شخبوط بن سلطان النہیان: بینکاری نظام سے خائف ابوظہبی کے حکمران جنھیں برطانیہ نے اُن کے بھائی کی مدد سے اقتدار سے ہٹایا

    • مصنف, وقار مصطفیٰ
    • عہدہ, صحافی اور محقق
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 13 منٹ

سَلَامَہ بِنت بُطِّی القبيسی نے اپنے سُسرال میں دیکھ رکھا تھا کہ کیسے ابوظہبی کی حکمرانی کے حصول کے لیے بھائی اپنے ہی بھائی کی جان لینے سے نہیں کتراتا۔ اقتدار کے حصول کی اِسی جنگ میں اُن کے شوہر بھی مارے گئے تھے۔

چنانچہ جب سنہ 1928 میں سَلَامَہ کے بیٹے شخبوط بن سلطان النہیان کی ابوظہبی کی حکمرانی سنبھالنے کی باری آئی تو انھوں نے اپنے تینوں بیٹوں سے اُن کے بھائی (شخبوط بن سلطان) کی حمایت کرنے اور آپس میں خوںریزی نہ کرنے کا عہد لیا۔

یہ وہ دور تھا جب ابوظہبی اُن ٹروشل سٹیٹس (الامارات المُتَصالِحہ) کا حصہ تھی، جن کی جانب سے 19ویں صدی کے اوائل میں کیے گئے حفاظتی معاہدوں کے نتیجے میں خطے میں برطانیہ کی بالادستی قائم ہو گئی تھی۔ اِن ریاستوں کے دفاع، خارجہ تعلقات اور متعدد اہم انتظامی امور عملاً برطانیہ کے اختیار میں تھے۔

مؤرخ جیمز اونلی اپنی کتاب ’برٹن اینڈ دی گلف شیخ ڈمز: دی پولیٹکس آف پروٹیکشن‘ میں لکھتے ہیں کہ یہ وہ دور تھا جب خلیجی حکمران اپنے خطے میں تعینات برطانوی نمائندے کو ’رئیس الخلیج‘ اور ’فخامۃ الرئیس‘ جیسے القاب دیتے تھے۔

شخبوط بن سلطان النہیان نے جب ابوظہبی کا اقتدار سنبھالا تو برطانیہ نے بھی اُن کی والدہ سَلاَمَہ کے اُس عہد کی تائید کی جو انھوں نے اپنے باقی بیٹوں سے لے رکھا تھا۔

مشرق وسطیٰ کی سیاست کے ماہر کرسٹوفرڈیوڈسن کے مطابق برطانیہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’اپنے بھائی کو قتل کرنا ایک غیر اخلاقی اور خدا کو ناپسند عمل ہے، اور برطانوی سیاسی نمائندہ ٹروشل ریاستوں کے حکمرانوں کی ایسی کارروائیوں کے خاتمے میں خوش دلی سے مدد کرے گا۔‘

کرسٹوفر اپنی کتاب ’ابو ظہبی: آئل اینڈ بیانڈ‘ میں لکھتے ہیں کہ شیخ شخبوط کے ابوظہبی پر طویل دور حکومت نے کچھ حد تک سیاسی استحکام فراہم کیا جس کے نتیجے میں مقامی آبادی نے سُکھ کا سانس لیا۔

’تاہم یہ استحکام ظاہری تھا۔ کیوںکہ امارت کی معیشت خصوصاً موتیوں کی تجارت، عالمی کساد بازاری اور جاپانیوں کی جانب سے مصنوعی موتی متعارف کرانے کے بعد، زوال کا شکار تھی۔‘

امریکی جریدے ’ٹائم‘ نے تین مئی 1963 کے شمارے میں لکھا کہ تیل کی آمد سے پہلے شیخ شخبوط نے ابوظہبی کو سالانہ تقریباً 140,000 ڈالر کے کسٹم محصولات کی مدد سے چلایا۔

انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا کے مطابق شیخ شخبوط نے برطانیہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات برقرار رکھے اور سعودی عرب کے ساتھ سرحدی تنازع میں اپنی سرزمین پر سعودی پیش قدمی کامیابی سے روکے رکھی۔

یہ وہ وقت تھا جب قطر، سعودی عرب، کویت اور ایران تیل کی دولت پا رہے تھے۔

’شیخ شخبوط نے بھی مغربی کمپنیوں کو تیل کی تلاش اور کنویں کھودنے کے حقوق دیے، جن سے 1960 کی دہائی کے وسط میں ابوظہبی کو سالانہ 70 ملین ڈالر تک آمدنی ہونے لگی۔‘

سنہ 1959 میں ابوظہبی میں تیل دریافت ہو چکا تھا، تاہم اس سے پہلے شیخ شخبوط کے برطانیہ سے اختلاف کا آغاز ہو چکا تھا۔

فیڈریکو ویلز کے مضمون ’ابوظہبی، برطانیہ اور دائرۂ اختیار کا بحران‘ سے علم ہوتا ہے کہ اُس سال شیخ شخبوط نے برطانیہ سے ابوظہبی میں موجود اُس کے تمام باشندوں پر عدالتی اختیار کا مطالبہ کر دیا۔

’یہ مطالبہ برطانوی نیم نوآبادیاتی نظام اور اُس کے عدالتی اختیار کو ایک چیلنج کی طرح تھا، جس سے ایک سال تک سفارتی بحران جاری رہا۔‘

’برطانیہ نے محدود اختیارات واپس کرنے کی تجاویز دیں، مگر شخبوط نے انھیں ناکافی سمجھ کر مسترد کر دیا۔‘

مضمون کے مطابق یہ محض عدالتی اختیار کا تنازع نہیں تھا۔ ’بلکہ یہ عرب قوم پرستی کے بڑھتے اثر، برطانوی اثر و رسوخ کے مستقبل اور ابوظہبی میں تیل کی دریافت کے باعث طاقت کے بدلتے توازن کی علامت تھا۔‘

’سنہ 1960 میں امّ شعیف کے کنویں سے توقع سے کہیں زیادہ تیل نکلنے کے بعد برطانیہ کو احساس ہوا کہ ابوظہبی جلد تیل پیدا کرنے والی ایک بڑی ریاست بننے والا ہے۔ چنانچہ وہ شیخ شخبوط کو مکمل طور پر ناراض کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا تھا۔‘

’بالآخر جون 1960 میں شخبوط نے برطانوی محدود رعایتیں قبول کر لیں اور سفارتی بحران ختم ہو گیا۔‘

برٹینیکا کے مطابق ’تاہم، شخبوط تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو سکولوں اور بڑے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرنے میں محتاط تھے اور دیگر ٹروشل ریاستوں کے ساتھ مشترکہ ترقیاتی کوششوں میں بھی زیادہ دلچسپی نہیں لیتے تھے۔‘

ٹائم نے لکھا کہ جب تیل کی آمدنی آنا شروع ہوئی تو جلد ہی معلوم ہو گیا کہ شیخ شخبوط کو دولت خرچ کرنے سے زیادہ اِسے گننے میں دلچسپی ہے۔

’انھوں نے ایک ساحلی جزیرے پر واقع مٹی کی دیواروں والے محل میں اپنے سونے کے کمرے میں ایئر کنڈیشنر بھی لگوایا، مگر شور ناپسند ہونے کے باعث وہ اسے شاذونادر ہی چلاتے تھے۔‘

بینکوں پر اعتماد نہیں تھا

ٹائم نے لکھا کہ انھوں نے ابتدا میں تیل کمپنیوں کی جانب سے دیے جانے والے چیک لینے سے انکار کر دیا اور وہ نقد رقم اپنے بستر کے نیچے رکھتے تھے۔

جب دولت بڑھی تو انھوں نے نقدی محل کے تہہ خانے میں منتقل کروا دی۔ لیکن جب چوہوں اور کیڑوں نے نوٹ کھانا شروع کیے تو شخبوط نے بڑی ہچکچاہٹ کے ساتھ بینکاری کے نظام کو تسلیم کیا۔

ٹائم کے مطابق اپنے شکاری بازوں کے ساتھ تلور کا شکار پسند کرنے والے شیخ شخبوط کو روایتی زندگی سے حقیقی خوشی ملتی تھی۔

’شیخ اونٹنی کے دودھ کے بھی ماہر ذائقہ شناس تھے اور یہی اُن کا واحد پسندیدہ مشروب تھا۔ دودھ کا ذائقہ چکھ کر وہ بتا سکتے تھے کہ اونٹنی نے کیا کھایا ہے اور صحرا میں کہاں رہی ہے۔‘

’وہ آہ بھر کر کہتے تھے: پرانے زمانے میں میں سارا سفر اُونٹ پر کیا کرتا تھا، لیکن اب مجھے گاڑی میں جانا پڑتا ہے، کیونکہ اگر حکمران اونٹ پر سفر کرے گا تو لوگ اسے عجیب سمجھیں گے۔‘

ابوظہبی کی پس ماندہ حالت

کرسٹوفرڈیوڈسن کے مطابق، 1960 کی دہائی کے وسط میں برطانوی ایجنٹ نے لکھا کہ تیل کی ممکنہ دولت سے مالا مال ابوظہبی کے دارالحکومت میں صرف جھونپڑیاں، ایک خستہ حال بازار اور تیل کمپنی کی تعمیر کردہ چند عمارتیں ہیں۔

جبکہ اُن کی اہلیہ نے اپنی ڈائری میں لکھا کہ ’سڑکیں کچی ہیں اور کہیں کہیں پکی ہیں، ساحل اب بھی عوامی بیت الخلا ہے، ترقی کا کام گویا ٹھپ ہے۔‘

ہیلن فان بسمارک اپنی کتاب ’برٹش پالیسی اِن دی پرشین گلف، کنسیپشنز آف اِن فارمل ایمپائر‘ میں لکھتی ہیں کہ ’برطانوی حکام نے 1964 میں رپورٹ کیا کہ شیخ شخبوط کی آمرانہ حکمرانی اور ممکنہ طور پر عرب قوم پرستانہ جذبات رکھتے عرب تارکینِ وطن کی بڑھتی تعداد ابوظہبی کو ’تخریبی اور انقلابی سرگرمیوں کے لیے ایک بہترین ہدف‘ بنا رہی ہے۔‘

ان حکام کی خواہش تھی کہ شیخ شخبوط کو تبدیل کیا جائے۔

کرسٹوفر کے مطابق شخبوط کے جانشین کے لیے سب سے موزوں اُمیدوار اُن کے چھوٹے بھائی شیخ زاید بن سلطان النہیان تھے، جو عملاً اُن کے نائب اور قبائلی تنازعات کے ثالث تھے۔

'سنہ 1946 میں والیٔ بریمی مقرر ہونے کے بعد زاید نے محدود وسائل میں اس علاقے کو نمایاں ترقی دی، آبپاشی اور زراعت بہتر ہوئی، تجارت بڑھی، جبکہ 1958 میں سکول اور بعدازاں طبی سہولتیں قائم ہوئیں، جنھیں برطانوی حکام نے بھی سراہا۔'

’زاید زیادہ فعال ترقیاتی پالیسی اور جدید طرز حکمرانی کے حامی تھے اور برطانوی حکام سے اُن کے رابطے بھی بڑھ رہے تھے۔ یوں تیل کی دولت، جدیدیت کی ضرورت، علاقائی تنازعات اور شاہی خاندان کے اندر اقتدار کی کشمکش ایک دوسرے سے جڑتے گئے۔‘

احتجاج اور زاید کے خفیہ رابطے

ابوظہبی کے اندر شیخ شخبوط کی حکمرانی کے خلاف احتجاج شروع ہو گئے۔

ہیلن کے مطابق سنہ 1964 میں زاید نے خفیہ طور پر برطانوی نمائندے ہیو بوسٹیڈ سے ملاقات کر کے شخبوط کو ذہنی طور پر بیمار اور حکمرانی کے لیے نااہل قرار دیا۔

’بوسٹیڈ اور ولیم ہنری لوس 1962 سے ہی برطانوی حکومت پر زور دے رہے تھے کہ شخبوط کی جگہ زاید کو لایا جائے، تاہم دفترِ خارجہ ابتدا میں اس کا مخالف تھا اور شخبوط کی ناقص حکمرانی کو ’حقیقی معنوں میں ہمارا معاملہ نہیں‘ سمجھتا تھا۔‘

’جون 1964 میں زاید نے شخبوط کو شاہی خاندان کی گرتی مقبولیت سے آگاہ کیا، مگر شخبوط نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ جانتے ہیں لوگ انھیں پسند کرتے ہیں۔‘

اس کے بعد زاید بھی اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ اقتدار کی تبدیلی ناگزیر ہے۔

کرسٹوفر کے مطابق زاید کو اقتدار سونپنے کے لیے برطانیہ کو ایسا طریقہ درکار تھا جس سے نہ اُس کی کُھلی مداخلت ظاہر ہو اور نہ زاید کی قبائلی و خاندانی ساکھ متاثر ہو۔ خود زاید بھی نہ تشدد چاہتے تھے اور نہ اپنے بھائی کے خلاف کُھلی بغاوت۔ چنانچہ طے ہوا کہ اقتدار کی تبدیلی النہیان خاندان اور قبائلی عمائدین کی حمایت سے تیز اور خاموش کارروائی کے طور پر کی جائے۔

ہیلن نے لکھا ہے کہ ’برطانیہ نے زاید کی حمایت یقینی ہونے کے بعد ایسا منصوبہ بنایا کہ شخبوط کی موناکو کے شہزادہ رینیے کے ساتھ بحری سفر کے دوران ٹروشل عمان سکاؤٹس زاید کو اقتدار سنبھالنے میں مدد دیں اور رائل نیوی شخبوط کو قطر یا بحرین لے جائے۔‘

تاہم براہِ راست برطانوی مداخلت کو برطانوی دارالعوام میں قابلِ دفاع نہ سمجھتے ہوئے یہ منصوبہ مؤخر کر دیا گیا۔

مؤرخ روری کورمیک کے مطابق برطانوی دفترِ خارجہ نے شخبوط کو ہٹانے کا خفیہ منصوبہ مئی 1963 ہی میں شروع کر دیا تھا۔

’اُس وقت وزیر خارجہ ایلک ڈگلس ہوم نے تجویز دی تھی کہ انھیں خاندان کے دوسرے افراد کی مدد سے خاموشی سے ہٹایا جائے تاکہ یہ کارروائی محض ایک خاندانی تنازع دکھائی دے اور برطانوی کردار ناقابلِ شناخت رہے۔‘

سنہ 1964میں لیبر حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد نئے وزیر خارجہ پیٹرک گورڈن واکر نے ابتدا میں اس منصوبے کو طنزیہ طور پر ’جیمز بانڈ سکیم‘ کہا، لیکن جلد ہی وہ اس رائے کے قائل ہو گئے کہ برطانیہ کے معاشی مفادات شخبوط کی معزولی کا تقاضا کرتے ہیں۔

روری نے لکھا ہے کہ بعدازاں برطانوی حکام نے زاید کو اقتدار کی تبدیلی کے لیے ضروری سفارتی طریقۂ کار سے آگاہ کیا اور خاندان کے ارکان کی حمایت حاصل کرنے میں مدد دی۔

روری نے لکھا ہے کہ بعدازاں برطانوی حکام نے زاید کو اقتدار کی تبدیلی کے لیے ضروری سفارتی طریقۂ کار سے آگاہ کیا اور خاندان کے ارکان کی حمایت حاصل کرنے میں مدد دی۔

’جون 1966 میں زاید کے لندن کے دورے کے بعد اسے منصوبے پر عملدرآمد کی حتمی منظوری مل گئی اور ٹریوشیل عمان سکاؤٹس کو ممکنہ فوجی معاونت کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا گیا۔‘

اس کارروائی سے متعلق زیادہ تر دستاویزات خفیہ رکھی گئیں، جس کی بڑی وجہ برطانوی حکومت کی براہِ راست شمولیت تھی۔

ہیلن نے لکھا کہ چار اگست 1966 کی رات برطانوی نائب سیاسی نمائندے ایچ جی بالفور پال کو برطانوی دفترِ خارجہ سے ایک خط موصول ہوا، جس میں بتایا گیا کہ النہیان خاندان کی کونسل شخبوط کو اقتدار سے ہٹانے والی ہے اور اسے برطانوی مدد فراہم کی جانی ہے۔

’دفترِ خارجہ کی دستاویز میں کہا گیا کہ خط پر ’ضروری اختیار رکھنے والے دونوں افراد‘ کے دستخط موجود تھے، جن کی منظوری براہِ راست برطانوی اہلکاروں کے استعمال کے لیے درکار تھی، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ دونوں افراد کون تھے۔‘

ہیلن کے مطابق یہ محض برطانیہ کی جانب سے اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کی کارروائی نہیں تھی، نہ ہی صرف زاید کی ذاتی اقتدار حاصل کرنے کی کوشش، بلکہ زاید اور برطانوی حکومت اس میں برابر کے شراکت دار تھے۔

ہیلن لکھتی ہیں کہ چار اگست کی شام ابوظہبی میں قائم مقام برطانوی سیاسی ایجنٹ مسٹر نَٹال کو النہیان خاندان کے بزرگ ارکان کے دستخطوں سے مزین ایک خط پیش کیا گیا۔ خط میں برطانوی حکومت کو مطلع کیا گیا تھا کہ شاہی خاندان نے شیخ شخبوط کو اقتدار سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

’خط میں برطانوی حکومت سے باضابطہ درخواست کی گئی تھی کہ ابوظہبی میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے شیخ شخبوط کو مستقل طور پر امارت سے ہٹانے اور اُن کے دونوں بیٹوں، سعید اور سلطان، کو عارضی طور پر امارت سے باہر بھیجنے میں مدد فراہم کی جائے۔‘

تاہم یہ تبدیلی کیسے آئی تاریخی ریکارڈ اس واقعے کی ایک واضح تصویر پیش نہیں کرتے۔

ٹائم کے مطابق اپنے شکاری بازوں کے ساتھ تلور کا شکار پسند کرتے شخبوط کو روایتی زندگی سے حقیقی خوشی ملتی تھی۔

کرسٹوفر کے مطابق شخبوط کی معزولی کے طریقۂ کار کے بارے میں دو روایات ملتی ہیں۔

’ایک کے مطابق زاید نے قلعے میں شخبوط کو پیشکش کی کہ وہ برائے نام حکمران رہیں اور زاید کو امارت کے مالی و ترقیاتی امور کا اختیار دے دیں، مگر انکار پر انھیں باہر موجود ٹروشل عمان سکاؤٹس کی موجودگی سے آگاہ کیا گیا۔‘

دوسری روایت کے مطابق قائم مقام برطانوی سیاسی نمائندے اور سکاؤٹس کے کمانڈر نے شخبوط سے براہِ راست دستبرداری کا مطالبہ کیا۔

’زاید نے فون پر انھیں پُرامن طور پر اقتدار چھوڑنے اور مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ روانگی کی یقین دہانی کرائی۔ شخبوط کے انکار پر سکاؤٹس نے اُن کے محافظوں کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا، انھیں گارڈ آف آنر دیا گیا اور شاہی فضائیہ کے طیارے سے بحرین اور پھر بیروت روانہ کر دیا گیا۔‘

زاید کے بڑے بھائی شیخ خالد اقتدار کی کشمکش سے الگ رہے، جبکہ زاید کو شخبوط کے سب سے چھوٹے بیٹے اور ولی عہد، شیخ سلطان کی حمایت بھی حاصل تھی۔ شخبوط کے بڑے بیٹے شیخ سعید نے بھی مزاحمت نہیں کی۔ یہ دونوں 1960 کی دہائی کے اواخر میں علالت اور طرزِ زندگی سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے باعث وفات پا گئے۔

برٹینیکا نے مختصراً لکھا ہے کہ چھ اگست 1966 کو ابوظہبی کے شاہی خاندان، النہیان، کی ایک کونسل نے شیخ شخبوط کو اقتدار سے ہٹا کر اُن کے زیادہ ترقی پسند چھوٹے بھائی، شیخ زاید بن سلطان، کو حکمران مقرر کر دیا۔

ہیلن کے مطابق شخبوط کو اقتدار سے ہٹانے کی برطانوی سرکاری توجیہ یہ تھی کہ وہ ’مؤثر نظم قائم کرنے، حکومت چلانے اور ریاست کی دولت کو عوام کی فلاح کے لیے استعمال کرنے میں ناکام رہے تھے۔‘

بی بی سی عربی اور فارسی کی مشترکہ تحقیق کے مطابق، سنہ 1967 کی چھ روزہ جنگ کے بعد عرب ریاستوں میں برطانیہ کے خلاف بداعتمادی بڑھی، جبکہ خلیجی ریاستوں نے برطانوی پاؤنڈ میں اپنے اثاثے فروخت کرنا شروع کر دیے۔

پاؤنڈ کی قدر میں شدید کمی اور برطانوی معیشت پر دباؤ کے باعث ہیرلڈ ولسن کی حکومت نے مشرقِ وسطیٰ میں برطانیہ کے دفاعی وعدے ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔

اونلی کے مطابق جنوری 1968 میں ہیرلڈ ولسن کی لیبر حکومت نے اعلان کیا کہ برطانیہ خلیج میں اپنی فوجی موجودگی پر سالانہ 12 ملین پاؤنڈ خرچ مزید برداشت نہیں کر سکتا اور سنہ 1971کے اختتام تک اپنی فوجیں خلیج سے واپس بلا لے گا۔

جب برطانیہ نے سنہ 1968 میں خلیج فارس سے انخلا کی تجویز پیش کی تو ابوظہبی نے دیگر ٹروشل ریاستوں، بحرین اور قطر کے ساتھ مل کر نو ریاستی وفاق قائم کرنے کے لیے مذاکرات شروع کیے۔ تاہم بحرین اور قطر نے الگ راستہ اختیار کیا اور 1971 میں علیحدہ آزاد ریاستیں بن گئے۔

برطانیہ نے ٹروشل ریاستوں کے ساتھ اپنے سابقہ معاہدے ختم کر دیے اور اسی سال متحدہ عرب امارات وجود میں آیا، جس میں ابوظہبی ایک اہم اور مرکزی ریاست کی حیثیت سے شامل ہوا۔

’زاید اپنی روایتی مجلس میں لوگوں سے براہِ راست ملنے اور غیر معمولی فیاضی کے لیے بھی مشہور تھے۔‘

خود ابوظہبی مالیات اور بینکاری کا مرکز بن گیا۔ ابوظہبی شہر کو متحدہ عرب امارات کا ابتدائی طور پر پانچ سال کے لیے عبوری دارالحکومت قرار دیا گیا۔ اس حیثیت میں کئی مرتبہ توسیع کی گئی، یہاں تک کہ 1990 کی دہائی کے اوائل میں اسے ملک کا مستقل قومی دارالحکومت بنا دیا گیا اور شیخ زاید صدر بنے۔

لندن سے چھپنے والے روزنامے ’دی ٹائمز‘ کے مطابق متحدہ عرب امارات خلیج میں سعودی عرب اور ایران کے بعد تیل پیدا کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے اور اس کے تیل کے ذخائر دنیا کے مجموعی ذخائر کا تقریباً 10 فیصد سمجھے جاتے ہیں۔

نیویارک ٹائمز کے ڈگلس مارٹن کے مطابق، شیخ زاید کی قیادت میں تیل کی دولت کو شہری ترقی، ہسپتالوں، سکولوں اور جامعات پر خرچ کیا گیا اور شہریوں کو مفت تعلیم اور صحت سمیت وسیع حکومتی سہولتیں میسر آئیں۔

شیخ شخبوط کو شیخ زاید کے حق میں اقتدار چھوڑنے پر آمادہ کرنے والے برطانوی فوجی افسر بریگیڈیئر فریڈی ڈی بٹس، جو سنہ 1964 سے سنہ 1967 تک ٹروشل عمان سکاؤٹس کے کمانڈر رہے، بعدازاں متحدہ عرب امارات کی مشترکہ دفاعی فورس کی تشکیل میں مشیر بھی رہے۔

’شخبوط کو جلاوطن کیا گیا تھا، تاہم دونوں بھائیوں کے تعلقات برقرار رہے اور چار سالہ جلاوطنی کے بعد انھیں 1970 میں واپس بلا لیا گیا۔ بعد میں انھیں بریمی میں رہائش فراہم کی گئی، جہاں وہ تقریباً 20 برس بعد اپنی وفات تک مقیم رہے۔'

شیخ زاید دو نومبر 2004 کو 86 برس کی عمر میں وفات پا گئے۔ اُن کی والدہ سَلَامَہ بِنت بُطِّی القبيسی نے شیخ زاید کو ابوظہبی کا حکمران بنا تو دیکھ لیا لیکن اُن کے صدر بننے سے پہلے ہی وہ اکتوبر 1970 میں وفات پا گئیں۔

انھیں امارات کی تاریخ میں ام الشيوخ (شیوخ کی ماں) کے طور پر جانا جاتا ہے، کیونکہ وہ ایک سے زیادہ حکمرانوں، شیخ شخبوط اور بانیِ امارات شیخ زايد بن سلطان النہیان، کی والدہ تھیں۔

مؤرخ عبدالرزاق تکریتی نے چھ اگست 1966 کے اس واقعے کو ’نوآبادیاتی انقلاب‘ قرار دیا۔

ان کے نزدیک ایسے اقتدار کی تبدیلیاں محض مقامی شاہی خاندانوں کی اندرونی کشمکش نہیں تھیں بلکہ نوآبادیاتی طاقتوں کا ایک ایسا سیاسی ہتھیار تھیں جن کے ذریعے رسمی نوآبادیاتی انخلا کے باوجود سامراجی مفادات برقرار رکھے جاتے تھے۔