شبے میں گرفتار کیا گیا ہے جبکہ بم ناکارہ بنانے والی فوجیوں کی ٹیم کچھ گاڑیوں کا جائزہ لے رہی ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ آر اے ایف فیئر فورڈ کے قریب واقع گاؤں ویلفورڈ کے رہائشیوں کو عارضی طور پر ایک مقامی مرکز منتقل کر دیا گیا ہے۔ علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے اور حکام کے مطابق صورتحال قابو میں ہے۔

    آر اے ایف فیئر فورڈ وہ اڈہ ہے جہاں امریکی فضائیہ بھی کام کرتی ہے۔ حالیہ مہینوں میں یہ اڈہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران امریکی بمبار طیاروں کی تعیناتی کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔

    پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ ویلفورڈ میں متعدد گھروں کو خالی کرایا جا رہا ہے۔ بیان کے مطابق یہ اقدام دھماکہ خیز مواد سے متعلق جرائم کے شبے میں کئی افراد کی گرفتاری کے بعد کیا گیا۔

    پولیس کے مطابق گرفتاریاں اتوار کی صبح کی گئیں۔

    امریکی فضائیہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ آر اے ایف فیئر فورڈ میں تعینات اہلکار صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر حفاظتی اقدامات کی تفصیلات نہیں بتائی جا سکتیں، تاہم امریکی اہلکاروں، شہری عملے، ٹھیکیداروں اور ان کے خاندانوں کی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

  17. انڈیا کا ’پڑوسی ملک‘ پر دہشتگردی کو ہوا دینے کا الزام، ’اپنے تحفظ پر سمجھوتا نہیں کریں گے‘

    انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے پاکستان کا نام لیے بغیر اپنے پڑوسی ملک پر ’دہشتگردی کو ہوا‘ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی دہلی ’اپنے تحفظ پر کسی بھی قسم کا کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا۔‘

    اتوار کو این ڈی ٹی وی کے ڈیفنس کنکلیو سے خطاب کرتے ہوئے راج ناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ ’انڈیا بات چیت پر یقین رکھتا ہے، لیکن اگر کوئی ملک انڈیا کے خلاف دہشتگردی کو ہوا دے گا تو بات چیت کی گنجائش وہیں ختم ہو جاتی ہے۔

    پاکستان نے انڈین وزیر دفاع کے بیان پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    تاہم اسلام آباد ماضی میں متعدد مرتبہ نہ صرف الزامات کی تردید کر چکا ہے بلکہ نئی دہلی کو مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی تجویز بھی دیتا رہا ہے۔

    راج ناتھ سنگھ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’انڈیا امن پر یقین رکھتا ہے، انڈیا کبھی بھی جنگ نہیں چاہتا ہے۔ انڈیا دنیا کے کسی بھی ملک کی زمین پر قبضہ بھی نہیں کرنا چاہتا۔ انڈیا کسی کو دھمکانا بھی نہیں چاہتا۔ لیکن امن پسندی اور کمزوری میں فرق ہوتا ہے، یہ ساری دنیا کو سمجھنا چاہیے۔‘

    ان کے مطابق ’وزیر اعظم نے یہ واضح کر دیا ہے کہ دہشتگردی کسی بھی ملک کے لیے کسی بھی صورت میں سٹریٹجک اثاثہ نہیں ہو سکتی۔‘

    انھوں نے دھمکی دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ’جب تک ہمارا پڑوسی ملک دہشتگردی کی ریاستی پالیسی پر قائم رہے گا، ہم دہشتگردی کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کے لیے تیار ہیں، یہ ہم پڑوسی کو بھی بتانا چاہتا ہے اور دنیا کو بھی بتانا چاہتے ہیں۔‘

  18. اٹک پل سے رکاوٹیں ہٹنے کے بعد پشاور سے اسلام آباد جی ٹی روڈ پر ٹریفک بحال

    traffic continew

    پاکستان تحریک انصاف کے احتجاجی مارچ کے چار اکتوبر تک موخر ہونے کے بعد اتوار کے روز اٹک پل ہر قسم کی ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا جس کے بعد پشاور سے اسلام آباد جی ٹی روڈ پر دو طرفہ ٹریفک بحال کر دی گئی ہے۔

    یاد رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور خیبرپختونخواہ کے درمیان جی ٹی روڈ این فائیو اٹک خورد کے مقام پر دونوں اطراف سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بدھ کے روز سے بند تھی۔

    پاکستان تحریک انصاف کا ممکنہ احتجاج کو روکنے کے لیے اٹک کے پل اور اس کے اطراف نہ صرف ریت کی بوریوں اور کنٹینرز کی مدد سے اس راستے پر رکاوٹیں لگفائی گئی تھیں بلکہ بڑی کیلوں نصب کر کے اس راستے کر ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند کیا گیا تھا۔

    دوسری جانب موٹروے ایم ون ہارون پل اور چھچھ انٹرچینج تاحال بند ہے تاہم توقع ہے کہ اتوار کے روز ہی یہ راستہ بھی کھول دیا جائے گا۔

  19. جنوبی لبنان کے متعدد علاقوں پر اسرائیلی فضائی حملے، ایک گھر مکمل طور پر تباہ

    NNA

    اسرائیلی جنگی طیاروں نے ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں پر متعدد فضائی حملے کیے۔

    لبنان کے سرکاری خبر رساں ادارے این این اے کے مطابق ’اسرائیلی جنگی طیاروں نے دو حملوں میں نباطیہ الفوقا کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ کفرتبنیت کے مضافات اور میفدون قصبے پر بھی حملے کیے گئے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ میفدون میں ایک گھر مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔

    تاہم اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے لبنان پر حالیہ حملوں کے دوران حماس کے اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    دوحت کفر رمان پر شدید توپخانے سے گولہ باری کی گئی، جبکہ وادی زبقین، مزارع الشموریہ کے مضافات اور القصیر قصبے کو بھی توپخانے سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    اسرائیلی فورسز نے بیت یاحون اور صفرین قصبوں کے علاوہ وادی زبقین کی جانب بھی بھاری مشین گنوں سے فائرنگ کی ہے۔

  20. مشرق وسطیٰ کے ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کا احترام کیا جائے: چینی نائب صدر

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنچین کے نائب صدر ہان ژینگ

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے چین کے نائب صدر ہان ژینگ نے مشرق وسطیٰ کے ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کے احترام پر زور دیا۔

    انھوں نے کہا کہ ’چین کا مؤقف یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک، بشمول خلیجی ممالک، کی خودمختاری اور سلامتی کا احترام کیا جانا چاہیے۔ عالمی صنعتی عمل اور سپلائی چین مستحکم اور بلا تعطل رہنی چاہییں اور عالمی تجارت کا تحفظ کیا جانا چاہیے۔‘

    ہان ژینگ نے فلسطینی خودمختاری کو تسلیم کرنے اور غزہ کی تعمیر نو پر بھی زور دیا۔

    انھوں نے کہا کہ ’چین تنازعات کے بعد مغربی کنارے کے انتظام اور غزہ کی تعمیر نو کے عمل کو ’فلسطینیوں کے ذریعے فلسطین کا انتظام‘ کے اصول کی بنیاد پر آگے بڑھانا چاہتا ہے۔‘