سعودی اتحاد کی کمزوری یا بہتر عسکری حکمت عملی: یمنی حوثی اتنی تیزی سے مخا کی اہم بندرگاہ تک کیسے پہنچے؟

Yemem, Houthi, AnsarAllah

،تصویر کا ذریعہEPA

    • مصنف, منزہ انوار
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 16 منٹ

یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروہ نے ملک کے مغربی ساحل پر تیز رفتار پیش قدمی کے بعد 10 ستمبر کو بحیرۂ احمر کے بندرگاہی شہر مخا (المَخا) پر قبضہ کر لیا ہے۔

یمنی نیوز ویب سائٹ المصدر آن لائن کے مطابق کئی روز تک جاری رہنے والی شدید لڑائی اور حکومت کی حامی فورسز کے انخلا کے بعد حوثیوں نے شہر کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جانی نقصان کے باعث حکومت کی حامی فوجوں کو ساحل کے ساتھ پیچھے ہٹنا پڑا، جس سے مسلح گروپ کے لیے باب المندب آبنائے کی جانب مزید پیش قدمی کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

یہ تاریخی شہر باب المندب آبنائے کے قریب واقع ہے جو خطے کا ایک اہم بحری راستہ ہے اور ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جاری فوجی کارروائیوں کے دوران سعودی عرب سے تیل کی ترسیل کے لیے مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

حوثی فورسز اب ذُباب قصبے کی جانب پیش قدمی کر رہی ہیں، جو اس آبی گزرگاہ کے جنوبی داخلی راستے کے مزید قریب ہے۔

حکومت کی حامی نیشنل ریزسٹنس فورسز (این آر ایف)، جو اس علاقے کا کنٹرول رکھتی تھیں، شہر سے نکل کر عبوری دارالحکومت عدن کی جانب روانہ ہو گئی ہیں۔

حالیہ ہفتوں میں یمن کے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی بھی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے جس کے بعد پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے دفاعی اتحاد کے کردار پر بھی بات ہو رہی ہے۔

سعودی حکام کے مطابق حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں میں 73 افراد زخمی ہوئے اور توانائی کی تنصیبات سمیت کئی شہری و اقتصادی مقامات کو نقصان پہنچا۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ یہ حملے یمن میں سعودی فضائی کارروائیوں کا جواب ہیں۔

حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سعودی فوج پر الزام عائد کیا کہ اس نے گذشتہ تین روز کے دوران یمن کے صوبوں مأرب، البیضا، الحدیدہ، تعز اور الجوف میں 120 سے زیادہ فضائی حملے کیے اور 'سنگین جرائم' کا ارتکاب کیا۔

حالیہ لڑائی میں 300 سے زائد افراد ہلاک اور 18,500 بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ چار سال سے جاری غیر اعلانیہ جنگ بندی بھی کمزور پڑ گئی ہے۔

Yemem, Houthi, AnsarAllah

،تصویر کا ذریعہEPA

حوثی اتنی تیزی سے مغربی ساحل پر پیش قدمی کرنے اور مخا پر قبضہ کرنے میں کیسے کامیاب ہوئے؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

مخا پر حوثیوں کے قبضے اور اس کے ممکنہ علاقائی اثرات کو سمجھنے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ وہ اتنی تیزی سے مغربی ساحل پر کیسے آگے بڑھے۔

انٹرنیشنل کرائسز گروپ میں یمن اور مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہر احمد ناجی کے مطابق حوثیوں کی یہ کارروائی اچانک شروع نہیں ہوئی بلکہ اس کے لیے طویل عرصے سے تیاری کی جا رہی تھی۔ ان کے مطابق گذشتہ برسوں میں حوثیوں کی فوجی صلاحیتوں، خصوصاً ڈرونز اور دیگر ہتھیاروں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے احمد ناجی نے کہا کہ اس پیش قدمی کی رفتار کو سمجھنے کے لیے حوثیوں کی بہتر فوجی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ ان کے مخالف سعودی حمایت یافتہ فورسز کی کمزوریوں کو بھی دیکھنا ہوگا۔

کنگز کالج لندن کے سکول آف سکیورٹی سٹڈیز کے سینیئر لیکچرر ڈاکٹر اینڈریاس کریگ کے مطابق ’یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ جب بیک وقت کئی محاذوں پر دباؤ بڑھا تو حکومت کی دفاعی پوزیشن کتنی تیزی سے بکھرتی دکھائی دی۔‘

این بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے اینڈریاس کریگ نے کہا کہ مخا پر قبضے کی اطلاعات ’حوثیوں کی غیر معمولی طاقت سے زیادہ حوثی مخالف کیمپ کی گہری کمزوری اور اندرونی تقسیم کی عکاسی کرتی ہیں۔‘

ڈاکٹر کریگ نے خبردار کیا کہ یہ کشیدگی یمن کو ایک بار پھر مکمل جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر کے بحران بھی ایک دوسرے سے جڑ کر عالمی توانائی کے تحفظ کے ایک بڑے بحران میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔

میدانِ جنگ میں حوثیوں کی پیش قدمی کا نقشہ بھی اس تیزی کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

مقامی رپورٹس کے مطابق حوثیوں نے مخا پہنچنے سے پہلے حیس اور الخوخہ کے علاقوں پر کنٹرول حاصل کیا۔ حیس جنوبی حدیدہ کو مخا اور باب المندب کی جانب جانے والے اہم راستوں سے جوڑتا ہے، اس لیے اس علاقے پر کنٹرول نے حوثیوں کے لیے ساحل کے ساتھ مزید جنوب کی طرف بڑھنے کا راستہ کھول دیا۔

اس کے بعد حوثی فورسز مخا تک پہنچیں، جہاں حکومت کی حامی فورسز کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ مخا پر قبضے کے بعد حوثی بحیرۂ احمر میں واقع حنیش جزائر کی جانب بھی آگے بڑھے، جس سے وہ باب المندب کے مزید قریب پہنچ گئے ہیں۔

امریکہ کے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے سابق سربراہ جو کینٹ کے مطابق، حوثیوں کی تیز رفتار پیش قدمی صرف ان کی فوجی صلاحیتوں کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ وہ شمالی یمن میں اپنے روایتی مضبوط علاقوں سے دور قبائل کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

جو کینٹ نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ حوثیوں کی یہ تیز رفتار پیش قدمی اس ردِعمل کی محض ابتدا ہے جس کا سامنا اب مشرقِ وسطیٰ میں امریکی پالیسیوں اور ایران کے خلاف ’بے مقصد جنگ‘ کے نتیجے میں امریکہ کو کرنا پڑ سکتا ہے۔

ان کے مطابق بحیرۂ احمر کے ساحل پر اہم علاقوں اور سٹریٹجک بندرگاہوں پر حوثیوں کا قبضہ ان کی فوجی صلاحیت کے ساتھ ساتھ یمن کی قبائلی سیاست میں ان کی بڑھتی ہوئی رسائی کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔

جو کینٹ کے مطابق یہ اس لیے اہم ہے کہ ان قبائل کی اکثریت سنی ہے، جبکہ حوثی زیدی شیعہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یمن ایک قبائلی معاشرہ ہے جہاں حریف گروہوں کے درمیان معاہدے اور اتحاد اکثر لڑائی سے پہلے یا دوران طے ہوتے ہیں اور یہ اتحاد ہمیشہ واضح یا مستقل نہیں ہوتے۔

ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں حوثیوں کا ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے ساتھ ’محورِ مزاحمت‘ کے ایک رکن کے طور پر سعودی عرب، امریکہ اور اسرائیل کے خلاف کھڑا ہونا بھی ان کے لیے ایک مختلف نوعیت کی حمایت پیدا کر رہا ہے۔ ان کے بقول یہ ضروری نہیں کہ یمنی ایران کی حمایت کرتے ہوں، بلکہ جنگ کے دوران مشترکہ مخالف کے خلاف قبائلی اور مقامی اتحاد زیادہ اہم ہو جاتے ہیں۔

جو کینٹ کا مزید کہنا ہے کہ یمنی عوام نے سعودی عرب کی حمایت یافتہ جنگ، غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں اور ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کو دیکھا ہے، جس کے نتیجے میں ان کے خیال میں حوثیوں کو مشترکہ مخالف کے خلاف حمایت حاصل کرنے میں مدد ملی ہے۔

حوثیوں کی پیش قدمی میں حَیس اور الخوخہ جیسے اہم علاقوں پر قبضہ بھی اہم ثابت ہوا، جس کے بعد مخا اور باب المندب کی جانب ان کے لیے راستہ مزید کھل گیا۔

مجموعی طور پر حوثیوں کی تیز پیش قدمی کے پیچھے طویل مدتی تیاری، بہتر فوجی صلاحیتیں، متعدد محاذوں سے بیک وقت دباؤ اور حکومت کی حامی فورسز کا انخلا اہم عوامل نظر آتے ہیں۔

Yemem, Houthi, AnsarAllah

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تو مخا پر قبضہ اتنا اہم کیوں ہے؟

واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک نیو امریکہ کے فیوچر سکیورٹی پروگرام کے ماہر کے مطابق حوثی ’بحیرۂ احمر پر اپنا کنٹرول مستحکم کر رہے ہیں۔‘

ایڈم بارون نے واشنگٹن پوسٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مخا پر قبضے کی اہمیت صرف یمن کی جنگ تک محدود نہیں کیونکہ اس سے ایران کے اتحادی کو ایک ایسے وقت میں اہم بحری گزرگاہ کے قریب پہنچنے کا موقع مل گیا ہے جب ایران امریکہ پر دباؤ ڈالنے کے لیے ہر ممکن فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

بارون نے مخا پر قبضے کی لڑائی کو شہر میں ’حالیہ برسوں کی سب سے اہم فوجی کارروائی‘ قرار دیا ہے۔

تجزہ کاروں کا ماننا ہے کہ یمن میں حوثیوں کی پیش قدمی کو صرف سعودی عرب یا یمن کی جنگ کے تناظر میں دیکھنا کافی نہیں۔ باب المندب کے قریب ان کا بڑھتا ہوا کنٹرول خطے کے دوسرے اہم بحری راستے، آبنائے ہرمز، میں جاری بحران کے ساتھ مل کر عالمی توانائی اور سمندری تجارت کے لیے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

Saudi fighter jets escorts Air Force One into Riyadh on May 13, 2025

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سعودی فضائیہ کہاں ہے؟

یمن کی جنگ کے اس نئے مرحلے میں ایک اہم سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ سعودی فضائیہ کہاں ہے اور کیا وہ حوثیوں کی پیش قدمی روک سکتی ہے؟

اس سوال کے جواب میں اسرائیلی انٹیلیجنس اور مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہر ڈینی (ڈینس) سیٹرینووِچ نے ایکس پر لکھا کہ یمن میں سعودی فضائیہ کی گذشتہ کارروائیوں کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے یہ فرض کرنا درست نہیں ہوگا کہ صرف فضائی طاقت حوثیوں کی موجودہ پیش قدمی روک سکتی ہے۔

ان کے مطابق سعودی عرب کے پاس خطے کے جدید ترین طیارے اور ہتھیار موجود ہیں، لیکن جدید جنگی نظام کا ہونا خود بخود میدانِ جنگ میں مؤثر کارکردگی کی ضمانت نہیں۔ انٹیلیجنس، اہداف کی درست نشاندہی، پائلٹوں کی تربیت، عملی تجربے، حملوں کے بعد نقصانات کا جائزہ اور فضائی و زمینی فورسز کے درمیان مؤثر رابطہ بھی فیصلہ کن اہمیت رکھتے ہیں۔

سیٹرینووِچ کے مطابق حوثی بھی وہ قوت نہیں رہے جن کا سعودی عرب نے ایک دہائی پہلے سامنا کیا تھا۔ جنگی تجربے کے ساتھ انھوں نے اپنی فضائی دفاعی صلاحیتیں بھی بہتر کی ہیں، جس کے باعث ان کے خلاف مسلسل فضائی کارروائیاں زیادہ مشکل اور مہنگی ہو سکتی ہیں۔

انھوں نے خبردار کیا کہ سعودی عرب اکیلے حوثیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور اگر انھیں مؤثر طور پر محدود کرنا ہے تو ریاض کو ایک وسیع اور قابلِ اعتماد بین الاقوامی اتحاد کی ضرورت ہوگی، جو فوجی کارروائی، انٹیلیجنس اور سیاسی ذمہ داری کا بوجھ تقسیم کرے۔

سیٹرینووِچ کے مطابق مسئلہ سعودی ہتھیاروں کے معیار کا نہیں بلکہ حوثیوں کے خطرے کے حجم، پیچیدگی اور بدلتی ہوئی نوعیت کا ہے۔

Yemem, Houthi, AnsarAllah

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنیمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح، جنھیں 2017 میں ہلاک کر دیا گیا تھا

حوثی کون ہیں اور حوثی تحریک کی ابتدا کیسے ہوئی؟

حوثی ایک جنگجو گروہ ہے جس کا تعلق یمن کی اقلیت زیدی شیعہ برادری سے ہے اور یہ اپنے آپ کو ’انصار اللہ‘ بھی کہتا ہے۔ اس تحریک کی جڑیں شمالی یمن کے صوبہ صعدہ میں ملتی ہیں، جہاں اس کی بنیاد معروف زیدی عالم بدرالدین الحوثی کے صاحبزادے حسین بدرالدین الحوثی نے رکھی۔

1970 اور 1980 کی دہائیوں میں بدرالدین الحوثی یمن میں پھیلتے ہوئے سلفی اثرات کے ناقد کے طور پر سامنے آئے۔ حوثیوں کے مطابق اس دور میں یمن میں سعودی حمایت یافتہ وہابی فکر کا اثر و رسوخ بڑھ رہا تھا، جس کی انھوں نے مخالفت کی اور اس کے نتیجے میں سیاسی دباؤ کا سامنا بھی کیا۔

اس تحریک کی باقاعدہ تشکیل 1990 کی دہائی کے اوائل میں ہوئی، جب حسین الحوثی نے عملی سیاست میں حصہ لیا اور دیگر سیاسی و مذہبی رہنماؤں کے ساتھ مل کر اپوزیشن جماعت ’الحق‘ کے قیام میں کردار ادا کیا۔ بعد ازاں 1993 کے انتخابات میں انھوں نے صوبہ صعدہ سے قومی اسمبلی کی نشست جیتی، جس سے تحریک کو سیاسی شناخت ملی۔

ابتدائی طور پر حوثی تحریک کا مقصد اس وقت کے صدر علی عبداللہ صالح کی حکومت میں پائی جانے والی بدعنوانی اور سیاسی ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھانا تھا۔ تاہم وقت کے ساتھ یہ ایک طاقتور عسکری اور سیاسی تحریک میں تبدیل ہو گئی۔ اس گروہ کا نام بھی اس کے بانی حسین الحوثی کے نام پر رکھا گیا۔

2003 میں عراق پر امریکی حملے کے بعد حوثیوں نے ’اللہ اکبر، امریکہ مردہ باد، اسرائیل مردہ باد، اسلام کو فتح حاصل ہو‘ کا نعرہ اپنایا اور خود کو حماس اور حزب اللہ کی طرح ایران کے حمایت یافتہ اُن گروہوں کا حصہ قرار دیا جو اسرائیل، امریکہ اور مغربی طاقتوں کی مخالفت کرتے ہیں۔

یورپی انسٹیٹیوٹ آف پیس سے وابستہ یمن کے امور کے ماہر ہشام العمیسی کے مطابق حوثیوں کی تاریخ اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ وہ آج بحیرۂ احمر میں جہازرانی کو کیوں نشانہ بناتے ہیں۔ ان کے بقول حوثی اپنے اقدامات کو سامراجی طاقتوں اور امتِ مسلمہ کے دشمنوں کے خلاف جدوجہد کے طور پر پیش کرتے ہیں، اور یہی بیانیہ ان کے حامیوں میں مقبول ہے۔

Yemem, Houthi, AnsarAllah

،تصویر کا ذریعہReuters

سعودی عرب سے حوثیوں کا تنازع کیسے شروع ہوا؟

سنہ 2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں شروع ہونے والا آپریشن ’عاصفۃ الحزم‘ (فیصلہ کن طوفان) سعودی عرب اور حوثی تحریک انصار اللہ کے درمیان پہلی فوجی محاذ آرائی نہیں تھی۔

اس سے قبل 5 نومبر 2009 کو حوثیوں نے یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کی حکومت اور حوثیوں کے درمیان جاری ’چھٹی جنگ‘ کے دوران سعودی عرب کے صوبے جیزان میں واقع سرحدی گاؤں الخوبہ میں دراندازی کی۔ اس کارروائی کا مقصد سرحدی علاقے میں واقع جبل الدخان پر قبضہ حاصل کرنا تھا۔

اس کے جواب میں سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف فضائی کارروائی شروع کی اور ان سینکڑوں جنگجوؤں کو نشانہ بنایا جن پر سعودی سرحدی محافظوں پر فائرنگ کا الزام تھا۔ سعودی حکام نے تین روز بعد اعلان کیا کہ انھوں نے جبل الدخان کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔

یہ لڑائی فروری 2010 تک جاری رہی۔ اس تصادم کے بعد سعودی عرب نے حوثیوں کو اپنی جنوبی سرحد کے لیے ایک ممکنہ سکیورٹی خطرے کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا، جو بعد کے برسوں میں دونوں فریقوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی بنیاد بنا۔

Yemem, Houthi, AnsarAllah

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن2022 میں متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں یمن سے فائر کیے گئے ڈرون کا ملبہ

عرب سپرنگ سے صنعا پر حوثیوں کے قبضے اور سعودی مداخلت تک

سنہ 2011 میں یمن میں عرب سپرنگ کے تناظر میں ملک گیر احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے۔ ان واقعات کے نتیجے میں فروری 2012 میں صدر علی عبداللہ صالح نے خلیجی ممالک کی ثالثی میں طے پانے والے خلیجی اقدام کے تحت اقتدار چھوڑ دیا۔ اس منصوبے کے مطابق اقتدار ان کے نائب عبد ربہ منصور ہادی کو منتقل کیا گیا، قومی مفاہمت کی حکومت قائم کی گئی اور صالح کو اقتدار سے دستبردار ہونے کے بدلے قانونی استثنیٰ دیا گیا۔

ہادی کے صدر بننے کے بعد حوثیوں نے سیاسی کمزوری اور بدامنی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شمالی یمن میں اپنے فوجی اور سیاسی اثر و رسوخ میں اضافہ کیا۔ سنہ 2014 کی ابتدا میں انھیں اس وقت بڑی سیاسی تقویت ملی جب وہ صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کے خلاف صف آرا ہوئے۔ اس دوران حوثیوں اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کے درمیان ایک غیر اعلانیہ اتحاد بھی قائم ہوا۔ اپنے سابق حریف صالح کے ساتھ یہ مفاہمت حوثیوں کو سیاسی اور عسکری پشت پناہی فراہم کرتی رہی اور اسی حمایت کی بدولت وہ ریاستی اداروں پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے میں کامیاب ہوئے۔

یہ پیش رفت بالآخر ستمبر 2014 میں دارالحکومت صنعا پر حوثیوں کے قبضے پر منتج ہوئی۔ بعد ازاں سنہ 2015 کے آغاز میں انھوں نے اپنے گڑھ صعدہ سمیت شمالی یمن کے وسیع علاقوں پر کنٹرول مضبوط کیا، جس کے بعد صدر ہادی ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔

عبد ربہ منصور ہادی کے یمن سے نکل کر سعودی عرب پہنچنے کے بعد ریاض نے مارچ 2015 میں یمنی حکومت کی حمایت کے لیے عرب ممالک کے ایک فوجی اتحاد کی قیادت میں ’عاصفۃ الحزم‘ (فیصلہ کن طوفان) کے نام سے فوجی آپریشن شروع کیا۔ اس وقت سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، جو وزیر دفاع بھی تھے، ان فوجی کارروائیوں کی نگرانی کر رہے تھے۔

اس اتحاد میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت اور قطر شامل تھے۔ تاہم خلیجی بحران کے بعد قطر نے 2017 میں اس اتحاد سے علیحدگی اختیار کر لی۔ مصر، اردن، مراکش اور سوڈان بھی اتحاد کا حصہ تھے۔

اگرچہ ابتدا میں پاکستان کی ممکنہ شمولیت کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں، تاہم اپریل 2015 میں پاکستان کی پارلیمان نے غیر جانب دار رہنے کے حق میں قرارداد منظور کی اور فوجی مداخلت میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا۔

سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی مداخلت کا مقصد حوثیوں کو پسپا کرنا اور صدر ہادی کی حکومت کو دوبارہ اقتدار میں لانا تھا۔ تاہم حوثیوں نے اس کارروائی کا مقابلہ کیا اور آج بھی یمن کے بڑے حصے پر ان کا کنٹرول برقرار ہے۔

سنہ 2017 میں سابق صدر علی عبداللہ صالح نے اپنا سیاسی مؤقف تبدیل کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مفاہمت کی کوشش کی، تاہم اسی برس حوثیوں نے انھیں ہلاک کر دیا۔

Yemem, Houthi, AnsarAllah

،تصویر کا ذریعہGetty Images

حوثیوں کی مدد کون کرتا ہے؟

بظاہر حوثی جنگجو لبنانی عسکری شیعہ گروہ حزب اللہ سے متاثر ہیں۔

سنہ 2014 میں امریکی تحقیقی ادارے کامبیٹنگ ٹیررازم سینٹر کے مطابق 2014 سے حزب اللہ ان حوثیوں کو عسکری مہارت اور ٹریننگ مہیا کر رہا ہے۔

سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ دشمنی کی وجہ سے حوثی ایران کو اپنا اتحادی سمجھتے ہیں۔

یہ شبہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ حوثیوں کو ہتھیار ایران فراہم کرتا ہے۔

امریکہ اور سعودی عرب کا الزام ہے کہ سعودی دارالحکومت ریاض پر حوثیوں کی طرف سے داغے گئے بیلسٹک میزائل ایران نے فراہم کیے تھے جنھیں اپنے اہداف پر پہنچنے سے قبل مار گرایا گیا۔

سعودی عرب نے یہ الزام بھی لگایا کہ سنہ 2019 میں حوثیوں نے جن کروز میزائلوں اور ڈرونز سے سعودی تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا وہ بھی ایران نے فراہم کیے تھے۔

حوثیوں نے ماضی میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی مدد سے سعودی عرب کے متحدہ عرب امارات کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

Esmaeil Baqaei

،تصویر کا ذریعہ@IRIMFA_SPOX

ایران کے حمایت یافتہ یا خودمختار گروہ؟

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کے روز حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حوثی کئی حوالوں سے ایران کے ایجنٹ اور نمائندہ گروہ ہیں اور ان حملوں کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے۔

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انصار اللہ ایک خودمختار فریق ہے جو اپنے فیصلے خود کرتا ہے، کسی کے احکامات قبول نہیں کرتا اور نہ ہی کسی کا نمائندہ ہے۔

تہران نے خطے میں عدم استحکام کا ذمہ دار امریکی فوجی مداخلتوں کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یمن میں امن بمباری یا بیرونی دباؤ کے بجائے فریقین کے درمیان مذاکرات اور طے شدہ روڈ میپ کے ذریعے قائم کیا جا سکتا ہے۔

امریکہ اور سعودی عرب سمیت ان کے اتحادی ممالک متعدد بار ایران پر حوثیوں کو اسلحہ فراہم کرنے کا الزام عائد کرتے رہے ہیں، جبکہ ایران ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

Yemem, Houthi, AnsarAllah

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنصنعا میں غذائی قلت کا شکار ایک یمنی بچہ

حوثی کتنی بڑی طاقت ہیں اور ان کے قبضے میں کتنا علاقہ ہے؟

یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی باگ ڈور صدارتی قیادت کونسل (پی ایل سی) کے ہاتھ میں ہے، جسے اپریل 2022 میں سابق صدر عبد ربہ منصور ہادی کی جانب سے اختیارات کی منتقلی کے بعد تشکیل دیا گیا تھا۔

تاہم یمن کی آبادی کا بڑا حصہ ان علاقوں میں رہتا ہے جو حوثیوں کے کنٹرول میں ہیں۔ حوثی دارالحکومت صنعا سمیت شمالی یمن کے وسیع علاقوں پر حکمرانی کرتے ہیں، مقامی انتظامیہ چلاتے ہیں اور ٹیکس وصول کرتے ہیں۔ حوثیوں نے 2014 میں صنعا پر قبضہ کر کے وہاں عملاً انتظامی کنٹرول قائم کر لیا تھا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک دستاویز میں حوثی امور کے ماہر احمد البحری کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ 2010 کے قریب حوثی تحریک کے ایک لاکھ سے ایک لاکھ 20 ہزار کے درمیان جنگجو اور حامی موجود تھے۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کی ایک رپورٹ کے مطابق 2020 میں حوثیوں کی جانب سے بھرتی کیے گئے 1,406 بچے لڑائی میں مارے گئے جبکہ جنوری سے مئی 2021 کے دوران مزید 562 بچوں کی ہلاکت کی اطلاع ملی۔

بحیرۂ احمر کے ساحل کے ایک بڑے حصے پر حوثیوں کا کنٹرول ہے اور وہ اس علاقے سے جہاز رانی کو متعدد بار نشانہ بنا چکے ہیں۔

یمنی امور کے ماہر ہشام العمیسی کے مطابق ان حملوں نے سعودی عرب کے ساتھ حوثیوں کے مذاکراتی مؤقف کو مضبوط کیا ہے۔

ان کے بقول: ’حوثی سعودی عرب کو یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ وہ باب المندب جیسے اہم بحری راستے میں جہاز رانی کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور اسی بنیاد پر وہ زیادہ رعایتیں حاصل کرنے کے لیے سعودی عرب پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔‘

Yemem, Houthi, AnsarAllah

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن6 اپریل 2023 کو بیجنگ میں چین کی ثالثی میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے موقع پر اُس وقت کے ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود، جبکہ چینی وزیر خارجہ چِن گانگ بھی موجود تھے۔

جنگ سے جنگ بندی اور مذاکرات تک

جنگ کے برسوں کے دوران حوثیوں نے سعودی عرب کے اندر فضائی اڈوں، تیل کی تنصیبات اور سرحدی شہروں کو نشانہ بنانے کے لیے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کیا۔ ان حملوں میں ستمبر 2019 میں ابقیق اور خریص میں سعودی آرامکو کی تنصیبات پر ہونے والا حملہ نمایاں تھا۔ اس وقت واشنگٹن اور ریاض نے ایران پر حوثیوں کی حمایت اور انھیں اسلحہ، میزائل، ڈرونز اور فوجی مہارت فراہم کرنے کے الزامات عائد کیے تھے، جبکہ سعودی عرب حوثیوں کو اپنی جنوبی سرحد اور علاقائی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ سمجھتا تھا۔

دوسری جانب سعودی قیادت والے اتحاد نے یمن میں شدید فضائی کارروائیاں کیں، جن کے انسانی اثرات پر ریاض کو اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ جنگ کے ایک مرحلے پر اقوام متحدہ کے مطابق تقریباً ایک کروڑ 70 لاکھ یمنی شدید غذائی قلت کا شکار تھے اور 70 لاکھ افراد کو قحط کا خطرہ لاحق تھا، جبکہ ملک میں ہیضے کی وبا بھی پھیلی ہوئی تھی۔

تاہم اپریل 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں دو ماہ کی جنگ بندی کا آغاز ہوا، جس کے تحت خشکی، سمندر اور فضائی حدود میں جارحانہ فوجی کارروائیاں روکنے پر اتفاق کیا گیا۔ اگرچہ جنگ بندی بعد میں باضابطہ طور پر ختم ہو گئی، لیکن بڑے پیمانے پر لڑائی نسبتاً کم رہی اور سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان براہِ راست رابطے اور مذاکرات شروع ہوئے۔

اسی دوران خطے کی سفارتی صورتحال میں بھی تبدیلیاں آئیں۔ چین کی ثالثی سے مارچ 2023 میں سعودی عرب اور ایران نے سفارتی تعلقات بحال کرنے کا اعلان کیا، جبکہ ستمبر 2023 میں حوثیوں کا ایک وفد عمان کی ثالثی میں سعودی دارالحکومت ریاض پہنچا۔ یمن کی جنگ شروع ہونے کے بعد یہ حوثی نمائندوں کا سعودی عرب کا پہلا علانیہ دورہ تھا اور اس دوران تنازع کے خاتمے کے لیے ایک ممکنہ روڈ میپ پر بات چیت ہوئی۔

تاہم بعد کی کشیدگی، بشمول صنعا اور ابہا کے ہوائی اڈوں سے متعلق تنازعات، نے ظاہر کیا کہ 2022 سے جاری نسبتاً پُرسکون صورتحال اور سعودی-حوثی مفاہمت کی کوششیں اب بھی نازک تھیں۔

تاہم بعد میں صنعا اور ابھا کے ہوائی اڈوں سے متعلق تنازعات اور نئی کشیدگی نے ایک بار پھر یہ ظاہر کیا کہ 2022 سے برقرار نسبتاً پُرسکون صورتحال اور غیر اعلانیہ جنگ بندی اب بھی نازک بنیادوں پر قائم ہے اور کسی بھی وقت نئے چیلنجز کا سامنا کر سکتی ہے۔

مخا پر قبضے کے بعد اب حوثیوں کا اگلا قدم کیا ہو سکتا ہے؟

مخا پر قبضے کے بعد حوثی فورسز باب المندب کے مزید قریب پہنچ گئی ہیں، جبکہ حکومت کی حامی فورسز جنوب کی جانب دوبارہ صف بندی کر رہی ہیں۔

اب اہم سوال یہ ہے کہ آیا حوثی ذُباب اور باب المندب کی جانب مزید پیش قدمی کرتے ہیں، اور سعودی عرب اور اس کے اتحادی اس پیش رفت کا جواب کس طرح دیتے ہیں۔

یہ صورتحال یمن میں دوبارہ بڑے پیمانے کی جنگ چھڑنے کا خطرہ بڑھا رہی ہے۔ ساتھ ہی باب المندب کے قریب حوثیوں کی موجودگی بحیرۂ احمر میں عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے ایک نئے خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔