شیخ حسینہ کی نئی دہلی میں تقریر اور بیٹے کے ’آئی ایس آئی‘ پر الزام کے بعد پاکستان کا طنز

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, اعظم خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ بنگلہ دیش کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا اور جلاوطن سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد اور ان کے بیٹے کے حالیہ بیانات پر تبصرہ نہیں کرے گا۔
جبکہ دوسری جانب بنگلہ دیشی حکومت اور حکمران جماعت بی این پی نے نئی دہلی میں شیخ حسینہ کو میڈیا سے خطاب کی اجازت دیے جانے پر انڈیا کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
جمعرات کو اسلام آباد میں دفتر خارجہ کی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان طاہر اندرابی سے سوال کیا گیا کہ آیا شیخ حسینہ واجد اور ان کے بیٹے سجیب واجد کے پاکستان سے متعلق بیانات کے بعد اسلام آباد اور ڈھاکہ کے درمیان کوئی سفارتی رابطہ ہوا ہے یا نہیں۔
اس پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان سفارتی روابط معمول کے مطابق جاری ہیں اور یہ کسی ایک واقعے یا بیان تک محدود نہیں۔ ان کے مطابق اسلام آباد اور ڈھاکہ کے درمیان سفارتی ذرائع سے رابطے بدستور برقرار ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان بنگلہ دیش کے داخلی سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا، اس لیے شیخ حسینہ واجد کے حالیہ خطاب یا اس میں کیے گئے تبصروں پر اسلام آباد کا کوئی مؤقف نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ بیان انڈیا سے دیا گیا تھا، اس لیے یہ معاملہ بنگلہ دیش اور انڈیا کے درمیان ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ بنگلہ دیش کے عوام اپنے مسائل خود حل کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں اور انھیں بیرونی مداخلت کی ضرورت نہیں۔ ان کے بقول پاکستان بنگلہ دیش کے خودمختار فیصلوں کا احترام کرتا ہے اور اس کی ترقی اور خوشحالی کے سفر میں تعاون جاری رکھے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دلی میں شیخ حسینہ اور ان کے بیٹے کی تقاریر، پاکستان کا جواب
بدھ کو عوامی لیگ کی سربراہ اور بنگلہ دیش کی معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے نئی دہلی میں فارن کورسپونڈنٹس کلب آف ساؤتھ ایشیا کے زیر اہتمام ایک تقریب سے ورچوئل خطاب کیا۔
اگرچہ انھوں نے اپنی بنگلہ دیش واپسی کی حتمی تاریخ نہیں بتائی تاہم انھوں نے کہا کہ وہ دسمبر میں بنگلہ دیش واپس جانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس تقریب میں ویڈیو لنک کے ذریعے ان کے صاحبزادے اور سیاسی مشیر سجیب واجد جوئے بھی شریک ہوئے۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کو بنگلہ دیش میں ’کھلی چھوٹ‘ حاصل ہے اور یہ ملک کے داخلی معاملات پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان سے جب اس الزام کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ اگرچہ انھوں نے یہ بیان نہیں دیکھا، تاہم پاکستان آئی ایس آئی کے کردار سے متعلق کسی بھی قسم کے الزام یا اشارے کو یکسر مسترد کرتا ہے۔
انھوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’انڈیا میں آئی ایس آئی کے حوالے سے خوف پایا جاتا ہے تو شاید وہ بھی اسی انفیکشن میں مبتلا ہو گئے ہیں کیونکہ وہ انڈیا میں ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے۔‘
تاہم انھوں نے کہا کہ اسلام آباد شیخ حسینہ اور موجودہ بنگلہ دیشی حکومت کے درمیان تنازعے پر کوئی تبصرہ نہیں کرے گا۔

فیصلہ اب انڈیا کو کرنا ہے: بنگلہ دیش کا سخت ردعمل
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
دوسری جانب ڈھاکہ نے نئی دہلی میں شیخ حسینہ واجد کو میڈیا سے خطاب کی اجازت دیے جانے پر شدید ناراضی کا اظہار کیا ہے۔
بنگلہ دیشی حکومت کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ مفرور اور سزا یافتہ شیخ حسینہ کو نئی دہلی میں میڈیا سے براہ راست گفتگو کا موقع دیا گیا، جہاں انھوں نے اور ان کے قریبی ساتھیوں نے بنگلہ دیشی ریاست اور عوام کے خلاف ’زہریلے الزامات اور اشتعال انگیز بیانات‘ دیے۔
بیان میں کہا گیا کہ ڈھاکہ نے اس تقریب کے ممکنہ سفارتی اثرات کے بارے میں پیشگی طور پر انڈین حکومت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا تھا، لیکن اس کے باوجود تقریب کی اجازت دی گئی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے تسلیم شدہ حقائق، جن میں 2024 کی تحریک کے دوران شہریوں اور بچوں کی ہلاکتوں کے الزامات بھی شامل ہیں، کو مسترد کرنا تاریخ کا رخ موڑنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔
ڈھاکہ نے یہ بھی یاد دلایا کہ اس نے 2013 کے حوالگیِ ملزمان کے معاہدے کے تحت شیخ حسینہ کی واپسی کے لیے متعدد بار انڈیا سے درخواست کی، تاہم اس کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
بنگلہ دیش کی نائب وزیر خارجہ شاما عبید نے بھی نئی دہلی میں ہونے والی پریس کانفرنس پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بنگلہ دیش اور انڈیا کے تعلقات کی آئندہ سمت کا فیصلہ اب نئی دہلی کو کرنا ہوگا۔
ان کے بقول دونوں ممالک کے عوام اور حکومتیں بہتر تعلقات کی خواہاں ہیں، لیکن اگر انڈیا اپنی سرزمین سے ’آمریت پسند، فاشسٹ اور سزا یافتہ‘ عوامی لیگ کے رہنماؤں کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دیتا رہتا ہے تو یہ بنگلہ دیشی عوام کے لیے تشویش کا باعث ہوگا۔
شاما عبید نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کئی جہتوں پر مشتمل ہیں اور مختلف مسائل مذاکرات کے ذریعے حل ہونے چاہییں، تاہم اب فیصلہ انڈیا کو کرنا ہے کہ آیا وہ ایسی سرگرمیوں کی اجازت جاری رکھتا ہے یا نہیں۔
بنگلہ دیش کی حکمران جماعت بی این پی کے متعدد سینئر رہنماؤں نے بھی انڈیا کے کردار پر سوالات اٹھائے ہیں۔
بی این پی کی قائمہ کمیٹی کے رکن اور وزیر داخلہ صلاح الدین احمد نے بی بی سی بنگلہ سے گفتگو میں کہا کہ ان کا بنیادی سوال یہ ہے کہ انڈین حکومت نے شیخ حسینہ کو میڈیا سے براہ راست بات کرنے کا موقع کیوں فراہم کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ انڈیا نے شیخ حسینہ کو سیاسی پناہ تو دی ہوئی ہے، لیکن اب وہ وہاں سے بنگلہ دیش کے سیاسی معاملات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہی ہیں۔
صلاح الدین احمد کے مطابق یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ایسے شخص کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت کیوں دی جا رہی ہے جسے بنگلہ دیش میں انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمات اور سزاؤں کا سامنا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
شیخ حسینہ نے اپنی واپسی سے قبل پاکستان پر الزام کیوں لگایا؟
بین الاقوامی تعلقات کے ماہر ڈاکٹر اشتیاق احمد نے بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شیخ حسینہ واجد کا دسمبر میں بنگلہ دیش واپسی کا اعلان محض ایک ’سیاسی نعرہ‘ ہے جس کا ’زمینی حقائق سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔‘
ان کے بقول، اس وقت ان کے پاس انڈیا میں بیٹھ کر ایسے بیانات دینے اور پاکستان پر الزامات عائد کرنے کے علاوہ ’کوئی مؤثر سیاسی راستہ باقی نہیں بچا۔‘
ڈاکٹر اشتیاق احمد کے مطابق شیخ حسینہ واجد کے طرزِ حکمرانی کے خلاف عوامی ردعمل ہی بنگلہ دیش میں بغاوت کی صورت میں سامنے آیا، جس کے بعد انھیں فوج کی مدد سے ملک چھوڑنا پڑا۔
ان کا کہنا تھا کہ شیخ حسینہ کی بڑی سیاسی غلطیوں میں سے ایک ’انڈیا میں پناہ لینا تھی کیونکہ ڈھاکہ میں پہلے ہی انڈیا کے بارے میں تحفظات پائے جاتے ہیں، خصوصاً شہریت سے متعلق انڈین قوانین کے بعد۔‘
ان کے خیال میں شیخ حسینہ واجد اور ان کے بیٹے کے حالیہ بیانات کو زیادہ اہمیت دینے کی ضرورت نہیں، اور پاکستان کو بھی ان پر ردعمل ظاہر کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
ڈاکٹر اشتیاق احمد کے مطابق پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات بتدریج بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈھاکہ نے حالیہ برسوں میں نہ صرف اسلام آباد بلکہ بیجنگ کے ساتھ بھی اپنے روابط کو مزید مضبوط کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے کہا کہ موجودہ علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال میں انڈیا کو سفارتی سطح پر متعدد چیلنجز کا سامنا ہے اور خطے میں اس کے بارے میں رائے عامہ پہلے جیسی نہیں رہی۔ ان کے بقول، یہی وجہ ہے کہ بنگلہ دیش اپنی خارجہ پالیسی میں زیادہ متوازن اور آزادانہ طرزِ عمل اختیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
نئی دہلی میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر عبدالباسط نے بی بی سی کو بتایا کہ ’شیخ حسینہ واجد مجرم ہیں اور انھیں کسی بھی ملک میں کسی بھی قسم کی سرگرمی کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔‘
ان کے مطابق بنگلہ دیش اور انڈیا میں ’ملزمان کی حوالگی کا معاہدہ بھی ہے تو انڈیا اس معاہدے کے تحت دسمبر سے پہلے سابق وزیر اعظم کو بنگلہ دیش کے حوالے کرنے کا بھی پابند ہے۔‘
عبدالباسط کے مطابق شیخ حسینہ واجد کے خلاف مقدمات سیاسی نوعیت کے نہیں بلکہ ’سینکڑوں لوگوں کے قتل کا مقدمہ ہے جسے سیاسی رنگ نہیں دیا جا سکتا۔ یہ ایسا مقدمہ ہے جس میں ان کے دور کے وزیر داخلہ اسدالزمان بھی مطلوب ہیں۔‘
ان کے مطابق شیخ حسینہ واجد چونکہ انڈیا میں ہیں تو وہ وہاں کے لوگوں کو خوش کرنے کے لیے ایسے بیانات دے رہی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ عوامی لیگ کا ’1971 سے ہی پاکستان مخالف بیانیہ ہے جس پر وہ کاربند ہے۔‘
سابق سفارتکار کے مطابق ’ابھی دیکھنا ہوگا کہ بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق الرحمان اگلے ماہ برکس سمٹ میں شرکت کے لیے انڈیا جائیں گے یا نہیں اور کیا دونوں ممالک کے درمیان واٹر ٹریٹی پر بھی کوئی پیشرفت ہو سکے گی۔‘
ان کی رائے میں انڈیا ابھی شیخ حسینہ کو واپسی کی اجازت نہیں دے گا۔
ان کے مطابق شیخ حسینہ کی کوشش ہو گی کہ وہ سازگار حالات میں بنگلہ دیش واپس جائیں، عوامی لیگ کو متحرک کریں اور اپنے بیٹے کو مستقبل کا وزیراعظم بنانے میں کردار ادا کریں گے۔



















