پشاور بی آر ٹی بسیں ’پنجاب منتقل‘ کرنے کے دعووں اور ویڈیوز کی حقیقت کیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہSOCIAL MEDIA
11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے کی سیاسی صورتحال بدستور توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ اسی پس منظر میں سوشل میڈیا پر چند ویڈیوز تیزی سے وائرل ہوئیں جن کے بعد مختلف دعوے اور تبصرے سامنے آنے لگے۔
ویڈیوز میں دکھائی دیتا ہے کہ بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی)، جو صوبہ خیبر پختونخوا کے دار الحکومت پشاور کی پبلک ٹرانسپورٹ سروس ہے، کی متعدد بسوں کو ٹرالروں پر لاد کر منتقل کیا جا رہا ہے۔
ویڈیو کو مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے اس دعوے کے ساتھ شیئر کیا گیا کہ گورنر راج کے نفاذ کے بعد پشاور کی بی آر ٹی بسیں پنجاب منتقل کی جا رہی ہیں۔
ایک ایکس اکاؤنٹ نے دعویٰ کیا کہ گورنر راج کے نفاذ کے بعد پشاور میٹرو (بی آر ٹی) کی 200 بسیں پنجاب منتقل کر دی گئی ہیں۔ پوسٹ میں سوال اٹھایا گیا کہ آیا خیبر پختونخوا کے معدنی وسائل اور دیگر سرکاری اثاثوں کا بھی یہی انجام ہو گا۔
اسی نوعیت کے دعوے دیگر اکاؤنٹس کی جانب سے بھی کیے گئے اور دعویٰ کیا گیا کہ گورنر راج کے بعد خیبر پختونخوا کے وسائل صوبے سے باہر منتقل کیے جا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ارم جاوید نامی صارف نے لکھا: ’پشاور کی بی آر ٹی بسیں پنجاب پہنچائی جا رہی ہیں، دیکھنا پھر یہی بسیں اپنا نام لگا کر واپس پشاور پہنچا دی جائیں گی۔‘
یہی ویڈیو پاکستان تحریک انصاف فیصل آباد نامی ایکس اکاؤنٹ سے بھی شیئر کی گئی، جس پر بلیو ٹِک بھی تھا، جو کسی اکاؤنٹ کے تصدیق شدہ ہونے کی علامت ہے۔ اس پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ گورنر راج کی آڑ میں خیبر پختونخوا کے عوام کو ان سہولیات سے محروم کیا جا رہا ہے جو صوبے میں تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں فراہم کی گئی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہx.com/PTIFaisalabadPK
یہ معاملہ اس وقت مزید نمایاں ہوا جب پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ رہنما اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے سابق معاونِ خصوصی شہباز گل نے بھی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’یہ بی آر ٹی کی بسیں کون چوری کر کے لے جا رہا ہے‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم یہ دعوے سامنے آنے کے ساتھ ہی متعدد سوشل میڈیا صارفین نے ان کی تردید بھی شروع کر دی۔ صارفین کا کہنا تھا کہ وائرل ویڈیو حالیہ نہیں بلکہ پرانی ہے اور اس کا موجودہ صورتحال سے کوئی تعلق نہیں۔
بعض صارفین نے وضاحت کی کہ ویڈیو اُس وقت بنائی گئی تھی جب پشاور کی بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) سروس کے لیے بیرونِ ملک سے درآمد کی گئی بسوں کی کھیپ کراچی بندرگاہ سے بذریعہ ٹریلر پشاور منتقل کی جا رہی تھی۔
پشاور کی بس ریپڈ ٹرانزٹ سروس چلانے والے ادارے ٹرانس پشاور نے بھی گذشتہ روز (14 اکتوبر) وضاحت جاری کی۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
ٹرانس پشاور نے اپنے بیان میں کہا کہ سوشل میڈیا پر ایک پرانی ویڈیو اس دعوے کے ساتھ شیئر کی جا رہی ہے کہ بی آر ٹی پشاور کی بسیں شہر سے منتقل کی جا رہی ہیں، جبکہ یہ دعویٰ درست نہیں۔
ادارے نے کہا: ’سوشل میڈیا پر ایک پرانی ویڈیو اس جھوٹی خبر کے ساتھ چلائی جا رہی ہے کہ بی آر ٹی پشاور کی بسیں پشاور سے منتقل کی جا رہی ہیں۔ واضح رہے کہ یہ خبر سراسر بے بنیاد اور گمراہ کن ہے۔‘
’زیرِ نظر ویڈیو اس وقت کی ہے جب بی آر ٹی کی بسیں پشاور لائی جا رہی تھیں۔ عوام سے گزارش ہے کہ ایسی بے بنیاد خبروں پر یقین نہ کریں اور غیر مصدقہ معلومات آگے پھیلانے سے گریز کریں۔‘
اسی روز ٹرانس پشاور نے ایک اور پوسٹ میں بتایا کہ پشاور بی آر ٹی کے لیے مزید 27 نئی بسیں رواں ہفتے پشاور پہنچنے کی توقع ہے۔
ادارے کے مطابق رواں سال خریدی گئی 52 نئی بسوں میں سے 25 بسیں پہلے ہی پشاور پہنچ چکی ہیں جبکہ باقی 27 بسوں کی آمد متوقع ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
اس معاملے پر پنجاب کے وزیر ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ بلال اکبر خان نے بھی ردعمل دیا۔ انھوں نے شہباز گل کی پوسٹ کے جواب میں کہا کہ ویڈیو میں نظر آنے والی بسیں پنجاب نہیں بلکہ پشاور جا رہی تھیں۔
انھوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ’پنجاب کو پشاور کی بسوں کی ضرورت نہیں کیونکہ صوبے میں پہلے ہی الیکٹرک بسوں کا بڑا بیڑا چل رہا ہے جبکہ مزید بسیں بھی خریدی جا رہی ہیں۔‘
بعد ازاں ’فیکٹ چیک خیبر پختونخوا حکومت‘ نامی ایکس اکاؤنٹ نے بھی اس بارے میں وضاحت جاری کی۔
اکاؤنٹ کے مطابق بعض سوشل میڈیا صارفین اور اکاؤنٹس اگست 2026 کی ایک پرانی ویڈیو کو نئے دعووں کے ساتھ شیئر کر رہے تھے اور یہ تاثر دے رہے تھے کہ پشاور کی بی آر ٹی بسیں پنجاب منتقل کی جا رہی ہیں۔
فیکٹ چیک اکاؤنٹ نے کہا کہ ویڈیو کو غلط تناظر میں پیش کیا جا رہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نئی بسیں پشاور پہنچ رہی ہیں نہ کہ وہاں سے منتقل کی جا رہی ہیں۔
اس دوران سوشل میڈیا پر اس معاملے سے متعلق مزاحیہ میمز بھی سامنے آئیں۔

،تصویر کا ذریعہx.com/iffiViews
’افی ویوز‘ نامی ایک اکاؤنٹ نے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ایک تصویر شیئر کی جس میں ایک ہیلی کاپٹر بابِ خیبر کو اٹھا کر لے جا رہا ہے، اور اس پر ’پنجاب ایئر‘ تحریر ہے۔
بابِ خیبر پشاور کے قریب درہ خیبر کے داخلی راستے پر قائم ایک یادگاری دروازہ ہے جو خیبر پختونخوا کی نمایاں علامتوں میں شمار ہوتا ہے۔
ایک اور سوشل میڈیا صارف نے بھی مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی تصویر شیئر کی جس میں ایک انڈر پاس کو ٹریلر پر لاد کر منتقل کیا جا رہا ہے۔
اسی پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک صارف نے لکھا: ’کل بسیں پنجاب چلی گئیں، آج انڈر پاس ڈیرہ غازی خان پہنچ گیا، کل کو کہیں گے پشاور کا ٹریفک سگنل بھی اسلام آباد میں دیکھا گیا ہے۔‘



















