آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
موٹاپے کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے کیا کیا جائے؟
- مصنف, پریانکا دھیمن
- عہدہ, بی بی سی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
اگر آپ صحت کے معاملے میں محتاط ہیں تو یقیناً اس بات سے اتفاق کریں گے کہ آج پوری دنیا میں موٹاپا ایک ایسا مسئلہ بن چکا ہے، جو ہماری زندگی میں کئی سنگین بیماریوں کو دعوت دے رہا ہے۔
گذشتہ سال جاری ہونے والی عالمی ادارۂ صحت کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2022 کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں ہر آٹھ میں سے ایک شخص موٹاپے کا شکار تھا۔
ایسی صورتِ حال میں موٹاپے کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے؟ اور موٹاپے جیسے مسئلے سے بچنے کے لیے ہمیں اپنی زندگی میں کون سی تبدیلیاں کرنی چاہییں؟
اس سنگین مسئلے سے جڑے اہم سوالات کے جواب حاصل کرنے کے لیے ہم نے دہلی کے فورٹس ہسپتال کے شعبۂ موٹاپا کی سربراہ ڈاکٹر مُگدھا سے گفتگو کی۔
بچوں میں موٹاپے کا مسئلہ اتنا کیوں بڑھ رہا ہے؟
آج کل بچوں میں موٹاپے کی سب سے بڑی وجہ سکرین ٹائم ہے۔ جب بچے گھنٹوں موبائل فون، ٹی وی اور لیپ ٹاپ دیکھتے ہوئے گزارتے ہیں تو ان کی جسمانی سرگرمی نمایاں طور پر کم ہو جاتی ہے۔
بچے سکرین دیکھتے ہوئے اکثر مختلف چیزیں کھاتے رہتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں وہ ضرورت سے زیادہ کیلوریز استعمال کرتے ہیں، جو موٹاپے کی ایک بڑی وجہ ہے۔
اب بچے اپنے دوستوں سے براہِ راست ملنے کے بجائے آن لائن بات چیت کو ترجیح دیتے ہیں۔ موٹاپے میں اضافے کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر کوئی بچہ پانچ سال کی عمر سے پہلے موٹاپے کا شکار ہو جائے تو بڑے ہونے کے بعد بھی اس کے موٹاپے کا شکار رہنے کے امکانات 70 سے 80 فیصد ہوتے ہیں۔
والدین اپنے بچوں کی عادات کو کیسے بہتر بنا سکتے ہیں؟ ان کی خوراک میں کیا تبدیلیاں لائی جانی چاہییں؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کیا موٹاپے کا اثر متوقع عمر پر بھی پڑتا ہے؟
ماہرین کے مطابق اگر آپ شدید درجے کے موٹاپے کا شکار ہوں تو آپ کی متوقع عمر 10 سے 20 سال تک کم ہو سکتی ہے، تاہم اگر کوئی شخص اپنے وزن میں صرف پانچ فیصد کمی بھی کر لے تو بہت سے مسائل کم ہو سکتے ہیں۔
فرض کریں کہ کسی شخص کا وزن 100 کلوگرام ہے اور وہ اسے کم کر کے 95 کلوگرام کر لیتا ہے تو اتنا وزن کم کرنے سے بھی اس کا بلڈ پریشر اور بلڈ شوگر قابو میں آ سکتے ہیں۔
اگر وہ اپنے وزن میں 10 فیصد کمی کر لے، یعنی 100 کلوگرام سے کم کر کے 90 کلوگرام کر لے تو سوتے وقت سانس لینے میں پیش آنے والی دشواری بھی کم ہو سکتی ہے۔
اگر وزن میں 15 سے 20 فیصد کمی ہو جائے تو بہت سی بیماریاں ختم ہو سکتی ہیں۔ دل کی بیماریوں کا خطرہ کم ہو سکتا ہے، فیٹی لیور کا مسئلہ ختم ہو سکتا ہے، یہاں تک کے ہارٹ اٹیک جیسی بیماریوں سے بھی بچاؤ ممکن ہو سکتا ہے۔
موٹاپے کے بارے میں عام تصورات کیا ہیں؟
موٹاپے کے بارے میں سب سے عام تصور یہ ہے کہ اس کا تعلق صرف کھانے پینے کی عادات اور جسم کی جانب سے استعمال اور خرچ کی جانے والی کیلوریز کی مقدار سے ہوتا ہے۔
یہ بات کسی حد تک درست ہے، لیکن مکمل طور پر نہیں۔ جینیاتی عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ہارمونز کا بھی ایک اہم کردار ہوتا ہے۔
تاہم جینیاتی عوامل موٹاپے کا سبب کیسے بن سکتے ہیں؟ ماہرین کے مطابق اگر آپ کے دونوں والدین موٹاپے کا شکار ہیں تو آپ کے موٹاپے کا شکار ہونے کے امکانات 70 سے 80 فیصد تک بڑھ جاتے ہیں۔ اگر آپ کے والدین میں سے ایک موٹاپے کا شکار ہے تو آپ کے موٹاپے کا شکار ہونے کے امکانات 50 فیصد تک بڑھ جاتے ہیں۔
تاہم اس میں آپ کا اپنا کردار بھی اہم ہے۔ اگر آپ جانتے ہیں کہ آپ اپنے جینز کی وجہ سے بعض بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں تو آپ پہلے ہی احتیاط کر سکتے ہیں۔ اگر آپ ضروری اقدامات کریں تو لازمی نہیں کہ آپ ان بیماریوں کا شکار ہوں بلکہ امکان ہے کہ آپ ان سے بچ سکتے ہیں۔
کسی شخص کو کیسے معلوم ہو کہ وہ موٹاپے کا شکار ہے؟
اگر آپ کا سانس پھولنے لگے، گھٹنوں یا پیروں میں درد رہنے لگے اور سیڑھیاں چڑھتے وقت جلد تھکن محسوس ہو تو آپ کو اپنے وزن کے بارے میں محتاط ہونا چاہیے۔
اس بات پر نظر رکھنی چاہیے کہ کہیں آپ کا وزن بڑھ تو نہیں رہا۔
یہ تمام موٹاپے کی ابتدائی علامات ہیں۔ اگر آپ ابتدا ہی سے وزن بڑھنے پر قابو نہ پائیں تو ممکن ہے آپ کو یہ احساس بھی نہ ہو کہ آپ کب موٹاپے کا شکار ہو گئے ہیں۔
موٹاپے کو بہت سی بیماریوں کی بنیادی وجہ سمجھا جاتا ہے۔ اگر آپ موٹاپے کا شکار ہیں تو ہارٹ اٹیک، فالج اور ہائی بلڈ پریشر جیسی بیماریوں کا خطرہ دوگنا ہو جاتا ہے۔
جہاں تک میٹابولک بیماریوں کا تعلق ہے، ذیابیطس، ہائپوتھائیرائڈزم، ہائی کولیسٹرول، میٹابولک سنڈروم اور پی سی او ڈی جیسی بیماریوں کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے۔
کینسر کی کئی اقسام بھی موٹاپے سے وابستہ ہیں۔ کولون، گال بلیڈرسمیت متعدد کیسنر کا تعلق موٹاپے سے جوڑا جاتا ہے۔ بعض افراد میں موٹاپا گردوں کی خرابی اور دماغ میں سوجن کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
یہ سمجھا جاتا ہے کہ تقریباً 200 اقسام کے مسائل موٹاپے سے وابستہ ہیں۔ ان مسائل کی سنگین نوعیت کے باوجود ہم اکثر موٹاپے کو بہت غیرسنجیدگی سے لیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موٹاپا کئی طرح کی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔
موٹاپے سے بچنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ موٹاپے کا شکار ہو رہے ہیں تو ضروری ہے کہ سب سے پہلے ہارمونز کی سطح کی جانچ کروائیں۔
اگر خاندان میں موٹاپے کا رجحان موجود ہو تو 30 سال کی عمر کے بعد باقاعدہ معائنہ کروانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ طرزِ زندگی میں بھی مختلف تبدیلیاں لانا ضروری ہیں۔
مناسب غذا، روزانہ کم از کم ایک گھنٹے کی ورزش اور سات سے آٹھ گھنٹے کی نیند آپ کو موٹاپے اور اس سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔
’سوشل میڈیا دیکھ کر خود سے کوئی ڈائٹ شروع نہ کریں‘
موٹاپے میں کمی کے لیے تین بنیادی چیزوں پر توجہ دینی چاہیے۔ جن میں سے پہلی غذا اور ورزش ہے۔ موٹاپا کم کرنے میں غذا کا کردار 70 سے 80 فیصد جبکہ ورزش کا کردار 20 سے 30 فیصد ہوتا ہے۔
تاہم ہارمونز میں تبدیلیاں اور طبی مسائل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے علاج کے لیے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق آپ کو سوشل میڈیا پر دیکھ کر خود سے کوئی بھی غذا شروع نہیں کرنی چاہیے۔ وہاں دی جانے والی ہدایات عمومی نوعیت کی ہوتی ہیں اور ان میں افراد کی انفرادی ضروریات کو مدنظر نہیں رکھا جاتا۔
ممکن ہے کہ وہ ہر شخص کے لیے یکساں طور پر مؤثر نہ ہوں۔ اس لیے ماہرین سے مشورہ لینا چاہیے۔
کھانے پینے کی عادات میں کیا تبدیلیاں کرنی چاہییں؟
موٹاپے میں کمی سے متعلق رہنما اصولوں کے مطابق ایسے افراد کو وہ غذا اختیار کرنے کی سفارش کی جاتی ہے، جس میں فائبر شامل ہو جو سبزیوں اور پھلوں میں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق روز مرہ کی غذا میں پروٹین کی مقدار زیادہ ہونی چاہیے، مثلاً دالیں، چکن، انڈے، مچھلی اور خشک میوہ جات۔
تاہم سرخ گوشت کھانے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ یہ بھی خیال رکھنا چاہیے کہ آپ کتنی مقدار میں غذا کھا رہے ہیں، یعنی خوراک کی مقدار پر توجہ دینا ضروری ہے۔
جسمانی ورزش بھی لازمی ہے۔ صرف کارڈیو ورزش، جیسے سائیکل چلانا، ٹریڈمل پر چلنا یا جاگنگ کرنا، کافی نہیں بلکہ طاقت اور مزاحمت والی ورزشیں بھی بہت اہم ہیں۔
جو لوگ جم نہیں جا سکتے وہ گھر پر یوگا کر سکتے ہیں۔ سوریہ نمسکار، وال پش اپس، سِٹ اپس، بغیر سہارے سکواٹس اور پلانک جیسی ورزشیں بھی بہت فائدہ مند ہیں۔
کریش ڈائٹنگ کے اثرات
جب آپ بہت کم کیلوریز استعمال کرتے ہیں تو جسم ’بھوک کی کیفیت‘ میں چلا جاتا ہے۔ اس کے بعد جسم ایسے انزائمز پیدا کرنا شروع کر دیتا ہے جو صحت کے لیے مفید نہیں ہوتے۔
اس کے نتیجے میں جسم میں چربی جمع ہونے لگتی ہے جبکہ پٹھوں کا حجم کم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ پٹھے جسم کی مجموعی صحت اور طاقت کے لیے نہایت اہم ہیں۔
ماہرین کے مطابق وزن کم کرنے کے لیے اپنائی جانے والی کریش ڈائٹنگ کئی مسائل کا باعث بن سکتی ہے، جن میں پتے کی پتھری اور پٹھوں کی کمزوری شامل ہیں۔
جب آپ یہ ڈائٹ ترک کر کے دوبارہ اپنی معمول کی خوراک پر واپس آتے ہیں تو اکثر محسوس ہوتا ہے کہ وزن نہ صرف واپس آ گیا ہے بلکہ پہلے کے مقابلے میں مزید بڑھ گیا ہے۔
موٹاپا سے خوداعتمادی اور ذہنی صحت پر اثر
موٹاپے کا شکار بہت سے افراد کو سکول، کالج، کام کی جگہ اور دیگر مقامات پر باڈی شیمنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے ان کی ذہنی صحت پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
یہاں تک کے بہت سے لوگ ڈپریشن کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔ ڈپریشن کی وجہ سے بعض افراد زیادہ کھانا کھانے لگتے ہیں اور ایک منفی چکر پیدا ہو جاتا ہے، جس کے باعث موٹاپا مزید بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق موٹاپے کو صرف زیادہ کھانے اور سستی سے جوڑ کر نہیں دیکھنا چاہیے۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ موٹاپا بھی ایک بیماری ہے، بالکل اسی طرح جیسے تھائیرائڈ کے مسائل، بلڈ پریشر، بلڈ شوگر اور کولیسٹرول کی بیماریاں۔
ماہرین نے زور دیا ہے کہ اگر آپ موٹاپے کا شکار ہیں تو ڈاکٹر سے مدد حاصل کریں۔ خود اپنا علاج کرنے کی کوشش نہ کریں۔