آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایرانی ’فیلڈ مارشل‘ کی طاقت کے ایوان میں واپسی: محسن رضائی فیصلہ سازی کا مرکز کیسے بنے؟
- مصنف, مسعود آذر
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 11 منٹ
چالیس روزہ جنگ نے ایران کی حکومت کی قیادت کی اعلیٰ ترین سطحوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ علی خامنہ ای اور متعدد سینیئر فوجی کمانڈر اور سیاسی شخصیات ہلاک ہو چکی ہیں۔ اب بہت سے اعلیٰ فوجی رہنماؤں کی عدم موجودگی میں محسن رضائی ایک بار پھر پس منظر سے نکل کر اقتدار کے مرکز میں آ گئے ہیں۔
ان دنوں وہ ٹیلی ویژن پر نظر آتے ہیں، غیر ملکی عہدیداروں سے ملاقاتیں کرتے ہیں، تقریباً ہر روز امریکہ کے لیے نئی سرخ لکیریں کھینچتے ہیں اور شرائط بیان کرتے ہیں، جوہری بم کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں اور عوام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ’ہر گھر‘ کو ’اقتصادی جنگ میں ایک لانچ پیڈ‘ میں تبدیل کر دیں۔
پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر کے طور پر محسن رضائی کی مدتِ ملازمت ختم ہونے اور نئی نسل کے کمانڈروں کے ابھرنے کے بعد سکیورٹی اور فوجی امور میں ان کی براہِ راست موجودگی بتدریج کم ہوتی گئی۔ تاہم وہ کئی برسوں تک مجمع تشخیصِ مصلحتِ نظام کے سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔
12 روزہ اور 40 روزہ جنگوں میں متعدد سینیئر کمانڈروں کی ہلاکت کے بعد رضائی دوبارہ اقتدار کے مرکز میں آ گئے ہیں۔ انھیں پہلے مجتبیٰ خامنہ ای کا نمائندہ مقرر کیا گیا اور بعد میں سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سیکریٹری بنایا گیا۔
ان تقرریوں، خصوصاً نئے رہنما کے نمائندے کے طور پر ان کی نامزدگی، کو مجتبیٰ خامنہ ای کے ان پر خصوصی اعتماد اور سکیورٹی و فوجی فیصلہ سازی میں رضائی کے کردار کی بحالی کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
محسن رضائی چار صدارتی انتخابات میں حصہ لے چکے ہیں اور ہمیشہ ناکام رہے تھے اور ایک موقع پر تو مسترد شدہ ووٹوں کی تعداد بھی ان کے حاصل شدہ ووٹوں سے زیادہ تھی۔ تاہم اب وہ ایک ایسی پوزیشن میں ہیں جہاں وہ ملک کے بڑے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
ایران کا سرکاری نشریاتی ادارہ اب اس ٹو سٹار جنرل کو ایران کا ’فیلڈ مارشل‘ قرار دیتا ہے، جو پانچ ستاروں والے جنرل کے مساوی رتبہ سمجھا جاتا ہے۔
وہ اس وقت سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری کے عہدے پر فائز ہیں، جو عدلیہ کے سربراہ کے بقول ’قومی مفادات کے تحفظ اور سرحد پار خطرات کا مقابلہ کرنے والا صفِ اول کا ادارہ‘ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رضائی اس اہم ترین ادارے کی قیادت کر رہے ہیں، جو حکومت کی تینوں شاخوں کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے، کونسل میں رہبر کی ہدایات کی نمائندگی کرتا ہے اور کونسل کے فیصلوں کو مجتبیٰ خامنہ ای کے مطالبات اور ترجیحات کے مطابق بنانے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔
عسکری امور کے مشیر سے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری تک
مجتبیٰ خامنہ ای کے ’فوجی مشیر‘ مقرر کیے جانے کے بعد سے محسن رضائی کے بیانات کو میڈیا میں خاص اہمیت حاصل ہو گئی ہے اور حکومتی ڈھانچے میں ان کے کردار کی نئی تعریف کے بعد ملکی اور بین الاقوامی حلقوں میں ان کے بیانات کا حوالہ دیا جانے لگا ہے۔
نئے اقتدار کے ڈھانچے میں ان کے منصب کی اہمیت سمجھنے کے لیے مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب اور محسن رضائی کی تقرری کے درمیان موجود فاصلے پر توجہ دینا ضروری ہے۔
گذشتہ برس 8 مارچ کو مجلسِ خبرگان نے اعلان کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ایران کے اگلے رہنما ہوں گے۔
11 مارچ کو ایرانی عوام کے لیے مجتبیٰ خامنہ ای کے نام سے منسوب پہلا تحریری پیغام شائع ہوا اور تین دن بعد 15 مارچ کو ایرانی میڈیا نے مجتبیٰ خامنہ ای کے حوالے سے کہا کہ علی خامنہ ای کی جانب سے جاری کیے گئے احکامات اور اختیارات اب بھی مؤثر ہیں اور ’فی الحال ان میں سے کسی کی تجدید کی ضرورت نہیں ہے۔‘
اسی دوران روزنامہ ہمشہری نے اعلان کیا کہ محسن رضائی کو ’کمانڈر اِن چیف کا فوجی مشیر‘ مقرر کیا گیا ہے۔
دوسرے لفظوں میں مجتبیٰ خامنہ ای کے حوالے سے ایرانی میڈیا میں شائع ہونے والا پہلا بیان محسن رضائی کے نام سے جاری کیا گیا۔
اگرچہ اس حکم نامے کا متن سرکاری طور پر شائع نہیں کیا گیا، تاہم یہ تاثر پیدا ہوا کہ محسن رضائی ایران کے نئے رہنما کے قریبی اور قابلِ اعتماد افراد میں شامل ہیں۔
اس کے بعد سے میڈیا، بالخصوص ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے، مجتبیٰ خامنہ ای کے ’فوجی مشیر‘ محسن رضائی پر زیادہ توجہ دینا شروع کر دی اور وہ مسلسل خبروں میں رہے ہیں۔
فوجی مشیر کے طور پر تقرری اور ’سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل‘ میں مجتبیٰ خامنہ ای کے نمائندے کے طور پر تعارف کے درمیانی عرصے میں محسن رضائی نے یہ ظاہر کیا کہ وہ اسلام آباد مذاکرات اور ایران و امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے مخالف ہیں اور اس معاملے میں ان کا مؤقف مجتبیٰ خامنہ ای کے خیالات کے قریب ہے۔
جس طرح مجتبیٰ خامنہ ای ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع کے خاتمے کے لیے ’جنگ بندی‘ کی اصطلاح استعمال نہیں کرتے اور اسے ’میدانِ جنگ میں خاموشی کا دور‘ قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح رضائی نے بھی زور دے کر کہا: ’میں اسے جنگ بندی تسلیم نہیں کرتا۔ یہ ایک فوجی خاموشی ہے۔‘
محسن رضائی، جو مسلح افواج کے سپریم کمانڈر کے فوجی مشیر کے طور پر فوجی لباس میں ملبوس تھے، نے امریکہ کو بار بار خبردار کرتے ہوئے کہا ’ہمارے بھائیوں نے غالباً اپنے لانچرز کا رُخ ابراہام لنکن اور تمام امریکی جہازوں کی طرف کر دیا ہے اور ہم ان سب کو غرق کر دیں گے۔‘
محسن رضائی نے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا: ’اگر جنگ جاری رہی اور بحری ناکہ بندی ختم نہ کی گئی تو ہم جنگ کا دائرہ بحرِ ہند، آبنائے باب المندب، بحیرۂ احمر اور بحیرۂ روم تک وسعت دے دیں گے۔‘
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر انگریزی زبان میں امریکہ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا: ’امریکہ دنیا کا واحد قزاق ہے جس کے پاس طیارہ بردار بحری جہاز موجود ہے۔ قزاقوں سے لڑنے کی ہماری صلاحیت جنگی جہازوں کو غرق کرنے کی ہماری صلاحیت سے کم نہیں۔‘
20 جون کو ایرانی ٹیلی ویژن کو دیے گئے ایک متنازع انٹرویو میں رضائی نے امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ’جب رہبر یہ کہتے ہیں کہ اصولی طور پر ان کی رائے مختلف تھی، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے ذہن میں ایسا طریقۂ کار تھا جو موجودہ طریقے سے زیادہ کامیاب ہوتا۔‘
میزبان نے جب اس طریقہ کار سے متعلق سوال کیا تو انھوں نے کہا ’میں ذہن نہیں پڑھ سکتا کہ وہ طریقہ کیا تھا، لیکن مجھے سو فیصد یقین ہے کہ وہ زیادہ کامیاب ہوتا۔‘
سوشل میڈیا پر محسن رضائی کی اس گفتگو کے بعد بعض صارفین نے ان کے بیانات اور دلائل کو ’ناقابلِ فہم‘، ’احمقانہ‘، ’عجیب‘ اور مبہم قرار دیا۔
19 جون کو ایران اور امریکہ کے صدور کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے حوالے سے ایرانی قوم کے نام اپنے ایک پیغام میں مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا تھا: ’جناب، میری رائے مختلف تھی۔‘
ان الفاظ کے بعد حکومت کے بہت سے حامیوں نے ان مذاکرات پر سوالات اٹھانے شروع کر دیے۔
یہاں اہم نقطہ یہ ہے کہ محسن رضائی ماضی میں بھی متعدد بار اسی نوعیت کی دھمکیاں دے چکے ہیں، جن میں آبنائے ہرمز کو بند کرنے اور ’ایک ہزار امریکی فوجیوں کو قیدی بنانے‘ اور اس ذریعے سے اربوں ڈالر کمانے جیسے دعوے شامل تھے۔
تاہم اُس وقت ان کے بیانات کو یا تو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا اور انھیں زیادہ توجہ نہیں ملی یا پھر سوشل میڈیا اور اپوزیشن حلقوں کی جانب سے ان پر طنزیہ اور مزاحیہ ردِعمل سامنے آیا۔
قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری سے مبارک باد کے پیغامات تک
سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری کے طور پر محسن رضائی کی تقرری سے پہلے اس حوالے سے خبروں اور قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری تھا۔
گذشتہ برس 8 اگست کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محمد باقر ذوالقدر کے استعفے سے متعلق ایک پریس کانفرنس کے دوران مسعود پزشکیان نے کہا تھا کہ ’اختلافات پیدا ہو گئے ہیں اور حکومت انھیں حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘
اسی شام ایک اہم خبر سامنے آئی اور ذوالقدر نے ایک دھمکی آمیز تفصیلی بیان میں آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی چھ شرائط کا اعلان کیا۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نہ جنگ میں اور نہ ہی مذاکرات میں کبھی پسپائی اختیار کرے گی۔‘
8 اگست کے فیصلوں سے ظاہر ہوا کہ ایرانی صدر ان اختلافات کو ’حل‘ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔ پہلے محسن رضائی کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں مجتبیٰ خامنہ ای کے نمائندے کے طور پر متعارف کرایا گیا اور ایک گھنٹے بعد مسعود پزشکیان نے ’سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل‘ کے سیکریٹری کے طور پر ان کی تقرری کا حکم نامہ جاری کیا۔
ذوالقدر کے استعفے کی وجوہات کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم قیاس آرائیاں یہ رہی ہیں کہ ان تبدیلیوں کا ایک اہم سبب سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کو مجتبیٰ خامنہ ای کے مؤقف کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ بنانا تھا۔
اس قیاس آرائی کو اس بات سے تقویت ملتی ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کے تحفظات کے باوجود کونسل کے 13 میں سے 12 ارکان نے امریکہ کے ساتھ مفاہمت کے حق میں ووٹ دیا تھا۔
آئین کے آرٹیکل 176 کے مطابق سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی پہلی ذمہ داری ’رہبرِ اعلیٰ کی جانب سے متعین کردہ عمومی پالیسیوں کے دائرے میں ملک کی دفاعی اور سلامتی کی پالیسیوں کا تعین‘ کرنا ہے۔
آئین کے مطابق اس کونسل کے سیکریٹری کو ووٹ کا حق حاصل نہیں ہوتا، تاہم ایک غیر تحریری روایت کے مطابق کونسل کا سیکریٹری عموماً رہبرِ اعلیٰ کے دو نمائندوں میں سے کسی ایک کو مقرر کیا جاتا ہے اور اس حیثیت میں اسے ووٹ کا حق حاصل ہوتا ہے۔
لہٰذا سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری کی تبدیلی کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اور اس کونسل کے ارکان کی اکثریت کی جانب سے اس کی حمایت کے ایک ضمنی اثر کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
اگر یہ قیاس آرائیاں حقیقت کے قریب ہیں تو 8 اگست کو امریکہ کے خلاف ذوالقدر کا دھمکی آمیز بیان اس منصب پر برقرار رہنے کی ان کی آخری کوشش کے طور پر دیکھا گیا اور اس کی یہی تشریح کی جا سکتی ہے۔
غالباً اختلافات کو ’حل‘ کرنے کی پزشکیان کی کوشش بھی اسی تناظر میں دیکھی جا سکتی ہے۔
تاہم 8 اگست کو جب محسن رضائی کو باضابطہ طور پر سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں مجتبیٰ خامنہ ای کے نمائندے کے طور پر متعارف کرایا گیا تو ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے ’آقای محسن‘ کے پس منظر پر ایک خصوصی رپورٹ نشر کی، جس میں انہیں ایک ’بڑے کمانڈر‘ اور باصلاحیت و صاحبِ دانش شخصیت کے طور پر پیش کیا گیا۔
محسن رضائی کے ٹیلی گرام چینل نے بھی اس رپورٹ کو ’چار دہائیوں کی جدوجہد کی داستان‘ کے عنوان سے دوبارہ شائع کیا۔
رضائی کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری کے طور پر تقرری کے اعلان کے بعد حکومت کی تینوں شاخوں کے سربراہان، فوجی کمانڈروں اور سیاسی و سکیورٹی حکام نے انہیں مبارک باد کے پیغامات بھیجے۔ ان پیغامات کی تعداد اور مواد سے، خصوصاً کونسل کے سابق سیکرٹریز بشمول علی شمخانی، علی لاریجانی اور علی اکبر احمدیان کی تقرری کے موقع پر شائع ہونے والے پیغامات کے مقابلے میں، یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومتی عہدیداروں نے رضائی کی تقرری کو زیادہ اہمیت دی۔
ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے اپنے تہنیتی پیغام میں لکھا: ’اس کونسل کے سیکریٹری کی اہم ذمہ داری سنبھالنا، انقلابِ اسلامی کی دانشمند قیادت اور معزز صدر کے آپ پر اعتماد کی علامت ہے۔‘
مجتبیٰ خامنہ ای کے معاون محمد مخبر نے محسن رضائی کو لکھا: ’ملک کے سٹریٹجک امور، علاقائی پیش رفت اور بین الاقوامی منظرنامے کے بارے میں آپ کی گہری آگاہی، نیز نظام کی اعلیٰ ترین سطحوں پر فیصلہ سازی کا آپ کا قیمتی تجربہ، اس اہم اور حساس ذمہ داری کی انجام دہی میں ایک مؤثر سہارا ثابت ہوگا۔‘
امریکہ کو پیغامات
محسن رضائی زیادہ تر اپنی گفتگو میں دھمکی آمیز زبان استعمال کرتے ہیں۔ اگر دوبارہ جنگ چھڑتی ہے تو وہ ’زلزلہ خیز‘ جواب دینے کا وعدہ کرتے ہیں، مذاکرات اور آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران کی شرائط دہراتے ہیں اور حکومت کے حامیوں کے بقول امریکہ اور اسرائیل کو ’وقار اور طاقت کی جھلک‘ دکھاتے ہیں۔
انھوں نے اعلان کیا کہ ’اسلام آباد معاہدہ عملی طور پر ختم ہو چکا ہے، مذاکرات اور جنگ دونوں کی پالیسی اختتام کو پہنچ چکی ہے اور شہید رہنما کے خون کا بدلہ لازماً لیا جانا چاہیے۔‘
جہاں مسعود پزشکیان مفاہمت اور جنگ کے مسئلے کے حل کی بات کرتے رہے ہیں، وہیں محسن رضائی نے 21 اگست کو ایک متنازع اور دھمکی آمیز بیان میں کہا کہ ’ٹرمپ کی حماقت نے دنیا کو جوہری بم کے حصول کی سمت دھکیل دیا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ اگر بین الاقوامی ضوابط کی پابندی کسی ملک پر حملے کو نہیں روک سکتی تو دنیا یہ سوال کرے گی: ’ہم جوہری بم کے حصول کی جانب کیوں نہ بڑھیں؟‘
ایرانی ٹیلی ویژن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں رضائی نے زور دے کر کہا کہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کی رکنیت، معائنوں کی قبولیت اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ وسیع تعاون کے باوجود ایران حملوں کا نشانہ بنا ہے۔
سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری نے کہا ’اب پوری دنیا یہ کہہ رہی ہے... لہٰذا نہ این پی ٹی مؤثر ثابت ہوئی ہے اور نہ ہی جوہری توانائی کی تنظیم کی رکنیت۔‘
رضائی نے ایران کی جانب سے پیشگی حملے کے امکان کا بھی بارہا ذکر کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کی بحری ناکہ بندی جاری رہی تو ’ہم امریکی مفادات پر سو فیصد حملہ کریں گے۔‘
خامنہ ای کے بیانات سے ہم آہنگ مؤقف
آج محسن رضائی کی شناخت صرف پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر یا مجمع تشخیصِ مصلحتِ نظام کے رکن یا صدارتی انتخابات میں ناکام امیدوار کے طور پر نہیں کی جاتی۔
وہ اب مجتبیٰ خامنہ ای کے نمائندے اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری ہیں، ایک ایسا عہدہ جو انھیں قومی سلامتی کے شعبے کے سب سے اہم فیصلہ ساز ادارے میں نئے رہنما کے خیالات کی براہِ راست عکاسی کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
ایسے حالات میں جب مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کے برعکس عوامی اور میڈیا حلقوں میں مضبوط اور براہِ راست موجودگی نہیں رکھتے، ان کے نمائندوں اور قریبی معتمدین کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ اس تناظر میں محسن رضائی کو انہی شخصیات میں شمار کیا جا سکتا ہے۔
میڈیا میں ان کی بڑھتی ہوئی موجودگی، ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے میں ان کے مؤقف کی وسیع تشہیر اور جنگ سے متعلق تزویراتی معاملات میں ان کا کردار، سب اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ان کے سیاسی مقام میں تبدیلی آئی ہے۔
تاہم یہ اب بھی واضح نہیں کہ یہ سیاسی عروج کس حد تک پائیدار ثابت ہوگا اور آیا وہ طاقت کے دیگر مراکز، یعنی پاسداران انقلاب، ایران کے رہبر اعلی کے دفتر اور مسلح افواج کی اعلیٰ قیادت کے درمیان اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کر پائیں گے یا نہیں۔
دوسری جانب ملک کی پیچیدہ صورتحال صرف جنگ اور آبنائے ہرمز کے کھلنے یا بند ہونے سے ہی وابستہ نہیں ہے۔ اندرونِ ملک سیاسی ماحول کی نازک کیفیت، ایندھن کی قلت، مہنگائی، بے روزگاری اور بڑھتی ہوئی قیمتوں جیسے معاشی بحران، عوامی بے چینی اور سڑکوں پر احتجاجی مظاہروں کے دوبارہ شروع ہونے کا امکان بھی ان دیگر مسائل میں شامل ہیں جن کا سامنا سپریم قومی سلامتی کونسل کو ہے۔
ان میں سے ہر ایک مسئلے سے نمٹنے کا طریقہ کار، بدلے میں، کونسل کے سیکریٹری کی حیثیت سے محسن رضائی کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔