عمران خان پر بننے والی فلم ’کرکٹر‘ جو مکمل نہ ہو سکی: ’مجھے اِس کردار کے لیے 35 سال قبل ڈیڑھ لاکھ روپے ایڈوانس ملا تھا‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images/ Jahanzeb Khan
- مصنف, محمد صہیب
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 11 منٹ
پاکستانی فلم انڈسٹری کا سنہرا دور سنہ 1975 کے بعد آہستہ آہستہ ماند پڑنے لگا تھا اور فلمی صنعت جو کبھی گولڈن پیریڈ سے گزر رہی تھی، پہلے سلور اور پھر مسلسل زوال کی طرف چلی گئی۔ وجوہات بہت سی تھیں: پہلے کلر ٹی وی نے فلموں کو پھیکا کیا اور رہی سہی کسر وی سی آر نے پوری کر دی۔
مگر پاکستان میں فلمی صنعت کے اِس زوال کے دوران کھیلوں کا عروج شروع ہو چکا تھا اور اِس عرصے میں جن کھلاڑیوں کی مقبولیت کا گراف بلند ہوتا دکھائی دیا، اُن میں ایک عمران خان بھی تھے۔
یہ وہ دور تھا جب اگرچہ پاکستان میں پنجابی فلموں کا راج تھا مگر سنہ 1983 سے سنہ 1992 کے دوران انڈیا میں کرکٹ کو موضوع بنا کر فلمیں بھی بن رہی تھیں اور چند انڈین کرکٹرز کو ہیرو بھی بنایا گیا۔
اِس رپورٹ میں ہم آپ کو لگ بھگ 35 سال قبل عمران خان کی زندگی پر فلم بنانے کی پہلی کوشش کی کہانی سُنائیں گے جس کے لیے عمران خان کا رول ادا کرنے کے لیے منتخب ہونے والے اداکار کو ایڈوانس رقم تک ادا کر دی گئی تھی، مگر یہ فلم کبھی مکمل نہ ہو سکی۔
ایسا نہیں ہے کہ بعد میں اس نوعیت کی کوشش نہیں ہوئی۔ عمران خان کی زندگی پر فلم بنانے کی کوششیں اس کے بعد بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہیں۔
ایسی چند کوششوں میں سے ایک کوشش معروف ڈائریکٹر جمشید محمود رضا (جامی) نے اپنی فلم 'مور' کی کامیابی کے بعد کی تھی۔ لگ بھگ دس سال پہلے انھوں نے انڈین فلم ’83‘ سے متاثر ہو کر سنہ 1992 کے ورلڈ کپ کی فتح کو فلمانے کا عزم ظاہر کیا، میڈیا رپورٹس کے مطابق فلم کا سکرپٹ تیار ہوا، عمران خان اور وسیم اکرم کے کردار ادا کرنے کے لیے اداکار بھی تلاش کر لیے گئے مگر یہ منصوبہ کبھی مکمل نہ ہو سکا۔
سنہ 2018 میں عمران خان کے دورِ حکومت میں ’کپتان‘ نامی فلم کے چرچے ہوئے، جس میں اداکار عبدالمنان عمران خان جبکہ سعیدہ امتیاز جمائما خان کا کردار ادا کر رہے تھے۔ مگر یہ فلم بھی کبھی مکمل ہو کر سامنے نہ آ سکی۔
تو اب چلتے ہیں 35 سال قبل جب عمران خان کی زندگی پر پہلی فلم ’کرکٹر‘ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فلم ’کرکٹر‘ کی کہانی

،تصویر کا ذریعہJehanzeb Khan
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
یہ اُس دور کی بات ہے جب پاکستان میں پنجابی فلموں کا راج تھا جبکہ انڈیا میں پنجابیوں کا۔
سنی دیول، کمار گورو اور سنجے دت باکس آفس پر چھائے ہوئے تھے کیونکہ اُس وقت تک شاہ رُخ خان، عامر خان اور سلمان خان کا دور نہیں آیا تھا۔
مگر یہ ضرور تھا کہ بالی ووڈ کی بھی پاکستانی کرکٹر عمران خان میں دلچسپی تھی، شارجہ میں شمی کپور کی جانب سے عمران خان کو وننگ ٹرافی دینے کا منظر تو سب کو یاد ہی ہو گا۔
سنہ 1983 سے سنہ 1992 تک، یعنی جب عمران خان گیم کے عروج پر تھے، انڈیا میں کرکٹ کو موضوع بنا کر فلمیں بن رہی تھیں۔ چاہے وہ کمار گورو کی فلم ’آل راؤنڈر‘ ہو، عامر خان کی ’اول نمبر‘ یا چنکی پانڈے کی ’تیسرا کون؟‘ ناقدین کے مطابق عمران خان کے سٹار امیج کی جھلک اِن فلموں میں کہیں نہ کہیں ضرور دکھائی دیتی تھی۔
پاکستان میں بھی دیکھا دیکھی ایسی ’فزیک‘ (ظاہری حالت) کے اداکار پروموٹ ہونے لگے، جس میں اسماعیل شاہ، جاوید شیخ اور جہانزیب خان شامل تھے، یعنی کلین شیو، لمبے بال اور گورا رنگ۔
مگر اس کے باوجود پاکستان میں اُس طرح کی فلمیں نہ بن سکیں جو انڈیا میں کرکٹ کے موضوع کو لے کر بن رہی تھیں۔
چنانچہ عمران خان کی زندگی پر بننے والی پہلی فلم، جس کا نام ’کرکٹر‘ تجویز کیا گیا تھا، کے ساتھ بھی وہی ہوا جو اکثر پاکستانی فلموں میں شادی کے مناظر میں ہوتا تھا، یعنی سلطان راہی کی آمد، ہنگامہ، اور پھر وہ تاریخی جملہ ’اوئے! یہ شادی نہیں ہو سکتی۔‘

،تصویر کا ذریعہSMVP
مگر اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اِس کہانی سے جہانزیب خان کا کیا تعلق ہے؟
جہانزیب خان کا دعویٰ ہے کہ فلم ’کرکٹر‘ کے لیے اُن کا انتخاب خود عمران خان نے کیا تھا۔ یاد رہے کہ جہانزیب نے ماضی میں عمران خان کے ہم شکل کے طور پر بھی خاصی شہرت حاصل کی تھی۔
جہانزیب خان سے میرا پہلا سامنا فیس بُک پر پاکستان میں ’کاؤ بوائے‘ سٹائل فلموں کے حوالے سے ایک تحقیق کے دوران ہوا جہاں انھوں نے کہا تھا کہ ’آپ راہی صاحب کے کاؤ بوائے بننے کو رو رہے ہیں، وہ تو کرکٹر بننا چاہتے تھے۔‘
اُن کا یہ جملہ فلم ’کرکٹر‘ کے تناظر میں تھا۔
ہم نے جہانزیب سے رابطہ کر کے یہ کہانی جاننے کی کوشش کی۔
جہانزیب خان نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ ’اگست 1989 میں، میں نیا نیا انڈیا سے گھوم کر واپس آیا تھا۔ میں وہاں سلمیٰ آغا کے ساتھ گیا تھا، جو جاوید فاضل کی فلم ’بازارِ حسن‘ کا انڈین ورژن ’پتی، پتنی اور طوائف‘ بحیثیت شریک پروڈیوسر بنوا رہی تھیں۔ وہ چاہتی تھیں کہ میں اس فلم میں وہی کردار ادا کروں جو میں نے پاکستان میں کیا تھا، یعنی امیر اور مغرور سیٹھ کا۔‘
اُن کے مطابق ’مگر میرا وہاں کام کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ میں انڈیا سے اپنے پسندیدہ وینو پاجی (ونود کھنہ) اور اداکار اور ہدایتکار دیو آنند سے ملاقات کی یادیں لے کر واپس آیا۔ اس وقت دیو آنند کرکٹ کے موضوع پر اپنی فلم' اول نمبر' مکمل کرنے کے قریب تھے۔‘
جہانزیب کے مطابق دیو آنند نے اپنی اس فلم میں ہیرو کے کردار کے لیے عمران خان کو اپروچ کیا تھا مگر ایسا ممکن نہ ہو سکا۔
جہانزیب کا دعویٰ ہے کہ ’مجھے دیکھ کر دیو آنند نے کہا کہ ’کاش ہماری ملاقات پہلے ہو گئی ہوتی۔ جس کردار کے لیے میں نے عمران خان کو سوچا تھا، وہ تم سے کروا لیتا۔‘
چونکہ اُس دور میں انڈیا میں فلمی رسالوں کی بھرمار تھی، اسی لیے پاکستان سے گئے ہوئے اداکار کی دیو آنند سے ملاقات کی تفصیل رسالوں میں چھپی اور اس طرح یہ خبر لندن پہنچ گئی اور فلم بنانے کے خواہشمند وہاں بھی تھے۔
جہانزیب خان نے اپنی کہانی سناتے ہوئے کہا کہ اُن کی پاکستان واپسی کے ’کچھ عرصے بعد روچڈیل سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون سرمایہ کار نجمہ کاظمی مجھے ڈھونڈتی ہوئی لاہور کے ایک سٹوڈیو پہنچیں۔ وہ لاہور کے پرل کانٹینینٹل ہوٹل میں ٹھہری ہوئی تھیں اور سٹوڈیو میں کسی کو اپنا کارڈ دے آئیں کہ جہانزیب سے کہو مجھ سے ملے۔‘
جہانزیب کے مطابق پہلی ملاقات پر نجمہ کاظمی نے بتایا کہ وہ پاکستانی کرکٹر عمران خان کی زندگی پر فلم بنانا چاہتی ہیں اور اِسی سلسلے میں وہ زمان پارک میں عمران خان کے گھر جا کر اُن سے ملاقات بھی کر چکی تھیں۔
جہانزیب کے مطابق نجمہ کاظمی فلم کی دنیا میں نئی تھیں اور یہاں (پاکستان میں) اُن کی کوئی خاص جان پہچان بھی نہیں تھی۔
جہانزیب کے مطابق عمران خان، جو اِس سے پہلے دیو آنند کی فلم میں کام کرنے سے معذرت کر چکے تھے، انھوں نے اس فلم کے لیے بھی انکار کر دیا۔
جہانزیب کے مطابق عمران خان کو اپنی زندگی پر فلم بننے پر کوئی اعتراض نہیں تھا، مگر اصل مسئلہ اداکاری کا تھا۔
جہانزیب خان کے مطابق یہیں سے اُن کے لیے عمران خان کا کردار ادا کرنے کا راستہ کُھلا۔
جہانزیب خان کے مطابق وہ ایک ماڈل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک فوجی خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور اُن کے والد، عمران خان کے خالو جنرل برکی کے دوست تھے اور بیچ میٹ بھی، جس کے باعث اُن کی عمران خان سے وقتا فوقتا ملاقات ہو جاتی تھی۔
جہانزیب خان نے سنہ 1987 سے 1993 کے درمیان متعدد اُردو اور پنجابی فلموں میں کام کیا۔
سنہ 1988 میں ٹی وی پر عمران خان کا ’بی بی ٹپس چائے‘ کا اشتہار نشر ہوتا تھا۔ اِس اشتہار کے جواب میں ایک حریف کمپنی نے اپنا ’کیپٹن ٹاپ سٹار‘ بنا کر مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا تو ماڈل کے طور پر انتخاب بھی جہانزیب خان ہی کا ہوا تھا۔

،تصویر کا ذریعہYoutube/Screengrab
اور پھر سنہ 1991 میں جہانزیب خان کو پہلی بار پردۂ سیمیں پر عمران خان بننے کا موقع ملنے والا تھا، مگر پھر کچھ غیرمتوقع معاملہ ہوا۔
جہانزیب کے مطابق اُس دور میں جانے سے پہلے اس زمانے کی فلم انڈسٹری کو سمجھنا ضروری ہے جہاں پنجاب سے تعلق رکھنے والی چند شخصیات کا راج تھا اور جو اُن کی گڈ بُکس میں ہوتا تھا، وہی فلم میں ہوتا تھا۔
جہانزیب کا دعویٰ ہے کہ ’اچھے کرداروں کے لیے فون آ جایا کرتے تھے اور عموماً اداکار کے کام سے زیادہ اس کا نام دیکھا جاتا تھا، کیونکہ سرمایہ بھی انھیں افراد نے کرنا ہوتا تھا اور باکس آفس بھی وہی کنٹرول کرتے تھے۔ اور بڑی بات کہ اُن کی سرپرستی میں بننے والی فلمیں کبھی تاخیر کا شکار نہیں ہوتی تھیں۔‘
جہانزیب کے مطابق ’نجمہ کاظمی نے پہلی ہی ملاقات میں ہی مجھے عمران خان کے کردار کے لیے ڈیڑھ لاکھ روپے ایڈوانس دے کر’سائن‘ کر لیا اور میں نے بھی اُن کو ڈیٹس دے دیں۔‘
جہانزیب کے مطابق اُس دور میں فلم کسی لکھت پڑھت کے بعد زبانی ہی سائن ہوتی تھی اور ڈیٹس بھی ایس ہی دی جاتی تھیں، اور آج کے دور کی طرح معاہدہ یا باقاعدہ ڈاکومینٹیشن نہیں ہوتی تھی۔
انھوں نے کہا کہ اسی طرح اداکار کو فلم کی ادائیگی بھی کیش میں ہی ہوتی تھی، چیک صرف پی ٹی وی پر ہی ملتا تھا۔
جہانزیب کے مطابق نجمہ کاظمی سے پہلی ملاقات کے کچھ عرصے بعد قذافی سٹیڈیم میں اُن کا فوٹو شوٹ بھی ہوا جہاں انھوں نے کرکٹ کِٹ میں بولنگ اور بیٹنگ کی پریکٹس کی۔
ان کے مطابق مسلسل فلمیں کرنے سے انھیں اندازہ تھا کہ کرکٹ پر بننے والی فلم خاصا تھکا دینے والا کام ہو گی چنانچہ انھوں نے اس دورانیے میں مسلسل نیٹ پریکٹس جاری رکھی۔
’ہم جو پریکٹس کر رہے تھے، وہ میری اپنی ذاتی پریکٹس تھی۔ اس میں کوئی شوٹ وغیرہ نہیں ہوتا تھا۔ میں اپنے ملازم کو ساتھ لے کر قذافی سٹیڈیم جاتا تھا اور نیٹ کے ایک کونے میں کھڑا ہو کر پریکٹس کرتا تھا۔ کسی ایک کو بیٹسمین کھڑا کرکے اسے بولنگ کرواتا، اور خود بیٹنگ بھی کرتا تھا۔ میرا مقصد صرف یہ تھا کہ میں اپنی فلوئنسی واپس لا سکوں، بیٹنگ میں روانی پیدا ہو اور بولنگ کا ردھم بھی درست ہو جائے۔‘

،تصویر کا ذریعہJehanzaeb khan
’میں یہ سب اسی لیے کر رہا تھا کہ جب موشن پکچر بنے تو اس میں پرفیکشن نظر آئے۔ کسی بھی فلم کے بینر کے لیے آپ کو ایک اچھی تصویر چاہیے ہوتی ہے۔ اسی مقصد کے لیے فوٹو شوٹ ہوا تھا۔‘
جہانزیب نے فلوپی پر ایک تصویر دکھاتے ہوئے کہا کہ یہ تصویر اُسی فوٹو شوٹ کی ہے۔ ’اگر مجھے پتہ ہوتا کہ 35 سال بعد آپ اس بات کو نکال کر لائیں گے، تو میں نجمہ کاظمی سے اس شوٹ کا پورا رول لے لیتا!‘
جہانزیب کے مطابق ابھی کہانی پر کام شروع ہونا تھا اور امید کی جا رہی تھی کہ 92 کے ورلڈ کپ سے پہلے اس فلم کو ریلیز کر دیا جائے گا۔ ’تب تک یہ بھی مشہور ہو چکا تھا کہ جہانزیب، عمران کا رول ادا کرے گا۔ مگر پھر ایک دن نجمہ کاظمی نے گھبرا کر مجھے فون کیا اور بتایا کہ وہ اب فلم نہیں بنا رہیں۔‘
جہانزیب کے مطابق ’مجھے گڑ بڑ تو سمجھ میں آ رہی تھی مگر یہ نہیں پتہ تھا کہ بات اس نہج تک پہنچ جائے گی۔ نجمہ کاظمی نے مجھے بتایا کہ جب انڈسٹری میں یہ بات مشہور ہو گئی کہ یہ رول آپ کر رہے ہو تو مختلف لوگ اُن کے پاس آنے لگے، کوئی کہتا کہ ’آپ مجھے اس کردار کے لیے لے لیں‘ اور کوئی دوسرا اپنا نام پیش کرتا۔ جو لوگ سمجھتے تھے کہ وہ یہ رول کر سکتے ہیں، انھوں نے نجمہ کاظمی کو اپروچ کرنا شروع کر دیا۔‘
جہانزیب کا دعویٰ ہے کہ اس وقت کے پنجابی فلموں کے مقبول اداکار سلطان راہی نے خود جا کر اپنے آپ کو اس مرکزی کردار کے لیے پیش کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ انھیں ہمیشہ گنڈاسا اٹھانے والے روایتی کرداروں تک محدود کیے جانے پر تنقید کا سامنا رہتا ہے اور اس لیے وہ ایک جدید قومی ہیرو کا کردار ادا کرنے کے مستحق ہیں۔
جہانزیب کے مطابق بڑھتے ہوئے دباؤ اور مختلف دعوؤں کے سامنے پروڈیوسر نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیے اور فلم شروع ہونے سے پہلے ہی انھیں یہ منصوبہ ترک کرنا پڑ گیا۔
’ہم پوسٹر کے مرحلے میں تھے، پیمنٹ کر چکے تھے، کہانی بھی لکھی جا رہی تھی۔ لیکن ابھی موشن پکچر تک نہیں پہنچے تھے۔ شوٹ ہونا ابھی باقی تھا۔شوٹ سے پہلے ہی انھیں (نجمہ کاظمی) اتنا پریشرائز کیا گیا کہ بظاہر وہ ڈر گئیں۔‘
جہانزیب کا دعویٰ ہے کہ اس دور کی فلم انڈسٹری میں کسی کو ڈرانا دھمکانا کوئی بڑی بات نہیں تھی۔
’مجھے لگتا ہے کہ اس فلم کے معاملے میں بھی شاید یہی ہوا۔ اتنا پریشر دیا گیا کہ وہ خاتون خوفزدہ ہو گئیں۔ انھوں نے فلم کا آئیڈیا ترک کیا اور کہا 'مجھے اپنے پیسے واپس نہیں چاہییں، آپ نے اپنا ٹائم دیا ہے چنانچہ پیسے آپ ہی رکھ لیں۔'
جہانزیب کے مطابق ’اُس زمانے میں چھ سو روپے میں مہینے بھر کا سودا آ جاتا تھا، دس روپے لیٹر تو پیٹرول تھا۔ ڈیڑھ لاکھ اس وقت میں بڑی رقم ہوتی تھی۔‘
جہانزیب خان کے مطابق پنجاب کے فلمی ماحول سے تو وہ پہلے ہی تنگ تھے مگر اس واقعے کے بعد وہ فلموں سے بھی بددل ہو گئے۔
اس کے بعد انھوں نے رہے سہے پراجیکٹ نمٹائے اور سنہ 1993 میں معروف سیلیبریٹی شیف فرح سے شادی کر لی، انڈسٹری کو خیرباد کہا اور فیملی کے ساتھ خوش رہنے لگے۔
البتہ سلطان راہی نجمہ کاظمی کی فلم ’کرکٹر‘ میں تو نہ آ سکے مگر انھوں نے کرکٹ اور سینما کو یکجا کرنے کا ایک اور راستہ نکال لیا، اور اُن کی فلم ’چھکا‘ اُسی وقت ریلیز ہوئی، جب پلان کے مطابق، ’کرکٹر‘ کو ریلیز ہونا تھا، یعنی 1992 کے ورلڈ کپ کے آس پاس۔

،تصویر کا ذریعہShafiqMalik production/ Youtube/Mediaboxmovies
فلم ’چھکا‘ کے کلائمیکس میں بالآخر سلطان راہی کو بظاہر عمران خان بننے کا موقع بھی ملا، جہاں انھوں نے بلے اور وکٹوں سے دشمن کو ٹھکانے لگایا۔ اس فلم میں آخری منظر میں سلطان راہی نے گراؤنڈ میں موجود وِلن کو ایسا بلا مارا کہ وہ اُڑ کر باؤنڈری لائن کے پار پہنچ گیا اور پھر وکٹ کی مدد سے اُس کا کام تمام کر دیا۔



















