یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
12 اکتوبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
پاکستان تحریک انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ پارٹی کے دیگر سینیئر رہنما بھی حراست میں لے لیے گئے ہیں۔ اُدھر گورنر کے زیر صدارت اجلاس میں پشاور میں کنٹینرز ہٹانے اور انٹرنیٹ سروس کی جزوی بحالی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
12 اکتوبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پاکستان کے سابق صدر عارف علوی نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور صوبائی حکومت کی معطلی پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے ’جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل‘ قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں عارف علوی نے کہا کہ جس صوبے کے ’دو تہائی مینڈیٹ کو چرایا نہ جا سکا‘، اسے اسلام آباد کی ’غیر نمائندہ اور جعلی حکومت‘ نے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کو ہٹانے کا حق صرف خیبر پختونخوا کے عوام کو حاصل تھا۔
سابق صدر نے دعویٰ کیا کہ تمام اطلاعات کے مطابق اس بحران کی واحد وجہ سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات تھی۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کے پیغام کو عوام تک پہنچنے سے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ذاتی عناد ملک کو تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔
عارف علوی نے اپنے بیان میں ملک میں سیاسی کارکنوں اور منتخب نمائندوں کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک پر بھی تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ منتخب پی ٹی آئی نمائندوں کو اغوا اور تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ قانون کی حکمرانی کمزور پڑ رہی ہے۔
انھوں نے بلوچستان اور کشمیر کے حالات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پرامن احتجاج کو طاقت کے ذریعے دبانے کی پالیسی اب خیبر پختونخوا تک پھیلائی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اور اس کے حامی پرامن سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
سابق صدر نے کہا کہ عمران خان تشدد کے خلاف ہیں اور ان کی جماعت ہر صورت آئینی اور پرامن راستہ اختیار کرے گی۔ اپنے پیغام کے اختتام پر انھوں نے حکومت کے اقدامات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ عمران خان اور ان کے حامی سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

،تصویر کا ذریعہPID
گورنر خیبر پختونخوا نے صوبے کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، سکیورٹی چیلنجز اور انتظامی امور کا جائزہ لینے کے لیے آج (پیر کو) اپیکس کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔
گورنر ہاؤس کے اعلامیے کے مطابق اجلاس میں سکیورٹی اداروں، سول انتظامیہ اور دیگر متعلقہ حکام کی شرکت متوقع ہے۔ اجلاس کے دوران صوبے میں امن و امان کی موجودہ صورتحال، دہشت گردی کے واقعات، سرحدی علاقوں کی سکیورٹی اور ایمرجنسی و گورنر راج کے نفاذ کے بعد انتظامی معاملات کا جائزہ لیا جائے گا۔
اعلامیے کے مطابق اجلاس میں صوبے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی جائے گی جبکہ عوام کے جان و مال کے تحفظ اور حکومتی رٹ کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر بھی غور کیا جائے گا۔
یہ اجلاس ایسے وقت طلب کیا گیا ہے جب خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سیاسی اور انتظامی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں اہم فیصلوں اور آئندہ کے لائحۂ عمل کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اپیکس کمیٹی صوبے میں سول و عسکری قیادت کے درمیان رابطے کا اہم فورم سمجھی جاتی ہے اور اس کے اجلاسوں میں امن و امان، انسدادِ دہشت گردی اور سکیورٹی سے متعلق امور پر فیصلے کیے جاتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPresident House
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت اور اس کی اتحادی جماعتوں نے خیبرپختونخوا حکومت اور پاکستان تحریکِ انصاف کی قیادت کے ساتھ پارلیمانی رابطوں، براہِ راست مذاکرات اور پسِ پردہ سفارت کاری سمیت تمام ممکنہ ذرائع آزمائے، تاہم تعاون کی راہ ہموار نہ ہو سکی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں محسن نقوی نے کہا کہ خیبرپختونخوا دہشت گردی کا سب سے زیادہ بوجھ اٹھانے والے صوبوں میں شامل رہا ہے، جہاں سکیورٹی فورسز اور شہریوں نے امن کے قیام کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول ایسے حالات میں تصادم کے بجائے تعاون کو ترجیح دی جانی چاہیے تھی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
انھوں نے کہا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ کوئی سیاسی فیصلہ یا آسان قدم نہیں تھا، بلکہ زمینی حقائق کے پیشِ نظر ایک مشکل آئینی اقدام تھا۔ محسن نقوی کے مطابق جب تعاون کے تمام راستے ختم ہو جائیں تو آئین اور پاکستان کے وسیع تر مفاد کو ترجیح دینا ضروری ہو جاتا ہے۔
وزیر داخلہ نے اپنے بیان کے اختتام پر پاکستان کے لیے امن و استحکام کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ ملک کو محفوظ رکھے اور قوم کو پائیدار امن سے نوازے۔

،تصویر کا ذریعہPID
پاکستان تحریک انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ پارٹی کے دیگر سینیئر رہنما بھی حراست میں لے لیے گئے ہیں۔
پی ٹی آئی کے ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری اکرام کھٹانہ کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں صوبائی صدر جنید اکبر، اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی اور رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک بھی شامل ہیں۔
انھوں نے کہا کہ صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ خیبرپختونخوا کے عوام کے مینڈیٹ پر حملہ ہے اور منتخب عوامی نمائندوں کی گرفتاری قابل مذمت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کارکن جلد سڑکوں پر ہوں گے کیونکہ صوبائی صدر پہلے ہی اس حوالے سے ہدایات جاری کر چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPID
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت صوبے میں امن و امان اور سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں سکیورٹی اداروں اور صوبائی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں مشیر داخلہ کفایت اللہ خان، چیف سیکرٹری ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان، انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم امجد علی خان، ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ محمد کاشف عالم، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی، سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید، جوائنٹ ڈائریکٹر جنرل آئی بی ارشد علی خان سمیت دیگر متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اجلاس کے دوران گورنر کو صوبے میں امن و امان، انسداد دہشت گردی اقدامات اور مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ موجودہ حالات کے پیش نظر فیصلہ کیا گیا کہ صوبے بھر کے تعلیمی ادارے آج بند رکھے جائیں گے۔
اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ پشاور میں نصب کنٹینرز کو مرحلہ وار ہٹایا جائے گا، جبکہ انٹرنیٹ سروس بھی ضرورت کے مطابق جزوی طور پر بحال کی جائے گی تاکہ معمولاتِ زندگی بتدریج بحال ہو سکیں۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے انتظامیہ اور پولیس کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات کے باوجود کسی بڑے ناخوشگوار واقعے کا پیش نہ آنا خوش آئند ہے۔
انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کیا جائے گا تاکہ امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔

،تصویر کا ذریعہPID
صوبے میں انتظامی تبدیلیاں
دوسری جانب گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبائی بیوروکریسی اور پولیس میں بڑے پیمانے پر تبادلوں کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر 18 ڈپٹی کمشنروں کو تبدیل کرتے ہوئے انھیں ہیومن ریسورس منیجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
تبادلوں کی زد میں آنے والے افسران میں واصف رحمان (مردان)، طارق اللہ (صوابی)، مقبول حسین (چترال لوئر)، منظور آفریدی (دیر اپر)، عبداللہ شاہ (شانگلہ)، فیاض شیرپاؤ (ملاکنڈ)، سلیم جان (سوات)، سہیل احمد (اپر سوات)، محمد شعیب (بٹگرام)، خالد اقبال (مانسہرہ)، سرمد سلیم (ایبٹ آباد)، اصلاح الدین (ہری پور)، کیپٹن ثناء اللہ (پشاور)، فضل رحیم (چارسدہ)، محمد فہیم (بنوں)، حمیداللہ (لکی مروت) اور اسد سرور (کرک) شامل ہیں۔
حکومت کی جانب سے متعدد اضلاع میں نئے ڈپٹی کمشنر بھی تعینات کر دیے گئے ہیں۔ ان میں شاہ سعود کو مردان، نصر اللہ کو صوابی، وسیم احمد کو ہری پور، احسان اللہ کو چترال لوئر، عارف خان کو ملاکنڈ، دلنواز خان کو دیر اپر، شہریار قمر کو اپر سوات، گوہر علی کو بٹگرام، یاسر علی کو مانسہرہ، میاں بہزاد عادل کو ایبٹ آباد، شاہد رفیق کو لکی مروت، منصور ارشد کو چارسدہ، آفاق وزیر کو پشاور، ضیاء الرحمان کو بنوں اور عدنان ابرار کو سوات کا ڈپٹی کمشنر مقرر کیا گیا ہے۔

صدرِ پاکستان کی منظوری کے بعد خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد اتوار کے روز صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ، پی ٹی سی ایل اور دیگر مواصلاتی خدمات معطل رہیں جبکہ رات گئے بعض علاقوں میں وائی فائی سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی۔ تاہم موبائل فون سروس اور سگنلز اتوار کی رات تک بند رہے۔
دوسری جانب ڈپٹی کمشنر پشاور نے پیر 12 اکتوبر کو ضلع کی حدود میں تمام سرکاری و نجی سکولوں، کالجوں اور جامعات کی بندش کا اعلامیہ جاری کر دیا ہے۔
صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی قیاس آرائیاں گذشتہ شب ہی شروع ہو گئی تھیں۔ موبائل فون سروس رات سے معطل تھی جبکہ انٹرنیٹ سروس اتوار کی دوپہر کے بعد بند کر دی گئی۔ بی آر ٹی سروس بھی معطل رہی۔

اتوار کی صبح شہریوں کو اس وقت نئی صورتحال کا علم ہوا جب صوبے میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی معطلی اور گورنر راج کے نفاذ کی اطلاعات سامنے آئیں۔ پشاور کینٹ کی جانب جانے والے متعدد راستے کنٹینرز اور خاردار تاریں لگا کر بند کر دیے گئے تھے جبکہ مختلف مقامات پر پولیس کی نفری بھی تعینات کی گئی تھی۔
شہریوں کی بڑی تعداد مختلف مقامات پر لگائے گئے کنٹینرز اور رکاوٹوں کو دیکھنے کے لیے جمع ہوتی رہی۔ کوریج کے دوران فردوس کے علاقے میں تعینات ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انھیں دو روز قبل یہاں ڈیوٹی کے لیے تعینات کیا گیا تھا اور ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ ڈیوٹی کب تک جاری رہے گی۔

تاہم شہر کے دیگر حصوں میں معمولات زندگی بڑی حد تک معمول کے مطابق رہے۔ اتوار کے روز پشاور میں عموماً ٹریفک اور تجارتی سرگرمیاں دیگر ایام کے مقابلے میں کم ہوتی ہیں اور اس بار بھی یہی صورتحال دیکھی گئی۔
اتوار کو پشاور سمیت صوبے کے کسی حصے سے بڑے احتجاج یا مظاہروں کی اطلاعات موصول نہیں ہوئیں۔ تاہم پاکستان تحریک انصاف پشاور نے پیر کے روز ہشت نگری میں احتجاجی مظاہرے کی کال دے دی ہے، جس کے بعد شہر میں سکیورٹی انتظامات مزید سخت کیے جانے کا امکان ہے۔

،تصویر کا ذریعہPTI
گورنر راج، ایمرجنسی اور رہنماؤں کی گرفتاریوں کے خلاف پی ٹی آئی پشاور کا کل احتجاج کا اعلان
ضلعی صدر پاکستان تحریک انصاف پشاور عرفان سلیم نے صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف کل بروز پیر 12 اکتوبر کو پشاور میں احتجاج کی کال دے دی ہے۔
جاری بیان کے مطابق احتجاج ہشتنگری جی ٹی روڈ، پشاور پر دن 12 بجے کیا جائے گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ احتجاج وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی، صوبائی صدر پی ٹی آئی جنید اکبر خان، سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی اور دیگر پارٹی قیادت و کارکنان کی گرفتاریوں کے خلاف ہوگا۔ واضح رہے کہ ابھی حکام نے ان گرفتاریوں کی تصدیق نہیں کی ہے۔
عرفان سلیم نے پشاور کے عوام، پارٹی کارکنان، تنظیمی عہدیداران، پارلیمنٹیرینز اور ٹکٹ ہولڈرز سے اپیل کی ہے کہ وہ احتجاج میں بھرپور شرکت کریں۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج پُرامن ہوگا اور اس کا مقصد گورنر راج، ایمرجنسی کے نفاذ اور پارٹی قیادت کے خلاف کارروائیوں کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔
بیان پاکستان تحریک انصاف، ضلع پشاور کی جانب سے جاری کیا گیا۔

پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی مزاحمت جاری رہے گی اور عوام کو ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ ’ہماری مزاحمت جاری رہے گی۔‘ انھوں نے لکھا کہ ’25 کروڑ پاکستانیوں میں سے اگر صرف دو سے چار فیصد لوگ بھی اپنے گھروں کی دہلیز پر آ جائیں تو یہ نظام پاش پاش ہو جائے گا۔ ہمیں ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ہے۔‘
پاکستان تحریک انصاف کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ نے بھی سلمان اکرم راجہ کا یہ بیان شیئر کیا، جس پر کارکنان اور حامیوں کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یمن کے حوثی گروہ نے ہفتے کے روز سعودی عرب کے شہر ریاض میں واقع کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا ہے اور اپنی اس تنبیہ کو دہرایا ہے کہ لوگ سعودی عرب کے ایئرپورٹس کا استعمال نہ کریں۔
حوثیوں کے ترجمان یحییٰ سریع نے ٹیلی گرام پر کہا کہ یہ کارروائی ’ہمارے ملک اور ہمارے عوام کے خلاف سعودی جارحیت‘ کے جواب میں کی گئی۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران حوثیوں کے زیرِ کنٹرول یمنی علاقوں پر 124 فضائی حملے کیے۔
سریع کے مطابق حوثیوں نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران چار کارروائیاں کیں، جن میں کنگ خالد ایئرپورٹ پر تین مراحل میں حملے، شُگدم گیس فیسلٹی پر حملہ، آرامکو کی تنجیب آئل ریفائنری پر حملہ اور دمام میں واقع کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہ شامل ہیں۔
حوثیوں کے ترجمان نے اپنے بیان میں مزید کہا: ’ہم تمام بین الاقوامی کمپنیوں، ماہرین، ملازمین، کارکنوں اور دنیا بھر سے سفر کرنے والوں کے لیے اپنی تنبیہ دوبارہ دہراتے ہیں کہ وہ سعودی ہوائی اڈوں کے لیے پروازیں نہ چلائیں کیونکہ وہ محفوظ نہیں ہیں، سوائے مکہ اور مدینہ کے مقدس شہروں کے ہوائی اڈوں اور فضائی حدود کے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یمن کے حوثیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ہفتے کے روز ریاض کے ایئرپورٹ کو اپنا ’ہدف‘ بنا کر حملے کیے، جس کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے۔
حوثی گروہ نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے ’تین مراحل میں ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں فضائی آمدورفت معطل ہو گئی اور ہوائی اڈہ مکمل طور پر بند کر دیا گیا۔‘
آل پاکستان وکلا ایکشن کمیٹی کے چیئرمین علی احمد کرد اوربلوچستان بار کونسل کے عہدیدار راحب خان بلیدی نے خیبر پختونخواہ میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’بدترین آمریت‘ کی مثال قرار دیا ہے۔
ایک مذمتی بیان میں انھوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کی ’جمہوریت عوام کے سامنے عیاں ہوچکی ہے اور یہ عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے۔‘
انھون نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کو غیر آئینی اقدام قرار دے کر اسے مسترد کیا اور کہا کہ ان ’غیر آئینی اقدامات‘ کے خلاف آئندہ کا لائحۂ عمل طے کریں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے ریاض ایئرپورٹ پر ’حوثیوں کے حملے‘ کی مذمت کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ اس میں چھ پاکستانی شہری بھی زخمی ہوئے ہیں۔
اتوار کو اپنے ایک بیان میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ’شہریوں اور بنیادی انفراسٹرکچر کو ہدف بنانے والے حملے مکمل طور پر ناقابل قبول ہیں، بین الاقوامی قانونی کی خلاف ورزی اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔‘
پاکستانی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ انھوں نے ریاض میں سفارتخانے کو ہدایت دی ہے کہ وہ زخمی پاکستانی شہریوں کو ہر ممکن معاونت فراہم کرے۔
’پاکستان مکہ دفاعی معاہدے کے مطابق سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے اپنے عزم پر ثابت قدم ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہFile Photo: Getty Images
’مزاحمت کے محور‘ کے حصے کے طور پر حوثی ایران کے ایک اہم سٹریٹجک پارٹنر سمجھے جاتے ہیں۔
اس وقت بحیرۂ احمر کی بحری تجارتی گزرگاہ کی اہمیت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے کیونکہ اس کے دوسرے کنارے پر واقع آبنائے ہرمز امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ نہ ہو سکنے کے باعث اب تک مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی ہے۔
بحیرۂ احمر میں جہازوں کو نشانہ بنانا حوثیوں کے لیے دباؤ بڑھانے کا ایک اور ذریعہ ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں عالمی معیشت کو نقصان پہنچتا ہے، جسے تہران کے لیے ایک اہم سفارتی اور سٹریٹجک دباؤ کے آلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
ستمبر کے آغاز میں وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ وہ یمن کے تنازع میں براہِ راست مداخلت نہیں کرے گا، تاہم سعودی عرب کو انٹیلی جنس معاونت فراہم کر سکتا ہے۔ بعد میں اس نے تصدیق کی کہ وہ انٹیلی جنس معلومات فراہم کر رہا ہے اور اس نے سعودی عرب میں فوجی ماہرین بھی تعینات کیے ہیں۔
تاہم ریاض پر ہونے والے حالیہ حملے، جس میں ایک امریکی شہری بھی ہلاک ہوا، کے بعد صورتحال نے ممکنہ طور پر ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز ہونے والے حملے کو ’ہولناک‘ قرار دیا اور اشارہ دیا کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ مل کر حوثیوں کے خلاف فوجی مداخلت پر غور کر سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ ’ہمیں ابھی حالیہ حملے کے بارے میں معلوم ہوا ہے، اس لیے ہم اب فیصلہ کریں گے۔ ہم بہت تیزی سے اقدامات کرتے ہیں۔‘
تاہم اب ایسا کم از کم اگلے ماہ ہونے والے اہم امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حوثیوں کے زیرِ انتظام المسیرہ ٹی وی نے ابھی رپورٹ کیا ہے کہ ’سعودی دشمن‘ نے یمن کے صنعا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فضائی حملہ کیا ہے۔
سعودی قیادت میں قائم اتحاد، جو یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرتا ہے، نے ابھی تک اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ سعودی حکومت کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
یہ پیش رفت اُس وقت سامنے آئی ہے جب سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے ہفتے کے روز ریاض کے بین الاقوامی ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے کا ذمہ دار حوثیوں کو ٹھہرایا تھا۔
سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد کا کہنا ہے کہ ریاض میں واقع کنگ خالد انٹرنیشنل ایئر پورٹ ایک بار پھر حملوں کی زد میں آیا ہے۔
سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق ایک ’نامعلوم پروجیکٹائل‘ نے ایئر پورٹ کے مسافر ہال نمبر 4 کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی اور متعلقہ حکام اس پر قابو پانے کے لیے کارروائی کر رہے ہیں۔
ایک علیحدہ بیان میں انھوں نے کہا کہ فضائی دفاعی نظام نے ہوائی اڈے کے قریب ایک کروز میزائل کو تباہ کر دیا ہے۔
سعودی عرب کی قیادت میں قائم یہ اتحاد 2015 میں اس وقت تشکیل دیا گیا تھا جب متعدد عرب ممالک نے مل کر حوثیوں کو یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت سے اقتدار چھیننے سے روکنے کے لیے فوجی مہم شروع کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہNational Assembly/X
پاکستان کی وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کر دیا ہے، جس کے بعد صوبائی حکومت غیر فعال ہوگئی ہے اور اس کے بعد گورنر فیصل کریم کنڈی اور ان کی 11 رکنی کونسل صوبائی امور چلائے گی۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان مذاکرات سنیچر کی رات تک جاری تھے تو پھر معاملات خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی تک کیسے پہنچے؟
پی ٹی آئی اور وفاقی حکومت کے درمیان بلاواسطہ یا بالواسطہ مذاکرات میں اس وقت تعطل پیدا ہوا جب چند روز قبل قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق کے دفتر میں حکومتی وفد اور پاکستان پی ٹی آئی کے درمیان ہونے والی بات چیت کے دوران سکیورٹی کے معاملے کو زیر بحث لایا گیا۔
حکومت کے مطابق پی ٹی آئی کے نمائندہ وفد نے مؤقف اختیار کیا کہ لانگ مارچ ختم کرنے کا اختیار ان کے پاس نہیں، جبکہ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات صرف عمران خان کی صحت اور ان کی رہائی سے متعلق تھے۔
اس پیش رفت کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان براہِ راست رابطہ منقطع ہوگیا اور ان کی توجہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی جانب مبذول ہوگئی۔
حکومت اور پی ٹی آئی کے نمائندہ وفود نے مولانا فضل الرحمٰن سے رابطہ کیا اور ان سے معاملے کے حل کے لیے کردار ادا کرنے کی درخواست کی، تاہم آخری وقت تک کی جانے والی کوششیں نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکیں۔
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے سابق وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات اور ان کی صحت کے معاملے کو بنیاد بنا کر لانگ مارچ کے اعلان کے بعد سے ہی صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق خبروں میں تیزی آ گئی تھی۔
پی ٹی آئی نے لانگ مارچ کا آغاز بھی خیبر پختونخوا سے ہی کیا تھا اور سہیل آفریدی نے اپنی جماعت کے کارکنوں کو 13 اکتوبر کو صوابی پہنچنے کی ہدایت کی تھی، جہاں وہ آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرنے والے تھے۔

،تصویر کا ذریعہPrime Minister's Office/X
تاہم اسی دوران شدت پسندی کے واقعات میں اضافے اور وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے بقول جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب کرم کے قریب پاک افغان سرحد پر شدت پسندوں کی دراندازی کی کوشش کے بعد، جس میں سکیورٹی فورسز نے 12 مبینہ شدت پسندوں کو ہلاک کیا، تمام متعلقہ فریق اس نتیجے پر پہنچے کہ صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کے سوا کوئی اور راستہ باقی نہیں رہا۔
ہفتے کے روز وزیر اعظم شہباز شریف چند وفاقی وزرا کے ہمراہ ایوانِ صدر پہنچے، جہاں انھوں نے صدر آصف علی زرداری اور پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
اس کے علاوہ وزیر اعظم کی صدارت میں ایک علیحدہ اجلاس بھی ہوا، جس میں سکیورٹی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال، افغانستان کی جانب سے صوبے کے مختلف علاقوں میں ہونے والے ڈرون حملوں، خفیہ اداروں کی رپورٹس اور دیگر سکیورٹی معاملات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
یہ اجلاس ختم ہی ہوا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن وزیر اعظم ہاؤس پہنچ گئے۔
انھوں نے صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کے بجائے سیاسی افہام و تفہیم کے ذریعے مسئلے کے حل اور اپوزیشن کے ساتھ دوبارہ مذاکرات شروع کرنے پر زور دیا۔
وزیر اعظم سے ملاقات سے قبل پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر بھی مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کر چکے تھے۔

،تصویر کا ذریعہPTV/Screengrab
وزیر اعظم سے ملاقات کے دوران مولانا فضل الرحمٰن نے پی ٹی آئی قیادت کا پیغام حکومت تک پہنچایا۔ اس پر حکومتی مؤقف یہ تھا کہ اگر صوبائی حکومت لانگ مارچ ختم کرے اور شدت پسندی کے خاتمے کے لیے وفاقی حکومت کی پالیسیوں پر عمل درآمد یقینی بنائے تو حکومت دوبارہ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد مولانا فضل الرحمٰن اپنے گھر پہنچے ہی تھے کہ بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر ایک بار پھر ان سے ملاقات کے لیے پہنچ گئے۔
ذرائع کے مطابق جب پی ٹی آئی رہنماؤں کو حکومتی مؤقف سے آگاہ کیا گیا تو وہ وہاں سے روانہ ہوگئے۔ بعد ازاں پی ٹی آئی نے اپنی کور کمیٹی کا اجلاس طلب کیا، جس میں ایک جانب مسئلے کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کی بات کی گئی، جبکہ دوسری جانب سہیل آفریدی کی قیادت میں جاری لانگ مارچ کی حمایت جاری رکھنے کا بھی اعادہ کیا گیا۔
ادھر ایوانِ صدر میں وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد صدر مملکت نے خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی کو طلب کیا اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ لی۔
پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے بی بی سی کو بتایا کہ وزیر اعظم نے صدر سے ملاقات کے بعد وزیر داخلہ محسن نقوی کو پی ٹی آئی قیادت سے دوبارہ رابطہ کرنے کی ہدایت کی۔
ان کے مطابق محسن نقوی نے پی ٹی آئی رہنماؤں سے رابطہ کیا اور واضح کیا کہ حکومت صرف یہ چاہتی ہے کہ شدت پسندی کے خاتمے کے معاملے میں صوبائی حکومت اس کی پالیسی کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ تاہم وفاقی وزیر کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے اس پر کوئی مثبت ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں حالات انتہائی خراب ہیں اور صوبائی حکومت وہاں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی، جس کے باعث مقامی آبادی عدم تحفظ کا شکار ہے۔
ان کے بقول امن و امان کا معاملہ سیاسی نہیں بلکہ قومی اور اجتماعی نوعیت کا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس سے قبل خفیہ اداروں کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹس میں شدت پسندی کے واقعات میں تقریباً 200 فیصد اضافے کی نشاندہی کی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہPTI/X
دوسری جانب پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی اور سابق وفاقی وزیر علی محمد خان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے ساتھ ہونے والے تمام بلاواسطہ یا بالواسطہ مذاکرات کا محور صرف عمران خان کی صحت اور ان کی رہائی کا معاملہ تھا۔
ان کے مطابق انہی مذاکرات کے دوران حکومت نے صوبے کی سکیورٹی اور امن و امان کی صورتحال کو موضوع بحث بنایا، جس پر پی ٹی آئی کی جانب سے واضح کیا گیا کہ سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، تاہم یہ معاملہ وفاقی اور صوبائی حکومت کو باہمی مشاورت سے طے کرنا چاہیے۔
علی محمد خان کا کہنا تھا کہ حکومتی وفد سکیورٹی کے معاملے کو مذاکرات کا حصہ بنانے پر اصرار کرتا رہا اور اسی ہٹ دھرمی کے باعث بات چیت تعطل کا شکار ہوئی۔
انھوں نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں بھی پی ٹی آئی نے یہی مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات صرف عمران خان کی صحت اور رہائی تک محدود تھے۔
علی محمد خان کے مطابق خیبر پختونخوا کو امن و امان کے مسائل ضرور درپیش ہیں، لیکن صورتحال اس حد تک نہیں پہنچی کہ وہاں ایمرجنسی نافذ کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں امن و امان کی سب سے خراب صورتحال اس وقت بلوچستان میں ہے۔
وزیر اعظم ہاؤس میں تعینات ایک اہلکار کے مطابق اتوار کی صبح چھ بجے مولانا فضل الرحمٰن نے وزیر اعظم سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور انہیں پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔
اس کے بعد مولانا فضل الرحمٰن نے دوبارہ پی ٹی آئی قیادت سے رابطہ کرکے انہیں حکومتی مؤقف سے آگاہ کیا۔
بعد ازاں وزیر اعظم شہباز شریف کی صدارت میں وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزیر اعظم نے کابینہ ارکان کو صوبے کی مجموعی صورتحال اور شدت پسندی کے واقعات کی روک تھام میں صوبائی حکومت کی مبینہ عدم دلچسپی کے بارے میں آگاہ کیا۔
اجلاس کے دوران وقفے میں بھی وزیر اعظم نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو مولانا فضل الرحمٰن سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن سے کہا گیا کہ وہ پی ٹی آئی قیادت سے دریافت کریں کہ آیا حکومت کی پیش کردہ تجاویز انہیں قابل قبول ہیں یا نہیں، کیونکہ وفاقی حکومت کسی جماعت کا مینڈیٹ سلب نہیں کرنا چاہتی۔
تاہم مولانا فضل الرحمٰن کو پی ٹی آئی کی جانب سے کوئی حوصلہ افزا جواب موصول نہ ہونے کے بعد وفاقی کابینہ نے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی سمری کی منظوری دے دی، جسے حتمی منظوری کے لیے صدر مملکت کو بھجوا دیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہPTI/X
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی کی جانب سے لانگ مارچ کا اعلان اب بھی برقرار ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
اتوار کو خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ’لانگ مارچ کا جو اعلان سہیل آفریدی نے کیا تھا، اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ اب یہ آگے کیسے بڑھے گا، وہاں کیسے حالات ہیں، بربریت کی کیا نوعیت ہے وہ مقامی قیادت بہتر جانتی ہے۔‘
انھوں نے واضح کیا کہ ان کا فی الحال پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔
’ہم سیاسی لائحہ عمل اپنائیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ احتجاج کرنا عوام کا بنیادی اور آئینی حق ہے۔‘
دوسری جانب سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران وفاقی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ سمجھتے ہیں کہ آپ جیت گئے؟ آپ ہار گئے ہو، پاکستان میں اس راستے سے امن نہیں آئے گا۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کے دوران حکومتی کمیٹی نے شرط عائد کی کہ وزیر اعظم سے ملاقات لانگ مارچ کو ختم کرنے کے اعلان کے بعد ہی ہو سکتی ہے۔
علامہ راجہ ناصر عباس کا مزید کہنا تھا کہ ’لانگ مارچ آئین اور قانون کے مطابق ہے۔ وہ پر امن تھا، وہ لکی مروت سے چلا اور پشاور تک آیا، مردان تک آیا۔ کوئی امن و امان کی خلاف ورزی ہوئی ہے وہاں پر؟‘
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے ’دہشتگردی سے متعلق خود غلط پیش گوئی کی، بیانیہ بنایا اور پھر یہ اقدام (ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ) کیا۔‘

،تصویر کا ذریعہScreengrab
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے قائم کی گئی خیبر پختونخوا مشاورتی کونسل کا پہلا اجلاس اتوار کو گورنر فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس کے آغاز میں کونسل کے تمام ارکان نے اپنا تعارف اور اپنے اپنے محکموں سے متعلق ذمہ داریوں سے آگاہ کیا۔
فیصل کریم کنڈی نے امن کی بحالی کو پہلی ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ کل یعنی پیر کو ایپکس کمیٹی کی میٹنگ ہوگی، جس میں دہشتگردی کے خاتمے سے متعلق امور پر مشاورت کی جائے گی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کونسل کے ارکان کو مبارکباد دی اور کہا کہ انھیں متعدد چیلنجز کا سامنا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ ارکان کو اپنے محکموں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی جائے گی اور انھیں ذمہ داریوں کو سمجھنے کے لیے چند روز کا وقت بھی دیا جائے گا۔
گورنر نے کہا کہ صوبے کے معاملات کو تیز رفتاری سے آگے بڑھانا ہوگا، کرپشن کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہوگی اور تمام کام بروقت مکمل کیے جائیں گے۔ ان کے بقول نئی انتظامیہ کو اپنی کارکردگی سے واضح طور پر سابقہ انتظامیہ سے مختلف نظر آنا ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ مشاورتی کونسل کی پہلی ترجیح صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے دیگر صوبوں کے کامیاب تجربات سے بھی رہنمائی لینے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔
فیصل کریم کنڈی نے موجودہ حالات کو ایک موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کا مثبت اور نرم تشخص اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اگر صوبے میں امن قائم ہو جائے تو سیاحت اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔ انھوں نے کونسل ارکان کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ وہ چوبیس گھنٹے ان کے لیے دستیاب ہیں۔
عوام کے نام اپنے پیغام میں گورنر نے کہا کہ غیر معمولی حالات کے باعث آئین کے تحت ضروری اقدامات کیے گئے ہیں۔ انھوں نے سیاسی الزام تراشی اور بیانات سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ان کا واحد پیغام یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں امن، تحفظ اور استحکام بحال کیا جائے۔
انھوں نے کہا کہ صوبے کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ انھیں پائیدار امن فراہم کیا جائے۔ ان کے بقول ریاست کی جنگ دہشت گردی، اس کی پشت پناہی کرنے والی سوچ اور ان نیٹ ورکس کے خلاف ہے جو قانون کی عملداری کو کمزور کرتے ہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے مزید کہا کہ پشتون دہشت گردی کا سبب نہیں بلکہ اس کے سب سے بڑے متاثرین ہیں، اسی لیے ریاست نے عزم کر رکھا ہے کہ خیبر پختونخوا سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے گا اور عوام کو خوف سے آزاد ماحول فراہم کیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح امن کا تحفظ اور عوام کی جان و مال کی حفاظت ہے۔ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائیوں کے لیے پولیس اور انسدادِ دہشت گردی محکمہ (سی ٹی ڈی) کی استعداد کار میں اضافہ کیا جائے گا۔
گورنر نے کہا کہ حکومت کی اصل آزمائش بیانات نہیں بلکہ عوامی خدمت ہوتی ہے۔ اسی لیے مشاورتی کونسل صحت، تعلیم اور روزگار کے شعبوں پر خصوصی توجہ دے گی تاکہ عوام کو عملی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

،تصویر کا ذریعہFacebook/JUIF
گذشتہ چند دنوں میں پاکستان کی وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے والے مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ انھیں پی ٹی آئی نے بتایا تھا کہ مطالبات پورے ہونے کی صورت میں وہ اپنا لانگ مارچ ختم کرنے کو تیار ہیں۔
اتوار کو ایک پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے پی ٹی آئی کے قائدین سے پوچھا تھا کہ ’آپ لانگ مارچ ختم کرنے پر آمادہ ہیں کہ نہیں،‘ جس پر مولانا فضل الرحمان کے مطابق انھیں بتایا گیا کہ ’اگر مطالبات مان لیے جائیں تو ہم لانگ مارچ ختم کرنے کو تیار ہیں۔‘
مولانا فضل الرحمان کے مطابق انھوں نے اتوار کی صبح فجر کی نماز کے وقت وزیر اعظم شہباز شریف سے رابطہ کیا اور صبح چھ بجے ان سے ملاقات کے لیے چلے گئے۔
مولانا فضل الرحمان کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے انھیں بتایا کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی عمران خان سے ملاقات بھی کروائی جائے گی اور ان کا علاج بھی کروایا جائے گا۔
جمعیت علما اسلام کے سربراہ نے مزید بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے انھیں کہا تھا کہ وہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ’کسی نتیجے پر‘ پہنچ جائیں گے۔
ان کے بقول وہ وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد واپس آئے اور پھر صبح ساڑھے 9 بجے انھیں بتایا گیا کہ وزیر اعظم ’سفارشات کابینہ کے سامنے پیش کریں گے تاکہ منظوری لی جا سکے۔‘
تاہم مولانہ فضل الرحمان کے مطابق صبح ساڑھے 10 بجے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے انھیں کال کر کے بتایا کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی لگا رہی ہے۔
صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت متعدد شہروں میں موبائل فون سگنلز اور انٹرنیٹ کی بندش کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں اور اس صورتحال کے باعث رابطوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
تاحال متعلقہ حکام کی جانب سے یہ تصدیق نہیں کی گئی ہے کہ آیا ان علاقوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز متاثر ہیں یا نہیں۔
بی بی سی اُردو نے پشاور میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے متعدد صوبائی رہنماؤں اور دیگر حکام سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ان تمام افراد سے رابطہ نہیں ہو سکا۔
اس صورتحال کے باعث خیبرپختونخوا کی سابق حکومت کے ذمہ داران کا موجودہ صورتحال پر مؤقف سامنے نہیں آ پا رہا ہے، تاہم تحریک انصاف کے مرکزی ’ایکس‘ ہینڈل کے ذریعے ایک، دو صوبائی رہنماؤں کے بیانات پوسٹ کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد چند شہریوں نے ’مٹھائی تقسیم‘ کی ہے، تاہم آزادانہ رابطے نہ ہونے کے باعث ان رپورٹس کی تصدیق ممکن نہیں ہے۔
بی بی سی اُردو کا بنوں میں ایک شہری سے رابطہ ہوا جنھوں نے بتایا کہ اُن کے علاقے میں’بازار معمول کے مطابق کھلے ہیں۔ نہ ہی ایمرجنسی یا گورنر راج کے حق میں کوئی مظاہرہ ہو رہا ہے اور نہ ہی خلاف۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
اسلام آباد میں وفاقی وزرا کی پریس کانفرنس کے دوران وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ خصوصی حکمنامے کے تحت قائم کردہ 11 رکنی مشاورتی کونسل میں ایسے افراد کو شامل کیا گیا ہے جو اپنے اپنے شعبوں کے ماہر ہیں اور جنھیں تکنیکی معاملات پر عبور حاصل ہے۔
اُن کے مطابق خیبر پختونخوا کے داخلہ اُمور کے معاملات کفایت اللہ خان (سابق کمشنر اور آئی جی جیل خانہ جات) دیکھیں گے جبکہ فنانس یعنی معیشت کے معاملات طارق محمود پاشا (سابق چیئرمین ایف بی آر)، قانون کے عامر جاوید (سابق ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخوا) اور تعلیم سے متعلقہ معاملات ڈاکٹر سید عامر عبداللہ (سابق عبوری صوبائی وزیر) دیکھیں گے۔
اُن کے مطابق اسی طرح صحت سے متعلق معاملات لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نگار جوہر خان (سابق سرجن جنرل پاکستان آرمی)، مائنز اینڈ منرلز ڈاکٹر سرفراز علی شاہ، انڈسٹریز اینڈ کامرس ڈاکٹر محمد ارشاد (سابق چیئرمین ایف بی آر)، کمیونیکیشن اینڈ ورکس آصف رفیق آفریدی (سابق عبوری صوبائی وزیر)، مذہبی اُمور طیب قریشی (جامعہ اشرفیہ)، توانائی عثمان سیف اللہ خان (سابق سینیٹر)، اطلاعات و نشریات سمر ہارون بلور (سابق ایم پی اے) دیکھیں گے۔