آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مراکش، تیونس اور ترکی :ایران-امریکہ جنگ کی وجہ سے کن ممالک میں سیاحت سستی ہوئی؟
- مصنف, کولیٹا سمتھ اور ایلین ڈوران
- عہدہ, بی بی سی یور وائس
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ کی وجہ سے سیاح ان ممالک کا سفر کرنے سے ہچکچا رہے ہیں جو تنازع کے شکار خطے کے قریب واقع ہیں، یا جہاں پہنچنے کے لیے مشرقِ وسطیٰ کی فضائی حدود سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس کے بجائے وہ یورپ میں قیام کو ترجیح دے رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اگر آپ اپنے خاندان کے ساتھ دبئی اور مصر جیسے مقامات پر جا کر کچھ چھٹیاں گزارنا چاہتے ہیں تو گذشتہ سال کے مقابلے میں آپ کے اخراجات کم ہوں گے۔ ٹور آپریٹرز لوگوں کو راغب کرنے کے لیے قیمتوں میں اور کمی کر رہے ہیں۔
قیمتوں کا موازنہ کرنے والی ٹریول سپرمارکیٹ نے بی بی سی کے لیے اعداد و شمار مرتب کیے، جن کے مطابق متحدہ عرب امارات میں سات راتوں کے قیام پر مشتمل جو فیملی پیکج دیا جا رہا ہے، اس کی قیمت گذشتہ اگست کے مقابلے میں 25 فیصد کم ہے۔ اسی طرح مصر میں یہی تعطیلاتی پیکیج آٹھ فیصد سستا ہو گیا ہے۔
اسی دوران اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سپین، پرتگال اور یونان کی پیکج ڈیلز تین سے پانچ فیصد مہنگی ہوئی ہیں۔
برطانیہ کے ٹم اور نیٹالی ہیرس نے اس موسمِ گرما میں تعطیلات کے لیے اپنی دو نو عمر بیٹیوں کے ساتھ دبئی جانا تھا، لیکن ایران جنگ شروع ہونے کے بعد انھوں نے یہ سفر منسوخ کر دیا۔ تاہم بکنگ کراتے ہوئے انھوں نے جو پیشگی رقم جمع کرائی تھی، وہ واپس نہ مل سکی۔
ٹم کہتے ہیں: ’ہمیں میکسیکو میں ایک پیکج 6400 پاؤنڈز میں مل گیا ہے جس میں تمام سہولیات شامل ہیں۔ ہم نے وہ بک کر لیا ہے۔‘
برطانوی دفترِ خارجہ نے امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ کے بعد اپنے شہریوں کو دبئی کا سفر کرنے سے بھی منع کیا تھا۔ پھر دونوں ممالک میں جنگ بند کرنے کی مفاہمت کی یادداشت کے بعد یہ ہدایت نامہ واپس تو لے لیا گیا لیکن شہریوں کو خبردار کیا گیا کہ ’خطے کی صورتحال اب بھی غیر متوقع ہے۔‘
ٹور آپریٹرز نے دیگر مقامات کی قیمتیں بھی کم کی ہیں۔ گذشتہ موسمِ گرما کے مقابلے میں مراکش کے لیے ایک اوسط تعطیلاتی پیکج 6.5 فیصد، تیونس 2.5 فیصد اور ترکی 1.6 فیصد سستا ہو گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ٹریول ایجنسی مارپل ٹریول ہائیڈ کی اسسٹنٹ منیجر مولی ہچن کا کہنا ہے کہ اس سال گاہک مشرقِ وسطیٰ کے قریب جانے یا ایندھن کی قلت کے باعث دور دراز ممالک میں پھنس جانے جیسے تحفظات کا شکار تھے۔
وہ کہتی ہیں: ’لوگ سوالات ضرور کرتے ہیں، لیکن ہم انھیں یقین دلاتے ہیں کہ ان مقامات کے حوالے سے بالکل کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘
فلورا بیجر اس موسمِ گرما میں تین نو عمر لڑکیوں کو پہلی بار تعطیلات پر بیرونِ ملک لے جا رہی ہیں۔
انھوں نے تعطیلات کے دوران قیمتوں میں مسلسل تبدیلی کے حوالے سے اپنی مایوسی بیان کرنے کے لیے بی بی سی سے رابطہ کیا۔
فلورا بتاتی ہیں کہ ابتدا میں انھوں نے اپریل میں بکنگ کرانے پر غور کیا تھا تاکہ مہنگے موسمِ گرما سے بچ سکیں، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور بیرونِ ملک پھنس جانے کے خدشات کے باعث انھوں نے انتظار کیا۔
بالآخر انھوں نے ستمبر میں سپین کے جزیرے لانزاروتے جانے کی بکنگ کر لی۔
وہ کہتی ہیں: ’قیمت بہت بڑا مسئلہ تھی، واقعی بہت بڑا۔ سکول کی چھٹیوں کے دوران قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ آخرکار انھیں بھی تفریح کی ضرورت ہے، ہم اس کے لیے رقم بچاتے رہے ہیں، وہ اس سفر کے لیے بہت پُرجوش ہیں، اس لیے ہم جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔‘
ٹریول سپرمارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، تعطیلات کے دوران یورپ میں چھٹیاں گزارنے کی قیمت میں جو تیز رفتار اضافہ ہوا تھا، وہ تو سست پڑا ہے لیکن قیمتیں اب بھی آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہیں۔
اگست میں سپین کے لیے سات راتوں پر مشتمل ایسا پیکج، جس میں تمام سہولیات شامل ہوتی ہیں، اس کی قیمت چار فیصد اضافے کے بعد 155 پاؤنڈ فی کس تک پہنچ گئی ہے۔ پرتگال میں قیمتیں تین فیصد بڑھی ہیں جبکہ یونان میں پانچ فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔
یہ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ ہفتے کے کس دن سفر کرتے ہیں، لیکن سات راتوں کے لیے چار افراد پر مشتمل ایک خاندان سپین جانے کے لیے گذشتہ سال کے مقابلے میں 160 پاؤنڈ تک زیادہ ادا کر سکتا ہے، جس سے مجموعی لاگت 4340 پاؤنڈ تک پہنچ سکتی ہے۔
اگرچہ یہ اعداد و شمار ایک عمومی رجحان ظاہر کرتے ہیں، لیکن اصل اخراجات کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ سیاحت کے لیے جانے کا ارادہ رکھنے والا خاندان کس مقام کا انتخاب کرتا ہے اور بکنگ کب کرتا ہے۔
ایک چیز جس سے فلورا فائدہ اٹھا سکی ہیں وہ یہ ہے کہ گذشتہ سال کے مقابلے میں سب سے زیادہ تلاش کیے جانے والے تمام مقامات پر گاڑی کرائے پر لینے کی لاگت کم ہوئی ہے۔
کووڈ وبا کے بعد نئی گاڑیوں کی پیداوار میں سست روی کے اثرات اب کم ہو چکے ہیں، اس لیے گاڑیوں کی وافر تعداد موجود ہے اور بہار کے دوران کم بکنگز کے باعث کار کمپنیاں ایک دوسرے سے سخت مقابلہ کر رہی تھیں۔
منزل کی تبدیلی
انگلینڈ کے علاقے میکلزفیلڈ میں ہینبری ٹریول لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر رچرڈ سلیٹر کا کہنا ہے کہ گذشتہ ماہ امریکہ اور ایران کے جنگ بندی معاہدے پر دستخط کے بعد بکنگز میں اضافہ ہوا۔
وہ کہتے ہیں: ’گذشتہ ایک ہفتے میں ہم نے تقریباً ایک ماہ کے برابر بکنگز کی ہیں۔ ان میں بحیرہ روم کے لیے آخری وقت کی بکنگز بھی شامل ہیں اور ہم کروز سفر کی بکنگز میں بھی نمایاں اضافہ دیکھ رہے ہیں۔‘
ان کے مطابق حالیہ برسوں میں قیمتوں میں اضافے سے نمٹنے کے لیے لوگ اپنی تعطیلات کا دورانیہ کم کر رہے ہیں۔
وہ کہتے ہیں: ’جب ہم نے 40 سال پہلے آغاز کیا تھا تو دو ہفتے کی تعطیلات عام تھیں، لیکن اب ہم دو ہفتے کے لیے تعطیلات کا پیکج جتنے افراد کو فروخت کرتے ہیں، ان کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔ اب زیادہ تر لوگ آٹھ، نو یا 10 راتوں کے لیے جاتے ہیں۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ اپنی خرچ کی گئی رقم زیادہ بہتر طور پر وصول کرنے کے لیے سیاح اب اپنی منزلیں تبدیل بھی کر لیتے ہیں۔
رچرڈ کے مطابق مونٹی نیگرو، مالٹا اور مادیرا کی مقبولیت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔