آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اقرار الحسن کے خلاف سائبر کرائم مقدمہ: عدالت نے جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواست مسترد کر دی
پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر کراچی کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز عدالت نے صحافی اقرار الحسن کے جسمانی ریمانڈ کے خلاف دائر درخواست مسترد کر دی ہے۔
اقرار الحسن اس وقت سائبر کرائم حکام کی تحویل میں چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر ہیں۔ اقرار الحسن کے خلاف خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر تنقید کرنے سے متعلق پیکا ایکٹ کے تحت ایک مقدمہ درج ہے۔
ان کی اہلیہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اتوار کی شب نامعلوم نقاب پوش افراد ان کے شوہر کو لاہور میں واقع رہائش گاہ سے ’اغوا کر کے لے گئے تھے۔‘
منگل کے روز اقرار الحسن کو کراچی میں ضلع شرقی کے جوڈیشل مجسٹریٹ ون کی عدالت میں پیش کیا گیا جس نے انھیں چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر این سی سی آئی اے کے حوالے کیا تھا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ کے اس فیصلے کے خلاف اقرار الحسن نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز عدالت کراچی شرقی میں ایک درخواست جمع کروائی تھی۔
عدالت میں گرفتاری سے جسمانی ریمانڈ تک کے طریقۂ کار پر بحث
جمعرات کے روز درخواست کی سماعت کے دوران اقرار الحسن کے وکیل میاں علی اشفاق، این سی سی آئی اے کے پراسیکیوٹر اور تفتیشی افسر عدالت میں پیش ہوئے۔
بی بی سی اردو کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق عدالت کے روبرو ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق نے مؤقف اختیار کیا کہ اقرار الحسن کو 12 اکتوبر کی رات لاہور کے علاقے ڈی ایچ اے میں ان کے گھر پر چھاپہ مار کر حراست میں لیا گیا، تاہم ایف آئی آر میں گرفتاری کا وقت درج نہیں۔
ان کے مطابق اقرار الحسن لاہور کے مستقل رہائشی ہیں اور انھیں گرفتار کرنے کے لیے کراچی سے جانے والے تفتیشی افسر کے پاس اپنی ٹیم بھی موجود نہیں تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وکیل نے گرفتاری سے جسمانی ریمانڈ تک اختیار کیے گئے طریقۂ کار پر بھی سوالات اٹھائے۔ انھوں نے عدالت سے استفسار کیا کہ کیا اقرار الحسن کو لاہور سے گرفتار کرنے کے لیے محکمہ داخلہ پنجاب سے اجازت لی گئی اور کیا انھیں کسی عدالت سے راہداری ریمانڈ حاصل کرنے کے بعد کراچی منتقل کیا گیا تھا۔
انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ گرفتاری کے وقت تفتیشی افسر موقع پر موجود نہیں تھے۔
اقرار الحسن کے وکیل کے مطابق ’مقدمہ ایک ویڈیو سے متعلق ہے جو ان کے بقول اقرار الحسن کے سوشل میڈیا پیجز سے اپ لوڈ ہوئی۔‘
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ویڈیو میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے بارے میں بات کی گئی تھی، جو عوامی اور سیاسی بحث کا حصہ رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس معاملے میں کوئی شکایت کنندہ یا متاثرہ شخص سامنے نہیں آیا اور مقدمہ ایک ذرائع کی رپورٹ کی بنیاد پر درج کیا گیا۔
وکیل نے عدالت میں متنازع ویڈیو کا ٹرانسکرپٹ بھی پیش کیا اور کہا کہ اقرار الحسن نے جو بات کی وہ پہلے بھی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر زیرِ بحث رہی ہے۔
سماعت کے دوران عدالت نے اقرار الحسن کی اہلیہ فرح اقرار کو بھی روسٹرم پر بلا کر گرفتاری کے وقت کی صورتِ حال کے بارے میں پوچھا۔ فرح اقرار نے عدالت کو بتایا کہ گرفتاری کے موقع پر تفتیشی افسر موجود نہیں تھا۔
دوسری جانب تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ اقرار الحسن کے خلاف تحقیقات جاری ہیں اور ان کے موبائل فون، لیپ ٹاپ اور دیگر ڈیجیٹل آلات کی جانچ کی جا رہی ہے۔ تفتیشی افسر کے مطابق تقریباً 10 جی بی ڈیٹا کا تجزیہ کرنا باقی ہے۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا جو بعد ازاں درخواست مسترد کرنے کی صورت میں سامنے آیا۔
لاہور سے گرفتاری اور کراچی کی سٹی کورٹ میں پیشی
اقرار الحسن کے اہلخانہ نے بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ 30 گھنٹے تک وہ اس بارے میں لاعلم تھے کہ انھیں کس نے حراست میں لیا اور کہاں لے جایا گیا ہے۔
پنجاب میں این سی سی آئی اے کے حکام نے لاہور کی ایک عدالت میں اقرار الحسن کو اپنی تحویل میں لینے کی تردید کی تھی۔ جبکہ پنجاب حکومت نے کہا تھا کہ اقرار الحسن پنجاب پولیس کی تحویل میں نہیں ہیں۔
لاہور میں بی بی سی اردو کی نمائندہ ترہب اصغر سے گفتگو میں فرح اقرار کا کہنا تھا کہ اہلِ خانہ نے بارہا ان افراد سے پوچھا کہ آیا ان کے پاس گرفتاری کے وارنٹ موجود ہیں اور وہ کس ادارے سے تعلق رکھتے ہیں، تاہم ان کی جانب سے کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں اور نہ ہی انھوں نے اپنی شناخت ظاہر کی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر 12 اکتوبر کو اپ لوڈ کی گئی ویڈیو میں فرح اقرار نے کہا تھا کہ رات وہ سو رہی تھیں جب دروازے کی گھنٹی مسلسل بجنے لگی، جس پر وہ دیکھنے کے لیے باہر آئیں۔
ان کے بقول جب انھوں نے ٹیرس سے نیچے جھانک کر دیکھا تو ’چند افراد گھر کے صحن میں اور چند باہر موجود تھے۔‘
فرح کا کہنا تھا کہ اُن افراد نے چہروں پر ماسک پہن رکھے تھے اور وہ کہہ رہے تھے کہ ’اقرار کو باہر نکالو۔‘
فرح اقرار کے مطابق بعد ازاں یہ افراد نچلا دروازہ توڑ کر گھر کے اندر داخل ہوئے اور اوپر آ گئے۔
فیس بک پر اپ لوڈ کی گئی ویڈیو میں فرح کا کہنا تھا کہ اِن افراد کے ساتھ خواتین بھی موجود تھیں، جن کے بازوؤں پر انھوں نے ’این سی سی آئی اے‘ لکھا ہوا دیکھا۔
فرح اقرار نے دعویٰ کیا تھا کہ جب ان کے شوہر نیند سے بیدار ہو کر باہر آئے تو گھر آنے والے افراد نے انھیں پکڑ لیا اور ’اغوا کر کے لے گئے۔‘
اقرار الحسن کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بعد ان کے وکیل میاں علی اشفاق نے ان کی بازیابی کے لیے قانونی کارروائی کا اعلان کیا تھا اور لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
تاہم منگل کو سامنے آنے والی پیش رفت میں اقرار الحسن کو کراچی کی سٹی کورٹ میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے انھیں چار روز کے جسمانی ریمانڈ پر این سی سی آئی اے کے حوالے کر دیا۔
’جسمانی ریمانڈ کی ٹھوس وجہ نہیں دی گئی‘
اقرار الحسن کی جانب سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز عدالت میں دائر اپیل کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ کی جانب سے جاری فیصلے میں قرار دیا گیا تھا کہ ’ایف آئی آر کے مندرجات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم کو مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔ بادی النظر میں قابلِ اعتراض مواد پر مشتمل ضبط شدہ شواہد برآمد ہو چکے ہیں جو ملزم کو مبینہ جرم سے جوڑتے ہیں، لہٰذا ملزم کے خلاف الزامات معقول بنیاد رکھتے ہیں اور ان کی گرفتاری بظاہر جائز معلوم ہوتی ہے۔‘
اپیل میں کہا گیا تھا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ تفتیش ابتدائی مرحلے میں ہے اور تفتیشی افسر کی جسمانی ریمانڈ کی درخواست بظاہر مناسب معلوم ہوتی ہے، لہٰذا ملزم کو چار روز کے لیے تفتیشی افسر/این سی سی آئی اے کی جسمانی تحویل میں دیا جاتا ہے اور ہدایت کی جاتی ہے کہ 17 اکتوبر 2026 کو ملزم کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے اور تفتیشی پیش رفت کی رپورٹ بھی جمع کروائی جائے۔
اقرار الحسن کی جانب سے دائر درخواست میں اپیل کی گئی تھی کہ جوڈیشل مجسٹریٹ کی جانب سے درخواست گزار کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر تفتیشی افسر/این سی سی آئی اے کے حوالے کرنے کے حکم کو کالعدم قرار دیا جائے۔
عدالت سے مزید استدعا کی گئی کہ یا تو ملزم کو بری کرنے کا حکم دیا جائے یا متبادل طور پر درخواست گزار کو جسمانی ریمانڈ کے بجائے عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا جائے۔
اقرار الحسن پر کیا الزام ہے؟
این سی سی آئی اے نے اقرار الحسن کے خلاف پیکا (پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ) کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق این سی سی آئی اے کو ایک ’معتبر ذریعے‘ سے رپورٹ ملی کہ اقرار الحسن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ایکس، انسٹاگرام اور فیس بک پر اپنے ذاتی اکاؤنٹس سے ’جھوٹا، من گھڑت، ریاست مخالف اور ہتک آمیز مواد‘ نشر کیا۔
ایف آئی آر میں درج ہے کہ یہ مواد نشر کرنے کا اقرار الحسن کا مقصد یہ تھا کہ ’ریاست، ریاستی اداروں اور ان کے عہدیداروں کے خلاف عوامی رائے کو مشتعل کیا جائے۔‘
این سی سی آئی اے نے ایف آئی آر میں اقرار الحسن کی جانب سے ایکس، انسٹاگرام اور فیس بک پر اپ لوڈ کی گئی ویڈیو کا حوالہ دیا ہے، جس میں وہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج لگنے کی مذمت کر رہے ہیں، اور اسے ’عمران خان کے مینڈیٹ پر ڈاکہ‘ قرار دے رہے ہیں۔
ایف آئی آر میں درج ہے کہ مذکورہ مواد ریاست، اس کے اداروں اور ان کے عہدیداروں کے خلاف ہے، جس میں نامزد ملزم نے انھیں غلط اور مسخ شدہ انداز میں پیش کیا ہے، قانونی اقدامات کو متنازع بنا کر دکھایا ہے اور عوام کو ریاست اور حکام کے خلاف اکسانے کی کوشش کی ہے۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزم کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بڑی تعداد میں فالوورز موجود ہیں، جن میں عام لوگ بھی شامل ہیں، اور یہ مواد کھلے عام شائع یا نشر کیا گیا جس تک پاکستان اور بیرونِ ملک لوگوں کی رسائی ممکن تھی۔
ایف آئی آر میں یہ الزام بھی درج ہے کہ مذکورہ مواد عدالت سے سزا یافتہ افراد کو عظیم بنا کر پیش کرتا ہے، (گلوریفائی کرتا ہے) جو کہ غلط بات ہے۔
این سی سی آئی اے کی ایف آئی آر میں اقرار الحسن کی مذکورہ ویڈیو میں دیے گئے بیانات کو وفاق کی سالمیت اور یکجہتی کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق ملزم کے خلاف پیکا ایکٹ 2016 کی دفعات 9 (جرم کی گلوریفیکیشن یعنی جرم کو عظیم بنا کر پیش کرنا)، 10 (سائبر دہشت گردی)، 20 (کسی فرد کے وقار کے خلاف جرم )، 24 (سائبر سٹاکنگ، یعنی آن لائن ہراسانی) اور 26 اے (جھوٹی یا جعلی معلومات) کے تحت 10 اکتوبر 2026 کو مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
ایف آئی آر کے مطابق، مبینہ متنازع مواد کے سکرین شاٹس اور سکرین ریکارڈنگز 10 اکتوبر 2026 کو محفوظ کیے گئے اور ایک علیحدہ میمو کے تحت بطور کیس پراپرٹی تحویل میں لیے گئے، تاکہ انھیں حذف یا تبدیل ہونے سے محفوظ رکھا جا سکے۔