’لہریں 60 فٹ تک بلند ہوئیں‘: نیپال اور چین کی سرحد پر تباہ کن سیلابی ریلا کیوں آیا؟

نیپال

،تصویر کا ذریعہEPA

    • مصنف, پون راج پوڈیل
    • عہدہ, بی بی سی نیوز نیپالی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

بدھ کے روز نیپال میں دریائے بھوٹیکوشی میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے تین اضلاع میں بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ اس آفت کے نتیجے میں 160 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں، غیر ملکی سیاحوں اور مقامی شہریوں سمیت سینکڑوں لوگ اب بھی لاپتہ ہیں۔

سیلاب نے سڑکوں، پلوں، بجلی کے ڈھانچے اور آبادی والے علاقوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس سے بھاری جانی و مالی نقصان ہوا۔ حکام کے مطابق یہ حالیہ برسوں میں نیپال میں آنے والی بدترین قدرتی آفات میں سے ایک ہے۔

نیپال کے سیاحتی بورڈ کے مطابق لاپتہ سیاحوں میں انڈیا کے 100 سے زائد، امریکہ کے 54، آسٹریلیا کے 34 اور برطانیہ کے 33 شہری شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 100 سے زیادہ نیپالی شہری بھی لاپتہ ہیں۔ یہ علاقہ زائرین اور ٹریکنگ کرنے والوں میں بہت مقبول ہے۔

تبت میں چینی سرکاری میڈیا نے تین افراد کی ہلاکت اور 265 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی ہے۔ تبت سے سامنے آنے والی سی سی ٹی وی ویڈیوز میں سرحدی گزرگاہ پر پانی اور کیچڑ کا ایک بڑا ریلا عمارتوں سے ٹکراتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

درجنوں نیپالی پولیس اہلکار، فوجی جوان اور بجلی کے محکمے کے ملازمین بھی لاپتہ ہیں۔ ایک خاتون نے بتایا، ’میرا خاندان میری آنکھوں کے سامنے سیلاب میں بہہ گیا۔‘ انہوں نے اور ان کے بیٹے نے ایک عمارت کی چھت پر چڑھ کر اپنی جان بچائی۔

حکام نے ابتدا میں شبہ ظاہر کیا تھا کہ ممکن ہے سیلاب سے پہلے زلزلہ آیا ہو، تاہم امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق بعد میں پتا چلا کہ زلزلے جیسی سرگرمی دراصل لینڈ سلائیڈنگ کے باعث پیدا ہوئی تھی۔

نیپال پولیس کے مطابق بدھ کے روز آنے والے سیلاب میں ہلاک ہونے والوں میں سے رات گئے تک 157 افراد کی لاشیں برآمد کر لی گئی تھیں۔ پولیس نے سوشل میڈیا کے ذریعے دی گئی معلومات میں بتایا کہ ان میں سے 64 لاشیں ضلع چتوان سے ملی ہیں۔

پولیس کے مطابق تلاش اور امدادی کارروائیوں کے لیے 3,318 اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

بدھ کو آنے والے شدید سیلاب کے نتیجے میں سڑکوں اور پلوں کو 15 ارب نیپالی روپے سے زائد کا نقصان پہنچنے کا ابتدائی تخمینہ لگایا گیا ہے۔

نواکوٹ کے بیدور علاقے میں بدھ کو ترشولی میں سیلاب سے ڈھانچے کو نقصان پہنچا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بار بار سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ماہرین کے مطابق نیپال اور چین کی سرحدی ہمالیائی علاقے کی جغرافیائی ساخت، برفانی جھیلوں کی حالت میں مسلسل ہونے والی تبدیلیاں، اور برسات کے موسم میں ہونے والی شدید بارشوں کی وجہ سے اس علاقے میں اچانک آنے والی قدرتی آفات کے واقعات بار بار پیش آتے ہیں۔

بدھ کی صبح رسوا کے بھوٹیکوشی تریشولی دریا میں آنے والے شدید سیلاب کے باعث رسوا، نوواکوٹ، دھادنگ، گورکھا اور چتوان سمیت کئی اضلاع متاثر ہوئے ہیں۔

تبتی علاقے میں بہت سی برفانی جھیلیں موجود ہیں، جبکہ نیپال کی جانب ڈھلوانی علاقوں میں بہت سی آبادیاں واقع ہیں، اس لیے برفانی جھیلوں کے پھٹنے اور برفانی تودوں کے گرنے سے ہونے والے نقصانات اس علاقے کو وقتاً فوقتاً برداشت کرنے پڑتے ہیں۔

قومی ادارہ برائے آفات کے خطرات میں کمی اور انتظام کے ایگزیکٹو چیف دھرم راج اُپریتی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر ماضی کے تجربات اور مجموعی صورتحال کو دیکھا جائے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بلند ہمالیائی علاقوں میں درجہ حرارت میں اضافہ اور اس کے نتیجے میں وہاں آنے والی مجموعی تبدیلیاں ہی اس کی بنیادی وجہ ہیں‘۔

نیپال سیلاب

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وجہ کیا ہے؟

نیپالی حکام کے مطابق گذشتہ سال کی طرح اس بار بھی تریشولی دریا کا سیلاب نیپال کی سرزمین سے نہیں بلکہ تبت کی جانب سے پیدا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ بدھ کی صبح یہ سیلاب نیپالی علاقے میں داخل ہوا تھا۔

سینیئر ماہرِ موسمیات اور محکمہ آبی و موسمیات کی ترجمان وبھوتی پوکھریل نے کہا کہ واقعے کی اصل وجہ کے بارے میں ابھی حتمی نتیجے پر پہنچنا ممکن نہیں ہے۔

انھوں نے کہا ’ہم اس کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ابھی ایسی صورتحال نہیں ہے کہ یقین کے ساتھ کہا جا سکے کہ یہی وجہ تھی۔‘

ٹرولھوون یونیورسٹی کے تحت انسٹی ٹیوٹ آف انجینیئرنگ، پلچوک کیمپس کے ڈیزاسٹر اسٹڈیز سینٹر کے ڈائریکٹر بسنت ادھیکاری اس وقت چین کے صوبہ سچوان میں موجود ہیں اور وہیں سے اس واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں۔

انھوں نے کہا، ’اس واقعے کی خصوصیات سے اشارہ ملتا ہے کہ یہ برفانی تودہ گرنے کا واقعہ ہو سکتا ہے، اور اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ وہاں پانی مکمل طور پر نہیں نکلا، اس لیے خطرہ اب بھی برقرار ہے۔ تاہم حتمی یقین کے لیے سیٹلائٹ تجزیے کا انتظار کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا، ’ماضی میں بھی اس طرح کے سیلابی واقعات میں برفانی جھیلوں کے پھٹنے اور برفانی تودے گرنے کو بنیادی وجوہات کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔‘

نیپال سیلاب

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سرحدی علاقوں میں ایسے واقعات بار بار کیوں ہوتے ہیں؟

बाढी

،تصویر کا ذریعہRSS

ماہرین کا کہنا ہے کہ نیپال اور چین کے درمیان شمالی سرحد پر بلند ہمالیائی علاقے پھیلے ہوئے ہیں۔ سرحد کے اُس پار تبتی سطح مرتفع واقع ہے، جبکہ ہمالیائی خطے میں موجود گلیشیئرز، ان سے بننے والی برفانی جھیلیں، اور نیپال کی جانب پانی کے تیز بہاؤ کی وجہ سے قدرتی خطرات مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔

خاص طور پر مون سون کے دوران شدید بارش، گلیشیئرز میں ہونے والی تبدیلیاں، اور برفانی تودوں کے گرنے جیسے عوامل جب ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں تو بہت کم وقت میں بڑی مقدار میں پانی، پتھر اور مٹی زیریں علاقوں تک پہنچ جاتی ہے۔

گذشتہ سال بھی رسوا کے علاقے میں آنے والے سیلاب سے جانی اور مالی نقصان بہت زیادہ ہوا تھا۔

تریبھوون یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر سدھیپ ٹھاکوری کا کہنبا ہے کہ ’برفانی جھیلوں کا پھٹنا اور برفانی تودوں کا گرنا نیپال۔چین (خصوصاً تبت) کے سرحدی علاقوں میں پائے جانے والے ممکنہ موسمی اور جغرافیائی خطرات ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’نیپال کی جانب ڈھلوانی علاقوں میں بستیاں، سڑکیں، پل، پن بجلی کے منصوبے اور دیگر بنیادی ڈھانچے موجود ہیں، اس لیے جب تبت میں برفانی تودہ گرتا ہے یا برفانی جھیل پھٹتی ہے تو اس کے نتیجے میں نیپال کے زیریں دریائی علاقوں کو وقتاً فوقتاً نقصان پہنچتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اس قسم کے واقعات ماضی میں بھی کئی بار دیکھے جا چکے ہیں۔‘

نیپال سیلاب

،تصویر کا ذریعہGetty Images

گلیشیئر کا پھٹنا اور برفانی تودہ

ماہرین کے مطابق بلند ہمالیائی علاقوں میں برفانی جھیلوں کا پھٹنا اور برفانی تودوں کا گرنا ایک معمول اور قدرتی عمل ہے۔

تریبھوون یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ٹھاکوری نے کہا، ’بلند ہمالیائی علاقوں میں بہت سی ایسی جھیلیں موجود ہیں جن میں گلیشیئرز کا پانی جمع ہوتا رہتا ہے۔ چونکہ ان جھیلوں میں مسلسل پانی آتا رہتا ہے، اس لیے اگر پانی کی مقدار جھیل کے قدرتی بند کی برداشت سے زیادہ ہو جائے تو جھیل پھٹ سکتی ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اسی طرح اگر کسی جھیل میں برفانی تودہ آ گرے تو جھیل کا پانی اُبل کر باہر نکل سکتا ہے۔ اسے بھی برفانی جھیل کا پھٹنا کہا جاتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’کبھی کبھار زلزلے کے جھٹکے بھی جھیل کو متاثر کر سکتے ہیں، جبکہ بعض اوقات مسلسل بارش کے باعث جھیل کے کناروں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے اور جھیل پھٹ سکتی ہے۔ ان میں سے کسی بھی وجہ سے اگر جھیل ٹوٹ جائے تو ہم اسے برفانی جھیل کا پھٹنا کہتے ہیں۔‘

نواکوٹ کے بیدور علاقے میں بدھ کو ترشولی میں سیلاب سے ڈھانچے کو نقصان پہنچا

،تصویر کا ذریعہRSS

،تصویر کا کیپشننواکوٹ کے بیدور علاقے میں بدھ کو ترشولی میں سیلاب سے ڈھانچے کو نقصان پہنچا

گلیشیئر دراصل برف کا تودہ ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق بعض اوقات برف کے بڑے بڑے تودے یا چٹانیں ڈھلوانی علاقوں کی طرف گر جاتی ہیں، جس سے برفانی جھیل پھٹ سکتی ہے یا دریا کا بہاؤ بھی رک سکتا ہے، اور اس کے نتیجے میں موسمی آفات جنم لے سکتی ہیں۔

پلچوک کیمپس کے وسنت ادھیکاری بدھ کے واقعے کے بارے میں کہتے ہیں، ’اگرچہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ لیندے کھولا میں برفانی تودے نے پانی کا راستہ روک دیا تھا اور اسی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا، لیکن سیلاب آنے سے پہلے دریا کے بند ہونے اور پانی کی سطح کم ہونے کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔‘

نیپال سیلاب

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ماضی کے واقعات

ہمالیائی علاقوں میں برفانی جھیلوں کے پھٹنے اور برفانی تودوں کے گرنے جیسے چھوٹے بڑے موسمی واقعات کو تریبھوون یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ٹھاکوری غیر معمولی نہیں سمجھتے۔ تاہم، ان کے خیال میں بدھ کو آنے والا سیلاب ایک نایاب واقعہ تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم نے اس واقعے کی جتنی بھی ویڈیوز دیکھی ہیں، ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک بہت بڑا واقعہ تھا۔ دریا کی سطحِ آب معمول کے مقابلے میں تقریباً 15 سے 20 میٹر تک بلند ہوتی دکھائی دیتی ہے۔‘

رسوا میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار شکتی مایا تمانگ نے اس علاقے کے کچھ بزرگ افراد سے اس قسم کے واقعات کے بارے میں بات کی۔

وہ کہتی ہیں، ’ان افراد کا کہنا ہے کہ انھوں نے ماضی میں اس درجے کا واقعہ کبھی نہیں دیکھا تھا۔‘

نیپال سیلاب

،تصویر کا ذریعہGetty Images

رسوا میں گذشتہ سال بھی ایک بڑا سیلاب آیا تھا، جس سے جانی و مالی نقصان بہت زیادہ ہوا تھا۔ مطالعات سے پتا چلا ہے کہ اُس وقت لیندے کھولا کے بالائی آبی ذخیرے کے علاقے میں ایک برفانی جھیل پھٹ گئی تھی۔

سرکاری رپورٹوں کے مطابق یہ اچانک آنے والا سیلاب نیچے کی جانب بہتے ہوئے اپنے ساتھ پتھر، مٹی اور ریت بھی لے آیا اور ایک بڑے تباہ کن ریلے میں تبدیل ہو گیا، جس نے بھوٹیکوشی دریا کے کناروں، سڑکوں، پلوں، بجلی گھروں اور آبادی والے علاقوں سمیت مختلف بنیادی ڈھانچوں کو شدید نقصان پہنچایا۔

سن 2024 میں ہی ضلع سولوکھمبو کی کھمبو پاسانگ لہامو دیہی بلدیہ کے تھامے نامی مقام پر اچانک آنے والے سیلاب نے بھی درجنوں گھروں کو نقصان پہنچایا تھا۔

اسی طرح سنہ 2073 وکرم سمبت میں کوداری کے علاقے میں آنے والے سیلاب کو بھی نہایت بڑا واقعہ سمجھا جاتا ہے۔ تبت میں برفانی جھیل پھٹنے کے بعد آنے والے سیلاب نے کوداری اور تاتوپانی میں عمارتوں، ارنیکو شاہراہ اور اپر بھوٹیکوشی پن بجلی منصوبے کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔

نیپال سیلاب

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کیا اس سے بچا جا سکتا ہے؟

تریبھوون یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ٹھاکوری کے مطابق ایسی موسمی قدرتی تبدیلیوں کو روکا نہیں جا سکتا، تاہم احتیاطی تدابیر اختیار کرکے جانی و مالی نقصان کو کم کیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا، ’اب جدید ’ارلی وارننگ سسٹم‘ (پیشگی انتباہی نظام) استعمال کیے جانے لگے ہیں۔ برفانی جھیلوں اور ان کے اردگرد نصب کیے جانے والے یہ نظام جھیل کے پانی کی سطح اور اس کے قدرتی بند کی حالت کے بارے میں فوری معلومات فراہم کرتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر اس قسم کے واقعات کی پیشگی اطلاع مل جائے تو انسانی جانوں کے نقصان کو کم کیا جا سکتا ہے۔‘

اسی طرح پلچوک کیمپس کے وسنت ادھیکاری کا کہنا ہے کہ اگرچہ ارلی وارننگ سسٹم مفید ثابت ہو سکتے ہیں، لیکن سرحد پار نوعیت کے ایسے واقعات کے معاملے میں چین کے ساتھ سرکاری سطح پر رابطے اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا، ’اگر سیلاب نیپال ہی سے پیدا ہوا ہوتا تو ہم یہیں سے اس کی نگرانی کر سکتے تھے، لیکن اس وقت نظر آنے جیسے واقعات کے لیے سرحد پار معلوماتی نظام کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ فی الحال ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔‘

نیپال سیلاب

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ادھیکاری کا کہنا ہے کہ ’جہاں اس قسم کے واقعات پیدا ہوتے ہیں وہاں انسانی آبادیاں موجود نہیں ہوتیں۔ لوگوں کے ذریعے اطلاعات کا تبادلہ کرنا مشکل ہوتا ہے، اس لیے سیٹلائٹ اسٹیشن نصب کرکے انہی کے ذریعے نگرانی کرنی چاہیے،‘

’ورنہ سرحد سے نیچے ہماری آبادیاں واقع ہیں، اس لیے سب سے زیادہ نقصان ہمیں ہی اٹھانا پڑتا ہے۔‘

ماہرین کے مطابق نیپال کے بعض دریائی آبی ذخائر والے علاقوں میں اس طرح کے نظام نصب کیے جانے شروع ہو گئے ہیں، لیکن ہمالیائی علاقوں میں ان کا استعمال ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔

تریبھوون یونیورسٹی کے ٹھاکوری نے کہا، ’اس کے علاوہ خطرناک علاقوں کی نشاندہی کرکے دریا کے کنارے آباد بستیوں کو دوسری جگہ منتقل بھی کیا جا سکتا ہے۔‘

انھں نے کہا کہ ’جانی اور مالی نقصان سے بچنے کے لیے سب سے مؤثر طریقہ یہی ہے کہ خطرے والے علاقوں میں آبادیاں قائم نہ کی جائیں۔‘