آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مفتی تقی عثمانی کا کرپٹو کے خلاف فتویٰ: پاکستان کے مذہبی علما کرپٹو کرنسی کے خلاف کیوں ہیں؟
- مصنف, تنویر ملک
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
پاکستان میں کرپٹو کرنسی اور دیگر ڈیجیٹل اثاثوں کو قانونی دائرے میں لانے کی کوششوں کے دوران اس شعبے کی شرعی حیثیت پر ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
معروف مذہبی عالم مفتی تقی عثمانی اور دیگر علما پر مشتمل دارالعلوم کراچی کے ایک فتوے میں کرپٹو کرنسی کے ذریعے خریداری کو حرام قرار دیا گیا ہے، جس کی بنیاد یہ مؤقف ہے کہ کرپٹو کرنسی شریعت میں مال یا دولت کی تعریف پر پورا نہیں اترتی۔
یہ فتویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت پاکستان ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے قواعد و ضوابط بنانے اور اس شعبے کو ریگولیٹ کرنے کے لیے پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی قائم کر چکی ہے۔
تقی عثمانی کی جانب سے دیے گئے بیان کے بعد پی وی اے آر اے کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے تقی عثمانی سے ملاقات کی ہے جس میں ان کے مطابق ڈیجیٹل اثاثہ جات کی شرعی حیثیت پر بات چیت ہوئی۔
اب سوال یہ ہے کہ اس فتوے کا پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے استعمال، کاروبار اور سرمایہ کاری پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟ بی بی سی نے اس حوالے سے مالیاتی شعبے کے ماہرین سے بات کی ہے۔
مفتی تقی عثمانی نے کس بنیاد پر کرپٹو کرنسی کے ذریعے خریداری کو حرام قرار دیا ہے؟
مفتی تقی عثمانی کی جانب سے کرپٹو کرنسی کے ذریعے خریداری کو حرام قرار دینے کے پس پردہ دارہ العلوم کراچی کا وہ فتویٰ ہے جس پر ان کے علاوہ پانچ دیگر علما کے دستخط ہیں۔
دارالعلوم کراچی کو بھیجے گئے ایک سوال میں پوچھا گیا کہ آیا ڈیجیٹیل یا کرپٹو کرنسی کے ذریعے آن لائن کتابوں کی خریداری جائز ہے؟
مفتی تقی عثمانی اور پانچ دیگر علما کے دستخط سے جاری فتوے میں کرپٹو کرنسی کے ذریعے خریداری کو حرام قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس کی وجہ وہ تحقیق ہے جس کے مطابق کرپٹو کرنسی ویلتھ یعنی مال کی تعریف پر پورا نہیں اترتی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فتوی میں کہا گیا ہے کہ کرپٹو کرنسی شریعت کے اصولوں کے تحت مال (ویلتھ) نہیں بلکہ محض کھاتوں میں فرضی نمبروں کا اندراج ہے۔
اس فتوے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ماہر معیشت اور سٹی بینک کے سابق ایمرجنگ مارکیٹ انویسٹمنٹس کے سربراہ یوسف نذر کا ماننا ہے کہ ’مفتی تقی عثمانی کی جانب سے کرپٹو کرنسی کو ویلتھ کی تعریف میں شامل نہ کرنے کا ان کا خیال غلط فہمی پر مبنی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ کرپٹو کرنسی کو دنیا کی کسی بھی بڑی کرنسی بشمول ڈالر، پاؤنڈ، یورو وغیرہ میں باآسانی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
یوسف نذر کا کہنا ہے کہ جیسے سونا ایک ایسٹ (اثاثہ) ہے اور اسے بیچا اور اس کے بدلے میں کوئی بھی کرنسی حاصل کی جا سکتی ہے بالکل اسی طرح کرپٹو کرنسی کو بھی بڑی کرنسیوں سے تبدیل جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کرپٹو کو ’دولت نہ ماننے کی بنیادی وجہ اس شعبے سے ناواقفیت اور صحیح معلومات کا نہ ہونا ہے۔‘
فتوے کی اشاعت کے بعد ورچوئل ایسٹ اتھارٹی کے چیئرمین کا مفتی تقی عثمانی سے رابطہ
مفتی تقی عثمانی کی جانب سے کرپٹو کرنسی کے ذریعے خریداری کو حرام قرار دیے جانے کے بعد پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے مفتی تقی عثمانی سے ملاقات کی اور ڈیجیٹیل اثاثوں کی شرعی حیثیت پر بات چیت کی۔
بلال بن ثاقب نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ڈیجیٹل اثاثوں اور ان کی شرعی حیثیت کے حوالے سے مفتی تقی عثمانی سے ایک تعمیری ملاقات ہوئی، جس میں مختلف پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اں کا کہنا ہے کہ ہمارے درمیان پاکستانی شہریوں کو مالی فراڈ، استحصال اور ممکنہ مالی نقصانات سے محفوظ رکھنے پر اتفاق پایا جاتا ہے۔
بلال بن ثاقب کا کہنا ہے کہ گفتگو میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ بلاک چین، ڈیجیٹل اثاثہ جات، سٹیبل کوائنز اور حقیقی دنیا کے اثاثوں کی ٹوکنائزیشن مختلف نوعیت کی ٹیکنالوجیز اور استعمالات پر مشتمل شعبے ہیں۔ اس لیے انھیں ایک ہی زاویے سے دیکھنے کے بجائے ان کا تکنیکی اور شرعی دونوں پہلوؤں سے احتیاط اور جامع انداز میں جائزہ لیا جانا چاہیے۔
بیان کے مطابق، چونکہ یہ شعبہ تیزی سے ارتقا کے مراحل سے گزر رہا ہے، اس لیے امید ہے کہ مستقبل میں علما، ریگولیٹرز اور صنعت سے وابستہ ماہرین کے درمیان مکالمہ جاری رہے گا تاکہ پاکستان کی پالیسی اسلامی اصولوں اور جدید ٹیکنالوجی دونوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے تشکیل دی جا سکے۔
کیا اس فتوے سے پاکستان میں کرپٹو کرنسی کا کاروبار متاثر ہو گا؟
پاکستان میں کرپٹو کرنسی کا کاروبار غیر رسمی طور پر کافی سالوں سے ہو رہا تھا۔ حکومت پاکستان نے اسے قانونی دائرے میں لانے کے لیے پہلے پاکستان کرپٹو کونسل قائم کی اور اس کے بعد پاکستان ورچویل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔
گذشتہ برس بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بلال بن ثاقب نے بتایا تھا کہ دو کروڑ سے زائد پاکستانی کرپٹو کرنسی کے کاروبار سے وابستہ ہیں اور چند سال قبل 20 ارب ڈالر تک کی ٹرانزیکشنز کرپٹو کرنسی میں ہوئی تھیں۔
یوسف نذر کا کہنا ہے کہ کرپٹو سے پاکستان میں بیرون ملک سے آنے والی ترسیلات زر کو بہت مدد مل سکتی ہے کیونکہ اس کے ذریعے نہ صرف باہر سے رقم پاکستان بھجوانے پر خرچ کم آئے گا بلکہ ترسیلات زیادہ جلدی بھی پہنچیں گی۔
انھوں نے بتایا کہ بینک کے ذریعے رقم بھجوانے میں تین سے چار دن لگ جاتے ہیں جب کہ کرپٹو کرنسی سے ان کی سیٹلمنٹ فقط چند گھنٹوں میں ہو جاتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔
یوسف نذر کے مطابق ’حکومت اس سلسلے میں کام کر رہی ہے اور فتوؤں کے ذریعے اس کام میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔‘
مالیاتی امور کے ماہر راشد مسعود عالم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا سٹاکس، کرنسی اور کموڈیٹی میں ٹریڈ کر رہی ہے تاہم کرپٹو کرنسی ایک نیا کام ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ کسی ملک کی کرنسی نہیں تاہم لوگ اس میں کام کر رہے ہیں جس میں پاکستانیوں کی بھی بڑی تعداد کام کر رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’اب تک پاکستانی غیر رسمی شعبے میں کام کر رہے تھے تاہم حکومت کی جانب سے اسے ریگولیٹ کیا جا رہا ہے تو پھر اب اجازت دینی پڑے گی تاکہ لوگوں کا کام چلتا رہے۔‘
کرنسی ایکسچینج ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکرٹری ظفر پراچہ کے مطابق اس وقت لوگ کرپٹو میں سرمایہ کاری اور ٹریڈ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس کے ساتھ ہی فیوچرز کے سودے بھی کرپٹو کرنسی میں ہوتے ہیں۔
ظفر پراچہ کہتے ہیں کہ ’فتویٰ آنے سے کسی حد تک لوگوں کے کاروبار متاثر ہونے کا امکان ہے کیونکہ پاکستان ایک مذہبی معاشرہ ہے اور یہاں مذہبی علما کے فیصلوں کی تقلید کی جاتی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ پوری دنیا کرپٹو میں کام کر رہی ہے اور پاکستان بھی اس سے منسلک ہے اور ’اس نوعیت کے فتوے سے یقینی طور پر کچھ حد تک کاروبار متاثر ہو سکتا ہے۔‘