RoyalVisitPakistan#: شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن کا لاہور میں بادشاہی مسجد اور نیشنل کرکٹ اکیڈمی کا دورہ

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 6 منٹ

برطانوی شاہی جوڑا شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن دورۂ پاکستان کے چوتھے دن لاہور میں ہیں جہاں انھوں نے بادشاہی مسجد کا بھی دورہ کیا۔

شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن
،تصویر کا کیپشنبرطانوی شاہی جوڑے نے بادشاہی مسجد کے بعد لاہور میں شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کا دورہ کیا
شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن
،تصویر کا کیپشنشوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کے ڈاکڑوں نے شاہی جوڑے کو وہاں فراہم کی جانے والی سہولیات پر بریفنگ دی۔
شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن
،تصویر کا کیپشنشہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن نے شوکت خانم کینسر ہسپتال میں بچوں کے وارڈ کا دورہ کیا۔
شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن

برطانوی شاہی جوڑے نے بادشاہی مسجد کے مختلف حصے دیکھے۔

شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن

شاہی جوڑی نے قرآن کی تلاوت بھی سنی۔

شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن

شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن لاہور کی بادشاہی مسجد کے دورے پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن
کیٹ ولیم

اس سے قبل شاہی جوڑے نے نیشنل کرکٹ اکیڈمی کا دورہ کیا۔ اور اس موقعے ہر انھوں نے کھلاڑیوں سے ملاقات کی اور کرکٹ بھی کھیلی۔

کیٹ
کرکٹ
کیٹ
لائن

نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور سے بیبی سی اردو کا فیس بک لائیو

Facebook پوسٹ نظرانداز کریں

مواد دستیاب نہیں ہے

Facebook مزید دیکھنے کے لیےبی بی سی. بی بی سی بیرونی سائٹس پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے.

Facebook پوسٹ کا اختتام

لائن

لاہور پہنچنے پر وزیرِاعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور گورنر چوہدری سرور نے ائیرپورٹ پر ان کا استقبال کیا۔

کیٹ

اس موقعے پر وزیرِاعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ شاہی جوڑے کی تاریخی شہر لاہور آمد ہمارے لیے باعث اعزاز ہے۔

کیٹ

شاہی جوڑے سے ملاقات کے بعد وزیرِاعلیٰ پنجاب نے انھیں تحائف پیش کیے جن میں شہزادی کیٹ مڈلٹن کے لیے شال کا تحفہ بھی شامل تھا۔

کیٹ

گذشتہ روز شاہی جوڑے نے چترال کی وادیِ کیلاش کا دورہ کیا تھا جہاں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔

کیٹ

برطانوی شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ کیٹ مڈلٹن وادیِ کیلاش میں چترالی رقص سے لطف اندوز بھی ہوئے۔

کیٹ
کیٹ

اس سے قبل شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن کو وادی بروغل کے ایک گلیشیئر پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے حوالے سے ڈاکٹر فرخ بشیر کی جانب سے بریفنگ بھی ملی۔

کیٹ
کیٹ

انھوں نے زلزلے سے متاثرہ مقامی افراد سے ملاقات بھی کی۔

کیٹ
کیٹ

شہزادی کیٹ مڈلٹن نے چترال آمد پر ایک روایتی چترالی ٹوپی زیب تن کر رکھی تھی، جسے دیکھ کر کئی لوگوں کے ذہن میں ان کی ساس شہزادی ڈیانا کی یادیں تازہ ہو گیں۔

کیٹ، ڈیانا

ڈیانا نے اپنے 1991 کے دورے میں چترال کا دورہ کیا تھا اور مقامی لوگوں میں گھل مل گئں تھیں۔ وہاں کے لوگ انھیں ابھی بھی اچھے لفظوں میں یاد کرتے ہیں۔

اس موقع پر شہزادہ ولیم کو بھی حکام نے چترال کا مقامی لباس پیش کیا۔

شاہی جوڑا

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

اس سے قبل پاکستان آمد کے بعد پہلے روز شاہی جوڑا عمران خان سے ملنے وزیراعظم ہاؤس آیا جہاں ان کے لیے دوپہر کا کھانا رکھا گیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے وقت شہزادی کیٹ نے سبز رنگ کا لباس پہنا ہوا تھا۔

مانومنٹ

برطانوی شاہی جوڑا ایک رکشے میں بیٹھ کر پاکستان نیشنل مانومنٹ پہنچے جہاں ان کے اعزاز میں ایک عشائیہ منعقد کیا گیا۔ ۔ اس بار شہزادے اور شہزادی دونوں نے ہی منفرد روایتی پاکستانی لباس زیب تن کیا ہوا تھا۔

اس موقع پر اپنی تقریر میں شہزادہ ولیم نے کہا کہ پاکستانی ’ہم پر انحصار کر سکتے ہیں کہ ہم آپ کے حریف اور دوست کے طور پر اہم کردار ادا کرتے رہیں گے۔‘

کیٹ

اس سے قبل برطانوی شاہی جوڑا ایونِ صدر پہنچا تھا جہاں صدر عارف علوی اور خاتون اول نے ان کا اسقتبال کیا۔ ملاقات میں موسمیاتی تبدیلی اورغربت کے خاتمے سمیت مختلف موضوعات پر بات ہوئی۔

شاہی جوڑا

شاہی جوڑا اسلام آباد میں مختلف سماجی سرگرمیوں میں حصہ لے رہا ہے۔

اسلام آباد کے ایک سکول کے دورے پر انھوں نے اساتذہ اور بچوں سے ملاقاتیں کیں جبکہ مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں انھوں نے درختوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے بچوں سے بات چیت کی۔

شاہی جوڑا
شاہی جوڑا

شاہی جوڑے کی آمد پر سکول کے باہر انھیں ٹریفک پولیس کے اہلکاروں نے سلوٹ کیا۔

شاہی جوڑے نے نوجوان طلبہ کی ذہنی صحت پر توجہ دینے پر زور دیا ہے۔

شاہی جوڑا

اس موقع پر شہزادہ ولیم کا کہنا تھا کہ غریب گھرانوں سے آنے والے بچوں کے لیے بنیادی صحت کے مراکز کی کمی ہے۔

گرلز کالج کے ایک استاد سے گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ 'برطانیہ میں ہم کوشش کررہے ہیں کہ ذہنی صحت کے مسائل تعلیم کا حصہ بنیں۔'

شاہی جوڑا
شاہی جوڑا

برطانوی ہائی کمیشن کے مطابق انھوں نے سنہ 2011 سے پاکستان میں 55 لاکھ لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔

ایک سرکاری کالج میں طلبہ سے بات کرتے ہوئے شاہی جوڑے نے پاکستان میں خواتین کی شرح خواندگی کی کمی پر اظہار خیال کیا۔

شاہی جوڑا

’لیڈی ڈیانا کے فین‘

جہاں پاکستان میں شہزادی کیٹ اور لیڈی ڈیانا کے ملتے جلتے کپڑوں کی بات ہورہی ہے تو وہیں شاہی جوڑے کو اسلام آباد میں کئی بار یہ سننے کو ملا کہ وہ لیڈی ڈیانا کے چاہنے والے ہیں۔

شاہی جوڑا

کالج کی ایک طالبہ نے شہزادہ ولیم کو بتایا کہ وہ اور ان کی دیگر ہم جماعت ان کی والدہ کی فینہیں۔ جواب میں شہزادہ ولیم نے کہا ’آپ کا بہت شکریہ۔ میں بھی اپنی والدہ کا بڑ فین ہوں۔‘

’وہ یہاں تین مرتبہ آئیں۔ اس وقت میں بہت چھوٹا تھا۔ میں یہاں پہلی مرتبہ آیا ہوں۔ یہاں آنا اور آپ سے ملنا بہت اچھا رہا۔‘

کنسنگٹن پیلس کے مطابق خطے میں سکیورٹی اور سیاسی کشیدگی کے اعتبار سے یہ دونوں کا سب سے مشکل دورہ ہے۔

برطانوی ہائی کمیشن نے مقامی میڈیا کو منظم رہنے کی ہدایت کی ہے۔

پاکستان آمد

پیر کو شاہی جوڑے کا راولپنڈی کے نور خان ائیر بیس پر پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے استقبال کیا گیا تھا۔

شاہی جوڑا
،تصویر کا کیپشنشاہی جوڑے کا خیر مقدم کرنے کے لیے انھیں پھولوں کے گلدستے پیش کیے گئے

یہ شہزادہ ولیم اور شہزادی کیٹ میڈلٹن کا پہلا دورہ پاکستان ہے تاہم برطانوی شاہی خاندان کے دیگر افراد ماضی میں پاکستان آ چکے ہیں۔

سنہ 2006 میں شہزادہ ولیم کے والد شہزادہ چارلس نے اپنی اہلیہ، ڈچس آف کارن وال کامیلا پارکر کے ہمراہ پاکستان کا دورہ کیا تھا جبک ان کی والدہ'پرنسز آف ویلز شہزادی ڈیانا نے سنہ 1991، 1996 اور 1997 میں پاکستان کے دورے کیے تھے۔