’بوائے فرینڈ کرائے پر دستیاب ہے‘: انڈیا میں جعلی ڈیٹنگ اشتہار نوجوان خواتین کے لیے نیا خطرہ

    • مصنف, اماریندر یارلاگڈا
    • عہدہ, بی بی سی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

’کیا آپ کو بوائے فرینڈ چاہیے ہم کرائے پر فراہم کریں گے۔ معاوضہ کام اور وقت کے حساب سے مقرر ہوگا۔‘ اس طرح کے کچھ اشتہارات سوشل میڈیا پر پھیل رہے ہیں۔

حیدرآباد پولیس کا دعویٰ ہے کہ ان اشتہارات کے پیچھے خواتین کے ساتھ دھوکہ دہی کے مختلف طریقے چھپے ہوئے ہیں۔

حیدرآباد پولیس کمشنر وی سی سجنار نے خبردار کرتے ہوئے کہا: ’یہ سائبر مجرموں کی جانب سے بچھایا گیا ایک نیا ڈیٹنگ جال ہے، جو خاص طور پر نوجوان خواتین کو ہدف بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔‘

اُنھوں نے بتایا کہ پوسٹر میں یہ پیغام درج ہے کہ ’کیا آپ تنہائی کا شکار ہیں؟ کیا آپ کسی خوبصورت نوجوان کے ساتھ کافی پینے یا فلم دیکھنے جانا چاہتی ہیں؟ وہ بھی 50 فیصد رعایت کے ساتھ؟‘

حیدرآباد کی ماہر نفسیات انیتا آرے نے بی بی سی کو بتایا کہ کچھ لوگ نو عمری کی کشش کو استعمال کرتے ہوئے دھوکہ دہی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

وقت کے مطابق قیمت مقرر کی گئی ہے، یہ اسی پوسٹر میں درج ہے جسے پولیس کمشنر سجنار نے اپنے ایکس ہینڈل پر وارننگ کے طور پر پوسٹ کیا ہے۔

اشتہارات میں کیا لکھا ہے؟

پولیس کمشنر وی سی سجنار نے کہا ہے کہ اُنھوں نے دیکھا ہے کہ سوشل میڈیا پر اس قسم کے پوسٹر بار بار شیئر کیے جا رہے ہیں۔

سجنار نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر اس نوعیت کے چند اشتہارات کی تفصیلات پوسٹ کی ہیں۔ ان اشتہارات میں دو بنیادی باتیں نمایاں ہیں۔

پہلی وقت یعنی کتنی مدت کے لیے کرائے پر بوائے فرینڈ دستیاب ہوگا۔

دوسری، کرائے کی قیمت۔

پولیس کے مطابق اشتہارات میں ہر سرگرمی کے لیے الگ قیمت درج کی جاتی ہے۔

مثال کے طور پر ایک گھنٹہ کافی پینے اور گفتگو کے لیے 499 روپے، فلم دیکھنے کے لیے 1249 روپے۔ خریداری کے دوران ساتھی کے طور پر 1499 روپے اور مختلف تقریبات یا شادیوں میں ساتھ جانے کے لیے 1999 روپے وصول کیے جائیں گے۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ ’اس کے علاوہ، وہ 10 گھنٹے کے پورے دن کے پیکج کے لیے 4499 روپے کا ریٹ کارڈ بھی پیش کر رہے ہیں۔‘

اشتہارات میں براہ راست پیغام بھیجنے کی ہدایت دی جاتی ہے اور یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ’کرائے کے بوائے فرینڈ‘ بھیجتے وقت خاتون کی تفصیلات خفیہ رکھی جائیں گی۔

سجنار نے بتایا کہ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اشتہارات میں دکھائے گئے لڑکوں کی تصاویر حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

اشتہارات میں استعمال ہونے والی تصاویر مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی ہیں۔

اُنھوں نے دھوکہ دہی کے طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’خواتین کی تفصیلات حاصل کرنے کے بعد ان سے بات کر کے ان پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بکنگ کی تصدیق ہونے پر ایڈوانس کے نام پر والیٹ ٹرانسفر اور کیو آر کوڈ کے ذریعے رقم وصول کی جاتی ہے۔ اس کے بعد وہ اکاؤنٹس بلاک کر کے غائب ہو جاتے ہیں۔‘

پولیس کی وارننگ

پولیس اور حکومت کی جانب سے سائبر جرائم کے بارے میں عوام میں آگاہی بڑھانے کے باوجود نئی نئی صورتیں سامنے آ رہی ہیں۔

کال سینٹر، ٹریڈنگ، ڈیجیٹل گرفتاری، ڈیٹنگ ایپس اور دیگر مختلف طریقوں کے ذریعے سائبر جرائم مسلسل بڑھ رہے ہیں۔

اسی دوران حیدرآباد پولیس نے ’رینٹ بوائے فرینڈ‘ کے نام سے سائبر جرائم کی ایک اور نئی دھوکہ دہی کی سکیم کی نشاندہی کی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اب تک کوئی بھی متاثرہ شخص براہِ راست شکایت درج کروانے کے لیے سامنے نہیں آیا۔

تاہم حیدرآباد پولیس کمشنر سجنار نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر اس نئی قسم کے فراڈ کے بارے میں پہلے سے آگاہی نہ دی گئی تو مستقبل میں ایسے واقعات بڑھ سکتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ’جب پولیس کو سوشل میڈیا کے ذریعے اس طرح کی دھوکہ دہی کے بارے میں معلومات ملتی ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ بالکل نئی قسم کا جال ہے۔ یہ حال ہی میں شروع ہوا ہے۔ اسے کون چلا رہا ہے اور اس کے پیچھے کون لوگ ہیں، ہم اس کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ بظاہر یہ کسی دوسری ریاست سے چلایا جا رہا ہے۔‘

اُنھوں نے بتایا کہ حیدرآباد سائبر کرائم ونگ ان اشتہارات پر خاص نظر رکھے ہوئے ہے اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرے گا۔

پولیس نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ اشتہارات اور آن لائن دعوؤں پر یقین کر کے براہِ راست ان افراد سے ملنے جائیں تو جھوٹے وعدوں اور تعلقات کے بہانے محبت کے نام پر دھوکہ کھا سکتے ہیں۔

سجنار نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’بدنیتی کے ساتھ فون نمبر اور ذاتی تصاویر کا نامناسب استعمال کر کے بلیک میل کیے جانے کا خطرہ بھی موجود ہے۔‘

اُنھوں نے مشورہ دیا کہ اگر کوئی شخص اس قسم کے سائبر جرم کا شکار ہو یا کوئی مشتبہ پوسٹ دیکھے تو فوری طور پر پولیس میں شکایت درج کروائے۔

قومی جرائم کے ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق انڈیا میں دھوکہ دہی کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے۔

ہر سال سائبر جرائم میں اضافہ

انڈیا میں ہر سال سائبر جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔

قومی جرائم کے ریکارڈ بیورو کے 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق 2022 میں ملک میں 65 ہزار 893 سائبر جرائم درج ہوئے تھے جبکہ 2023 میں 86 ہزار 420 سائبر جرائم ریکارڈ کیے گئے۔ سنہ 2024 میں ایک لاکھ سے زائد سائبر جرائم درج کیے گئے۔

ان میں سے 18 ہزار 615 واقعات خواتین کے خلاف تھے۔

سائبر بلیک میلنگ کے مجموعی طور پر 601 مقدمات درج کیے گئے تھے جن میں 370 مقدمات خواتین سے متعلق تھے۔

ماہر نفسیات انیتا آرے کے مطابق والدین کا محتاط رہنا ضروری ہے۔

والدین کا کردار

ماہر نفسیات انیتا آرے کا مشورہ ہے کہ جب بچے سنِ بلوغت میں داخل ہوں تو والدین کو اپنے رویے میں کچھ ضروری تبدیلیاں کرنی چاہییں۔

اُنھوں نے کہا کہ سنِ بلوغت تک پہنچنے پر لڑکیاں اس قسم کی چیزوں کی طرف متوجہ ہو سکتی ہیں۔ اس عمر میں انھیں نئے تعلقات کی ضرورت محسوس ہو سکتی ہے اور ہم عمر لڑکوں کو دیکھ کر وہ ایسے اشتہارات سے متاثر ہو سکتی ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ گھر میں ان سے منفی انداز میں بات نہیں کرنی چاہیے بلکہ انھیں سمجھانا ضروری ہے۔

مس آرے نے مزید کہا کہ ’باہر کے لوگ بغیر کسی تنقید کے مختلف خوش کن باتوں کے ذریعے انھیں گمراہ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، اس بارے میں محتاط رہنا چاہیے۔‘