خانہ جنگی کے شکار: پناہ گزین کیمپوں کی زندگی کیمرے کی نظر سے

وقت اشاعت

جنوبی سوڈان میں 2013 کے دوران خانہ جنگی شروع ہوئی تھی تب سے وہاں کے دس لاکھ سے زیادہ لوگ سرحد پار ملک یوگینڈا میں پناہ لے چکے ہیں۔

پناہ گزین کیمپ
،تصویر کا کیپشنجنوبی سوڈان میں خانہ جنگی کے بعد لاکھوں افراد نے سرحد پار پناہ لے لی تھی
پناہ گزین کیمپ
،تصویر کا کیپشنٹامی ٹرینکارڈ وہاں پہنچے اور وہاں کی زندگی کو اپنے کیمرے میں قید کیا۔
پناہ گزین کیمپ
،تصویر کا کیپشنمٹی کی دیوار پر لٹکے اس پوسٹر کو پڑھ کر بچے جانوروں کے نام یاد کرتے ہیں۔ بیڑی بیڑی کیمپ میں یہ گھر لونا کا ہے جو خانہ جنگی کے بعد اس پناہ گزین کیمپ میں پہنچی تھیں
کیمپ
،تصویر کا کیپشنکیمپ میں رہنے والے مالِس جسنٹ کی چھونپڑی
کیمپ
،تصویر کا کیپشنکھلونے والی کار سے کھیلتا ایک بچہ۔ یہاں پورے کیمپ میں بچے ایسی کاروں سے کھیلتے ہیں۔ یہ کاریں بوتلوں کے ڈھکن اور خراب پلاسٹک سے بنائی جاتی ہیں
کیمپ
،تصویر کا کیپشنافریقہ میں کھیلا جانے والا ایک کھیل جس میں زمین میں گڑھے بنا کر کنکر ڈالے جاتے ہیں
کیمپ
،تصویر کا کیپشنایک امدادی ایجنسی نے مالِس کو کھیتی کرنے کے لیے بیج اور اوزار دیے
کیمپ
،تصویر کا کیپشناس کیمپ میں رہنے والے پناہ گزینوں میں زیادہ تر بچے ہیں۔ پرتشدد منظر کی نصویر بناتی رچرڈ
کیمپ
،تصویر کا کیپشنپناہ گزینوں کو دیا جانے والا کھانا
کیمپ
،تصویر کا کیپشنسجاوٹ کے لیے مٹی کی دیوار پر ایک ٹرک کی تصویر بنائی گئی ہے
کیمپ
،تصویر کا کیپشنٹینٹ کے باہر رکھا گیا ایک سولر پینل۔ کیمپ میں بجلی آتی جاتی رہتی ہے اس لیے کچھ پناہ گزینوں نے سولر پینل خرید لیے ہیں
کیمپ
،تصویر کا کیپشنکیل پر لٹکی ٹارچ اور کراس
کیمپ
،تصویر کا کیپشننیل ندی کا پانی صاف کرنے کے بعد پناہ گزینوں کو مہیا کیا جاتا ہے
کیمپ
،تصویر کا کیپشن42 سال کے مارٹن وارو نے اپنے کھیتوں میں بھنڈی اگائی ہے وہ یہاں اپنی بیوی او دونوں بچوں کے ساتھ رہتے ہیں