پاکستان سپر لیگ: نجم سیٹھی کی تشویش، منافع غیر یقینی، پھر بھی اربوں روپوں کی سرمایہ کاری کیوں؟

    • مصنف, عمر فاروق
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 12 منٹ

’دیکھو نصیب میں کیا لکھا ہے، میں نے جب ٹیم خریدی تو اسی سوچ کے ساتھ خریدی تھی کہ نقصان ہو گا۔ یہ ایک جذبے والا منصوبہ ہے۔ مجھے اس وقت بھی پتہ تھا کہ نقصان ہو گا اور آج بھی معلوم ہے۔‘

یہ کہنا ہے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) فرنچائز ملتان سلطانز کے مالک گوہر شاہ کا جو رواں برس پی ایس ایل میں شامل ہوئے اور مالی نقصان کے خدشات کے باوجود 10 سالہ معاہدہ پورا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

اس وقت پی ایس ایل نہیں ہو رہی اور شائقین ہر سال فروری، مارچ یا اپریل میں ہی اس سے جڑتے ہیں، لیکن اربوں روپے لگا کر پی ایس ایل فرنچائز خریدنے والے مالکان سارا سال اس جمع تفریق میں رہتے ہیں کہ آنے والے سیزن میں شاید انھیں منافع ہو سکے۔

پی ایس ایل کا آغاز 10 سال قبل 2016 میں ہوا تھا، شروع کے کچھ سیزنز میں تو فرنچائز مالکان مطمئن دکھائی دیے، لیکن گذشتہ دو، تین برسوں میں ملتان سلطانز کے سابق مالک علی ترین اور کچھ اور فرنچائز مالکان کی جانب سے گلے شکوؤں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

اس کے بعد رواں برس پی ایس ایل میں دو نئی ٹیموں ’راولپنڈیز‘ اور ’حیدر آباد کنگز مین‘ کی اربوں روپوں میں فروخت اور ملتان سلطانز کے مالک کی تبدیلی کا بھی چرچا رہا۔

بی بی سی اُردو نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں جن کی بنا پر سرمایہ کار ایک ایسے منصوبے میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں جو بظاہر مالی طور پر ایک ’گھاٹے کا سودا‘ دکھائی دیتا ہے۔

پی ایس ایل ٹیموں کی مالیت

سنہ 2016 میں پی ایس ایل کی ابتدائی پانچ فرنچائزز کی مجموعی قیمت ایک ارب 58 کروڑ 80 لاکھ تھی جبکہ ایک دہائی بعد یہ قیمت بڑھ کر دو ارب 60 کروڑ 80 لاکھ تک جا پہنچی ہے.۔

علاوہ ازیں حال ہی میں شامل کی گئی تین نئی ٹیمیں چھ ارب روپے میں فروخت ہوئی ہیں۔

لیکن کیا پی ایس ایل موجودہ ملکی معاشی صورتحال میں فائدہ مند ہے یا نہیں، اس بارے میں کئی سوالات جنم لیتے ہیں اس کے باوجود کہ نئی فرنچائزز نے اوپن بِڈنگ کے سخت مقابلے کے بعد ہی ٹیمیں حاصل کیں اور بظاہر سرمایہ کار ان قیمتوں سے مطمئن بھی دکھائی دیتے ہیں۔

پی ایس ایل میں آمدنی کے موجودہ نظام کو دیکھا جائے تو نئی تین فرنچائزز حیدر آباد کنگز مین 1.7 ارب، راولپنڈی 2.45 ارب اور ملتان سلطانز 1.85 ارب اپنی اربوں روپے کی سرمایہ کاری کے باوجود پی ایس ایل کے موجودہ ماڈل سے منافع حاصل کرتی دکھائی نہیں دیتیں۔

معاہدے کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ سرمایہ کاروں کو 85 کروڑ روپے کی واپسی کی ضمانت دیتا ہے، جو بظاہر اتنی بڑی سرمایہ کاری کے مقابلے میں ناکافی لگتی ہے۔

پی ایس ایل کی ابتدائی پانچ فرنچائزز کراچی کنگز، لاہور قلندرز، پشاور زلمی، اسلام آباد یونائیٹڈ اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو منافع بخش مرحلے تک پہنچنے میں تقریباً پانچ سے چھ برس لگے۔

تاہم یہ بات انتہائی اہم ہے کہ لیگ کے ابتدائی 10 برسوں کے دوران فرنچائز فیس آج کی نسبت قدرے کم تھی، جبکہ نئی تین فرنچائزز نے اس کے مقابلے میں کہیں زیادہ بلند ویلیویشن (قدر کا تعین) پر حقوق حاصل کیے ہیں۔

’کرکٹ سے محبت اور جذبے کے تحت سرمایہ کاری کی‘

دوسری جانب نئی تین فرنچائزز کے لیے منافع بخش مرحلے تک پہنچنے کا سفر کہیں زیادہ مشکل دکھائی دیتا ہے۔ فرنچائز فیس، ٹیم آپریشنز، کھلاڑیوں کی تنخواہوں، مارکیٹنگ اور انفراسٹرکچر پر ہونے والی بھاری سرمایہ کاری کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ یہ ٹیمیں اپنی سرمایہ کاری کی وصولی اور پائیدار منافع کے قریب پہنچنے میں کتنا وقت لیں گی۔

موجودہ مالی حالات میں ان کے لیے خسارہ صفر کرنے تک پہنچنے کا دورانیہ ابتدائی فرنچائزز کے مقابلے میں کہیں زیادہ طویل ہو سکتا ہے۔

خیال رہے کہ آپریشنل اخراجات میں مسلسل اضافے کے باوجود ابتدائی پانچ فرنچائزز اب بھی نسبتاً مستحکم مالی پوزیشن برقرار رکھ سکی ہیں جس کی بڑی وجہ گذشتہ برسوں میں قائم ہونے والا مضبوط کمرشل نیٹ ورک، سپانسرشپ اسٹرکچر اور فین بیس ہے۔

ملتان سلطانز کے مالک گوہر شاہ ابتدائی بولی کے مرحلے میں فرنچائز حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے اور بولی کی جنگ ایک ایسے گروپ نے جیت لی تھی جو ٹیم کو سیالکوٹ کی نمائندہ فرنچائز کے طور پر چلانا چاہتا تھا۔

تاہم بعد ازاں یہ گروپ اپنی مالی ذمہ داریوں اور مقررہ ادائیگیوں کو پورا نہ کر سکا جس کے باعث اسے فرنچائز فروخت کرنا پڑی۔ اس موقع پر گوہر شاہ نے ٹیم خرید کر اس کی ملکیت حاصل کی۔

ان کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے پی ایس ایل میں سرمایہ کاری مالی منافع کے لیے نہیں بلکہ کرکٹ سے اپنی محبت اور جذبے کی بنیاد پر کی۔

گوہر شاہ کے مطابق وہ اس کاروبار کے تمام مالیاتی پہلوؤں اور چیلنجز سے ابتدا ہی سے آگاہ تھے اور انھیں معلوم تھا کہ ممکن ہے آئندہ کئی برسوں تک اس منصوبے سے خاطر خواہ منافع حاصل نہ ہو۔ اس کے باوجود وہ اسے ایک طویل المدتی عزم اور جذبے پر مبنی منصوبہ سمجھتے ہیں اور اس سفر کو جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔

’ایسا نہیں ہے کہ پی سی بی نے میرے ساتھ دھوکہ کیا ہو، پی سی بی نے مجھے سب کچھ بتا دیا تھا کہ یہ پیرا میٹرز ہیں اور یہی ہم دیں گے۔ میں کوئی بچہ نہیں ہوں، مجھے پتہ ہے کہ میں کہاں آ رہا ہوں اور کیا کر رہا ہوں۔ مجھے کسی سے شکایت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ مجھے تمام قوانین پہلے ہی سمجھا دیے گئے تھے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ خسارہ صفر ہونا تقریباً ناممکن ہے اور اگلے 10 سال بھی یہی صورتحال رہے گی۔

گوہر شاہ کہتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کی ٹی وی رائٹس کی آمدنی محدود ہو چکی ہے، اس سے زیادہ آمدنی نہیں آ سکتی۔

دوسری طرف سپانسرشپ کی سالانہ گروتھ زیادہ سے زیادہ 10 فیصد ہے۔ اگر 10 لاکھ ڈالر پر 10 فیصد گروتھ لگائیں تو سالانہ صرف ایک لاکھ ڈالر بڑھتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف ہر سال اخراجات بڑھتے جائیں گے جبکہ پی سی بی سے حاصل ہونے والی آمدنی تقریباً وہی رہے گی۔

لیکن ساتھ ہی گوہر شاہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’میری 10 سال کی کمٹمنٹ ہے اور میں اس پر قائم ہوں۔ لیکن اگر اخراجات اس حد تک بڑھ گئے کہ میں انھیں برداشت نہ کر سکا تو اس سفر کو جاری رکھنا میرے لیے انتہائی مشکل ہو جائے گا بلکہ میں دیوالیہ بھی ہو سکتا ہوں۔‘

’میرا ماڈل پی ایس ایل کی آمدن پر نہیں، اس کی بڑھتی ویلیو پر کھڑا ہے‘

حیدر آباد کنگز مین کے مالک فواد سرور کہتے ہیں کہ نئی فرنچائزز کی جانب سے کی گئی سرمایہ کاری پاکستان سپر لیگ کی صلاحیت کو مدِنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔

بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ گذشتہ برسوں میں پی ایس ایل کو اس کی حقیقی مارکیٹ ویلیو کے مطابق نہیں جانچا گیا۔ نئی فرنچائز کی شمولیت یہ ظاہر کرتی ہے کہ اس لیگ کے مستقبل، ترقی اور کمرشل امکانات پر سرمایہ کار اعتماد کر رہے ہیں۔

فواد سرور غیر ملکی سرمایہ کار ہیں جو اپنی سرمایہ کاری امریکہ سے پاکستان لے کر آ رہے ہیں، لہٰذا مقامی معاشی دباؤ یا کرنسی کی صورتحال اُن پر براہِ راست اُس شدت سے اثر انداز نہیں ہوتی جس کا سامنا مقامی سرمایہ کاروں کو کرنا پڑتا ہے۔

جب اُن سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا اتنی بھاری سرمایہ کاری کے باوجود ممکنہ مالی نقصان کے حوالے سے انھیں تشویش نہیں؟

اس پر اُن کا کہنا تھا کہ ’مجھے کوئی پریشانی نہیں ہے۔ میں نے بغیر سوچے سمجھے پیسے نہیں لگائے۔ ہم نے فرمز کے ساتھ مل کر مکمل جانچ کی تھی اور ہمیں بتایا گیا تھا کہ پی ایس ایل انڈر ویلیو پراپرٹی ہے۔‘

’لوگ سمجھیں گے کہ میں گذشتہ مالکان پر تنقید کر رہا ہوں مگر ایسی بات نہیں ہے، میں حقائق کے حساب سے بتا رہا ہوں۔‘

اُن کے بقول ’میرا سوال یہ ہے کہ جب پی ایس ایل کا آغاز ہوا تھا اُس وقت ان سب فرنچائزز کے کاروبار کا مقام کیا تھا؟ ضروری نہیں کہ پی ایس ایل سے پیسہ مل رہا ہے۔ ان سب کو پی ایس ایل سے باہر پی ایس ایل کی وجہ سے مختلف کاروبار میں ترقی ملی ہے۔‘

’اربوں روپوں کی سرمایہ کاری کے باوجود ٹیموں پر مستقل کنٹرول نہیں ہے‘

بعض فرنچائز مالکان کو یہ گلہ ہے کہ سالہا سال کی سرمایہ کاری کے باوجود اُنھیں اپنی فرنچائز پر مکمل کنٹرول نہیں ہے۔

بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے لاہور قلندرز کے شریک مالک ثمین رانا نے کہا کہ فرنچائز حقوق کبھی بھی محض تشہیری مقصد کے لیے فروخت نہیں کیے گئے تھے۔

اُن کے بقول اگرچہ پاکستان سپر لیگ میں غیر معمولی ترقی کی صلاحیت موجود تھی، تاہم ابتدائی برسوں میں اس کا مالیاتی ڈھانچہ مثالی نہیں تھا۔

ثمین رانا نے کہا کہ ’کوئی بھی کاروبار اس صورت میں طویل مدت تک پائیدار نہیں رہ سکتا اگر اس میں منافع کمانے کی واضح گنجائش موجود نہ ہو۔‘

اُن کے مطابق ’پی ایس ایل کی پہلی پانچ فرنچائزز نے اس یقین کے ساتھ سرمایہ کاری کی تھی کہ وقت کے ساتھ لیگ کا نظام ایک زیادہ مستحکم اور تجارتی اعتبار سے مضبوط ماڈل میں تبدیل ہو جائے گا۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’اگرچہ گذشتہ برسوں کے دوران بعض اصلاحات کی گئی ہیں، لیکن ایک بنیادی مسئلہ اب بھی برقرار ہے۔ اُن کے مطابق اربوں روپے کی سرمایہ کاری کے باوجود فرنچائز مالکان کو اپنی ٹیموں پر مستقل ملکیتی حقوق حاصل نہیں ہیں۔‘

ثمین رانا نے کہا کہ ’نئے مالکان اور نئی سرمایہ کاری کا لیگ میں شامل ہونا خوش آئند ہے اور یہ گذشتہ ایک دہائی کے دوران پی ایس ایل کی بڑھتی ہوئی قدر اور مقبولیت کا عکاس بھی ہے۔‘

تاہم اُن کے مطابق یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ ابتدائی پانچ فرنچائزز نے اُس وقت سرمایہ کاری کا خطرہ مول لیا جب لیگ ابھی ایک غیر آزمودہ منصوبہ تھی۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’انہی ٹیموں نے برسوں کی سرمایہ کاری، محنت اور مسلسل وابستگی کے ذریعے پی ایس ایل کو ایک مضبوط کرکٹ برینڈ بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔‘

ثمین رانا نے کہا کہ ’آج جب لیگ تجارتی اعتبار سے زیادہ پرکشش اور عالمی سطح پر زیادہ معروف ہو چکی ہے تو نئے سرمایہ کاروں کے لیے اس پلیٹ فارم میں شامل ہونا نسبتاً آسان ہو گیا ہے۔‘

لیگ کے ممکنہ پھیلاؤ کے حوالے سے ثمین رانا کا کہنا تھا کہ آٹھ ٹیموں تک توسیع کے بعد موجودہ مالیاتی ڈھانچے میں فرنچائزز کے لیے نمایاں منافع حاصل کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

اُن کے مطابق پی ایس ایل میں اب بھی نمایاں ترقی کی گنجائش موجود ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ مستقبل میں یہ ایک کہیں بڑی کمرشل لیگ میں تبدیل نہ ہو سکے۔ تاہم، اُن کا کہنا تھا کہ اس مقام تک پہنچنے کے لیے لیگ کو روایتی ذرائع آمدن سے آگے بڑھتے ہوئے نئے مالیاتی ماڈلز اور اضافی ریونیو ذرائع تلاش کرنا ہوں گے۔

ثمین رانا نے کہا کہ مستقبل میں کسی مرحلے پر ’پے پر ویو‘ (Pay-Per-View) جیسے ماڈلز اور دیگر ڈیجیٹل آمدنی کے ذرائع پر سنجیدہ غور ناگزیر ہو گا۔

پی ایس ایل براڈ کاسٹنگ ڈیل

پاکستان سپر لیگ کی سب سے بڑی آمدنی کا ذریعہ بدستور اس کے میڈیا رائٹس ہیں، جن میں ٹیلی وژن اور ڈیجیٹل براڈکاسٹنگ معاہدے شامل ہیں۔

میڈیا رائٹس کے حالیہ سائیکل نے لیگ کی مالی قدر میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ چار سالہ براڈکاسٹنگ پیکج کی مالیت 26 ارب 11 کروڑ روپے تک پہنچ گئی جو گذشتہ معاہدے کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ ہے۔

یہ اضافہ اس لیے بھی غیر معمولی سمجھا جا رہا ہے کہ گذشتہ ایک دہائی کے دوران پی ایس ایل کے میڈیا رائٹس کی مالیت میں اضافہ نسبتاً تدریجی انداز میں ہوتا رہا تھا۔ اسی وجہ سے نئی ویلیوایشن نے کرکٹ اور میڈیا انڈسٹری کے کئی مبصرین کو حیران کیا۔

تاہم ریکارڈ مالیت کے باوجود اس ماڈل کی مالی پائیداری سے متعلق سوالات برقرار ہیں۔ سابق براڈکاسٹر گذشتہ معاہدے کی تمام ادائیگیاں مکمل نہیں کر سکا تھا اور نادہندگی کے باعث اسے نئی بولی میں حصہ لینے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بعد ازاں اسی براڈکاسٹر نے سب لائسنسنگ کے ذریعے پی ایس ایل کے نشریاتی حقوق حاصل کر لیے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اصل بولی جیتنے والی کمپنی خود براڈکاسٹر نہیں تھی اور اسے نشریات کے لیے میڈیا شراکت دار درکار تھا۔

پی سی بی کے لیے یہ معاہدہ مالی اعتبار سے ایک بڑی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے، لیکن بنیادی سوال بدستور موجود ہے کہ اگر سابق براڈکاسٹر نسبتاً کم مالیت کے معاہدے سے منافع حاصل نہیں کر سکا تو موجودہ مارکیٹ تقریباً چار گنا بڑے معاہدے کو کس حد تک سپورٹ کر سکے گی۔

’نئے سٹارز سامنے نہ آئے تو پی ایس ایل کی شہرت متاثر ہو سکتی ہے‘

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے بانی سمجھے جانے والے سابق چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل کی کامیابی تقریباً یقینی تھی، تاہم نئی فرنچائزز کی قیمتیں توقعات سے زیادہ ہیں اور امید کی جانی چاہیے کہ یہ سرمایہ کاری طویل مدت میں سودمند ثابت ہو گی۔

بی بی سی اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ پی ایس ایل کے ابتدائی چند برسوں کے بعد لیگ کی ترقی کے حوالے سے نہایت حوصلہ افزا اندازے سامنے آ رہے تھے۔

ان کے بقول ’لیگ کو اس مقام تک پہنچانے کے لیے غیر معمولی محنت کی گئی تھی اور پہلے تین برسوں کے بعد ہی اس کی مستقبل کی ترقی کے بارے میں بہت مثبت پروجیکشنز سامنے آنے لگی تھیں۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کے ذہن میں ہمیشہ ایک تشویش موجود رہی کہ لیگ کی ترقی کو برقرار رکھنے کے لیے دو شعبوں پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے۔ ’ایک معیشت، خصوصاً سپانسرشپ اور کمرشل مارکیٹ اور دوسرا معیاری مقامی کرکٹرز کی تیاری۔‘

نجم سیٹھی کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ ان دونوں شعبوں میں کمزوری نمایاں ہونے لگی۔ ’معیشت دباؤ کا شکار رہی اور کمرشل مارکیٹ بھی مطلوبہ رفتار سے بحال نہ ہو سکی، جبکہ غیر یقینی صورتحال اور بورڈ میں مسلسل تبدیلیوں نے نئے کرکٹرز کی تیاری کے عمل کو متاثر کیا۔‘

انھوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں پاکستان سے غیر معمولی صلاحیت رکھنے والے کھلاڑیوں کی تعداد نسبتاً کم رہی ہے جس سے مستقبل کے حوالے سے سوالات جنم لیتے ہیں۔

’اگر اعلیٰ معیار کے نئے کھلاڑی سامنے نہیں آئیں گے تو شائقین کے لیے نئے اسٹارز کہاں سے پیدا ہوں گے؟ موجودہ ستارے بتدریج اپنے کیریئر کے آخری مرحلے کی جانب بڑھ رہے ہیں، مگر ان کی جگہ لینے والے نئے چہرے نمایاں نہیں ہو رہے۔‘

ان کے مطابق غیر ملکی کھلاڑی کسی بھی لیگ کی کشش میں اضافہ کرتے ہیں، لیکن کسی بھی ٹی 20 لیگ کی اصل طاقت اس کے مقامی ستارے ہوتے ہیں۔

’اس وقت بابر اعظم کے علاوہ ایسے مقامی کرکٹرز کی تعداد زیادہ نظر نہیں آتی جو مستقل بنیادوں پر لیگ کے مرکزی ستاروں کے طور پر سامنے آ سکیں۔‘

اس کے باوجود نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل کے مالیاتی اشاریے اب بھی حیران کن حد تک مضبوط دکھائی دیتے ہیں۔

’پی ایس ایل بے پناہ محنت سے وجود میں آئی تھی اور اسے اپنے سفر میں کووڈ-19، سکیورٹی خدشات اور معاشی مشکلات سمیت کئی بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اس کے باوجود لیگ کی مجموعی مالیت میں اضافہ جاری رہا، جو ایک مثبت علامت ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ دو نئی ٹیموں میں ہونے والی بھاری سرمایہ کاری کو بھی اسی پس منظر میں دیکھنا چاہیے۔

اُن کے بقول یہ ممکن ہے نئی فرنچائزز کو ابتدائی برسوں میں مالی خسارے کا سامنا کرنا پڑے، تاہم پی ایس ایل کے آغاز میں بھی اکثر ٹیمیں ایسے ہی مرحلے سے گزری تھیں۔

نجم سیٹھی کے مطابق اب سب سے اہم ضرورت ڈومیسٹک کرکٹ کے معیار کو بہتر بنانے کی ہے۔

سرمایہ کاری کے موجودہ ماڈل پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس میں کئی دلچسپ چیلنجز موجود ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ فرنچائز مالکان کی طویل المدتی حکمت عملی کیا ہے۔

’ممکن ہے کہ بعض مالکان کے لیے یہ سرمایہ کاری دیگر کاروباروں کی تشہیر اور برانڈ ویلیو بڑھانے کا ذریعہ ہو۔ تاہم اس وقت یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ وہ اپنی سرمایہ کاری کتنے عرصے میں واپس حاصل کر سکیں گے۔‘

بی بی سی اردو نے اس معاملے پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کا مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا۔ سوالات پیشگی ارسال کیے گئے اور جواب کے حصول کے لیے تین مرتبہ یاد دہانی بھی کرائی گئی، تاہم رپورٹ کی اشاعت تک پی سی بی کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔