آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
خانقاہ سے 30 لاکھ ڈالر کی چوری اور کھانے کی میز پر سیکس کی ویڈیو: تھائی لینڈ میں بودھ راہب گرفتار
- مصنف, کیلی این جی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 4 منٹ
تھائی لینڈ میں پولیس نے ایک رہائش گاہ پر چھاپہ مارا تو وہاں سے مقامی کرنسی میں 10 کروڑ بھات یعنی (30 لاکھ ڈالر) سے زیادہ رقم اور سونے کی اینٹیں ملیں۔ تھائی خبر رساں ادارے دی نیشن کے مطابق رقم اتنی زیادہ تھی کہ اس کی گنتی رات گئے تک جاری رہی۔
وہ گھر ایک بودھ راہب کا تھا۔
رہائش گاہ میں نصب سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیتے ہوئے پولیس کو ایک ویڈیو بھی ملی، جس میں وہ راہب اپنے کھانے کی میز پر ایک خاتون کے ساتھ سیکس کر رہے تھے۔
تھائی لینڈ میں بودھ راہب تجرد (جنسی تعلقات نہ رکھنے) کا عہد کرتے ہیں اور مادی املاک و دنیاوی چیزوں سے بھی دستبردار ہو جاتے ہیں۔
ان بودھ راہب کا نام پھرا واچیریان وی ہے اور وہ قدیم دار الحکومت ایوتھایا میں واقع 14ویں صدی کے معروف واٹ پھتھائیساوان مندر کے سابق سربراہ تھے۔ الزام ہے کہ انھوں نے اپنے خانقاہی ادارے سے یہ رقم خرد برد کی اور دو سال کے دوران 20 سے زیادہ مواقع پر مندر کے لیے دیے گئے عطیات اپنی جیب میں ڈال لیے۔
66 سالہ پھرا واچیریان ایک ایسا سکے نما تعویذ بنانے کے لیے جانے جاتے تھے، جس کی بہت مانگ تھی۔ اطلاعات کے مطابق تھائی وزیرِ اعظم انوتن چارنویراکُل بھی ان کی بنائی ہوئی چند اشیا کے مالک ہیں۔
پولیس نے جمعے کو بتایا کہ پھرا واچیریان مندر کے نام پر دو طرح کے عطیات وصول کرتے تھے۔ ایک رقم مندر کی مرمت و بحالی کے لیے مختص تھی، جبکہ دوسری تعویذوں اور دیگر مقدس اشیا کی ادائیگی کے لیے تھی۔
رپورٹس کے مطابق مرکزی تفتیشی افسر پاتاناساک بُپھاسوان نے ایک پریس کانفرنس میں کہا: ’لیکن دونوں ذرائع سے آنے والی رقم مندر کے اکاؤنٹ میں جمع نہیں ہوئی۔ ایک بھات بھی نہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
راہب کی اُن خاتون ساتھی کو بھی حراست میں لیا گیا ہے جن کے ساتھ سیکس کرنے کی ویڈیو سی سی ٹی وی فوٹیج سے ملی۔ گرفتاری کے بعد پھرا واچیریان کو راہب کے منصب سے محروم کر دیا گیا۔ انھوں نے تا حال عوامی سطح پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
حکام نے اِن خاتون کی شناخت 47 سالہ پُنیاوی رنگروئنگ کے طور پر کی، جنھیں ایک سرکاری اہلکار کی غیر قانونی سرگرمیوں میں معاونت کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ انھوں نے بھی تا حال عوامی سطح پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
تھائی لینڈ میں متعدد راہب حکومت سے وظیفہ وصول کرتے ہیں، اسی لیے انھیں سرکاری اہلکار تصور کیا جاتا ہے۔
پولیس نے پُنیاوی کے گھر سے 35 سونے کے تعویذ، تقریباً 1.5 کلوگرام سونے کی اینٹیں اور زیورات بھی ضبط کیے، جن کی مالیت کا تخمینہ 6.04 ملین بھات ہے۔
بینکاک پوسٹ کے مطابق پولیس کا ماننا ہے کہ پُنیاوی نے پھرا واچیریان کی خرد برد کی گئی رقم کی منتقلی میں مدد کی، اور یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ ہر سال ان کے بینک اکاؤنٹس کے ذریعے کروڑوں بھات کا لین دین ہوتا تھا۔
تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ انھیں جولائی کے وسط میں ایک گمنام اطلاع موصول ہوئی تھی جس میں پھرا واچیریان پر بد عنوان طرزِ عمل اور مندر کے فنڈز کے غلط استعمال کا الزام لگایا گیا تھا، جس کے بعد انھوں نے اس کیس کی تحقیقات شروع کیں۔
ان کے مطابق اس مقدمے میں دو یا تین دیگر افراد بھی ملوث ہو سکتے ہیں۔
تھائی لینڈ کا بدھ مذہبی ادارہ طویل عرصے سے ایسی رپورٹس کی زد میں رہا ہے جن میں راہبوں پر تجرد کا عہد توڑنے، منشیات کی سمگلنگ کرنے اور مالی جرائم کے ارتکاب کے الزامات لگائے گئے ہیں۔
ایک سال قبل بھی ایک سیکس اور بلیک میل سکینڈل سامنے آیا تھا جس میں سینیئر راہب ملوث تھے اور جس نے تھائی لینڈ کی راہبوں کی برادری کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
گذشتہ سال جولائی میں پولیس نے لوگوں کے لیے ’غلط رویہ اختیار کرنے والے راہبوں‘ کی اطلاع دینے کے لیے ایک ہاٹ لائن قائم کی تھی، جب کم از کم نو راہبوں کے بارے میں معلوم ہوا کہ انھوں نے ایک خاتون کے ساتھ سیکس کیا تھا۔
بعد ازاں اُن خاتون نے سیکس کرنے کی تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے انھیں بلیک میل کیا اور ان سے تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ ڈالر وصول کیے۔