لائیو, پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے وفود کا دورہ تہران آج: ملاقات کی تجویز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے حالیہ دورے میں پیش کی تھی، ایران
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ آج (26 اکتوبر) ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ تہران میں ہونے والے مشترکہ اجلاس کی تجویز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے حالیہ دورہ تہران کے دوران پیش کی تھی۔ سعودی حکام کے مطابق مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ممالک کے نمائندے آج ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی سے بھی ملاقات کریں گے۔
خلاصہ
فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان اور ترک انٹیلیجنس سربراہ ابراہیم کالن آج ایرانی رہنماؤں سے ملاقات کے لیے تہران کا دورہ کریں گے
ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ ایرانی رہنماؤں کے اجلاس کی تجویز فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے حالیہ دورہ تہران میں پیش کی گئی: ایرانی وزارت خارجہ
خالد بن سلمان تہران میں سعودی وفد کی سربراہی کریں گے، مسعود پزشکیان اور محسن رضائی سے بھی ملاقات ہو گی: سعودی حکام
سعودی قیادت میں یمنی حوثیوں کے خلاف سرگرم عسکری اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے ریاض کی جانب داغا گیا بلیسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیا ہے
نیتن یاہو کو ووٹ دیں تاکہ ہم نے جو کام شروع کیا ہے اسے مکمل کیا جا سکے: ٹرمپ کی اسرائیلی ووٹرز سے اپیل
برازیل کے صدر لولا دا سلوا سخت مقابلے کے بعد چوتھی بار ملک کے صدر منتخب ہو گئے ہیں
ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے کا 90 فیصد کام مکمل کر چکے ہیں: نیتن یاہو کا دعویٰ
لائیو کوریج
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، پاکستان میں شرحِ سود 12 فیصد تک بڑھا دی گئی, تنویر ملک، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
سٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹس (0.5 فیصد) اضافے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد ملک میں شرح سود 12 فیصد ہو گئی ہے۔
مرکزی بینک کے مطابق شرح سود میں اضافے کا فیصلہ آج ہونے والے مانیٹری پالیسی اجلاس میں کیا گیا۔
سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ ’مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع اور مستقبل قریب میں اس کے حل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کے باعث توانائی کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار ہیں، جس سے پاکستان میں مہنگائی کے منظرنامے کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔‘
مرکزی بینک کے مطابق مہنگائی کو پانچ سے سات فیصد کے مقررہ ہدف کے اندر رکھنے کے لیے مانیٹری پالیسی سخت کرنے اور شرح سود میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حوثیوں کے حملوں کے بعد ریاض ایئرپورٹ کی 86 فیصد پروازیں منسوخ ہوئیں: روئٹرز
،تصویر کا ذریعہReuters
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یمنی حوثیوں کے حملوں کے باعث رواں ماہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کی فضائی حدود میں پروازوں کی آمدورفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور تقریباً ہر 10 میں سے 9 طے شدہ پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔
فضائی آمدورفت کے اعداد و شمار کا تجزیہ کرنے والے ادارے سیریم کے مطابق آٹھ سے 25 اکتوبر کے دوران ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے طے شدہ 4736 پروازوں میں سے 4071 منسوخ ہوئیں، جو مجموعی تعداد کا تقریباً 86 فیصد ہے۔
حوثیوں نے رواں ماہ سعودی عرب پر حملوں میں اضافہ کیا ہے اور بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
روئٹرز کے مطابق ریاض کے ہوائی اڈے پر بارہا حملے ہوئے، جن میں 10 اکتوبر کا حملہ بھی شامل ہے جس میں 13 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں سعودی عرب میں ہونے والا سب سے مہلک حملہ تھا۔
سعودی ہوائی اڈوں پر حملے، فضائی کمپنیوں کو دھمکیاں
سعودی حکام نے 10 اکتوبر سے معطل ریاض ایئرپورٹ کی سرگرمیاں اتوار کو جزوی طور پر بحال کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ٹرمینل ون سے اندرونِ ملک پروازیں دوبارہ شروع ہوئیں، جبکہ سعودی فضائی کمپنیوں کو ٹرمینل ٹو سے بین الاقوامی پروازیں چلانے کی اجازت دی گئی۔
تاہم حوثیوں نے پیر کو دعویٰ کیا کہ انھوں نے ریاض کے ہوائی اڈے کو دوبارہ نشانہ بنایا ہے اور اسے ’فوجی ہدف‘ قرار دیا۔
ان حملوں کے باعث متعدد بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے سعودی دارالحکومت کے لیے پروازیں نومبر تک معطل کر دی ہیں، جبکہ امریکی فضائی کمپنی ڈیلٹا ایئر لائنز نے بھی ریاض کے لیے اپنی پروازوں کا آغاز اگلے سال تک مؤخر کر دیا ہے۔
روئٹرز کے مطابق پروازوں میں خلل کے باعث ریاض میں ہونے والی متعدد تقریبات بھی منسوخ یا ملتوی کرنا پڑی ہیں۔ ان میں سعودی عرب کی سرمایہ کاری سے متعلق اہم کانفرنس بھی شامل ہے، جسے 2027 تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
سعودی عرب کے دیگر ہوائی اڈے بھی متاثر
روئٹرز کے مطابق پروازوں کی منسوخی کا اثر صرف ریاض تک محدود نہیں رہا۔ سیریم کے اعداد و شمار کے مطابق آٹھ سے 25 اکتوبر کے دوران سعودی عرب کے ہوائی اڈوں سے روانہ ہونے والی 7,800 سے زیادہ پروازیں منسوخ ہوئیں، جو تمام طے شدہ پروازوں کا تقریباً 45 فیصد ہیں۔
ملک بھر میں پروازوں کی منسوخی کی شرح 12 اکتوبر کو سب سے زیادہ رہی، جب 60 فیصد سے زیادہ طے شدہ پروازیں منسوخ ہوئیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ریاض کے ہوائی اڈے پر پروازوں کی منسوخی کی شرح 86 فیصد رہی، جبکہ دمام میں یہ شرح 42 فیصد اور ابہا میں 46.7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ حوثیوں نے ان دونوں شہروں کے ہوائی اڈوں پر بھی حملوں کے دعوے کیے ہیں۔
سعودی عرب کے بعض چھوٹے علاقائی ہوائی اڈوں پر صورتِ حال مزید سنگین رہی۔ یمن کی سرحد کے قریب واقع نجران کے ہوائی اڈے سے تمام پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔
پاکستان نے افغان طالبان کے شہریوں کی ہلاکت سے متعلق الزامات مسترد کر دیے: ’دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
پاکستان کے دفترِ خارجہ نے افغان طالبان حکومت کی
جانب سے انسدادِ شدت پسندی کی کارروائیوں کے دوران افغان شہریوں کی ہلاکتوں سے
متعلق الزامات کو ’بے بنیاد‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستان کو دہشت گردوں کے
حملوں کے جواب میں اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔‘
یاد رہے کہ افغان طالبان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان
عبدالقہار بلخی نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ سنہ 2022 کے
بعد سے پاکستان کی جانب سے افغانستان پر کیے گئے حملوں کے نتیجے میں اب تک 1119
افغان شہری ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔
بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق بلخی نے امریکی ٹی وی
چینل ’سی این این‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں الزام عائد کیا تھا کہ ’ان حملوں
میں ہلاک یا زخمی ہونے والوں میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جبکہ ان میں کابل
میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے ایک مرکز پر حملے کے متاثرین بھی شامل ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ پاکستان کو ’بے بنیاد الزامات
لگانے کے بجائے افغانستان کے ساتھ حقیقی سفارتکاری کے ذریعے اپنے سکیورٹی مسائل حل
کرنے چاہییں۔‘
تاہم پاکستانی دفترِ خارجہ نے پیر (26 اکتوبر) کو
جاری بیان میں ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’گمراہ کن معلومات اور بیانیے
افغان سرزمین سے کام کرنے والے دہشت گرد نیٹ ورکس کے خطرے کو چھپا نہیں سکتے اور
نہ ہی افغان طالبان حکومت کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی
اور ان کے آغاز کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کی ذمہ داری سے بری کر سکتے ہیں۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنکابل میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے ایک مرکز پر پاکستانی فوج کے حملے کے بعد کے مناظر
پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق صرف رواں سال
پاکستان میں ایسے حملوں کے نتیجے میں 3500 سے زائد افراد ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔
دفترِ خارجہ نے کہا کہ ’اقوامِ متحدہ کے متعلقہ
اداروں، بشمول مانیٹرنگ ٹیم، کی رپورٹس میں بھی اس تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے
کہ افغان طالبان حکومت متعدد دہشت گرد تنظیموں (بشمول کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل
اے) کو پناہ دے رہی ہے۔‘
بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ پاکستان کے
ہزاروں شہری شدت پسندوں کے اُن حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں جن کی منصوبہ بندی، مالی
معاونت اور کارروائیاں افغان سرزمین سے کی گئیں۔ دفترِ خارجہ نے دعویٰ کیا کہ ان
حملوں میں افغان طالبان حکومت کی سرپرستی اور معاونت بھی شامل رہی ہے۔
پاکستانی دفترِ خارجہ نے کہا کہ کوئی بھی ذمہ دار
ریاست اپنے شہریوں اور سکیورٹی فورسز کو مسلسل نشانہ بنائے جانے پر خاموش نہیں رہ
سکتی۔
بیان کے مطابق شدت پسندوں کے حملوں کے جواب میں
پاکستان کی کارروائیاں اپنے دفاع کے حق کے تحت، ناگزیر حالات میں اور آخری حل کے
طور پر کی گئیں، جن کا ہدف صرف افغانستان میں موجود شدت پسند اور ان کے رسدی مراکز
تھے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اقوامِ
متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور دیگر وعدوں پر عمل درآمد میں
ناکامی پر افغان طالبان حکومت کو جواب دہ ٹھہرائے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری،
علاقائی سالمیت اور شہریوں کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ
رکھتا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان کی جانب سے طویل عرصے سے افغان
طالبان پر الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ تحریکِ طالبان پاکستان کو افغان
سرزمین سے پاکستان میں حملے کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ تاہم افغان طالبان حکام ان
الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔
پاکستان کی مکہ اور مدینہ کے قریب حوثیوں کے میزائل حملے کی مذمت
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان نے مکہ اور مدینہ کے قریب حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی سلامتی اور دفاع کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
پاکستانی دفترِ خارجہ نے پیر کو جاری ایک بیان میں کہا کہ 24 اکتوبر کو کیے جانے والے ان حملوں میں مقدس مقامات کے قریبی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔
بیان کے مطابق یہ حملے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی ہیں اور اسلام کے مقدس ترین مقامات کے تقدس اور شہریوں کی سلامتی کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہیں۔
دفترِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور مکہ اتحاد کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’پاکستان سعودی عرب کی سلامتی، استحکام اور دفاع کی حمایت جاری رکھے گا۔ اس میں حرمین شریفین، یعنی مکہ اور مدینہ کی مقدس مساجد، کو کسی بھی بیرونی جارحیت یا خطرے سے محفوظ رکھنے کی حمایت بھی شامل ہے۔‘
پاکستان نے میزائل حملوں کو ناکام بنانے کے لیے سعودی فضائی دفاعی افواج کی مستعدی اور مؤثر کارروائیوں کو بھی سراہا۔
ایران پر حملے کے معاملے پر اسرائیلی سیاسی و فوجی قیادت میں اختلافات کی تردید: انتخابات سے قبل حملے کا ارادہ نہیں تھا، اسرائیلی وزیر دفاع
،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
،تصویر کا کیپشنمارچ سنہ 2026 میں ایک اجلاس کے دوران لی گئی اس تصویر میں اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال ضمیر (دائیں جانب)، وزیر دفاع اسرائیل کاٹز (درمیان میں) اور اسرائیلی فوج کے ملٹری انٹیلیجنس ڈائریکٹر شلومی بائنڈر (بائیں جانب) بیٹھے دیکھائی دے رہے ہیں۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے پیر کو ایران کے ساتھ جنگ میں نئی فوجی کارروائی کے معاملے پر ملک کی فوجی اور سیاسی قیادت کے درمیان اختلافات کی اطلاعات کو ’بے بنیاد‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اسرائیل کا انتخابات سے قبل ایران پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔‘
اسرائیلی ٹی وی چینل 12 نے اتوار کو نامعلوم ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو اور اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال ضمیر کے درمیان ایک نئے حکم پر اختلاف ہوا تھا۔ تاہم اس حکم کی تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں۔
نیتن یاہو اس سے قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں اس رپورٹ کو غلط قرار دے چکے ہیں۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ ’اس رپورٹ کی اشاعت کا مقصد انتخابات سے عین قبل بنیامن نیتن یاہو کی اتحادی حکومت کی فیصلہ سازی اور فیصلوں پر شکوک پیدا کرنا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ انتخابات میں مقابلہ انتہائی سخت ہے۔
چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق ایال ضمیر نے متعلقہ حکم پر عمل درآمد سے پہلے اس معاملے پر تفصیلی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا تھا اور سیاسی حکام سے قانونی ضمانتیں اور دستخط بھی حاصل کیے تھے۔
چینل نے اس حکم کی تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ فوج کے اندر یہ خدشات موجود تھے کہ جنگ کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ایران امریکہ مذاکرات میں ثالثی کی کوششیں: بقائی کی قطری وفد کی تہران میں موجودگی کی تصدیق
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ایران میں قطری وفد کی آمد سے متعلق اطلاعات کے بارے میں ہونے والے سوال کے جواب میں اس بات کی تصدیق کی کہ قطری وفد تہران میں موجود ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ دورہ دوطرفہ نوعیت کا بھی ہے اور ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں قطر کے بطور ثالث کے کردار سے بھی متعلق ہے۔‘
خبر رساں ادارے روئٹرز نے گذشتہ روز رپورٹ کیا تھا کہ قطر کی ثالثی کی کوششیں امریکہ کے ساتھ رابطہ کاری کے تحت کی جا رہی ہیں۔
قطری اخبار ’نیو عرب‘ نے بھی گذشتہ روز اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں لکھا تھا کہ قطری وفد کشیدگی میں اضافے کو روکنے کے لیے تہران میں موجود ہے۔
اس خبر کی باضابطہ تصدیق سے قبل بعض غیر مصدقہ اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ قطر کا ایک طیارہ تہران میں اترا ہے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے وفود کا ایرانی رہنماؤں کے ساتھ مشترکہ اجلاس: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا
کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر آج تہران کا
سرکاری دورہ کر رہے ہیں۔
اس سے قبل ایران کی وزارت خارجہ نے تصدیق کی تھی کہ مکہ دفاعی
معاہدے کے رُکن ممالک بشمول ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے وفود آج (26 اکتوبر)
کو تہران کا دورہ کریں گے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ تہران
میں اس مشترکہ اجلاس کی تجویز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے حالیہ دورۂ ایران کے
دوران پیش کی تھی۔
اسماعیل بقائی نے پیر کو اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بتایا
کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا اجلاس ہو گا، جس میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور سپریم
نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی بھی شریک ہوں گے۔
انھوں نے کہا کہ اجلاس میں مختلف علاقائی اور سکیورٹی امور پر
تبادلہ خیال کیا جائے گا، جن میں ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی
بھی شامل ہے۔ بقائی کے مطابق خطے کی صورتحال، علاقائی سلامتی اور باہمی تعاون کے
مختلف پہلو اس اجلاس کے اہم موضوعات ہوں گے۔
دوسری جانب سعودی عرب کے نائب وزیر برائے پبلک ڈپلومیسی ڈاکٹر
راید کریملی نے کہا ہے کہ وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان آج تہران میں مکہ مشترکہ
دفاعی معاہدے میں شامل ممالک (پاکستان، ترکی اور سعودی عرب) اور ایرانی رہنماؤں کے
درمیان ہونے والے اجلاسوں کے دوران سعودی وفد کی قیادت کریں گے۔
ڈاکٹر راید کے مطابق اِن ملاقاتوں میں پاکستان کے فیلڈ مارشل
عاصم منیر اور ترکی کی قومی انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ ابراہیم کالن بھی شریک ہوں
گے۔
ایکس پر اپنے بیان میں ڈاکٹر راید کا کہنا تھا کہ مکہ مشترکہ
دفاعی معاہدے میں شامل ممالک کے نمائندے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اور
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی سے بھی ملاقات کریں
گے۔
انھوں نے کہا کہ تہران کا یہ دورہ جاری بحران اور گشیدگی میں
شامل فریقوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کو فروغ دینے اور سفارتی حل کی
حمایت کے لیے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے رُکن ممالک کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہے،
اور یہ اقدامات قطر اور پاکستان کی جانب سے جاری ثالثی کی کوششوں کی تائید میں کیے
جا رہے ہیں۔
ایران نے برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی مذاکرات کی پیشکش کا خیرمقدم نہیں کیا
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی جانب سے ایران کے ساتھ مذاکرات کا عندیہ دیے جانے کے حوالے سے کہا ہے کہ ’یورپ خود مسئلے کا ایک حصہ بن چکا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’یورپی ممالک نے گذشتہ دو برس کے دوران کوئی تعمیری کردار ادا نہیں کیا۔‘
بقائی کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کے دوران بھی یورپی ممالک نے ان حملوں کی مذمت نہیں کی، بلکہ ان کے بقول ایسے بیانات جاری کیے جو ’امریکی فوجی جارحیت کی توثیق‘ کے مترادف تھے۔
انھوں نے کہا کہ ’سنیپ بیک میکانزم‘ کو فعال کرنے کی کوشش بھی تین یورپی ممالک کے اسی طرزِ عمل کی ایک اور مثال ہے۔ یہ وہی ممالک ہیں جو کئی سال تک ایران کے جوہری مذاکرات میں مرکزی فریق رہے ہیں۔
یاد رہے کہ جرمنی کے وزیرِ خارجہ یوہان واڈیفول نے 23 اکتوبر کو استنبول میں یورپی اور علاقائی ہم منصبوں کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا تھا کہ جرمنی، فرانس اور برطانیہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے تہران کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔
ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ مشترکہ اجلاس کی تجویز فیلڈ مارشل عاصم منیر کی طرف سے آئی: اسماعیل بقائی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ مشترکہ اجلاس کی تجویز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے حالیہ دورۂ تہران کے دوران پیش کی تھی۔
اس سے قبل ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نائب سیکریٹری علی باقری نے اعلان کیا تھا کہ سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان، پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ترکی کی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ ابراہیم کالن آج تہران میں ایرانی حکام کے ساتھ ایک مشترکہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔
اسماعیل بقائی نے پیر کو اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بتایا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا اجلاس ہوگا، جس میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی بھی شریک ہوں گے۔
انھوں نے کہا کہ اجلاس میں مختلف علاقائی اور سکیورٹی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، جن میں ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی بھی شامل ہے۔
بقائی کے مطابق خطے کی صورتحال، علاقائی سلامتی اور باہمی تعاون کے مختلف پہلو اس اجلاس کے اہم موضوعات ہوں گے۔
’خالد بن سلمان تہران میں سعودی وفد کی سربراہی کریں گے، مسعود پزشکیان اور محسن رضائی سے بھی ملاقات ہو گی‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سعودی عرب کے نائب وزیر برائے پبلک ڈپلومیسی ڈاکٹر
راید کریملی نے کہا ہے کہ وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان آج
تہران میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ممالک (پاکستان، ترکی اور سعودی عرب)
اور ایرانی رہنماؤں کے درمیان ہونے والے اجلاسوں کے دوران سعودی وفد کی قیادت کریں
گے۔
ڈاکٹر راید کے مطابق اِن ملاقاتوں میں پاکستان کے فیلڈ
مارشل عاصم منیر اور ترکی کی قومی انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ ابراہیم کالن
بھی شریک ہوں گے۔ یاد رہے کہ ایرانی حکام بھی تہران میں ہونے والے اِن ملاقاتوں کی
تصدیق کر چکے ہیں۔
ایکس پر اپنے بیان میں ڈاکٹر راید کا کہنا تھا کہ مکہ مشترکہ
دفاعی معاہدے میں شامل ممالک کے نمائندے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اور
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی سے بھی ملاقات
کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ تہران کا یہ دورہ جاری بحران اور گشیدگی میں
شامل فریقوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کو فروغ دینے اور سفارتی حل کی
حمایت کے لیے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے رُکن ممالک کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہے،
اور یہ اقدامات قطر اور پاکستان کی جانب سے جاری ثالثی کی کوششوں کی
تائید میں کیے جا رہے ہیں۔
انھوں نے اس دورے کو خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے ممالک کے اہم کردار کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ
وفود خطے کے تمام ممالک کے ساتھ مل کر علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانے اور پائیدار
استحکام کے حصول کے لیے تعاون پر بھی زور دیں گے۔
ایرانی عہدیدار نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے اعلیٰ حکام کے دورۂ تہران کی تصدیق کر دی
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل
کے نائب سیکریٹری علی باقری نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی
عرب کے وزیر دفاع خالد بن سلمان اور ترکی کی انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ ابراہیم
کالن تہران میں ایرانی حکام کے ساتھ ایک مشترکہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔
علی باقری نے سرکاری خبر رساں ادارے
آئی آر آئی بی سے گفتگو میں کہا کہ عاصم منیر نے اس سے قبل سپریم نیشنل سکیورٹی
کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی سے ملاقات میں ان تینوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے
تہران آنے اور مشترکہ اجلاس کے انعقاد کے فیصلے سے آگاہ کیا تھا۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایران اور یہ
تینوں ممالک حالیہ جنگ کے دوران، ان کے بقول، ’ایران کے قومی سلامتی کے کامیاب
تجربے‘ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ’خطے کی سکیورٹی‘ کے لیے تعاون کر سکتے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے اس سے قبل
دو با خبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ ’مکہ معاہدے‘ کے رکن ممالک پاکستان،
سعودی عرب اور ترکی کے اعلیٰ حکام، پیر 26 اکتوبر کو تہران میں علاقائی رابطہ کاری
سے متعلق امور پر بات چیت کریں گے۔
یہ دورہ ایک ایسے وقت میں طے کیا گیا
ہے جب یمن کے حوثی جنگجوؤں کے سعودی عرب پر حملے جاری ہیں۔ مکہ معاہدے کے رکن ان
تین ممالک کے حکام نے اکتوبر کے اوائل میں ریاض میں ہونے والے ایک ہنگامی اجلاس
میں سعودی عرب میں فوجی دستوں اور عسکری صلاحیتوں کی تعیناتی پر اتفاق کیا تھا۔
حوثیوں کا ریاض کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل تباہ کر دیا: سعودی قیادت میں قائم عسکری اتحاد کا دعویٰ
سعودی عرب کی قیادت میں یمن کے حوثیوں کے خلاف سرگرم عسکری اتحاد نے پیر کی علی الصبح اعلان کیا ہے کہ اس نے حوثیوں کی جانب سے دارالحکومت ریاض کی طرف داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو فضا میں روک کر تباہ کر دیا۔
اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا: ’فضائی دفاعی نظاموں نے ایک بیلسٹک میزائل کو کامیابی سے تباہ کر دیا، جسے حوثی گروہ نے ریاض کی جانب فائر کیا تھا۔‘
بیان میں میزائل کے ملبے یا ممکنہ نقصان کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور حالیہ دنوں میں سعودی تنصیبات اور اہداف پر متعدد حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
اردن میں حکام کا چرچ حملے کے تین ملزمان کی گرفتاری کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اردن کے سرکاری ٹیلی وژن نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے محکمۂ پبلک سکیورٹی نے گذشتہ جمعے کو الکرک میں واقع حمود چرچ پر حملے میں ملوث تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس حملے میں نو افراد ہلاک ہوئے تھے۔
بیان کے مطابق ’دہشت گرد حملے‘ کے فوراً بعد شروع ہونے والی تلاش اور چھاپہ مار کارروائیاں پیر کی علی الصباح تک جاری رہیں، جس کے بعد تینوں مشتبہ افراد کا سراغ الکرک گورنری کے ایک ویران مکان میں لگایا گیا۔
پبلک سکیورٹی کے مطابق خصوصی تحقیقاتی اور چھاپہ مار ٹیموں نے مسلح جھڑپ کے بعد تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ کارروائی کے دوران تینوں مشتبہ افراد زخمی ہوئے، جبکہ سکیورٹی فورسز کا کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔
اردن کے وزیرِ مواصلات اور حکومتی ترجمان محمد المومنی نے کہا: ’ہم اردن کے امن اور شہریوں کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف پوری قوت سے کارروائی کریں گے اور کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’دہشت گردی کی ہمارے معاشرے میں کوئی جگہ نہیں۔ دین، روایات اور اخلاقیات سے منحرف اس گروہ کو سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں اپنے اعمال کا انجام بھگتنا پڑا۔‘
دوسری جانب وزیرِ داخلہ مازن الفرایہ نے اعلان کیا کہ مشترکہ سکیورٹی آپریشن مکمل ہو گیا ہے اور اس کے نتیجے میں تینوں مشتبہ افراد گرفتار کر لیے گئے ہیں۔
انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’ہم نے قاتلوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ ہم ان تمام عوامل کا جائزہ لیں گے جو نوجوانوں کو انتہاپسندی کی طرف لے جاتے ہیں، اور ہر اس شخص کا احتساب کریں گے جس کی شمولیت ثابت ہوئی۔ ہم اس سانحے کو ایسے اقدامات میں تبدیل کریں گے جو شہریوں کی جانوں کے تحفظ کو مزید مضبوط بنائیں۔‘
نیتن یاہو کو ووٹ دیں تاکہ ’ہم نے جو کام شروع کیا ہے اسے مکمل کیا جا سکے‘: ٹرمپ کی اسرائیلی ووٹروں سے اپیل
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے پارلیمانی انتخابات سے قبل ایک بار پھر اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیلی ووٹروں پر زور دیا ہے کہ وہ نیتن یاہو کو ووٹ دیں تاکہ ’ہم نے جو کام مل کر شروع کیا ہے اسے مکمل کیا جا سکے۔‘
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری پیغام میں گذشتہ ہفتے نیتن یاہو کی حمایت میں کیے گئے اپنے بیان کو دوبارہ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اور اسرائیلی وزیرِ اعظم کے درمیان بہت اچھے تعلقات رہے ہیں اور دونوں نے مختلف فوجی کارروائیوں میں مشترکہ کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
انھوں نے امریکہ کے وینزویلا کے خلاف آپریشن کو تاریخ کی کامیاب ترین فوجی کارروائیوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس سے قبل امریکہ اور اسرائیل نے ’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘ کے ذریعے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا تھا۔
ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے بعد ایران کے پاس نہ مؤثر بحریہ رہی ہے اور نہ ہی فضائیہ، جبکہ اس کی فوج اور معیشت بھی مشکلات کا شکار ہیں۔
انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران میں مہنگائی کی شرح 301 فیصد تک پہنچ چکی ہے، بحری محاصرے کے باعث تیل تک رسائی متاثر ہوئی ہے اور ایرانی فوجی و سول قیادت کی دو سطحیں ختم ہو چکی ہیں۔
اپنے پیغام میں ٹرمپ نے نیتن یاہو کو ’جنگی حالات کے لیے موزوں اور غیر معمولی وزیرِ اعظم‘ قرار دیا اور کہا کہ ماضی میں ایران اور اس کے اتحادی ’اسرائیل کو چھوٹا شیطان اور امریکہ کو بڑا شیطان‘ کہتے تھے۔
ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ اب ’امریکہ مردہ باد، اسرائیل مردہ باد‘ جیسے نعرے سنائی نہیں دیتے اور آئندہ بھی نہیں سنائی دیں گے۔
اپنے پیغام کے اختتام پر امریکی صدر نے اسرائیلی ووٹروں سے مخاطب ہو کر کہا: ’نیتن یاہو کو وزیرِ اعظم منتخب کریں۔ ہمیں وہ کام مکمل کرنا ہے جو ہم نے مل کر شروع کیا تھا۔‘
یہ ایک ہفتے کے دوران نیتن یاہو کے حق میں ٹرمپ کا دوسرا عوامی حمایت نامہ ہے، جو اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل سامنے آیا ہے۔
برازیل کے صدر لولا دا سلوا چوتھی بار ملک کے صدر منتخب
،تصویر کا ذریعہGetty Images
برازیل کے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے صدر لولا دا سلوا چوتھی بار صدر منتخب ہو گئے ہیں۔ انھوں نے انتہائی سنسنی خیز مقابلے میں فلاویو بولسونارو کو شکست دی۔
80 سالہ لولا نے ساؤ پالو میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’برازیل کسی کا پچھواڑا (back yard) بننے کو قبول نہیں کرے گا۔‘
یہ انتخابی معرکہ انتہائی سخت اور تلخ رہا۔ مبصرین کے مطابق اس نتیجے نے لاطینی امریکہ میں دائیں بازو کی طرف بڑھتے سیاسی رجحان کے برعکس ایک مختلف سمت دکھائی ہے۔
دائیں بازو کے سینیٹر فلاویو بولسونارو نے انتخابی نتائج کو ’ناقابلِ فہم‘ قرار دیتے ہوئے انھیں کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
ان کے والد اور سابق صدر جائر بولسونارو اس وقت قید میں ہیں، جبکہ فلاویو نے رواں ماہ ہونے والے پہلے مرحلے میں کامیابی حاصل کی تھی۔
ووٹنگ کے دن دونوں انتخابی مہمات کے مطالبے پر بعض پولنگ سٹیشنز میں پولنگ کے وقت میں دو گھنٹے کی توسیع بھی کی گئی تھی۔
ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے کا 90 فیصد کام مکمل کر چکے ہیں: نیتن یاہو کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیل
کے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو
ختم کرنے کا 90 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور صرف 10 فیصد باقی رہ گیا ہے۔
نیتن
یاہو نے اتوار کو، اسرائیلی پارلیمانی انتخابات سے دو روز قبل، چینل 14 کو دیے گئے
ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کے انتخابی حریف اس مشن کو مکمل کرنے کی صلاحیت نہیں
رکھتے۔
انھوں
نے کہا ’ہم 90 فیصد کام کر چکے ہیں اور صرف 10 فیصد باقی ہے۔ اسے کون مکمل کرے گا؟
آئزن کوٹ اور اخوان المسلمین؟ نہیں، یہ کام صرف میں ہی کر سکتا ہوں۔‘
اسرائیلی
وزیرِ اعظم، جن کا مقابلہ سابق آرمی چیف گادی آئزن کوٹ سے ہے، انتخابی مہم کے آخری
مرحلے میں ایک بار پھر ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف اقدامات کو اپنی مہم کا
مرکزی نکتہ بنا رہے ہیں۔
نیتن
یاہو نے اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تل ابیب
میں جوہری دھماکے کی ایک تصویر بھی دوبارہ شیئر کی۔ یہ تصویر ایک دائیں بازو کے
اسرائیلی سیاسی تجزیہ کار کی پوسٹ کے ساتھ منسلک تھی، جس میں ایران کو اسرائیل کے
وجود کے لیے خطرہ قرار دیا گیا تھا۔
اس کے
جواب میں گادی آئزن کوٹ نے نیتن یاہو پر الزام عائد کیا کہ وہ ووٹروں کی حمایت
حاصل کرنے کے لیے ایران کے خطرے کو سیاسی طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا
کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم ایران کے خلاف جنگ سے متعلق اپنے طے کردہ اہداف حاصل کرنے
میں ناکام رہے ہیں۔
اسرائیل
میں پارلیمانی انتخابات 27 اکتوبر کو ہوں گے، جبکہ قبل از انتخابات سرویز نیتن
یاہو اور آئزن کوٹ کے درمیان سخت مقابلے کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ
بلوچستان
کے سرحدی علاقے گبد ریمدان 250 بارڈر پر اتوار کو ایران کے ساتھ سرحدی تجارتی
سرگرمیاں دوبارہ بحال ہو گئیں۔ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر یہ سرحد دو روز کے لیے
بند کی گئی تھی، تاہم اب درآمدات اور برآمدات دونوں کی اجازت دے دی گئی ہے۔ تاجروں
نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے علاقے کی معیشت اور کاروباری سرگرمیوں کے
لیے اہم قرار دیا ہے۔
امریکی
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انھوں نے ایران کے حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ
نہیں کیا اور وہ مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔ فاکس نیوز کے پروگرام سنڈے مارننگ
میں ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’میرے لیے اصل سوال یہ ہے کہ
کیا میں ایران کے ساتھ معاہدہ کروں یا اس سے کھیلوں (دھوکہ دوں)۔ اس وقت میرے ذہن
میں یہی سوال ہے۔‘
سری
لنکا کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اتوار کو اعلان کیا کہ ملک نے اپنے ساحل کے
قریب بین الاقوامی پانیوں میں 19 تجارتی بحری جہازوں سے 40 ایرانی ملاحوں کو بچا
لیا ہے۔ طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ان ملاحوں کو گالے کی بندرگاہ منتقل کیا گیا
اور بعد ازاں ایران روانہ کر دیا گیا۔
اسرائیل
کے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران اور اس کے اتحادی
منگل کو ہونے والے اسرائیلی انتخابات پر اثر انداز ہونے کے لیے حملے کرنے کی کوشش
کر سکتے ہیں۔
پاکستان
میں مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی درآمد کے سلسلے میں بحرین سے چار ہزار میٹرک
ٹن گیس لے کر آنے والا جہاز ’ییلو اسٹون‘ پورٹ قاسم پر لنگر انداز ہو گیا ہے۔ پورٹ
قاسم اتھارٹی کے مطابق یہ جہاز 24 اکتوبر کو بندرگاہ پہنچا، جس کے بعد اس سے ایل
پی جی اتارنے کا عمل شروع کر دیا گیا۔
اسرائیلی
فوج نے منگل کو ہونے والے انتخابات کے موقع پر مقبوضہ مغربی کنارے کی تمام زمینی
گزرگاہیں بند کرنے اور فلسطینی کارکنوں کی نقل و حرکت پر نئی پابندیاں عائد کرنے
کا اعلان کیا ہے۔
ایران
کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے متحدہ عرب امارات کی سفارتکار لانا
نسیبہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی سیکریٹری جنرل بننے کی کوشش کے
ذریعے مبینہ طور پر ’گریٹر اسرائیل‘ منصوبے کو آگے بڑھا رہی ہیں۔
پاکستان
کی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے چائلڈ پورنوگرافی
میں مبینہ طور پر ملوث ایک ’بین الاقوامی نیٹ ورک‘ کو بے نقاب کرنے اور اس کے
مبینہ گینگ لیڈر کو سکردو سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایران
کی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی بندرگاہی شہر بندر عباس کے اوپر ایک امریکی
لوکاس ڈرون کو مار گرایا ہے۔
یمن کے
حوثی گروہ کے خلاف لڑنے والے سعودی فوجی اتحاد کا کہنا ہے کہ اس نے حوثیوں کی جانب
سے سعودی عرب کے جنوبی علاقے کی طرف داغے گئے 10 بیلسٹک میزائلوں کو راستے میں ہی
تباہ کر دیا ہے۔