وہ بدنامِ زمانہ جیل جہاں قاتلوں، خطرناک قیدیوں اور گینگسٹرز کا اپنا میوزک سٹوڈیو ہے

A topless Empereur stands in the centre of a group of young men, who are painted in red.

،تصویر کا ذریعہArtists Equity

،تصویر کا کیپشنایمپریور جیل کے سب سے کامیاب فنکاروں میں سے ایک ہے۔ اس کے گانے کی میوزک ویڈیو یوٹیوب پر 24 ہزار بار دیکھی جا چکی ہے۔
    • مصنف, ویڈیلی چبیلوشیان اور ٹام بروک
    • عہدہ, بی بی سی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

افریقی ملک کیمرون کے شہر دوالا کی بدنام زمانہ جیل ’نیو بیل‘ ایک شہر کے اندر شہر کی مانند ہے۔

اس جیل کے اندر اپنا ایک الگ نظام ہے، یہاں کچھ قیدی دوڑ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ پیغامات پہنچاتے ہیں۔ جیل میں عملے کی کمی یہ قیدی پوری کرتے ہیں اور کچھ مضبوط جسامت کے قیدی جیل میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے عملے کی معاونت بھی کرتے ہیں۔

جیل کے اندر ایک چھوٹا بازار بھی ہے، جہاں قیدی مختلف چیزیں جیسے تلی ہوئی کساوا (ایک قسم کی جڑ والی سبزی) اور بیگنیٹ (میٹھی پیسٹری) خریدتے اور فروخت کرتے ہیں۔

بنیادی طور پر’نیو بیل‘ کے رہائشیوں نے جیل کے نرم قوانین کو اپنے حق میں ڈھال لیا ہے۔

انھی نرم قوانین سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے میوزک کے شوقین کچھ قیدیوں نے جیل میں ایک میوزک سٹوڈیو ’جیل ٹائم ریکارڈ‘ بنا لیا ہے، جہاں باصلاحیت قیدیوں کو اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کا موقع مل رہا ہے۔

جیل کے اندر اور باہر دہشت کی علامت سمجھے جانے والے گینگسٹر ایمپریور نے ایسی ہی ایک میوزک ویڈیو بنائی ہے جو مکمل طور پر جیل کے اندر فلمائی گئی ہے اور یو ٹیوب پر اس کے 24 ہزار ویوز ہیں۔

قیدیوں کے گانوں نے جنوبی افریقہ، امریکہ اور ارجنٹینا تک مداحوں کی توجہ حاصل کی ہے جبکہ اس سال کے آغاز میں ’جیل ٹائم ریکارڈ‘ نے ’نیو بیل‘ کے صحن میں قیدیوں کے لیے ایک بڑا کنسرٹ بھی منعقد کیا ہے۔

اس جیل کے سابق قیدی اور ’جیل ٹائم ریکارڈ‘ کے شریک بانی سٹیو ہاپی نے بی بی سی کے پروگرام ’ٹاکنگ موویز‘ میں بتایا کہ ’یہ مزاحمت کا ذریعہ ہے، جہاں ہم واقعی دوستی، محبت اور اپنی آواز دوسروں تک پہنچا سکتے ہیں۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم اب اس چار دیواری کے بارے میں نہیں سوچتے، ہمیں آزادی محسوس ہوتی ہے۔‘

’جیل ٹائم ریکارڈ‘ کا سٹوڈیو نہایت سادہ ہے۔ ایک چھوٹا، گرم اور تنگ ریکارڈنگ بوتھ جو ایک ایسے کمرے سے منسلک ہے جہاں صرف ایک کمپیوٹر موجود ہے۔

لیکن یہی جگہ گہرے جذباتی اظہار اور تخلیقی صلاحیتوں کا مرکز بھی ہے۔ اس حوالے سے حال ہی میں ایک دستاویزی فلم بھی بنائی گئی ہے جس کا نام سٹوڈیو کے نام پر رکھا گیا ہے۔

ہاپی اور اطالوی فنکارہ ڈیون روچ جو ’جیل ٹائم ریکارڈ‘ کی شریک بانی ہیں کی ہدایت کاری میں بننے والی یہ فلم چھ سال کے عرصے میں ’نیو بیل‘ میں شوٹ کی گئی۔

گذشتہ ماہ اس نے نیویارک کے ٹریبیکا فلم فیسٹیول میں بہترین دستاویزی فیچر سمیت تین انعامات جیتے تھے۔

فلم میں سٹون نامی ایک قیدی اسٹوڈیو کے مائیکروفون میں ریپ سونگ گا رہا ہے۔

’پتھر کا دل، یہ جنگ ہے۔‘

’میرے احساسات ٹوٹے ہوئے شیشے کی طرح بکھر جاتے ہیں۔‘

’میں کوٹھڑی کے دروازے کی طرح بند اور سخت ہوں۔‘

’میرے قدموں تلے کوئی مضبوط زمین نہیں، میں مچھلی کی طرح پھسلتا ہوں۔‘

Rapper Stone uses a computer. Two men watch him.

،تصویر کا ذریعہArtists Equity

،تصویر کا کیپشنسٹون (دائیں)، جو صدارتی گارڈ کا سابق فوجی ہے Jail Time Records کے ساتھ میوزک تیار کرتا ہے۔
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

سٹون جو کبھی کیمرون کی صدارتی گارڈ میں سپاہی تھے۔ ڈکیتی اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے جرم میں نیو بیل میں 10 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

وہ اصرار کرتے ہیں کہ وہ بے قصور ہیں۔

فلم میں انھیں بار بار اپنی کم عمر بیٹی مائرہ سے فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جو اکثر ناکام رہتی ہے۔

وہ ایک بار پھر رابطہ نہ ہونے پر خاندان کے ایک فرد کو آڈیو پیغام بھیجتا ہے کہ ’کافی عرصہ ہو گیا ہے، اسے وقتاً فوقتا میری آواز سننے کی ضرورت ہے، تاکہ وہ اپنے والد کو بھول نہ جائے۔‘

’ہارٹ آف سٹون‘ کی میوزک ویڈیو ’جیل ٹائم ریکارڈز‘ کے انداز کی ایک عام مثال ہے۔

اس کی پروڈکشن اعلیٰ معیار کی ہے، کہانی متاثر کن ہے اور بڑی تعداد میں قیدی اداکار اور عملے کے ارکان کے طور پر شریک ہوتے ہیں۔

نیوزی لینڈ کے آسکر یافتہ ہدایت کار تائیکا وائٹٹی جنھوں نے اپنی اہلیہ اور گلوکارہ ریٹا اورا کے ساتھ اس دستاویزی فلم کے ایگزیکٹو پروڈیوسر کے طور پر کام کیا، کہتے ہیں: ’وہاں سے نکلنے والی موسیقی حیرت انگیز ہے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ فن کی طاقت، نجات کے تصور اور اس چیز کے حوالے سے کہ یہ ان لوگوں کے لیے کیا معنی رکھ سکتی ہے، جو بعض اوقات عمر بھر جیل میں رہتے ہیں۔ اظہار کا کوئی ذریعہ ہونا نہایت طاقتور اور انسانی چیز ہے۔

’جیل ٹائم ریکارڈز‘ کا آغاز سنہ 2018 میں ہوا جب روچ نے نیو بیل کے اندر تقریبات منعقد کرنے والی ایک غیر منافع بخش تنظیم کے ساتھ رضاکارانہ کام شروع کیا۔

قیدیوں کے لیے ایک رقص کی کلاس کے دوران ریپرز کے ایک گروپ نے مائیکروفون سنبھال لیا اور فی البدیہہ پرفارم کرنا شروع کر دیا۔

ان کی کارکردگی سے متاثر ہو کر روچ نے جیل انتظامیہ سے سٹوڈیو قائم کرنے کی اجازت مانگی۔

انتظامیہ نے اجازت دے دی اور روچ نے ہاپی کو بطور پروڈیوسر اور ساؤنڈ انجینئر سٹوڈیو چلانے کے لیے شامل کر لیا۔

Inmates form a crowd in the courtyard - some of them can be seen standing on a corrugated iron roof.

،تصویر کا ذریعہArtists Equity

،تصویر کا کیپشنقیدی فروری میں ہونے والے Jail Time Records کے کنسرٹ کو بہتر انداز میں دیکھنے کے لیے جگہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

ہاپی کے مطابق، وہ اپنے مرحوم والد کی تدفین کے بارے میں خاندانی تنازع کے بعد نیو بیل پہنچے۔

ان کا دعویٰ ہے کہ اس تنازع کے دوران ان کی خالہ، جو ایک ہائی کورٹ جج تھیں نے ان پر والد کے قتل کا الزام لگا کر انھیں جیل بھجوا دیا۔

’جیل ٹائم ریکارڈز‘ کے مطابق دو سال بعد وہ اس جرم سے بری کر دیے گئے۔

سنہ 2022 میں ہاپی روچ اور قیدیوں نے ’جیل ٹائم والیم ون‘ کے نام سے ایک البم جاری کیا۔

’جیل ٹائم ریکارڈز‘ کی روایت کے مطابق البم سے حاصل ہونے والے منافع کا نصف حصہ فنکاروں کو دیا گیا جبکہ باقی رقم لیبل میں دوبارہ سرمایہ کاری کی گئی۔

سنہ 2022 میں ہیومن رائٹس واچ نے رپورٹ کیا کہ نیو بیل کی خستہ حال عمارتوں میں 4700 قیدی رکھے گئے تھے، جو اس کی گنجائش سے چار گنا زیادہ تھے۔

انسانی حقوق کے گروپس کے مطابق، جیل کی بھیڑ اور غیر صحت بخش حالات کی وجہ سے چار سال قبل ہیضے کی وبا تیزی سے پھیلی تھی اور کم از کم چھ قیدی اس بیماری سے ہلاک ہوئے۔

نیو بیل تشدد کے لیے بھی بدنام ہے۔

سنہ 2008 میں فرار کی ایک کوشش کے دوران محافظوں نے 16 قیدیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

قیدی ایک دوسرے پر حملے اور دھونس بھی جماتے ہیں۔ دستاویزی فلم میں ایمپریور، جو متعدد جرائم میں 10 سال کی سزا کاٹ رہا ہے، ایک نوجوان قیدی سے زبردستی گلے کی زنجیر اور چپلیں لیتا دکھائی دیتا ہے۔

اس سوال پر کہ کیا ’جیل ٹائم ریکارڈز‘ کا منصوبہ ایمپریور اور دیگر پرتشدد جرائم کے مرتکب مجرموں کی تشہیر کا باعث بن سکتا ہے؟

روچ نے بی بی سی سے کہا کہ ’ہم جو کام کر رہے ہیں وہ بنیادی طور پر بحالی کا عمل ہے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’موسیقی، ہر تخلیقی عمل کی طرح، خود کو دریافت کرنے کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ اپنے کیے ہوئے کاموں کو سمجھنے اور امید ہے کہ بہتر انسان بننے کا راستہ۔‘

Taika Waititi, Dione Roach and Steve Happi pose for a photo in front of a Tribeca Festival step and repeat

،تصویر کا ذریعہGetty Images for Tribeca Festival

،تصویر کا کیپشننیو بیل کے سابق قیدی سٹیو ہاپی (دائیں) نے ڈیون روچ (درمیان) کے ساتھ اس دستاویزی فلم کی ہدایت کاری کی جبکہ تائیکا وائٹٹی (بائیں) ایگزیکٹو پروڈیوسر تھے۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیل انتظامیہ بھی اس خیال سے متفق ہے۔

ہاپی کہتے ہیں: ’اُنھوں نے اس منصوبے کا بہت خیر مقدم کیا۔ کیمرون ایک نہایت موسیقی پسند ملک ہے... ہر شخص موسیقی سے محبت کرتا ہے۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ اس سال ہونے والے کنسرٹ میں جیل کے سربراہ نے بھی شرکت کی اور فنکاروں کے ساتھ مل کر رقص کیا۔

سرکاری حمایت کے باعث ’جیل ٹائم ریکارڈز‘ ترقی کر سکا ہے اور اب نیو بیل کے خواتین حصے سمیت مزید قیدیوں کو مواقع فراہم کر رہا ہے۔

’جیل ٹائم ریکارڈز‘ کی پہلی خاتون فنکار جیجے نے 2022 میں اپنے اداس انداز کے افروبیٹس گانے ’شو می دا وے‘ سے آغاز کیا۔

جیجے کہتی ہیں کہ کسی نے مجھے راستہ نہیں دکھایا، میں نے سب کچھ اکیلے کیا۔

جیجے کو مبینہ طور پر بدسلوکی کرنے والے چچا سے رقم چرانے اور فرار ہونے کے بعد قید کیا گیا تھا۔

Jeje, a female prisoner, in a T-shirt standing in a prison yard with a guard tower behind her.

،تصویر کا ذریعہJail Time Records

،تصویر کا کیپشنجیجے نے اپنا افروبیٹس گانا نیو بیل کے خواتین حصے کے صحن میں ریکارڈ کیا۔

خواتین کے ساتھ کام کرنے کے علاوہ ’جیل ٹائم ریکارڈز‘ نے اپنے منصوبے کو نیو بیل اور کیمرون سے باہر بھی وسعت دی ہے۔

روچ اور ہاپی نے 2023 میں ایک ہزار میل دور، برکینا فاسو کے دارالحکومت واگادوگو کی مرکزی جیل میں ایک اور سٹوڈیو قائم کیا۔

جیل ٹائم ریکارڈز کو اُمید ہے کہ وہ نیو بیل کے اصل اسٹوڈیو کی کامیابی کو دہرائے گا جس کے ساتھ ریکارڈ لیبل، میوزک ویڈیو پروڈکشن یونٹ اور اب ایک ایوارڈ یافتہ دستاویزی فلم بھی وابستہ ہے۔

فلم کا اختتام ’یادِ رفتگاں‘ کے ایک حصے پر ہوتا ہے، جو ان چھ قیدیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے جو جیل ٹائم ریکارڈز منصوبے کے دوران وفات پا گئے۔

نیو بیل بظاہر ایک تاریک اور مایوس کن جگہ معلوم ہوتی ہے، لیکن ہاپی کے مطابق موسیقی قیدیوں کے لیے ’بہتر مستقبل کی ایک روشنی‘ فراہم کرتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اس سے پہلے ان کی سوچ یہ تھی کہ پوری دنیا ان کے خلاف ہے۔

اب وہ خود کو اہم محسوس کرتے ہیں، انھیں لگتا ہے کہ معاشرے میں ان کی بھی ایک جگہ ہے۔