ریاض ایئر پورٹ پر حملے میں 12 ہلاکتیں: ’زخمی مدد کے لیے پکار رہے تھے، ہر کوئی بھاگ رہا تھا‘

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 5 منٹ

سعودی عرب نے تصدیق کی ہے کہ سنیچر کو ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر حوثیوں کے حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 309 زخمی ہو گئے ہیں۔ سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔

سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ اس حملے کے بعد ’فیصلہ کن‘ جوابی کارروائی کی جائے گی۔

سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ مسافروں کے ایک ٹرمینل پر حملے کے نتیجے میں مسافر اور ہوائی اڈے کے عملے کے ارکان ہلاک ہوئے۔

اُنھوں نے اس حملے کو ’جنگی جرم‘ قرار دیا۔

یمن کی سعودی حمایت یافتہ حکومتی افواج اور حوثیوں کے درمیان حالیہ عرصے میں لڑائی میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ حوثی ملک کے بیشتر حصے پر کنٹرول رکھتے ہیں۔ اس سے قبل جمعرات کے روز ریاض ایئر پورٹ پر ایک حملے میں ایک پائلٹ سمیت تین افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔

لیکن سنیچر کے حملے کو اس لڑائی کے دوران سعودی عرب پر ہونے والا بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے مطابق، سنیچر کے روز سعودی عرب کے مشرقی شہر دمام میں واقع کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب بھی ایک پروجیکٹائل گرا۔

ایک روز قبل سعودی حکام کے مطابق ایران کی حمایت یافتہ حوثیوں کے ہوائی اڈے پر دو حملوں میں ایک پائلٹ سمیت تین سعودی ہلاک ہو گئے تھے۔ اس سے قبل چھ اور سات اکتوبر کو دو سعودی ہوائی اڈوں پر حوثیوں کے حملوں میں مزید تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔

سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

’زخمی مدد کے لیے پکار رہے تھے، ہر کوئی بھاگ رہا تھا‘

ریاض ایئر پورٹ پر موجود ایک عینی شاہد نے خبر رساں اداروں کو بتایا کہ اُنھوں نے گیٹ نمبر چار کو نشانہ بنتے دیکھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ زخمی میرے سامنے تھے اور ہر کوئی بھاگ رہا تھا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک عینی شاہد کے حوالے سے بتایا کہ ایک درجن سے زائد ایمبولینسیں ہوائی اڈے کی جانب تیزی سے جاتی دیکھی گئیں۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ وہ سعودی عرب پر حالیہ حملوں کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ اُنھوں نے تصدیق کی کہ ان حملوں میں ایک امریکی شہری ہلاک ہوا ہے۔

سعودی عرب میں مغربی ممالک کے سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو ہوائی اڈے سے دور رہنے کی تنبیہ کی ہے۔ برطانیہ کے دفترِ خارجہ نے برطانوی شہریوں کو ہدایت دی کہ ’جب تک ہوائی اڈہ محفوظ قرار نہیں دیا جاتا اس علاقے میں جانے سے گریز کریں۔‘

خلیجی ممالک کی متعدد ایئرلائنز نے کہا ہے کہ اُنھوں نے ہوائی اڈے کے لیے اور وہاں سے اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔

فضائی پروازوں کی نگرانی کرنے والے ادارے فلائٹ ریڈار کے مطابق، ریاض جانے والی تمام پروازوں کا رخ موڑ دیا گیا ہے یا انھیں منسوخ کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ریاض ایئر پورٹ پر حملہ ناقابلِ قبول ہے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ اس صورتحال پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے رابطہ کریں گے۔

اس سے پہلے امریکی صدر نے کہا تھا کہ وہ جلد فیصلہ کریں گے کہ آیا امریکہ ایران کی حمایت یافتہ حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی کارروائیوں میں حصہ لے گا یا نہیں۔

صدر ٹرمپ کا یہ بیان ریاض ایئر پورٹ پر حملے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق کم از کم 12 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کے ایک سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا: ’ہم ایسا کر سکتے ہیں۔ ہم اس کا جائزہ لیں گے۔ ہمیں ابھی حالیہ حملے کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے، اس لیے ہم فیصلہ کریں گے۔‘

اُنھوں نے مزید کہا: ’ہم بہت تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔‘

پاکستان کی مذمت

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ریاض میں شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے اور دونوں ممالک کے درمیان اُخوت کے دیرینہ تعلقات کے پیشِ نظر سعودی عرب کی خود مختاری، علاقائی سالمیت کے لیے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کرتا ہے۔

اتوار کو جاری کیے گئے بیان میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حوثی ملیشیا کے شہریوں اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے حملے قطعی ناقابلِ قبول ہیں اور علاقائی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ تشدد کے ایسے واقعات، جو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، کا فوری طور پر خاتمہ ہونا چاہیے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان مملکتِ سعودی عرب، اس کی قیادت اور برادر عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔

بعدازاں پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان مکہ مشترکہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کی سلامتی اور خود مختاری کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔

اتوار کو جاری کیے گئے بیان میں ترجمان دفترِ خارجہ کا کہنا تھا کہ شہری املاک اور ہوائی اڈوں پر حملہ دہشت گردی اور علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مکہ اتحاد کی سیاسی، دفاعی اور سٹریٹیجک کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کے تناظر میں پاکستان سعودی عرب کی خود مختاری کے تحفظ کے عزم پر قائم ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ شہریوں اور انفرسٹرکچر پر حوثی ملیشیا کا حملہ ناقابلِ قبول ہے اور اس کی عالمی سطح پر مذمت کی جانی چاہیے۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے حق کی حمایت کرتا ہے اور حوثی ملیشیا پر زور دیتا ہے کہ اس نوعیت کے حملے فوری طور پر روکے۔