لائیو, باب المندب کی بندش کے ’تباہ کن‘ نتائج ہو سکتے ہیں، حوثی کارروائیوں پر قطر کا انتباہ

قطری وزارتِ خارجہ کے عہدیدار ابراہیم ہاشمی کا کہنا ہے کہ ’بحیرۂ احمر کے جنوبی راستے کی بندش پوری دنیا کے لیے ’تباہ کن‘ ہو گی اور اس کے اثرات پہلے ہی نظر آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق قطر اس صورتحال کے حل کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات پر زور دیتا ہے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. باب المندب کی بندش کے ’تباہ کن‘ نتائج ہو سکتے ہیں، حوثی کارروائیوں پر قطر کا انتباہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    قطر نے اہم بحری گزرگاہ باب المندب کی بندش کے ممکنہ سنگین نتائج پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    قطری وزارتِ خارجہ کے عہدیدار ابراہیم ہاشمی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’دنیا پہلے ہی آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات سے دوچار ہے، اس لیے باب المندب کو بھی اس صورتحال میں شامل نہیں کیا جانا چاہیے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’بحیرۂ احمر کے جنوبی راستے کی بندش پوری دنیا کے لیے ’تباہ کن‘ ہو گی اور اس کے اثرات پہلے ہی نظر آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق قطر اس صورتحال کے حل کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات پر زور دیتا ہے۔

    حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے مشرقی ساحل اور باب المندب پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جس کے بعد خدشات پیدا ہوئے ہیں کہ وہ نہرِ سویز تک بحری رسائی روک سکتے ہیں۔

    باب المندب پر قبضے کے بعد حوثیوں نے اپنے بیانات میں کہا تھا کہ ’باب المندب تمام بحری جہازوں کے لیے کھلا رہے گا، تاہم سعودی بحری جہاز اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔‘

    آبنائے باب المندب کتنی اہم ہے؟

    BBC

    آبنائے باب المندب یمن کے ساتھ بحیرہ احمر کے کنارے پر اور جبوتی و اریٹیریا کے ساتھ افریقی کنارے پر واقع ہے۔

    بحرِ ہند اور خلیج عدن سے آنے والی بحری ٹریفک کو نہر سویز تک رسائی کے لیے لازمی طور پر اس آبنائے سے گزرنا پڑتا ہے۔

    115 کلومیٹر لمبی اور 36 کلومیٹر چوڑی یہ آبنائے سنہ 1869 میں نہر سویز کی تعمیر کے بعد عالمی تجارت میں ایک ایسی ناگزیر کڑی بن گئی تھی، جس نے یورپ اور ایشیا کے درمیان سب سے مختصر سمندری راستہ فراہم کیا۔

    بحیرہ احمر میں موجود یہ آبنائے اب دنیا کے مصروف ترین راستوں میں سے ایک ہے اور تقریباً ایک چوتھائی عالمی بحری ٹریفک اسی راستے سے گزرتی ہے۔

    آبنائے ہرمز سے دنیا کو سپلائی ہونے والے تیل کا 20 فیصد حصہ گزرتا ہے جبکہ اندازوں کے مطابق آبنائے باب المندب کی ممکنہ بندش مزید 12 فیصد عالمی تیل کی ترسیل کو متاثر کرے گی۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق، روزانہ تقریباً 50 لاکھ بیرل تیل، جو مشرقِ وسطیٰ اور ایشیائی ممالک سے آتا ہے اور مغرب کی جانب جاتا ہے، اسی آبنائے سے گزرتا ہے۔

    مزید یہ کہ عالمی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی آٹھ فیصد ترسیل بھی اس آبنائے سے ہوتی ہے۔

    آبنائے ہرمز کے مؤثر طور پر بند ہونے کے بعد، بحیرہ احمر نے عالمی تجارت میں مزید اہمیت حاصل کر لی ہے۔

    خام تیل اور گیس کے علاوہ، باب المندب مشرق اور مغرب کے درمیان مرکزی تجارتی رابطے کا حصہ بھی ہے، جہاں سے روزانہ درجنوں کارگو جہاز گزرتے ہیں۔

  2. ایرانی وزیر خارجہ 16 ستمبر کو چین کا دورہ کریں گے

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی 16 ستمبر کو چین کا دورہ کریں گے۔

    چین کی وزارت خارجہ نے اس دورے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ اپنے دورے کے درمیان اپنے چینی ہم منصب سے ملاقات کریں گے۔

    ایران کے وزیر خارجہ کے چین کے دورے کی تصدیق ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دو دن قبل نئی دہلی میں برکس کے اجلاس میں شرکت کے دوران مشرق وسطیٰ میں ’امن‘ کے لیے کردار ادا کرنے کی پیشکش کی تھی۔

    انھوں نے کہا تھا کہ ’چینی برکس کے دیگر اراکین کے ساتھ مل کر مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے میں امن کے حصول اور استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔‘

  3. پاسدارانِ انقلاب کا آبنائے ہرمز میں امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنامریکی ایم کیو-1 ڈرون (فائل فوٹو)

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک اور جدید امریکی ایم کیو-1 ڈرون مار گرایا ہے، جس کے بعد رواں ہفتے مار گرائے جانے والے امریکی ڈرونز کی تعداد چار ہو گئی ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب نے منگل کو جاری ایک بیان میں کہا کہ ’اس کی ایرو سپیس فورس کے نئے جدید فضائی دفاعی نظام نے، جو ایران کے مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک کے زیرِ کنٹرول ہے، آبنائے ہرمز کے مشرق میں ایرانی فضائی حدود میں ایک ایم کیو-1 ڈرون کو کامیابی سے نشانہ بنایا اور اسے تباہ کر دیا۔‘

    یہ اعلان اس سے چند گھنٹے بعد کیا گیا کہ جب پاسدارانِ انقلاب کے شعبہ تعلقاتِ عامہ نے بتایا تھا کہ اسی دفاعی نظام کے ذریعے منگل کی صبح آبنائے ہرمز کے مغرب میں ایک اور امریکی ڈرون مار گرایا گیا۔

    بیان کے مطابق گزشتہ چند روز کے دوران ایران کے مربوط فضائی دفاعی نظام نے ملک کی فضائی حدود میں چار ایم کیو-1 ڈرونز تباہ کیے ہیں۔

    پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ ’امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے کے بعد سے ایرانی فضائی دفاعی فورسز نے سینکڑوں ’درانداز ڈرونز‘ اور دیگر دشمن طیارے مار گرائے ہیں، جن میں لوکاس، ہرمس، ایم کیو-1 اور ایم کیو-9 طرز کے ڈرونز شامل ہیں۔

  4. آبنائے ہرمز میں تیل بردار بحری جہاز پر حملہ، 23 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا: عمان

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    آبنائے ہرمز میں پاناما کے پرچم بردار آئل ٹینکر ایل گایا کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنائے جانے کے بعد اس کے انجن روم میں آگ لگ گئی، جس کے نتیجے میں جہاز پر سوار عملے کے 23 افراد کو نکال لیا گیا جبکہ دو افراد لاپتہ ہیں۔

    عمان کے میری ٹائم سکیورٹی سینٹر کے مطابق ٹینکر کو عمان کی بحری حدود میں مسندم جزیرے سے تقریباً 103 ناٹیکل میل شمال مشرق میں نشانہ بنایا گیا۔ آگ لگنے کے بعد ٹینکر کو عمانی بندرگاہ کی جانب لے جایا جا رہا ہے۔

    مرکز کے مطابق عمانی بحریہ کے ایک جہاز نے ٹینکر کے عملے کے 23 ارکان کو نکال لیا۔

    اس سے قبل برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز آرگنائزیشن نے بتایا تھا کہ پیر کی شب آبنائے ہرمز میں ایک بحری جہاز کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ تنظیم کے مطابق اس واقعے میں کسی نقصان یا ماحولیاتی اثرات کی اطلاع نہیں ملی تھی۔

  5. حوثیوں کے حملوں کا فیصلہ کن جواب دیں گے: سعودی عرب

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    سعودی عرب نے کہا ہے کہ وہ حوثیوں کے حملوں کا ’فیصلہ کن‘ جواب دیا جائے گا۔

    حوثیوں کے حالیہ بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں میں سعودی عرب میں 13 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    ایران کے اتحادی حوثیوں نے بحری ناکہ بندی کا اعلان کرنے کے بعد بحیرۂ احمر میں سعودی بحری جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کیا تھا۔

    گزشتہ ہفتے حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے مشرقی ساحل اور باب المندب پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ آبنائے ہرمز میں آمدورفت متاثر ہونے کے بعد باب المندب کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

    دوسری جانب فرانس کی درخواست پر باب المندب کی صورتِ حال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج نیویارک میں طلب کیا گیا ہے۔

  6. امید ہے کہ حکومت کو پیٹرول کے پہلے اور دوسرے کوٹے میں کمی کی ضرورت نہیں پڑے گی: فاطمہ مہاجرانی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی

    ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’انھیں امید ہے کہ پیٹرول کے پہلے اور دوسرے کوٹے میں کسی قسم کی کمی کی ضرورت نہیں پڑے گی۔‘

    فاطمہ مہاجرانی نے کہا کہ ’پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ گزشتہ سال سردیوں میں کیا جانا تھا، لیکن جنگی حالات کے باعث یہ معاملہ مؤخر کر دیا گیا۔‘ ان کے مطابق حکومت کی قرارداد کے تحت یہ اصلاحات ہر موسم میں کی جانی تھیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے حاصل ہونے والی آمدنی ’مکمل طور پر عوام کی روزمرہ ضروریات پر خرچ کی جا رہی ہے۔‘

    فی الحال 60 لیٹر پیٹرول کا کوٹہ 1500 تومان فی لیٹر اور 50 لیٹر پیٹرول کا کوٹہ 3000 تومان فی لیٹر برقرار ہے۔

    فاطمہ مہاجرانی نے کہا کہ ’اگر ہمیں کوئی بھی سخت قدم اُٹھنا پڑا تو میں یقین دلاتی ہوں کہ ہم سب سے پہلے عوام سے اس بارے میں بات کریں گے۔‘

  7. سعودی کابینہ کی حوثیوں کے حملوں کی مذمت، مکہ مکرمہ میں شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری

    @Saudi_Gazette

    ،تصویر کا ذریعہ@Saudi_Gazette

    سعودی عرب کے محکمہ شہری دفاع کی جانب سے مکہ مکرمہ شہر میں ممکنہ خطرے کے پیش نظر شہریوں کو حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کے لیے ہدایات جاری کی گئیں ہیں۔

    محکمہ شہری دفاع (سول ڈیفنس) کی جانب سے ’ایکس‘ پر جاری ہونے ولے ایک بیان میں حکام نے لوگوں کو پرسکون رہنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’وہ کسی بھی ہنگامی صورتِحال میں فوری طور پر قریبی محفوظ مقام، عمارت یا کھڑکیوں سے دور کسی اندرونی کمرے میں چلے جائیں اور خطرہ ٹلنے تک وہیں رہیں۔‘

    یاد رہے کہ منگل کی صبح محکمہ سول ڈیفنس نے جدہ، طائف سمیت چند دیگر علاقوں کے حوالے سے بھی اسی نوعیت کے انتباہات جاری کیے تھے۔

    مکہ سے متعلق بیان میں شہریوں کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ بلا وجہ گھروں یا عمارتوں سے باہر نہ نکلیں، کُھلے مقامات، کھڑکیوں اور شیشوں سے دور رہیں اور بالکونی یا چھت پر کھڑے ہونے سے گریز کریں۔

    حکام نے شہریوں کو ہجوم اور خطرناک علاقوں سے دور رہنے اور تصاویر بنانے سے گریز کرنے کا بھی کہا ہے۔

    سنہ 2020 میں لی گئی مکہ شہر کی تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنسنہ 2020 میں لی گئی مکہ شہر کی تصویر

    سعودی محکمہ شہری دفاع کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ڈرائیونگ کے دوران موبائل پر انتباہ موصول ہونے کی صورت میں گاڑی سڑک کے کنارے، پلوں اور بلند عمارتوں سے دور کھڑی کریں۔

    حکام کے مطابق مکہ، مدینہ، ریاض اور مشرقی صوبے میں ہنگامی صورتِ حال کی اطلاع 911 جبکہ دیگر علاقوں میں 998 پر دی جا سکتی ہے۔

    شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی متعلقہ حکام کی ہدایات پر عمل کریں۔

    دوسری جانب سعودی کابینہ نے حوثی ’دہشت گرد ملیشیا‘ کی جانب سے مملکت میں شہریوں اور شہری تنصیبات پر مسلسل اور جان بوجھ کر کیے جانے والے حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔

    کابینہ نے اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے تحت سعودی عرب کے اپنے دفاع، خودمختاری، شہریوں، رہائشیوں اور اہم مفادات کے تحفظ کے حق کی توثیق بھی کی ہے۔

  8. ایران کی تیل آمدن سے حاصل چھ کروڑ ڈالر ضبط کرنے کے لیے نیو یارک میں مقدمہ دائر

    بٹ کوائن کا لوگو، پس منظر میں ایران کا جھنڈا

    ،تصویر کا ذریعہLightRocket via Getty Images

    امریکہ میں نیو یارک کے جنوبی ضلع کے پراسیکیوٹر نے عدالت میں درخواست دائر کی ہے کہ کرپٹو کرنسی میں موجود ایران کے وہ چھ کروڑ 10 لاکھ ڈالر ضبط کیے جائیں جو اس نے بلیک مارکیٹ میں تیل بیچ کر حاصل کیے۔

    امریکی حکام کے مطابق یہ اثاثے ایران کی مسلح افواج، بشمول پاسدارانِ انقلاب، کی جانب سے پابندیوں کے شکار خام تیل اور تیل کی مصنوعات کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی سے منسلک ہیں۔

    امریکی معاون پراسیکیوٹر شان ایس بکلی اور ایف بی آئی کے نیو یارک فیلڈ آفس کے ایڈمنسٹریٹر جیمز سی بارناکل جونیئر نے تقریباً چھ کروڑ ڈالر مالیت کے کرپٹو اثاثوں کی ضبطی کے لیے مقدمے کا اعلان کیا۔

    شان بکلی کے مطابق ایرانی حکومت اپنی فوجی سرگرمیوں کی مالی معاونت، مشرقِ وسطیٰ اور دنیا کے دیگر حصوں میں دہشت گردی کو فروغ دینے اور جوہری پروگرام اور جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے بیلسٹک میزائلوں کی ترقی جیسے اقدامات کے لیے پابندیوں کے شکار خام تیل کی بلیک مارکیٹ میں فروخت پر انحصار کرتی ہے۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایران نے چین اور دیگر مقامات پر موجود کرپٹو کرنسی نیٹ ورکس کی مدد سے تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی 1.5 ارب ڈالر سے زیادہ کی مبینہ غیر قانونی آمدنی کو منی لانڈر کرنے کی کوشش کی۔

    امریکی حکام کے مطابق یہ رقوم ایران کی فوج اور پاسدارانِ انقلاب کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال کی جانی تھیں۔

  9. این ڈی ایم اے کا پاکستان کے مختلف علاقوں میں ممکنہ سیلاب کا انتباہ، 17 ستمبر تک بارشوں کی پیشگوئی

    بارش کے پانی میں ڈوبی گاڑی

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے ملک کے مختلف علاقوں میں متوقع بارشوں کے باعث ممکنہ سیلاب کا انتباہ جاری کر دیا ہے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق 17 ستمبر تک گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، پنجاب اور بلوچستان کے بعض علاقوں میں بارشوں کے نتیجے میں دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

    ادارے کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کے اضلاع گلگت، دیامر، غذر، اشکومن، گپس یاسین، نگر، ہنزہ، شمشال، اسکردو اور شگر میں اچانک سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

    خیبر پختونخوا میں اپر دیر، سوات، باجوڑ، ملاکنڈ، کرم، کوہستان، مہمند اور اورکزئی کے علاقوں میں بھی سیلاب کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق بلوچستان کے اضلاع ژوب، شیرانی اور موسیٰ خیل جبکہ اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف علاقوں، جن میں راولپنڈی، گوجرانوالہ، سرگودھا، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور شیخوپورہ شامل ہیں، میں بھی سیلاب کا خدشہ ہے۔

    ممکنہ خطرات کے پیش نظر این ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ اداروں کو پیشگی الرٹ جاری کرتے ہوئے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری انتظامات مکمل رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

    ادارے نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ شدید بارش کے دوران برساتی نالوں، زیر آب سڑکوں، پلوں اور نشیبی گزر گاہوں کو عبور کرنے سے گریز کریں۔

  10. امریکی فوج نے ایرانی حملوں سے ہونے والے نقصان اور ہلاکتوں کی تفصیل جاری کر دی، جنگ کے دوران گولہ بارود کے ذخائر میں کمی کا اعتراف

    امریکی فوج

    ،تصویر کا ذریعہU.S. Navy via Getty Images

    امریکہ میں مرکزی انسپکٹر جنرل کی طرف سے کانگریس کے لیے تیار کردہ ایک رپورٹ جاری کی گئی ہے جس میں ایرانی حملوں سے ہونے والے نقصان اور ہلاکتوں کی تفصیل بتائی گئی ہے اور جنگ کے دوران گولہ بارود کے ذخائر میں کمی کا اعتراف کیا گیا ہے۔

    یہ رپورٹ امریکی محکمۂ دفاع کے انسپکٹر جنرل کی سربراہی میں تیار کی گئی ہے، جنھیں 12 مئی 2026 کو ’لیڈ انسپکٹر جنرل‘ نامزد کیا گیا تھا۔ اس میں 30 جون 2026 تک کی صورتحال کا احاطہ کیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف امریکی جنگ، جسے آپریشن ایپک فیوری کا نام دیا گیا تھا، کے دوران گولہ بارود کے استعمال کے نتیجے میں امریکی فوج کے ذخائر میں کمی ہوئی اور ان کی دوبارہ فراہمی کے لیے پیداواری صلاحیت میں حائل رکاوٹیں بھی سامنے آئی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق امریکہ کو اسلحہ سازی کی صنعت میں کئی مستقل رکاوٹوں کا سامنا ہے، جن میں سالڈ راکٹ موٹروں کی تیاری، جدید دھماکہ خیز مواد اور پروپیلنٹس کی دستیابی، اور ہنرمند افرادی قوت کی کمی شامل ہیں۔

    محکمۂ دفاع میں اسلحہ کی خریداری اور رسد کی نگرانی کرنے والے دفتر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پیداواری صلاحیت میں اضافے کے لیے خاصا وقت درکار ہو گا۔

    آپریشن ایپک فیوری سے متعلق کانگریس کو پیش کی گئی لیڈ انسپکٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق 28 فروری سے 30 جون 2026 کے درمیان 11 امریکی فوجی جنگی کارروائیوں میں ہلاک ہوئے جبکہ سات دیگر غیر جنگی واقعات میں جان سے گئے۔ اسی عرصے کے دوران 417 امریکی فوجی زخمی بھی ہوئے۔

    رپورٹ میں امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) سے منسوب یہ بیان بھی درج کیا گیا ہے کہ ایرانی حملوں کے نتیجے میں کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عراق، عمان اور اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر موجود سینکڑوں عمارتوں اور تنصیبات کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہو گئیں۔

    رپورٹ کے مطابق آپریشن کے دوران درجنوں امریکی طیارے تباہ یا نقصان کا شکار ہوئے۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ چار ایف۔15ای لڑاکا طیارے تباہ ہوئے، جن میں سے تین اپنی ہی فورسز کی فائرنگ جبکہ ایک دشمن کی فائرنگ کی زد میں آیا۔

    رپورٹ کے مطابق ایک ایف۔35اے لڑاکا طیارے کو ایران کے اوپر پرواز کے دوران دشمن کی فائرنگ سے نقصان پہنچا، جبکہ ایک اے۔10 طیارہ جنگی تلاش و امداد مشن سے واپسی پر نقصان کے باعث تباہ کر دیا گیا۔

    اسی طرح کے سی۔135 ایندھن بردار طیاروں میں سے سات تباہ یا نقصان کا شکار ہوئے۔ ان میں ایک طیارہ عراق کی فضائی حدود میں تصادم کے نتیجے میں تباہ ہوا، ایک کو نقصان پہنچا جبکہ پانچ طیارے سعودی عرب میں ایرانی حملوں کی زد میں آئے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فضائی نگرانی کرنے والے ایک ای۔3 طیارے کو سعودی عرب میں ایرانی حملوں سے نقصان پہنچا، جبکہ ایک ایچ ایچ۔60ڈبلیو ہیلی کاپٹر جنگی تلاش و امداد کی کارروائیوں کے دوران متاثر ہوا۔

    دستاویز کے مطابق ایک ایم کیو۔4سی بغیر پائلٹ طیارہ گر کر تباہ ہوا، جبکہ چار اے ایچ۔6 ہیلی کاپٹرز کو اس نوعیت کا نقصان پہنچا کہ امریکی فورسز نے انھیں خود ہی تباہ کر دیا۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک اے ایچ۔64 ہیلی کاپٹر آبنائے ہرمز کے اوپر مار گرایا گیا اور ایک ایم ایچ۔60 ہیلی کاپٹر بحیرۂ عرب میں گر کر تباہ ہوا۔

    اس کے علاوہ 30 ایم کیو-9 طرز کے نگرانی اور حملہ آور ڈرونز کے تباہ ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔

  11. راولپنڈی اور اسلام آباد میں بارش، گوالمنڈی اور کٹاریاں کی صورتحال کی نگرانی

    ایک موٹر سائیکل سوار بارش میں بھیگتا ہوا جا رہا ہے، فائل فوٹو

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنموٹر سائیکل سوار بارش میں بھیگتے ہوئے جا رہے ہیں (فائل فوٹو)

    راولپنڈی اور اسلام آباد میں منگل کی صبح شروع ہونے والی بارش کے بعد انتظامیہ نشیبی علاقوں کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے، جبکہ گوالمنڈی اور کٹاریاں میں پانی کی سطح کی نگرانی کی جا رہی ہے۔

    قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب کے مطابق بارش کا سلسلہ صبح چار بج کر 50 منٹ پر شروع ہوا۔ صبح 10 بج کر 20 منٹ تک سب سے زیادہ 49 ملی میٹر بارش اسلام آباد کے آئی-12 سیکٹر میں ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ نیو کٹاریاں میں 43 ملی میٹر، گولڑہ میں 42 ملی میٹر، شمس آباد میں 40 ملی میٹر، پیرودھائی میں 39 ملی میٹر اور گوالمنڈی میں 33 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق واٹر لیول سینسرز کی ریڈنگ کے مطابق کٹاریاں کے مقام پر پانی کی سطح 10.5 فٹ جبکہ گوالمنڈی میں نو فٹ ریکارڈ کی گئی۔

    ادارے کا کہنا ہے کہ گوالمنڈی اور کٹاریاں کی صورتحال کی نگرانی کی جا رہی ہے، اگر گوالمنڈی میں پانی کی سطح 14.1 اور کٹاریاں میں 11.4 فٹ تک پہنچتی ہے تو الرٹ جاری کر دیا جائے گا۔

  12. ٹرمپ کے بیٹے کی شادی میں پوتن کے قریبی ساتھی نے لاکھوں ڈالر خرچ کیے تھے

    ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اور ان کی اہلیہ بیٹینا

    ،تصویر کا ذریعہIcon Sportswire via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اور ان کی اہلیہ بیٹینا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بڑے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اور ان کی اہلیہ بیٹینا نے تصدیق کی ہے کہ ان کی شادی کے کچھ اخراجات روس کی ایک کاروباری شخصیت نے برداشت کیے تھے۔

    اس کاروباری شخصیت کا نام عمر کریملیو ہے، جن کے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ قریبی تعلقات بتائے جاتے ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اور بیٹینا کی شادی مئی میں ہوئی تھی۔ اب دونوں نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ کے ذریعے بتایا ہے کہ بہاماس کے ایک نجی جزیرے پر منعقد ہونے والی شادی کی تقریبات کی دو راتوں کی میزبانی عمر کریملیو نے کی تھی۔

    عمر کریملیو انٹرنیشنل باکسنگ ایسوسی ایشن (آئی بی اے) کے صدر ہیں۔ جوڑے نے اپنے بیان میں کریملیوف کو اپنا قریبی دوست قرار دیا ہے۔

    ٹرمپ جونیئر اور بیٹینا نے اسے ایک دوست کی جانب سے دیا گیا شادی کا تحفہ قرار دیتے ہوئے اس پر اظہارِ تشکر کیا۔

    اس معاملے نے امریکی میڈیا میں ٹرمپ خاندان پر غیر ملکی اثر و رسوخ کے حوالے سے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ان اخراجات کی تفصیلات پہلی مرتبہ پرو پبلیکا کی ایک رپورٹ میں سامنے آئی تھیں۔

    پرو پبلیکا کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اور بیٹینا ٹرمپ نے بہاماس کے ایک نجی جزیرے پر شادی کی تھی۔ اس کے بعد شادی کی دو روزہ تقریبات ایک دوسرے جزیرے پر منعقد ہوئیں، جہاں ایک رات کے قیام کا کرایہ تقریباً ایک لاکھ ڈالر ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اس تقریب سے منسلک کئی دیگر اخراجات بھی کریملیو نے ادا کیے، جن میں تقریباً 70 ہزار ڈالر مالیت کا آتش بازی کا مظاہرہ بھی شامل تھا۔

    پرو پبلیکا نے اپنی تحقیق کی بنیاد پر بتایا کہ کریملیو نے شادی کی تقریبات پر لاکھوں ڈالر خرچ کیے۔

    امریکی حکومتی اخلاقیات کی نگرانی کرنے والی کئی تنظیموں نے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ صدر کے بیٹے نے ایک ایسے شخص سے قیمتی تحائف قبول کیے ہیں جس کے روسی صدر پوتن کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ اگرچہ ٹرمپ جونیئر کسی سرکاری عہدے پر فائز نہیں ہیں، تاہم یہ صورتحال مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق سوالات کو جنم دیتی ہے۔

  13. آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت میں مزید کمی: کپلر کمپنی کے اعداد و شمار

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    بحری آمد و رفت کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں حملوں میں اضافے کے ساتھ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد پیر کے روز مزید کم ہو گئی ہے۔

    منگل کو جاری کیے گئے کپلر کمپنی کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق پیر کے روز آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی مال بردار جہازوں کی مجموعی تعداد صرف چار رہی، جبکہ اتوار کو یہ تعداد 10 تھی۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس آبی گزر گاہ سے دو بلک کیریئر جہاز باہر نکلے، جن میں سے ایک پر مال لدا ہوا تھا جبکہ دوسرا خالی تھا۔ اسی دوران دو آئل ٹینکر بھی پیر کو آبنائے ہرمز میں داخل ہوئے اور دونوں خالی تھے۔

    ان اعداد و شمار میں ایسے جہاز شامل نہیں ہیں جنھوں نے شناخت سے بچنے کے لیے اپنا خود کار شناختی نظام (اے آئی ایس) بند کر رکھا ہو۔

  14. سعودی ولی عہد آج مصری صدر سے ملاقات کریں گے

    مصری صدر اور سعودی ولی عہد

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu Agency via Getty Images

    مصر کے ایوانِ صدر نے اعلان کیا ہے کہ صدر عبدالفتاح السیسی منگل کے روز سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی میزبانی کریں گے۔

    یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے درمیان لڑائی جاری ہے۔

    مصری ایوانِ صدر کے مطابق اس دورے کے دوران دونوں رہنما دو طرفہ ملاقات کریں گے۔

    یہ دورہ حوثیوں کی ایک ہفتے تک جاری رہنے والی جارحانہ کارروائیوں کے بعد ہو رہا ہے۔

    اس وقت بحیرۂ احمر کے ساحل پر حوثیوں کا کنٹرول ہے اور باب المندب پر بھی گرفت مضبوط ہوئی ہے۔

    سعودی عرب کی تیل کی برآمدات اسی آبی گزر سے گزرتی ہیں۔

  15. سعودی عرب کا حوثی حملوں کا ’سختی سے‘ جواب دینے کا عزم، ایران کی تنازع میں کسی بھی کردار کی تردید

    حوثیوں کا ایک ڈرون یمن میں ایک نا معلوم مقام سے پرواز کر رہا ہے

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشنحوثیوں کا ایک ڈرون یمن میں ایک نا معلوم مقام سے پرواز کر رہا ہے

    سعودی عرب نے منگل کو یمن کی حوثی جماعت انصار اللہ کی جانب سے اپنے علاقے پر کیے گئے نئے حملوں کے سلسلے کا ’سختی سے‘ جواب دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

    حوثیوں نے پیر کو اعلان کیا کہ انھوں نے جنوبی سعودی عرب کے شہر خمیس مشیط میں ایک فوجی فضائی اڈے پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغے، جن کا ہدف طیاروں کے ہینگر، ریڈار نظام، رن ویز اور اسلحہ کے گودام تھے۔ ان کے بقول یہ حملے یمن میں سعودی فضائی کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے۔

    سعودی حکام نے اس علاقے اور جنوبی سعودی عرب کے تین دیگر شہروں میں ہنگامی انتباہ جاری کیے، جبکہ سعودی قیادت والے اتحاد کے مطابق یمن میں حوثی حملوں میں 13 شہری زخمی ہوئے۔

    حوثیوں نے گذشتہ چند دنوں میں سعودی عرب کے مختلف علاقوں، خصوصاً یمن کی سرحد سے متصل جنوبی علاقوں میں واقع تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے متعدد دعوے کیے ہیں۔ پیر کو انھوں نے خمیس مشیط میں واقع کنگ خالد ایئر بیس پر ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے ایک حملے کا بھی اعلان کیا۔

    حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ فضائی حملوں میں تعز، لحج، الجوف، مأرب اور حجہ کے صوبوں کو نشانہ بنایا گیا۔

    عدن میں، جہاں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کا صدر دفتر قائم ہے، دو یمنی فوجی ذرائع نے بتایا کہ مأرب اور الجوف کے درمیان سرکاری فورسز کی پوزیشنوں پر حوثیوں کے میزائل حملوں میں آٹھ فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔

    گذشتہ چند روز میں حوثیوں نے ریاض کی حمایت یافتہ سرکاری فورسز کے خلاف نمایاں پیش قدمی کی ہے۔ ان جھڑپوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ حوثیوں نے باب المندب کی سٹریٹیجک گزر گاہ کے قریب اچانک حملے کے بعد اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں کو وسعت دی اور بحیرۂ احمر سے ملحق یمن کے پورے مغربی ساحل پر قبضہ کر لیا۔

    سعودی عرب 2015 سے حوثیوں کے خلاف ایک فوجی اتحاد کی قیادت کر رہا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں جنگ بندی کے باعث تنازع بڑی حد تک کم ہو گیا تھا۔ اس ماہ لڑائی دوبارہ شروع ہوئی اور حوثیوں نے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے حامی دستوں کو پسپا کر دیا۔

    بحیرۂ احمر کے راستے تیل کی برآمدات حالیہ عرصے میں سعودی عرب کے لیے زیادہ اہم ہو گئی ہیں، کیونکہ تہران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو محدود کر رکھا ہے، جس سے سعودی عرب کے مشرقی تیل کے ذخائر سے ہونے والی برآمدات کا ایک بڑا حصہ متاثر ہو رہا ہے۔

    سعودی عرب نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ اس نے مشرق سے مغرب جانے والی تیل پائپ لائن کی سرگرمیاں معطل کر دی ہیں، جسے فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ سعودی حکام کے مطابق یہ حملہ عراق سے کیا گیا تھا۔

    دوسری جانب ایران کی وزارتِ خارجہ نے یمن میں جاری جنگ میں تہران کے کسی بھی کردار سے انکار کیا ہے۔

    وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو کہا: ’ایران یمن کے امور میں مداخلت نہیں کرتا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ حوثی ’مکمل طور پر خودمختار ہیں اور اپنے فیصلے اپنے مفادات کے مطابق کرتے ہیں۔‘

  16. اسرائیل کا غزہ میں حماس کے ایک کمانڈر کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

    غزہ کے شمال میں واقع علاقے الصفطاوی میں فلسطینی شہری ایک تباہ شدہ گاڑی کا جائزہ لے رہے ہیں جسے اسرائیلی فوج کے ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں ایک شخص ہلاک، متعدد زخمی ہوئے

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنغزہ کے شمال میں واقع علاقے الصفطاوی میں فلسطینی شہری ایک تباہ شدہ گاڑی کا جائزہ لے رہے ہیں جسے اسرائیلی فوج کے ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں ایک شخص ہلاک، متعدد زخمی ہوئے

    اسرائیلی فوج نے پیر کے روز دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں ایک کارروائی کے دوران حماس کے پانچ ارکان، جن میں تنظیم کے ایک عسکری کمانڈر بھی شامل ہیں، ہلاک کر دیے گئے ہیں۔

    ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس کی فورسز اور اسرائیل کی داخلی سکیورٹی ایجنسی شین بیت نے حالیہ ہفتوں کے دوران غزہ کی پٹی میں اپنی ’انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں‘ میں شدت پیدا کی ہے۔

    حماس کے جس کمانڈر کو نشانہ بنانے کا اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے وہ احمد البطش ہیں، جو ابو اسامہ کے نام سے بھی جانے جاتے تھے۔ حماس کے خبر رساں ذرائع نے بھی ان کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھی جانے والی ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نے پیر کی شب رپورٹ کیا کہ احمد البطش عزالدین القسام بریگیڈز کے کمانڈروں میں شامل تھے اور اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہوئے۔

  17. امریکی صدر کے بیانات سے گمراہ نہ ہوں: محسن رضائی

    محسن رضائی

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے ایک بار پھر کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی معاہدے کی شرائط پوری ہونے تک تہران امریکہ کے ساتھ کوئی نئی بات چیت نہیں کرے گا۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ایران ان کے ملک کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے ’بے چین‘ ہے۔

    اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ’ناکام ریاست ایران جلد ہی معاہدہ کرنے کے لیے بے چین ہے۔‘

    ان بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے محسن رضائی نے کہا کہ امریکی صدر کے بیانات سے گمراہ نہ ہوں، ’جب تک ایران کی شرائط پوری نہیں ہوتیں، کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔‘

    گذشتہ چند روز کے دوران ایرانی حکام مختلف بیانات میں بار ہا یہی مؤقف دہرا چکے ہیں۔

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی امریکہ سے اسلام آباد مفاہمتی معاہدے میں واپسی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ایسی صورت میں تہران بھی اپنی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کے لیے تیار ہے۔

  18. پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ: 10 دنوں میں پیٹرول 34 اور ڈیزل 31 روپے مہنگا

    پاکستان پیٹرول

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    پاکستان میں پیٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت ایک بار پھر بڑھا دی گئی ہے۔

    پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق چار روپے 42 پیسے اضافے سے پیٹرول کی نئی قیمت 380 روپے 24 پیسے فی لیٹر، جبکہ چھ روپے 10 پیسے اضافے سے ہائی سپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 409 روپے 42 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

    یوں 10 دن کے دوران پیٹرول 34 اور ڈیزل 31 روپے مہنگا ہوا ہے۔

    پانچ ستمبر کو پٹرول 345.87 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل 378.05 روپے فی لیٹر تھا۔

    ایک ماہ کے دوران پیٹرول کی قیمت میں 55، جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 25 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا۔

    14 اگست کو پٹرول کی قیمت 325.43 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 383.95 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی تھی۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان مستقل کشیدگی، خلیجی خطے میں تیل بردار جہازوں پر حملوں اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو درپیش خطرات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

    اس کے ساتھ ساتھ یمن میں حوثیوں کی جانب سے حملوں اور خطے میں سکیورٹی صورتِ حال سے متعلق خدشات نے توانائی کی عالمی سپلائی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

  19. الگایا نامی تیل بردار بحری جہاز کو نشانہ بنائے جانے کا واقعہ ایک ماہ پرانا ہے: امریکی فوج

    آبنائے ہرمز میں تیل بردار بحری جہاز (فائل فوٹو)

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنآبنائے ہرمز میں تیل بردار بحری جہاز (فائل فوٹو)

    امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے کہا ہے کہ تیل بردار بحری جہاز ’الگایا‘ کو نشانہ بنائے جانے کا واقعہ ایک ماہ پرانا ہے۔

    اس سے قبل ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی بحری کمانڈ نے دعویٰ کیا تھا کہ بحری جہاز ’الگایا‘ آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے میں بحری بارودی سرنگ سے ٹکرایا، جس کے بعد اس میں آگ بھڑک اٹھی اور بالآخر پورا جہاز شعلوں کی لپیٹ میں آ گیا۔

    سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں پاسداران انقلاب کے اس دعوے کو غلط قرار دیا ہے۔

    سینٹکام کا دعویٰ ہے کہ پاناما کے پرچم بردار آئل ٹینکر الگایا کو گذشہ ماہ ایک ایرانی میزائل نے نشانہ بنا کر ناکارہ بنا دیا تھا۔

    سینٹکام کے مطابق اس ہفتے کے اختتام پر ایران نے اسی ٹینکر کو دوبارہ ایک ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا، جب وہ عمان کے ساحل کے قریب پانیوں میں موجود تھا۔

    سوشل میڈیا پوسٹ میں سینٹکام کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ ٹینکر کو اِس وقت ایک علاقائی شراکت دار کی جانب سے کھینچ کر لے جایا جا رہا ہے۔

    آئل ٹینکر کے بحری بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے مؤقف کو جھٹلاتے ہوئے سینٹکام نے کہا کہ یہ دعویٰ ایک مثال ہے کہ جب پاسداران انقلاب آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں تو کس طرح جھوٹ بولتے ہیں اور دھمکاتے ہیں۔

  20. آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے میں سپر ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا کر نذرِ آتش، پاسداران انقلاب

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحری کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ ’الگایا‘ نامی سپر ٹینکر آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے میں بحری بارودی سرنگ سے ٹکرا کر حادثے کا شکار ہوگیا۔

    پاسداران انقلاب کی نیوی کے بیان کے مطابق ٹکر کے بعد ٹینکر میں آگ بھڑک اٹھی، جس پر قابو پانے کی کوششیں ناکام رہیں اور بالآخر پورا جہاز شعلوں کی لپیٹ میں آ گیا۔

    ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے میں پیش آیا، جسے عمان نے قابلِ استعمال قرار دیا ہے، جبکہ امریکہ اس راستے کو ’خطرناک‘ اور ’غیر قانونی‘ قرار دے چکا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں ایک بار پھر اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ آبنائے ہرمز بدستور بند ہے اور اس آبی گزرگاہ کے ذریعے بحری آمدورفت معمول پر نہیں آئی ہے۔