باب المندب کی بندش کے ’تباہ کن‘ نتائج ہو سکتے ہیں، حوثی کارروائیوں پر قطر کا انتباہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
قطر نے اہم بحری گزرگاہ باب المندب کی بندش کے ممکنہ سنگین نتائج پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
قطری وزارتِ خارجہ کے عہدیدار ابراہیم ہاشمی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’دنیا پہلے ہی آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات سے دوچار ہے، اس لیے باب المندب کو بھی اس صورتحال میں شامل نہیں کیا جانا چاہیے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’بحیرۂ احمر کے جنوبی راستے کی بندش پوری دنیا کے لیے ’تباہ کن‘ ہو گی اور اس کے اثرات پہلے ہی نظر آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق قطر اس صورتحال کے حل کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات پر زور دیتا ہے۔
حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے مشرقی ساحل اور باب المندب پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جس کے بعد خدشات پیدا ہوئے ہیں کہ وہ نہرِ سویز تک بحری رسائی روک سکتے ہیں۔
باب المندب پر قبضے کے بعد حوثیوں نے اپنے بیانات میں کہا تھا کہ ’باب المندب تمام بحری جہازوں کے لیے کھلا رہے گا، تاہم سعودی بحری جہاز اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔‘
آبنائے باب المندب کتنی اہم ہے؟

آبنائے باب المندب یمن کے ساتھ بحیرہ احمر کے کنارے پر اور جبوتی و اریٹیریا کے ساتھ افریقی کنارے پر واقع ہے۔
بحرِ ہند اور خلیج عدن سے آنے والی بحری ٹریفک کو نہر سویز تک رسائی کے لیے لازمی طور پر اس آبنائے سے گزرنا پڑتا ہے۔
115 کلومیٹر لمبی اور 36 کلومیٹر چوڑی یہ آبنائے سنہ 1869 میں نہر سویز کی تعمیر کے بعد عالمی تجارت میں ایک ایسی ناگزیر کڑی بن گئی تھی، جس نے یورپ اور ایشیا کے درمیان سب سے مختصر سمندری راستہ فراہم کیا۔
بحیرہ احمر میں موجود یہ آبنائے اب دنیا کے مصروف ترین راستوں میں سے ایک ہے اور تقریباً ایک چوتھائی عالمی بحری ٹریفک اسی راستے سے گزرتی ہے۔
آبنائے ہرمز سے دنیا کو سپلائی ہونے والے تیل کا 20 فیصد حصہ گزرتا ہے جبکہ اندازوں کے مطابق آبنائے باب المندب کی ممکنہ بندش مزید 12 فیصد عالمی تیل کی ترسیل کو متاثر کرے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق، روزانہ تقریباً 50 لاکھ بیرل تیل، جو مشرقِ وسطیٰ اور ایشیائی ممالک سے آتا ہے اور مغرب کی جانب جاتا ہے، اسی آبنائے سے گزرتا ہے۔
مزید یہ کہ عالمی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی آٹھ فیصد ترسیل بھی اس آبنائے سے ہوتی ہے۔
آبنائے ہرمز کے مؤثر طور پر بند ہونے کے بعد، بحیرہ احمر نے عالمی تجارت میں مزید اہمیت حاصل کر لی ہے۔
خام تیل اور گیس کے علاوہ، باب المندب مشرق اور مغرب کے درمیان مرکزی تجارتی رابطے کا حصہ بھی ہے، جہاں سے روزانہ درجنوں کارگو جہاز گزرتے ہیں۔




















