ترکی کی جانب سے ایس-400 میزائل دفاعی نظام تیسرے ملک کو فروخت کرنے کا معاملہ: ہم ترک حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں، کریملن

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
روس کا کہنا ہے کہ وہ ترکی کی جانب سے روسی ساختہ ایس-400 میزائل دفاعی نظام کسی تیسرے ملک کو فروخت کرنے کے معاملے پر ترک حکومت کے ساتھ رابطے میں ہے۔
ماسکو کی جانب سے یہ اعلان ان رپورٹس کے بعد سامنے آیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انقرہ امریکی ایف-35 لڑاکا طیاروں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے یہ میزائل نظام کسی دوسرے ملک کو منتقل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
روسی خبر رساں ادارے تاس کے مطابق کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ’یہ ایک حساس معاملہ ہے، اس معاملے پر ہم ترک حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں اور اس پر رابطہ جاری رکھیں گے۔‘
ترک اخبار حریت نے جمعے کے روز اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ترکی ممکنہ طور پر آج ہی ایس-400 میزائل نظام خلیجی ممالک میں سے کسی ایک کو دوبارہ فروخت کرنے کا اعلان کر سکتا ہے۔ اخبار کے مطابق اس کا مقصد امریکہ کو انقرہ کے خلاف عائد پابندیاں ختم کرنے پر آمادہ کرنا ہے۔
ترکی نے 2017 میں روس کے ساتھ 2.5 ارب ڈالر کے معاہدے کے تحت ایس-400 فضائی دفاعی نظام کی چار ڈویژنیں خریدی تھیں۔ اس کے بعد امریکہ نے ترکی کو ایف-35 طیارے کے پروگرام سے نکال دیا تھا۔
بی بی سی فارسی کے مطابق حال ہی میں انقرہ کے اپنے دورے کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ روسی میزائل دفاعی نظام خریدنے پر ترکی کے خلاف عائد امریکی پابندیاں ختم کر دیں گے۔ انھوں نے ترکی کو ایف-35 لڑاکا طیارے فروخت کرنے کے لیے اپنی آمادگی کا اشارہ بھی دیا۔
تاہم ترکی پر عائد پابندیاں ختم کرنے کے لیے امریکی کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔



















