انڈین ریاست منی پور میں ناگا برادری کے رہنما نے چینی پرچم لہرانے کی دھمکی کیوں دی؟

    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اُردو، دلی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

انڈیا کی ریاست منی پور میں بسنے والی ناگا برادری کی ایک اہم تنظیم نے حالیہ عرصے میں متعدد ناگا شہریوں کی ہلاکت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انڈیا کی حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ اگر ریاستی اور مرکزی حکومتوں نے ناگا شہریوں کی سلامتی کو یقینی نہ بنایا تو وہ چین جیسے پڑوسی ملکوں سے مدد مانگنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

ناگا طلبہ اور سول سوسائٹی کی تنظیم ’تھنگ کول آزے کٹمناؤ لونگ‘ کے صدر یار چوئسو کاشونگ نے چند روز قبل منی پور پریس کلب میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ناگا برادری کو گذشتہ مہینوں میں ناگا شہریوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں پر گہری تشویش ہے۔

اس پریس کانفرنس میں انھوں نے انڈین حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان ہلاکتوں کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرے۔

ناگا برادری کے رہنما یار چوئسو کاشونگ نے اِن ہلاکتوں کا الزام منی پور ہی میں بسنے والی کوکی برادری کے جنگجوؤں پر عائد کیا۔

انھوں نے کہا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں حساس علاقوں میں ناگا شہریوں کا تحفظ کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ کوکی نیشنل آرمی کے عسکریت پسند برما سے منی پور میں داخل ہو کر ناگا برادری پر خونریز حملے کر رہے ہیں۔

یار چوئسو کاشونگ کا کہنا تھا کہ ’ہم یہ دیکھتے دیکھتے اب بہت تھک چکے ہیں۔ اگر منی پور اور انڈیا کی حکومت ریاست کے اصل باشندوں (ناگا) کا تحفظ نہیں کرنا چاہتی یا ایسا کرنے کی اہل نہیں ہے، تو لوگوں کے پاس چین جیسے پڑوسی ملکوں سے مدد مانگنے یا چین کا پرچم لہرانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔‘

یاد رہے کہ انڈین ریاست منی پور میں ناگا اور کوکی برادریوں کے درمیان حالیہ مہینوں میں تصادم میں کئی واقعات پیش آئے ہیں جن میں 50 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ناگا اور کوکی برادریوں کے درمیان اس تصادم نے اگست اور ستمبر کے مہینوں میں شدت اختیار کی ہے اور زیادہ تر ہلاکتیں انھی دو مہینوں میں ہوئی ہیں۔

اس سے قبل منی پور میں کوکی اور میتئی نسلی برادریوں کے درمیان مئی 2023 میں فسادات شرو‏ع ہوئے تھے جو ابھی تک جاری ہیں۔

منی پور کی ریاستی اسمبلی میں پیش کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق اس خونریز لڑائی میں کم از کم 300 افراد مارے جا چکے ہیں، ہزاروں مکان جلا کر راکھ کر دیے گئے ہیں جبکہ 60 ہزار سے زائد افراد علاقہ بدر ہو کر عارضی کیمپوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں اکثریت کوکی برادری کی ہے۔ ماضی میں کوکی اور میتئی برادریوں میں خونریز جھڑپوں کے دوران ناگا برادری غیر جانبدار رہی تھی۔ برسوں پر محیط کشیدگی اور حکومتی اقدامات کے باوجود ابھی تک منی پور ریاست میں حالات معمول پر نہیں آ سکے ہیں۔

منی پور میں 16 انتظامی اضلاع ہیں اور انڈیا کی مرکزی حکومت نے اس ریاست کے بیشتر اضلاع کو بدامنی سے متاثرہ علاقہ (ڈسٹربڈ ایریا) قرار دے رکھا ہے جس کے تحت ان علاقوں میں فوج کو کارروائی کرنے کا خصوصی اختیار حاصل ہے۔

ریاست منی پور میں بنیادی طور پر تین نسلی گروہ آباد ہیں۔ سب سے بڑی برادری میتئی ہے جو بیشتر ہندو مذہب کے پیروکار ہیں اور اِن کی ریاست میں آبادی تقریباً 13 لاکھ ہے۔

دوسرے نمبر پر ناگا نسل کے لوگ ہیں، جو بیشتر مسیحی مذہب کے ماننے والے ہیں اور اُن کی آبادی ساڑھے چھ لاکھ کے آس پاس ہے۔ ریاست میں آباد تیسرا نسلی گروہ کوکی برادری ہے، تقریباً ساڑھے چار لاکھ آبادی والی اس برادری کی اکثریت بھی مسیحی ہے۔

منی پور ریاست کے تینوں نسلی گروپوں میں جدید ہتھیاروں اور جنگی تربیت سے مسلح عسکری گروپ بھی سرگرم ہیں۔ ان تینوں گروہوں میں سب سے منظم عسکری تنظیم ناگا گروپ کی رہی ہے۔

یاد رہے کہ نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگا لینڈ نے ایک مرحلے پر انڈیا سے آزادی حاصل کرنے کے لیے لمبی تحریک بھی چلائی تھی، لیکن بالآخر حکومت سے معاہدہ ہو جانے کے بعد اُن کی لڑائی اب دیگر نسلی گروہوں سے اندرونی ٹکراؤ تک محدود ہے۔

منی پور کی نیوز ویب سائٹ ’امپھال ریویو‘ کے ایڈیٹر پردیپ پھن جاؤ بام نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ناگا اور کوکی برادریوں کے درمیان موجودہ لڑائی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس سے پہلے 1990 کے عشرے میں اِن دونوں نسلی گروپوں کے درمیان خونریز ٹکراؤ ہوا تھا جس میں 700 سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے اور ہزاروں افراد بے گھر ہوئے تھے۔‘

پردیپ پھن جاؤ کے مطابق دونوں برادریوں میں حالیہ ٹکراؤ زمین کی ملکیت کے معاملے پر ہے۔

’ناگا برادری یہ مانتی ہے کہ وہ منی پور کے اصل باشندے ہیں اور اسی بنیاد پر روایتی مقامی قبائلی قوانین کے مطابق وہ اس خطے میں ساری زمینوں کے مالک ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ناگا برادری کا یہ مؤقف بھی ہے کہ کوکی نسل کے لوگ، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ گذشتہ ڈیڑھ، دو سو برس کے عرصے میں برما سے یہاں آ کر آباد ہوئے ہیں، ناگا برادری کے کرائے دار ہیں۔ جبکہ اس کے برعکس کوکی برادری کا کہنا ہے کہ جمہوری آئینی نظام کی موجودگی میں روایتی قبائلی قانون کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور یہ کہ وہ جن زمینوں پر آباد ہیں وہ اُن زمینوں کے مالک بھی ہیں۔‘

پردیپ کہتے ہیں کہ ’دونوں گروپوں کے درمیان 1990 کے عشرے کی لڑائی کے زخم ابھی تک بھرے نہیں ہیں بلکہ صرف دبے ہوئے تھے۔ اور یہی زخم کچھ حالیہ پرتشدد واقعات سے تازہ ہو گئے ہیں۔‘

نینگ تھوکون جم ایبون گوچوبی ’منی پور میل‘ کے ایگزیکٹیو ایڈیٹر ہیں۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ منی پور اور برما کی سرحد تقریباً 400 کلومیٹر طویل ہے، جبکہ میزورام اور برما کی سرحد 500 کلومیٹر سے زیادہ لمبی ہے اور ناگا لینڈ اور برما کی سرحد 200 سے 300 کلومیٹر کے درمیان ہے، تو اس حساب سے یہ اس خطے میں بہت لمبی سرحد ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ برما سے کوکی نسل کے لوگ منظم طریقے سے منی پور کے سرحدی علاقوں میں آ کر آباد ہوتے رہے ہیں۔

منی پور کے سابق وزیر اعلیٰ نے ماضی میں کہا تھا کہ منی پور منشیات کا کاروبار کرنے والوں اور جنگجوؤں کی جنت بن چکا ہے، جنھوں نے منی پور کی زمینوں پر قبضہ کر لیا ہے اور یہاں کی آبادی کا توازن بدل گیا ہے۔

منی پور میں 2027 کے آغاز میں انتخابات ہونے ہیں۔ ریاست سے تعلق رکھنے والے مقامی صحافیوں کے مطابق الیکشن کمیشن نے ان انتخابات کے انعقاد کی پوری تیاری کر رکھی ہے۔

ریاست کے سب سے بڑے نسلی گروپ میتئی کی کئی تنظیمیں ریاست میں انتخابات سے پہلے سبھی شہریوں کی شہریت کی تصدیق کا عمل 'این آر سی' کروانے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

اس ریاست میں مسلح عسکریت پسند تنظیموں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور موجودہ نسلی ٹکراؤ کی صورتحال میں انتخابات ہو پائیں گے یا نہیں، اس حوالے سے خدشات موجود ہیں۔ مبصرین کے مطابق انتخابات کے انعقاد کے لیے مرکزی حکومت کو ریاست میں تینوں نسلی گروپوں کے درمیان خونریز تصادم کا سلسلہ روکنا ہو گا، تاہم ابھی تک مرکزی اور ریاستی حکومت اس سلسلے میں مناسب اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہیں۔