امریکی سفیر کے کشمیر کو ’انڈیا کا اہم حصہ‘ قرار دینے پر پاکستان کا احتجاج: ’ایک سفیر کے بیان کو پالیسی سمجھنے کی غلطی سے گریز کرنا چاہیے‘

،تصویر کا ذریعہ@USAmbIndia
پاکستان نے انڈیا میں تعینات امریکی سفیر سرجیو گور کے جموں و کشمیر سے متعلق بیان پر سخت احتجاج کرتے ہوئے اسلام آباد میں امریکی ناظم الامور کو دفترِ خارجہ طلب کیا ہے۔
بدھ کو پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق امریکی سفیر کے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے دورے کے دوران دیے گئے ان ریمارکس پر باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا گیا، جن میں انھوں نے جموں و کشمیر کو انڈیا کا ایک ’اہم حصہ‘ قرار دیا تھا۔
پاکستان نے انڈیا میں تعینات امریکی سفیر کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا اور کہا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کا حتمی فیصلہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا باقی ہے۔
دفترِ خارجہ کے مطابق امریکی ناظم الامور کو دیے گئے احتجاجی مراسلے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ امریکی سفیر کا بیان مسئلۂ کشمیر کے بارے میں امریکہ کے طویل المدتی اور دستاویزی مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتا اور بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی بالادستی سے متعلق امریکی عزم کے بھی منافی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان اور انڈیا کے درمیان مسئلۂ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کو سراہا ہے، تاہم امریکی حکام کو یقینی بنانا چاہیے کہ ان کے عوامی بیانات جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت کے مطابق ہوں۔

،تصویر کا ذریعہMOFA
کشمیر انڈیا کا اہم حصہ ہے: امریکی سفیر کا سرینگر میں بیان
انڈیا میں امریکی سفیر اور جنوبی و وسطی ایشیا کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی مندوب سرگئی گور نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے دورے کے دوران کشمیر کو ’انڈیا کا اہم حصہ‘ قرار دیتے ہوئے مقامی انتظامیہ کی کارکردگی کو سراہا ہے۔
سرگئی گور کے دو روزہ دورۂ کشمیر اور لداخ کو ان کی خصوصی حیثیت کے باعث غیر معمولی اہمیت دی جا رہی تھی، تاہم وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے مختصر گفتگو میں انھوں نے محتاط اور تقریباً غیر جانبدار انداز اپنایا۔
انھوں نے کہا، ’کشمیر آ کر مجھے بہت خوشی ہوئی، یہ بہت ہی خوبصورت جگہ ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ان کا کہنا تھا کہ عمر عبداللہ کے ساتھ ان کی ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی اور مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
’اس گفتگو کے موضوعات پر مجھے واشنگٹن اور نئی دہلی میں مزید بات کرنی ہے، جبکہ ہمارے مزید ملاقاتوں کے دور بھی باقی ہیں۔‘
اس موقع پر عمر عبداللہ نے ملاقات کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ظاہر ہے کچھ موروثی مسائل ہیں جن کے حل کے لیے آنے والے وقت میں کام کرنا ہو گا، لیکن یہ مذاکرات آگے چل کر سرگئی گور اور واشنگٹن کے علاوہ میرے اور نئی دہلی کے درمیان بھی جاری رہیں گے۔ ہمیں امید ہے کہ آنے والے برسوں میں امریکہ اور جموں و کشمیر کے تعلقات مزید وسیع اور گہرے ہوں گے۔‘
امریکی شہریوں پر کشمیر کے سفر سے متعلق سفری پابندیوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں سرگئی گور نے کہا کہ ان پابندیوں کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جاتا ہے۔
انھوں نے کہا ’یہ ایک بہت خوبصورت وادی ہے۔ نئی دہلی اور مقامی انتظامیہ نے حالات بہتر بنانے اور اس خطے کو زیادہ محفوظ بنانے کے لیے قابلِ ذکر کام کیا ہے۔ میں اس حوالے سے کوئی بڑا اعلان نہیں کروں گا، لیکن میرا ذاتی خیال ہے کہ کشمیر سے متعلق سفری پابندیوں میں نرمی ہونی چاہیے۔‘
سرگئی گور سرینگر میں رات قیام کے بعد لداخ روانہ ہوں گے۔
کسی امریکی سفیر کی کشمیر کے وزیر اعلیٰ کے ساتھ یہ تقریباً 15 برس بعد پہلی ملاقات ہے۔ اس سے قبل 2011 میں اُس وقت کے امریکی سفیر ٹِم رومر نے اُس وقت کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے سرینگر میں ملاقات کی تھی۔
سرگئی گور کی صدر ٹرمپ سے قربت اور جنوبی و وسطی ایشیا میں ان کے کردار کے باعث اس دورے کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں۔
سابق وزیر اعلیٰ اور اپوزیشن جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے رہنما نعیم اختر نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا، کہ ’سرگئی گور نہ صرف امریکی سفیر ہیں بلکہ جنوبی و وسطی ایشیا کے لیے صدر ٹرمپ کے خصوصی مندوب بھی ہیں، اس لیے اس دورے کی خاص اہمیت ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دفاعی معاہدے کی تعریف کے بعد اس دورے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
سرگئی گور کی سرینگر آمد سے چند گھنٹے قبل عمر عبداللہ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا، ’میں کشمیر کے مسائل پر بات نئی دہلی سے کروں گا، نہ کہ کسی بیرونی ملک سے۔ ہاں، وہ آ رہے ہیں، یہ اچھی بات ہے، لیکن میں زیادہ سنوں گا۔ ظاہر ہے وہ بات کرنے آ رہے ہیں تو ہم بھی بات کریں گے۔‘
واضح رہے کہ 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے ایک سال بعد انڈین حکومت نے امریکہ سمیت 15 ممالک کے سفیروں کو کشمیر کے دورے کی دعوت دی تھی۔ اس دورے کے دوران حکومت نے یہ مؤقف اجاگر کرنے کی کوشش کی تھی کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد خطے کی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔
سری نگر میں ملاقات کے بعد جنوبی اور وسطی ایشیا کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی سرگئی گور نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جموں و کشمیر کو ’انڈیا کا اہم حصہ‘ قرار دیا۔
سرگئی گور کا یہ بیان ایک ایسے خطے میں سامنے آیا ہے جو طویل عرصے سے انڈیا اور پاکستان کے درمیان تنازع اور کشیدگی کا مرکز رہا ہے۔
انڈیا جموں و کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے، جبکہ پاکستان اس مسئلے کے حل کے لیے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی کردار کی بات کرتا ہے۔
پانچ اگست 2019 کو انڈیا کی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کر دیا تھا، جس کے تحت جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت حاصل تھی۔ اس کے بعد سابق ریاست کو دو وفاقی زیرِ انتظام علاقوں، جموں و کشمیر اور لداخ، میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حالیہ مہینوں میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں نسبتاً گرمجوشی دیکھی گئی ہے۔
مبصرین کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کی کوششوں میں پاکستان نے بھی اہم سفارتی کردار ادا کیا تھا، جس کے بعد واشنگٹن اور اسلام آباد کے روابط میں بہتری کی بات کی جاتی رہی ہے۔
امریکی سفیر نے دورہ سری نگر میں کیا بیانات دیے؟

،تصویر کا ذریعہ@OmarAbdullah
رواں برس جنوری میں سرگئی گور نے انڈیا میں امریکی سفیر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ اس کے بعد سے وہ انڈیا کی مختلف ریاستوں کے متعدد دورے کر چکے ہیں۔
انڈیا کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے دورے پر پہنچنے والے سرگئی گور نے بدھ کے روز ایکس پر وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کے ساتھ اپنی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا ’جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ سے ملاقات اور ان کی ترجیحات کے بارے میں جاننے کا موقع ملنا خوش آئند رہا۔ ہم نے اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور ایسے مواقع پیدا کرنے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا جن سے دونوں ممالک کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔‘
بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی سفیر نے کہا کہ ’یہاں آ کر بہت خوشی ہوئی۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، میں انڈیا میں امریکہ کا سفیر ہوں اور یہ انڈیا کا ایک اہم حصہ ہے۔ میں پہلی بار یہاں آیا ہوں۔‘
انھوں نے مزید کہا ’یہ انتہائی خوبصورت خطہ ہے۔ یہاں آ کر اور اسے قریب سے دیکھ کر خوشی ہوئی۔ ہماری ملاقات بہت مثبت رہی۔ بعض معاملات پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے، اس لیے ہم ان نکات کو واشنگٹن اور دہلی واپس لے جائیں گے۔ تاہم یہ ایک نہایت خوشگوار اور مفید ملاقات تھی، اور ہم اس تعلق کو مزید آگے بڑھانے کے لیے پُرامید ہیں۔‘
امریکی محکمۂ خارجہ دنیا کے مختلف ممالک کے لیے اپنے شہریوں کو سفری ہدایات جاری کرتا ہے۔ انڈیا کے لیے اس وقت لیول ٹو کی سفری ایڈوائزری موجود ہے، تاہم جموں و کشمیر سمیت چند علاقوں کے لیے لیول فو کی ایڈوائزری نافذ ہے۔
امریکہ نے اپنے شہریوں کو دہشت گردی اور عوامی بدامنی کے خدشات کے پیشِ نظر جموں و کشمیر کا سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
سرگئی گور نے سری نگر میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران اس سفری ایڈوائزری کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا، ’امریکہ وقتاً فوقتاً اپنے سفری انتباہات کا جائزہ لیتا رہتا ہے۔ میں آج یہاں کوئی بڑا اعلان نہیں کر سکتا، لیکن یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ ہم اس معاملے پر غور کریں گے۔‘
انھوں نے مزید کہا، ’نئی دہلی، یہاں کے وزیرِ اعلیٰ اور مقامی حکومت کے بارے میں ہمارا تاثر یہ ہے کہ خطے کو محفوظ بنانے اور مزید محفوظ رکھنے کے لیے اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ اسی لیے ہم یہ دیکھیں گے کہ آیا امریکہ کی جانب سے جاری سفری انتباہ میں نرمی کی جا سکتی ہے یا نہیں۔ یہ ایک خوبصورت خطہ ہے اور میرا خیال ہے کہ بہت سے امریکی یہاں آ کر اس کی خوبصورتی اور مواقع سے متاثر ہوں گے۔‘
ہمیں یقین ہے کہ آنے والے برسوں میں امریکہ اور جموں و کشمیر کے درمیان رابطے مزید بڑھیں گے: وزیرِ اعلیٰ عبداللہ

،تصویر کا ذریعہ@OmarAbdullah
سرگئی گور کے اس بیان کے وقت انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ عمر عبداللہ نے بھی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ آنے والے برسوں میں امریکہ اور جموں و کشمیر کے درمیان روابط مزید مضبوط اور گہرے ہوں گے۔
انھوں نے کہا ’یہ ایک بہت اچھی ملاقات تھی۔ ہمیں اپنے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پر تبادلۂ خیال کا موقع ملا، لیکن خاص طور پر اس بات پر گفتگو ہوئی کہ امریکہ جموں و کشمیر کے لیے کیا کردار ادا کر سکتا ہے۔ یقیناً کچھ پرانے مسائل موجود ہیں، جنھیں ہم وقت کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کریں گے، تاہم ہم اس مکالمے کو آگے بڑھانے کے لیے پُرامید ہیں۔‘
عمر عبداللہ کے مطابق ’یہ بات چیت ایک جانب سفیر گور اور واشنگٹن کے درمیان اور دوسری جانب میرے اور نئی دہلی میں انڈین حکومت کے درمیان جاری رہے گی۔ لیکن ہمیں یقین ہے کہ آنے والے برسوں میں امریکہ اور جموں و کشمیر کے درمیان رابطے مزید بڑھیں گے اور دونوں کے تعلقات زیادہ مضبوط ہوں گے۔‘
وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر بھی امریکی سفیر کے ساتھ ملاقات کی تصاویر شیئر کیں۔ انھوں نے لکھا، ’آج سری نگر میں امریکی سفیر سرگئی گور سے ملاقات کر کے خوشی ہوئی۔ جموں و کشمیر اور امریکہ کے درمیان روابط کو فروغ دینے اور انھیں مزید گہرا کرنے کے امکانات پر ہماری مفید گفتگو ہوئی، خاص طور پر سیاحت، باغبانی اور نئی معیشت سے جڑے شعبوں کے حوالے سے۔ میں اس رابطے کو جاری رکھنے اور ہماری بات چیت کو آگے بڑھانے کا منتظر ہوں۔‘
تاہم اس ملاقات سے قبل عمر عبداللہ نے واضح کیا تھا کہ جموں و کشمیر کے اندرونی سیاسی مسائل کے حل کے لیے کسی بیرونی ملک سے رجوع نہیں کیا جانا چاہیے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا، ’ہماری مشکلات کا ان سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں۔ میری کبھی یہ عادت نہیں رہی کہ میں اپنی شکایات کسی دوسرے ملک کے سامنے رکھوں۔ ہمارے مسائل کا حل واشنگٹن نے نہیں بلکہ ہماری مرکزی حکومت نے نکالنا ہے۔ اگر میں اپنے ملک کے بارے میں کوئی شکایت کسی دوسرے ملک کے سفیر سے کروں تو میرے خیال میں یہ مناسب نہیں ہو گا۔‘

،تصویر کا ذریعہANI
’کشمیر پر گور کے ریمارکس پاکستان-امریکہ تعلقات کے لیے دھچکا بن سکتے ہیں‘
امریکہ کے انڈیا میں سفیر سرجیو گور کے بیان کے بارے میں جنوبی ایشیا کے تجزیہ کار مائیکل کوگل مین نے کہا: ’یہ واضح نہیں کہ آیا یہ بیان واقعی امریکی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے، تاہم نئی دہلی میں اسے یقیناً خوش آئند قرار دیا جائے گا۔ ان کے بقول، ایسے وقت میں جب امریکہ اور انڈیا کے دوطرفہ تعلقات کو تقویت کی ضرورت تھی، گور کے بیان سے ان تعلقات کو ایک اہم سہارا ملا ہے۔‘
کوگل مین نے اے این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دوسری جانب، ایسے وقت میں جب امریکہ اور پاکستان کے تعلقات نسبتاً بہتر انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں، کشمیر کے بارے میں امریکی سفیر کے یہ ریمارکس اسلام آباد اور راولپنڈی میں اچھے انداز میں نہیں لیے جائیں گے۔ ان کے خیال میں یہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کے لیے ایک غیر متوقع دھچکا ثابت ہو سکتے ہیں۔
کوگل مین نے کہا کہ فی الحال انتظار کرنا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ گور کے دورۂ کشمیر کے بعد امریکی سفارت خانہ اس معاملے پر کیا باضابطہ مؤقف اختیار کرتا ہے۔ ان کے مطابق، اس مرحلے پر قبل از وقت نتائج اخذ کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
سرجیو گور کے بیان پر سوشل میڈیا پر بھی بحث جاری ہے۔
صحافی راہول شیوشنکر نے وضاحت کی کہ سرگئی گور نے ’اٹوٹ‘ کے بجائے ’اہم‘ کا لفظ کیوں استعمال کیا۔
انھوں نے ایکس پر لکھا ’سفارت کار اپنے الفاظ بہت احتیاط سے منتخب کرتے ہیں۔ سرگئی گور انڈیا میں امریکہ کے سفیر ہیں، لیکن وہ اس سے بھی کہیں زیادہ ہیں۔ وہ جنوبی اور وسطی ایشیائی امور کے لیے امریکہ کے ایلچی ہیں۔ اسی لیے جب وہ ’اہم‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو اس کے مزید کئی معنی ہوتے ہیں۔‘
’ایک امریکی سفیر کے بیان کو امریکہ کی باضابطہ پالیسی سمجھنے کی غلطی سے گریز کرنا چاہیے‘
مسلم لیگ (ن) کے رہنما انجینئر خرم دستگیر خان نے تبصرہ کیا ’سری نگر میں شوقیہ سفارت کاری؟‘
انھوں نے ایکس پر لکھا کہ امریکی سفیر سرجیو گور کو انڈیا کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کا دورہ کرنے سے پہلے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ریکارڈ اور اقوامِ متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے انڈیا و پاکستان (UNMOGIP) کی تاریخ سے آگاہ ہونا چاہیے تھا۔ یہ گروپ 1949 میں کشمیر میں جنگ بندی کی نگرانی کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ تاریخ سے لاعلمی سفارت کاری کی بنیادوں کو کمزور کر دیتی ہے۔
امریکی صحافی کیٹلین ڈورن بوس نے ایکس پر لکھا ’ایک امریکی سفیر کے بیان کو امریکہ کی باضابطہ پالیسی سمجھنے کی غلطی سے گریز کرنا چاہیے۔ واشنگٹن اب بھی کشمیر کی حیثیت کو غیر حل شدہ تنازع سمجھتا ہے۔‘
سرگئی گور کے دورے سے قبل پی ڈی پی رہنما محبوبہ مفتی نے ایکس پر لکھا ’امریکی سفیر سرجیو گور کم از کم اتنا تو کر ہی سکتے ہیں کہ کشمیر کے سفر کے خلاف جاری اعلیٰ ترین سطح کی سفری ایڈوائزری کا جائزہ لیں اور اسے واپس لے لیں۔‘
’کشمیر کے لیے، جہاں ہزاروں خاندان سیاحت پر انحصار کرتے ہیں، سفری ایڈوائزری محض ایک انتباہ سے کہیں بڑھ کر ہے، یہ کشمیر اور دنیا کے درمیان ایک دیوار ہے۔ اسے ہٹانے سے اعتماد کا ایک مضبوط پیغام جائے گا، بین الاقوامی سیاحوں کی واپسی میں مدد ملے گی اور ان بے شمار خاندانوں کو نہایت ضروری ریلیف ملے گا جن کا روزگار سیاحت پر منحصر ہے۔‘
انڈیا کے سابق سیکریٹری خارجہ کنول سبل نے سرگئی گور کے بیان پر کہا، ’انڈیا کا اہم حصہ‘، ایک خوش آئند سیاسی توثیق۔ عاصم منیر اور شہباز شریف نے یقیناً اس کی اہمیت پر توجہ دی ہو گی۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ پاکستان کا ردِعمل کیا ہوتا ہے۔‘
عمر عبداللہ کے ملاقات سے پہلے دیے گئے بیان پر کنول سبل نے کہا، ’جموں و کشمیر پر بین الاقوامی سیاسی بوجھ موجود ہے۔ امریکہ نے اس میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ٹرمپ کی مداخلت کی کوششوں کے تناظر میں وزیرِ اعلیٰ نے پہلے ہی بالکل درست کہا تھا کہ وہ انڈیا میں امریکی سفیر کے ذریعے امریکہ کو ہمارے ملک کے مفاد کے خلاف کوئی ایجنڈا آگے بڑھانے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جموں و کشمیر کے تنازع پر پاکستان اور انڈیا کے درمیان طویل عرصے سے کشیدگی پائی جاتی ہے۔ ایسے میں امریکی سفیر سرگئی گور کے سری نگر کے دورے اور جموں و کشمیر کو انڈیا کا حصہ قرار دینے والے بیان نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
حالیہ مہینوں میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں بہتری کا تاثر سامنے آیا تھا، تاہم بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی سفیر کا دورۂ سری نگر اور ان کے بیانات پاکستان کے لیے ایک سفارتی دھچکا سمجھے جا سکتے ہیں۔
بین الاقوامی امور کے ماہر اور انڈو پیسیفک سلوشنز کے بانی ڈیرک جے گراسمین نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی ایکس پوسٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’سفیر سرگئی گور کا جموں و کشمیر کا دورہ انڈیا کے لیے ایک اہم اور حوصلہ افزا اشارہ ہے، اگرچہ مسئلہ یہ ہے کہ ان کے سربراہ پاکستان کے بارے میں مختلف رائے رکھتے ہیں۔‘
امریکی صحافی کیٹلن ڈورنبوس نے ایکس پر امریکی سفیر کے بیان پر تبصرہ کیا کہ خیال رہے کہ امریکہ کی باضابطہ پالیسی کو کسی ایک سفیر کے بیان کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے۔ واشنگٹن اب بھی کشمیر کی حیثیت کو ایک حل طلب معاملہ تصور کرتا ہے۔'
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سابق صدر مسعود خان نے اپنے ردعمل میں لکھا کہ 'انڈیا میں امریکی سفیر سرگئی گور کے سری نگر میں دیے گئے ریمارکس جموں و کشمیر کی تاریخ اور وہاں کی موجودہ صورتحال سے آگاہی کے فقدان کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کے دورے سے قبل انھیں کشمیر کے بارے میں خود امریکہ کی پالیسی اور اس تنازع سے متعلق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد نافذالعمل قراردادوں کے بارے میں بریفنگ دی جانی چاہیے تھی۔'
انھوں نے کہا کہ 'جموں و کشمیر انڈیا کا حصہ نہیں ہے اور یہ معاملہ آج بھی اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے فعال ایجنڈے پر موجود ہے۔ اقوامِ متحدہ کا فوجی مبصر مشن برائے انڈیا و پاکستان (یونموگپ) بدستور وہاں تعینات ہے۔ جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ اس کے عوام اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کریں گے۔'
سفارتی امور پر گہری نظر رکھنے والے صحافی کامران یوسف نے ایکس پر لکھا ہے کہ توقع کے مطابق پاکستان نے اسلام آباد میں تعینات امریکی ناظم الامور کو طلب کرکے انڈیا میں امریکہ کے سفیر سرجیو گور کے اُس بیان پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے جس میں انھوں نے جموں و کشمیر کو 'انڈیا کا حصہ' قرار دیا تھا۔
کامران یوسف کے مطابق یہ پیش رفت اس لیے اہم ہے کیونکہ واشنگٹن کی جانب سے کسی بیان پر پاکستان کی طرف سے کسی سینیئر امریکی سفارتکار کو باقاعدہ طلب کرنا نسبتاً کم دیکھا جاتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کشمیر تنازع پر امریکی مؤقف میں کسی ممکنہ تبدیلی کے تاثر کے بارے میں اسلام آباد کی حساسیت اور سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب صدر ٹرمپ متعدد مواقع پر انڈیا اور پاکستان کے درمیان ثالثی کی پیشکش کر چکے ہیں۔
کامران یوسف نے مزید لکھا کہ یہ معاملہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ قریبی تعلقات کے باوجود پاکستان ایسے متنازع بیانات سے صرف نظر نہیں کرے گا۔
ادھر آسٹریائی۔بلغاریائی جغرافیائی سیاسی ماہر ویلینا چاکارووا نے اس پیش رفت کو وسیع تر علاقائی سیاست کے تناظر میں دیکھا۔ انھوں نے ایکس پر لکھا کہ ایران میں ثالثی کے کردار اور سعودی عرب و ترکی کے ساتھ دفاعی تعاون کی وجہ سے پاکستان خود کو نسبتاً پُراعتماد محسوس کر رہا ہے، تاہم بڑی جغرافیائی سیاست میں فیصلہ کن کردار عالمی طاقتوں کے پاس ہوتا ہے۔
ان کے مطابق، ’اس معاملے میں امریکہ نئے اتحادوں اور خطے کی تبدیل ہوتی جغرافیائی سیاست کے تناظر میں انڈیا کے ساتھ کھڑا دکھائی دیتا ہے۔‘



















