آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’پاکستان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا‘: ورلڈ چیمپئن انڈیا کی مسلسل پانچویں ٹی 20 شکست پر تنقید
انگلینڈ نے انڈیا کو چوتھے ٹی 20 میچ میں باآسانی نو وکٹوں سے شکست دے کر سیریز اپنے نام کر لی ہے۔ یہ ورلڈ چیمپئن انڈیا کی مسلسل پانچویں ٹی 20 میچ میں شکست ہے۔ اس سے پہلے آئرلینڈ نے بھی انڈیا کو دو میچز کی سیریز میں شکست دی تھی۔
یہ انڈیا کے خلاف ٹی 20 سیریز میں انگلینڈ کی پہلی کامیابی ہے۔ سیریز کا آخری میچ 11 جولائی کو ساؤتھمپٹن میں کھیلا جائے گا۔
جمعرات کو برسٹل میں کھیلے گئے میچ میں انڈین کپتان شریاس ایئر نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ کپتان کے علاوہ کوئی بھی انڈین بلے باز خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکا اور مقررہ 20 اوورز میں انڈیا کی ٹیم 157 رنز بنا سکی۔
کپتان شریاس ایئر نے پانچ چھکوں اور چار چوکوں کی مدد سے 49 گیندوں پر 80 رنز بنائے۔ انڈین اوپنر سوریا ونشی ایک بار پھر بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے اور 10 گیندوں پر صرف 15 رنز بنا سکے۔
جواب میں انگلینڈ کی ٹیم نے کپتان ہیری بروک کی جارحانہ بلے بازی کی بدولت مطلوبہ ہدف صرف 14 ویں اوور میں پورا کر لیا۔ بروک نے چار چھکوں اور آٹھ چوکوں کی مدد سے 35 گیندوں پر 79 رنز بنائے۔
انگلینڈ اب پانچ میچوں کی سیریز میں ناقابلِ شکست 0-3 کی برتری حاصل کر چکا ہے، پہلے میچ کے بارش سے متاثر ہونے کے بعد وہ مسلسل تین میچوں میں کامیابی حاصل کر چکا ہے۔
انڈیا کی مسلسل شکستوں کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے سوریا کمار یادیو کی جگہ حال ہی میں قیادت سنبھالنے والے کپتان شریاس ایئر پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔
شریاس ایئر پر بڑھتا دباؤ
برسٹل میں بھی انڈیا کو ایک یکطرفہ مقابلے کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا اور اس سے پہلے دو میچز میں بھی انڈیا کو بڑے مارجن سے شکست ہوئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اولڈ ٹریفورڈ میں چار وکٹوں سے ہارنے کے بعد انڈیا کو ٹرینٹ برج میں 125 رنز کی ریکارڈ شکست ہوئی اور برسٹل میں نو وکٹوں سے ہار ان کی تاریخ میں صرف پانچویں بار ہوئی ہے۔
31 سالہ شریاس کو آئرلینڈ سیریز سے قبل کپتان نامزد کیا گیا تھا، حالانکہ وہ 2023 کے بعد کوئی ٹی20 انٹرنیشنل نہیں کھیل پائے تھے۔
اُنھوں نے سوریا کمار یادو کی جگہ لی تھی جنھوں نے مارچ میں انڈیا کو مسلسل دوسرا ٹی20 ورلڈ کپ جتوایا تھا۔
شریاس نے 2024 میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو آئی پی ایل کا ٹائٹل جتوایا اور 2025 میں پنجاب کنگز کو رنرز اپ بنایا، لیکن بین الاقوامی سطح پر قیادت ان کے لیے زیادہ مشکل ثابت ہو رہی ہے۔
شریاس کی کپتانی میں انڈیا نے تاریخ میں پہلی بار آئرلینڈ سے شکست کھائی اور دوسرے میچ میں ایک رنز سے شکست سے اسے آئرلینڈ کے خلاف سیریز میں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
انڈین بیٹرز آئی پی ایل کی بیٹر فرینڈلی پچز سے باہر مشکلات کا شکار دکھائی دیے، وہ تیز رنز بنانے کی کوشش میں شارٹ گیندوں پر غلط شاٹس کھیلتے رہے۔
سوریا ونشی، ایشان کشن، ابھیشیک شرما، تلک ورما اور واشنگٹن سندر شارٹ پچ گیندوں پر اُونچے شاٹس کھیلنے کی کوشش میں اپنی وکٹ گنوا بیٹھے۔
دو مرتبہ کی ورلڈ چیمپئن انڈیا کی شکست پر سابق انڈین کرکٹرز اور تجزیہ کار ٹیم کے انتخاب پر سوال اُٹھا رہے ہیں۔
مسلسل تین میچز میں فلاپ رہنے والے 15 سالہ سوریا ونشی کو جہاں تنقید کا سامنا ہے تو وہیں ٹی 20 ورلڈ کپ میں شاندار کارکردگی دکھانے والے سینجو سیمسن کو نہ کھلانے پر کوچ گوتم گھمبیر اور ٹیم مینجمنٹ پر بھی تنقید ہو رہی ہے۔
’معذرت کے ساتھ یہ کوئی ٹرانزیشن نہیں ہے‘
سپورٹس تجزیہ کار وکرانت گپتا نے ایکس پر لکھا کہ میں نے ایک مرتبہ پھر ’ٹرانزیشن‘ کا لفظ سنا ہے۔ ’لیکن معذرت کے ساتھ انڈیا کی ٹی 20 ٹیم میں کوئی ٹرانزیشن نہیں ہو رہا۔ انڈیا نے ابھی حال ہی میں ورلڈ کپ جیتا ہے اور ان میں سے زیادہ تر کھلاڑی اس ٹیم کا حصہ ہیں اور کافی عرصے سے انٹرنیشنل کرکٹ کھیل رہے ہیں۔‘
خیال رہے کہ مئی میں انڈین کرکٹ بورڈ نے کپتان سوریا کمار یادیو کی خراب بیٹنگ فارم کے باعث اُن کی جگہ شریاس ایئر کو کپتان بنایا تھا۔ اس فیصلے پر بعض ماہرین نے تنقید کی تھی۔
انڈین کرکٹ ٹیم کے کوچ گوتم گھمبیر نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ انڈین ٹیم میں ایک طرح سے ’ٹرانزیشن‘ ہے۔
انیرودھ گوہا نامی صارف نے لکھا کہ ’انڈیا کرکٹ کا یہ حال تکلیف دہ ہے۔ ہوم گراؤنڈ پر ٹیسٹ سیریز میں مکمل شکست (کلین سویپ)؛ آئرلینڈ کے خلاف ٹی 20 سیریز میں بھی وائٹ واش، اور اب انگلینڈ میں بھی کچھ ایسا ہی ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔‘
سابق انڈین سپنر روی ایشون نے سینجو سیمسن کو ڈراپ کرنے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر کھلاڑیوں کو فارم کے نام پر ڈراپ کرنے کا سلسلہ جاری رہا تو یہ انڈین کرکٹ کے لیے اچھا نہیں ہو گا۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ جس طرح سوریا کمار یادیو کو باہر کیا گیا اور اب سینجو سیمسن کو دو یا تین میچز میں اچھا نہ کرنے پر باہر بٹھا دیا گیا تو پھر ’ٹیم میں شامل دیگر کھلاڑی بھی سوچیں گے کہ اب ٹیم سے ڈراپ ہونے کی کس کی باری ہو گی۔‘
ایشون کا کہنا تھا کہ اس سوچ کی وجہ سے کھلاڑی پھر اپنی ٹیم میں جگہ پکی کرنے کے لیے اپنے لیے کھیلیں گے اور یہ ٹی 20 فارمیٹ میں تباہ کن ہوتا ہے۔
خیال رہے کہ سینجو سیمسن آئرلینڈ کے خلاف ٹی 20 میچز اور انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹی 20 میچ میں زیادہ رنز نہیں بنا سکے تھے جس کے بعد اُنھیں ڈراپ کر کے 15 سالہ سوریا ونشی کو ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔
ارشد نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ یہ ’انڈین کرکٹ کے لیے مشکل ترین دنوں میں سے ایک ہے۔ انڈیا نے حال ہی میں ورلڈ کپ جیتا ہے اور ان میں سے زیادہ تر کھلاڑی اس ٹیم کا حصہ تھے۔‘
نتیش یادیو نامی صارف نے لکھا کہ ’سنہ 2021 سے 2023 کے دوران، پاکستان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ پاکستانی بیٹرز نے پی ایس ایل (PSL) میں ایسی ہموار پچز پر کھیلا جہاں 200 رنز کا ہدف عبور کرنا معمول کی بات بن گئی تھی۔‘
اس کے بعد، جب بھی اُنھوں نے قدرے مختلف پچز یا حالات میں کھیلا تو ان کے بلے بازوں کو تقریباً ہر ٹیم کے خلاف مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے بولرز کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو گیا۔ بولرز کی ذہنی کیفیت بدل گئی اور حریف ٹیموں نے مشکل پچز پر بھی ان کے خلاف 200 سے زائد رنز بنانا شروع کر دیے۔