خیبرپختونخوا میں گورنر راج: کیا اس سے صوبے میں امن قائم کیا جا سکے گا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عمر دراز ننگیانہ
- عہدہ, بی بی سی اردو
- مقام, اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے کا انتظام وفاقی حکومت کے پاس آ گیا ہے، جبکہ گذشتہ 13 برس سے قائم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی صوبائی حکومت عملاً غیر فعال ہو چکی ہے۔
وفاقی حکومت نے یہ اقدام ایسے وقت میں کیا جب سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے ساتھ پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کر رکھا تھا۔
لانگ مارچ کی قیادت وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کر رہے تھے۔ وفاقی حکومت نے اسلام آباد جانے والے راستوں پر کنٹینر لگا کر دار الحکومت کو سیل کیا اور پی ٹی آئی قیادت کو خبردار کیا کہ مارچ کے شرکا کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اگرچہ مارچ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں تک محدود رہا، لیکن اسی دوران صوبے میں ممکنہ ایمرجنسی اور گورنر راج کی اطلاعات سامنے آنے لگیں۔ پی ٹی آئی نے ایک طرف مارچ جاری رکھنے کا اعلان کیا جبکہ دوسری طرف حکومت کے ساتھ مذاکرات کا عمل بھی شروع کیا۔
فریقین کے درمیان مذاکرات کے ایک دو دور ہوئے، جو بے نتیجہ رہے۔ بعد ازاں وزیر اعلیٰ نے لانگ مارچ کو اسلام آباد کی جانب بڑھانے کا اعلان کیا۔
اگلے ہی روز وفاقی کابینہ نے صوبے کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی اور پورے صوبے میں گورنر راج لگانے کی سفارشات صدرِ مملکت کو بھجوا دیں، جن کی اسی روز منظوری دے دی گئی۔
اس دوران وزیر اعلیٰ اور ان کی کابینہ کے کئی ارکان کو گرفتار یا حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا۔ پارلیمان کی منظوری کے بعد گورنر راج اور ایمرجنسی باضابطہ طور پر نافذ ہو چکی ہے۔
اب صوبے کا انتظام گورنر کے ذریعے وفاقی حکومت چلا رہی ہے۔ قانون سازی کے اختیارات بھی وفاق کے پاس منتقل ہو چکے ہیں جبکہ انتظامی نگرانی بھی وفاقی حکام کے سپرد ہے۔ اس مقصد کے لیے اہم انتظامی تقرریاں اور تبادلے پہلے ہی مرحلے میں کر دیے گئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پی ٹی آئی نے انہی واقعات کو بنیاد بنا کر الزام عائد کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانے کا اصل مقصد صوبے میں اس کی حکومت کا خاتمہ تھا۔
پارلیمان کے حالیہ اجلاسوں میں پی ٹی آئی رہنماؤں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ’وفاقی حکومت نے دہشت گردی کو محض ایک جواز کے طور پر استعمال کیا ہے۔‘
دوسری جانب وفاقی حکومت اپنے مؤقف پر قائم ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ’صوبائی حکومت دانستاً دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خلاف ایکشن لینے اور وفاقی حکومت کا ساتھ دینے سے گریزاں تھی‘ جس کے باعث یہ قدم اٹھانا پڑا۔
اگرچہ دونوں جانب سے کیے جانے والے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق یا تردید فوری طور پر ممکن نہیں، تاہم اس صورتحال نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔
اس بحث کا مرکزی سوال یہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت شدت پسندی کے خلاف کیا کر رہی تھی، اور وفاقی حکومت کے مطابق وہ کیا نہیں کر رہی تھی جس کی بنیاد پر گورنر راج اور ایمرجنسی کا فیصلہ کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حکومت کا موقف کیا ہے؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کے مطابق خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی کئی وجوہات ہیں، جن میں شدت پسندی سر فہرست ہے۔
انھوں نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ چند برسوں کے دوران شدت پسندی میں اضافے اور صوبائی حکومت کی جانب سے اس پر ’قابو پانے میں ناکامی نے یہ صورتحال پیدا کی۔‘
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کے رویے سے یہ تاثر ملتا تھا کہ وہ شدت پسندوں کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہے۔
’نہ وہ ان کے خلاف کوئی ایکشن لیتے تھے، نہ وہ ان کے خلاف وفاق کے ساتھ تعاون کرتے تھے۔ نہ فوج کے ساتھ تعاون کرتے تھے۔ نہ (شدت پسندی کے نتیجے میں) شہید ہونے والے اہلکاروں کے لواحقین سے افسوس کا اظہار کرتے تھے۔‘
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق شدت پسندی کے خلاف اقدامات کے لیے خیبر پختونخوا کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت تقریباً 800 ارب روپے فراہم کیے گئے، تاہم ان کے بقول ان فنڈز کے مؤثر استعمال کے شواہد نظر نہیں آئے۔
بی بی سی سے گفتگو میں انھوں نے سوال اٹھایا کہ آیا انسداد دہشت گردی محکمے (سی ٹی ڈی) کی صلاحیت میں اضافہ کیا گیا، سیف سٹی منصوبے مکمل کیے گئے، پولیس کو جدید سازوسامان فراہم کیا گیا یا فارنزک لیباریٹری قائم کی گئی؟
وفاقی وزیرِ اطلاعات کے دعوے کے مطابق ان میں سے کوئی بھی کام نہیں ہوا۔
عطا اللہ تارڑ کا یہ بھی الزام تھا کہ صوبائی حکومت نے شدت پسندوں کے خلاف سخت مؤقف اختیار نہیں کیا، نہ ہی نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عملدرآمد کیا اور نہ صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس بلائے۔
عطا اللہ تارڑ نے الزام عائد کیا کہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت نے ’دہشت گردوں کو پورے صوبے میں فری ہینڈ دیا۔ ان کے خلاف کوئی کارروائیاں نہں کیں۔‘
پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا یہ وجوہات گورنر راج کے لیے کافی تھیں؟
خیبر پختونخوا کے سابق سیکرٹری داخلہ و قبائلی امور سید اختر علی شاہ کے مطابق شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے فوجی اور غیر فوجی دونوں سطحوں پر مربوط حکمتِ عملی کی ضرورت ہوتی ہے۔
ان کے مطابق صرف سکیورٹی کارروائیاں کافی نہیں ہوتیں بلکہ سیاسی جماعتوں، منتخب نمائندوں اور ریاستی اداروں کے درمیان ہم آہنگی بھی ضروری ہوتی ہے۔
اس سوال کے جواب میں کہ شدت پسندی کے خلاف موثر کارروائیوں میں ایسی کون سی رکاوٹیں تھیں جو اب ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد دور ہو جائیں گی، سید اختر علی شاہ نے کہا کہ فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ برس اور رواں سال بھی شدت پسندوں کے خلاف انٹیلیجنس بنیادوں پر تین ہزار سے زیادہ آپریشن کیے گئے۔
ان کے مطابق سی ٹی ڈی اور خیبرپختونخوا پولیس بھی اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے تھیں، تاہم اختلاف اس بات پر تھا کہ ’صوبائی حکومت کا سیاسی بیانیہ وفاقی حکومت اور دیگر اداروں کے موقف سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔‘
کیا ذمہ دار صرف صوبائی حکومت ہے اور حل صرف گورنر راج تھا؟
سابق سیکرٹری داخلہ اور قبائلی امور سید اختر علی شاہ کہتے ہیں کہ اس صورتحال سے بچا جا سکتا تھا۔ وہ مذاکرات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
صحافی اور تجزیہ کار مشتاق یوسفزئی کے مطابق خیبرپختونخوا میں سکیورٹی کا مسئلہ نیا نہیں اور اس کی ذمہ داری صرف وزیر اعلیٰ یا منتخب حکومت پر عائد نہیں کی جا سکتی۔
بی بی سی سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی کے نظام میں پولیس، محکمہ داخلہ، وفاقی ادارے اور دیگر انتظامی ڈھانچے بھی شامل ہوتے ہیں۔
وہ یاد دلاتے ہیں کہ سابق قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے وقت وفاق اور دیگر صوبوں نے ترقیاتی اور ادارہ جاتی معاونت کے وعدے کیے تھے، لیکن ان میں سے بہت سے وعدے مکمل نہ ہو سکے۔
ان کے مطابق اگر سکیورٹی اداروں کے اپنے دعووں کے مطابق شدت پسند افغانستان سے سرحد پار کر کے پاکستان میں داخل ہو رہے ہیں تو یہ صرف ایک صوبے کی نہیں بلکہ ’ریاست پاکستان کی ذمہ داری بنتی ہے۔‘
گورنر راج کی افادیت پر بات کرتے ہوئے مشتاق یوسفزئی بلوچستان کی مثال دیتے ہیں، جہاں 2013 میں گورنر راج نافذ کیا گیا تھا۔
ان کے بقول اگر گورنر راج بذات خود حل ہوتا تو بلوچستان آج مکمل طور پر پُر امن ہونا چاہیے تھا، لیکن وہاں اب بھی سکیورٹی چیلنجز موجود ہیں۔
تاہم وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی حکومت نے بھی بعض معاملات میں مطلوبہ توجہ نہیں دی اور صوبائی انتظام میں کمزوریاں موجود تھیں۔
’انھوں نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ وہ خود کئی گروپس میں بٹ چکے تھے۔ انھوں نے صوبے اور لوگوں کے مسائل پر بہت کم توجہ دی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پی ٹی آئی کا ردعمل
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان گورنر راج کے فیصلے کو سیاسی اقدام قرار دیتے ہیں۔
پارلیمان کے باہر حال ہی میں بی بی سی بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ہمیشہ شدت پسندی کے خاتمے کی حامی رہی ہے اور یہ کہنا درست نہیں کہ ان کی جماعت ’دہشت گردی کے خلاف ایکشن لینے سے گریزاں تھی یا دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ رکھتی تھی۔‘
بیرسٹر گوہر کے مطابق گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ سکیورٹی صورتحال کے بجائے سیاسی مقاصد کے لیے کیا گیا۔
پی ٹی آئی کے رہنما اور قانونی ماہر سلمان اکرم راجہ بھی حکومت کے الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ مذاکرات کے دوران حکومت کو تمام متعلقہ اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس اور سی ٹی ڈی کو وسائل مہیا کیے گئے تھے۔
افغان مہاجرین سے متعلق حکومتی مؤقف پر بات کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے وفاقی پالیسی پر عمل کیا، البتہ اس بات کی کوشش کی گئی کہ مہاجرین کے ساتھ عزت اور احترام کا برتاؤ کیا جائے۔
پی ٹی آئی کا یہ بھی مؤقف ہے کہ دیگر صوبوں کے مقابلے میں خیبر پختونخواہ اپنی پولیس پر سب سے زیادہ وسائل خرچ کرتا رہا ہے۔




















