لاہور میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گِرنے سے 14 بچوں کی ہلاکت کا مقدمہ درج: ’سمجھ نہیں آ رہی تعزیت کے لیے پہلے کس گھر جائیں‘

لاہور

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن’عمارت کی چھت کی حالت پہلے ہی خراب تھی اور چھت پر لگی ٹائلوں کی مرمت کا کام جاری تھا‘
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 3 منٹ

صوبائی دارالحکومت لاہور میں واقع ایک نجی ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچوں کی ہلاکت اور متعدد افراد کے زخمی ہونے کے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ پولیس نے زیر حراست تین افراد سے تحقیقات کا آغاز بھی کر دیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار فرقان الہی کے مطابق اس حادثے میں ہلاک ہونے والے سات بچوں کی نماز جنازہ گذشتہ رات جبکہ تین کی نماز جنازہ آج صبح ادا کر دی گئی ہے۔

یہ واقعہ منگل کے روز لاہور کے مضافاتی علاقے کاہنہ میں پیش آیا، جہاں ایک نجی ٹیوشن سینٹر میں زیرِ تعلیم بچوں پر عمارت کی چھت آ گری۔

ہلاک ہونے والے بچوں کی عمریں پانچ سے 16 سال کے درمیان ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں سات بچیاں بھی شامل ہیں۔

ریسکیو 1122 کے ترجمان فاروق احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں اس واقعے کی اطلاع شام 4 بج کر 45 منٹ پر موصول ہوئی جس کے بعد ایک گھنٹے کے اندر ریسکیو کارروائی مکمل کر لی گئی۔

حکام کا کہنا ہے کہ ایک ٹیچر سمیت مزید پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں، جنھیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

واقعے کی ایف آئی آر

اس حادثے کی ایف آئی آر انفورسمنٹ انسپکٹر نشتر زون کاشف اسلم کی مدعیت میں درج کی گئی، جس میں غفلت اور لاپرواہی کو سانحے کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا۔

ایف آئی آر میں کسی شخص کو نقصان، تکلیف یا چوٹ پہنچانے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

ایف آئی آر کے مطابق عمارت کے خستہ حال کمرے کی چھت کے اوپر مرمت کا کام بھی جاری تھا، اضافی بوجھ کی وجہ سے یہ چھت گر گئی جو بچوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کا سبب بنی۔

لاہور چھت
،تصویر کا کیپشن’ہمارے علاقے میں کئی خاندان اپنے بچوں کی موت کے غم میں مبتلا ہیں‘

’سمجھ نہیں آ رہی تعزیت کے لیے پہلے کس گھر جائیں‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

متاثرین میں شامل ایک بچی کے چچا نے خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ عمارت کی چھت کی حالت پہلے ہی خراب تھی اور چھت پر لگی ٹائلوں کی مرمت کا کام جاری تھا۔

انھوں نے کہا کہ مرمت کے اسی کام کے دوران ’اچانک چھت بچوں پر آ گری۔‘

اُن کا دعویٰ ہے کہ بظاہر ’چھت پر بہت زیادہ وزن ڈال دیا گیا تھا اور غالباً یہی حادثے کی وجہ بنی۔‘

علاقے کے ایک اور رہائشی نے خبررساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں سمجھ نہیں آ رہی کہ تعزیت کے لیے پہلے کس گھر جائیں، کیونکہ ہمارے علاقے میں کئی خاندان اپنے بچوں کی موت کے غم میں مبتلا ہیں۔‘

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ متاثرین کو ہر ممکن طبی سہولت فراہم کی جائے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اس واقعے کو ’دل دہلا دینے والا المیہ‘ قرار دیتے ہوئے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی یقین دہانی کروائی ہے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز نے ہلاک ہونے والے بچوں کے اہلِ خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بطور ماں وہ والدین کی تکلیف کا اندازہ کر سکتی ہیں اور ’اس دکھ کے اظہار کے لیے الفاظ نہیں مل رہے۔‘